Sultanpur-Youth-connection

Sultanpur-Youth-connection

Share

Welcome to the SPY Club page! We’re a local Sports team made up of friends and neighbours😊

Photos 04/08/2018

ماتم۔ آزادی - از جوش ملیح آبادی

اے ہم نشیں ، فسانہء ہندوستاں نہ پُوچھ
رُوداد۔ جام بخشئ پیر۔ مغاں نہ پُوچھ
بربط سے کیوں بلند ہوئی ہے فغاں نہ پُوچھ
کیوں باغ پر محیط ہے ابر۔ خزاں نہ پُوچھ
کیا کیا نہ گُل کھلے روش۔ فیض عام سے
کانٹے پڑے زبان میں ، پُھولوں کے نام سے
شاