When Maryam Nawaz was asked to write an essay:
The Poor Family
Once, a rich girl was asked to write an essay on “A Poor Family” in her exam.
The examiner eagerly picked up her answer sheet. After reading the first few lines, his eyes widened, and by the end, he was questioning all his life choices.
Her essay read:
“There was a very poor family.
The father was poor. The mother was poor.
They had only four employees in the house, and sadly, they were poor too.
The children were so unfortunate that they had to use old iPhones. Imagine the struggle!
The family had only one car—a BMW. Even worse, the BMW was slightly faded and looked like it had seen better days.
They had second-hand ACs in only three rooms.
They lived in an old bungalow that was probably built a whole ten years ago.
The entire family was living in extreme poverty and had to face unimaginable difficulties every single day.
It was truly a heartbreaking life.”
The examiner wiped away a tear…
Not because he felt sorry for the family.
He was trying very hard not to laugh. 😂
Covid-19 Updates in Pakistan
I have made this page for health related probloms and daily life events
🇵🇰 پاکستان میں ہم روزانہ پانی بنا رہے ہیں… مگر اسے ضائع کر رہے ہیں! 💧
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے AC صرف ٹھنڈی ہوا ہی نہیں دیتے، بلکہ ہوا میں موجود نمی کو پانی میں بھی تبدیل کرتے ہیں؟ 🤯
ایک گھر کا AC موسم اور نمی کے حساب سے روزانہ تقریباً 5 سے 20 لیٹر پانی پیدا کر سکتا ہے۔
اب ذرا تصور کریں… 👇
اگر گھروں، مالز، ہوٹلز اور دفاتر کے AC سے نکلنے والا یہ پانی جمع کیا جائے، تو اسے:
🌱 پودوں اور باغات کی آبپاشی
🧹 صفائی
🏢 Landscaping
🚿 دیگر غیر پینے والے کاموں
کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانی پہلے ہی پیدا ہو رہا ہے — ہمیں صرف اسے ضائع ہونے سے روکنا ہے۔
💭 آپ کی کیا رائے ہے؟
👉 کیا پاکستان میں نئی عمارتوں کے لیے AC کا condensation water جمع کرکے دوبارہ استعمال کرنا لازمی ہونا چاہیے؟
During Hi**er’s rule, a poet was arrested. His daughter asked her mother,
“Why was Dad arrested?”
The mother replied,
“Because he wrote a poem against Hi**er.”
The little girl said,
“Then Hi**er should have written a poem in response.”
The mother smiled and said,
“If he had been that educated, why would he have resorted to bloodshed?”
Long live Pakistan! 🇵🇰🇵🇰
27/07/2026
Think like a master of Geniuses
Be smart and clean in Brains...
What's the weight of red ball?
15/06/2026
السلام علیکم سر، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں اپنی کہانی آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
میں نے 2017 سے 2022 تک پشاور میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔
2023 میں ہاؤس جاب مکمل کی۔
2024 میں ایف سی پی ایس اور انڈکشن کے تمام مراحل پورے کیے۔
اور جنوری 2025 میں ایم ٹی آئی کے ٹی ایچ (KTH) میں جنرل سرجری میں ایف سی پی ایس ٹریننگ شروع کی۔ ٹریننگ کے چھ ماہ بعد میری شادی ہوگئی۔
میری تنخواہ 95 ہزار روپے تھی۔
پشاور میں گھر کا کرایہ 50 ہزار روپے تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ڈاکٹرز ہاسٹل میں کمرہ مل جائے، لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا، جبکہ ہاسٹل کے ایک کمرے کا کرایہ بھی 30 ہزار روپے تھا۔
گرمیوں میں بجلی کا بل 20 ہزار روپے آتا تھا۔ گیس کا بل الگ تھا۔ نائٹ ڈیوٹیوں کے بعد موٹر سائیکل پر آنے جانے کے اخراجات اور خطرات اپنی جگہ تھے۔ بعض اوقات ایک طرف کا کرایہ ہی 400 روپے بن جاتا تھا، ورنہ میں بی آر ٹی کے ذریعے ہسپتال جاتا تھا۔
میں دن میں صرف دو وقت کا کھانا کھاتا تھا اور اسی پر گزارا کر لیتا تھا۔ اس کے باوجود اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن الحمدللہ، میرے خاندان نے میرا ساتھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے دو وقت کی روٹی کا رزق عطا فرمایا۔
پھر میری اہلیہ حاملہ ہوگئیں۔ جب میں اکیلا بیٹھتا تو آنے والے بچے کے بارے میں سوچتا رہتا۔ اس کی بنیادی ضروریات ہی مجھے پریشان کر دیتی تھیں۔ مثال کے طور پر فارمولا دودھ، جس پر تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ خرچ آتا ہے، اس کے علاوہ ڈائپرز اور دیگر ضروریات۔
وقت گزرنے کے ساتھ میرا ذہن جیسے پھٹنے لگا تھا۔
میں نے تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ کرکے آئرش میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن کروائی اور آئرلینڈ کا لائسنس حاصل کر لیا، لیکن وہاں بھی نوجوان ڈاکٹروں کے لیے حالات زیادہ اچھے نہیں تھے۔
اس کے بعد میں نے کسی سے قرض لیا اور امریکہ کے وزٹ ویزے کے لیے درخواست دی۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے مجھے ویزا مل گیا۔
میں امریکہ آ گیا۔ میرا بیٹا یہیں پیدا ہوا اور وہ امریکی شہری ہے۔ الحمدللہ، آج میں اسے کھانا کھلا سکتا ہوں۔
لیکن میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟
میں ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہوں۔ واش روم صاف کرتا ہوں، برتن دھوتا ہوں، میزیں صاف کرتا ہوں۔
اس نظام نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ہے۔
میں دعا کرتا ہوں کہ میرا بیٹا ایک اچھا سرجن بنے، لیکن میں اپنا سرجن بننے کا خواب کھو چکا ہوں۔ 🥹
یہاں زندگی بہت مشکل ہے، لیکن میں اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہوں۔ اگر وہ ایک اچھے ملک میں پروان چڑھے گا تو شاید اسے اس نظام اور ان جاہل لوگوں کی وجہ سے وہ مشکلات نہ اٹھانی پڑیں جو میں نے اٹھائیں۔
بھاری دل کے ساتھ اپنے ہسپتال کی زندگی کو یاد کرتا ہوں۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی میری آنکھوں میں آنسو ہیں۔
یہ نظام واقعی بہت ظالم ہے۔ اس نے نہ صرف مجھے بلکہ بے شمار دوسرے لوگوں کو بھی تباہ کیا ہے۔ میں نے بہت سے متوسط طبقے کے ڈاکٹروں کو دیکھا ہے جو میٹرک فیل لوگوں کے ساتھ ریسٹورنٹس میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ 🥺🥺🥺
موصول شدہ تحریر، ایک زخمی دل اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے
Why Bitcoin Is Actually Crashing Right Now (The Real Reason)
The Truth Behind Bitcoin’s Recent Crash
I’ve been watching crypto markets for years now. But this crash feels different somehow. Bitcoin is down four months straight.
That hasn’t happened since 2018. And I finally figured out why. The answer shocked me completely.
The $300 Billion Liquidity Problem
Here’s what’s really happening right now. Arthur Hayes just dropped a bombshell. He explained the core issue perfectly.
About $300 billion in liquidity vanished recently. Most of it went into one place.
The Treasury General Account increased by $200 billion. I checked the data myself. It all lines up perfectly.
Why This Matters for Bitcoin
The government is raising cash balances quickly. They’re preparing for a potential shutdown. When they drain the TGA, Bitcoin rallies.
When they fill it, Bitcoin falls. It’s that simple, really. I’ve seen this pattern before. Middle of last year, they drained it. Bitcoin got some life back then.
Now they’re filling it again. Liquidity is being sucked out fast. And Bitcoin is a liquidity-sensitive asset. It responds to these changes immediately.
Banks Are Starting to Fail
Something else caught my attention recently. Chicago’s Metropolitan Capital Bank just failed. It’s the first US bank failure of 2026.
That tells me something important. There’s a massive liquidity crunch happening globally.
Banks are feeling the pressure now. And when banks struggle, crypto struggles too. The correlation is crystal clear.
The Macro Picture Is Uncertain
Global markets are on edge currently. Uncertainty is driving everything right now. Investors are pulling back from risk.
Bitcoin falls into that risk category. So money flows out quickly. I’ve watched this happen before. But this time feels more intense. The speed is what worries me.
The Government Shutdown Factor
The US government shutdown is happening now. Democrats won’t cave on Homeland Security funding.
ICE isn’t getting funded currently. This creates massive uncertainty in markets. Uncertainty kills crypto prices fast.
Stable Coin Yield Under Attack
There’s another pressure point right now. A new ad campaign just launched. It’s targeting stable coin yield completely.
Community banks are lobbying against crypto. They claim stable coins could drain $6 trillion. That would hurt small businesses supposedly.
The Real Agenda Here
I think this is fear-mongering honestly. Brian Armstrong at Coinbase is under fire. Wall Street Journal called him enemy number one.
His crime? Giving yield to consumers. Banks want to keep their monopoly. They don’t want competition on yields.
04/01/2026
کیا ملک چھوڑنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟
مختصر جواب:
نہیں۔
لیکن کچھ مسائل بدل جاتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔
جو مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں
• ادارہ جاتی ناانصافی
• سفارش، اقربا پروری
• میرٹ کی بے قدری
• روزمرہ کی غیر یقینی (قانون، نوکری، مستقبل)
یہ وہ مسائل ہیں جو انسان کو روز گھائل کرتے ہیں اور نوجوان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں۔
جو مسائل باہر جا کر سامنے آتے ہیں
• تنہائی اور شناخت کا بحران
• ثقافتی بیگانگی
• امیگریشن، ویزا، قانونی دباؤ
• مسلسل محنت، مقابلہ، اور کارکردگی کا دباؤ
• والدین اور خاندان سے دوری
یعنی:
باہر جا کر زندگی آسان نہیں ہوتی،مگر predictableہو جاتی ہے۔
نوجوان ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
یہ بغاوت نہیں، خاموش فرار (silent exit) ہے۔
وہ یہ نہیں کہہ رہے:
“ہم لڑیں گے اور سب بدل دیں گے”
وہ یہ کہہ رہے ہیں:
“ہم نے حساب لگا لیا ہے، لڑائی کا فائدہ نہیں”
یہ رومانوی انقلاب کا دور نہیں،یہ ذہنی صحت بچانے کا دور ہے۔
کیا باہر بھی کرپشن، مسائل اور ناانصافی ہے؟
وہاں
طاقت نظام کے ہاتھ میں،
انصاف سست مگر متوقع،
محنت کا صلہ یقینی نہیں، مگر ممکن،
اور
یہاں
طاقت شخص کے ہاتھ میں،
انصاف غیر یقینی،
محنت کا صلہ ممکن نہیں،
یہ فرق چھوٹا لگتا ہے،
لیکن زندگی اسی فرق پر چلتی ہے۔
تو کیا بچوں کو باہر بھیج دینا چاہیے؟
صحیح جواب:
یہ نجات نہیں، حکمتِ عملی ہے۔
باہر بھیجنا درست ہے اگر:
• بچہ محنتی اور حقیقت پسند ہے
• آپ اسے “جنت” نہیں، کٹھن مگر منصفانہ دنیا سمجھا کر بھیج رہے ہیں
• وہ جانتا ہے کہ وہاں کوئی رشتہ، کوئی رعایت نہیں
• وہ تنہائی اور جدوجہد ذہنی طور پر سنبھال سکتا ہے
باہر بھیجنا غلط ہے اگر:
• آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا
• بچہ نازک مزاج، بے مقصد یا صرف فرار چاہتا ہے
• آپ اسے جھوٹا خواب دکھا رہے ہیں۔
آخری بات۔
ملک !چھوڑنا بزدلی نہیں
اور ملک میں رہنا ضروری طور پر بہادری نہیں
اصل سوال یہ ہے:
آپ کا بچہ کہاں ایک باوقار، محفوظ اور معنی خیز زندگی بنا سکتا ہے؟
اگر جواب باہر ہے ، جانا درست ہے
اگر جواب اندر ہے ، رکنا بھی درست ہے
غلط صرف یہ ہے کہ،
ہم بچوں سے رومانوی نعروں یا اندھے خوف کی بنیاد پر فیصلے کروائیں۔
محمد امجد تقویم
Click here to claim your Sponsored Listing.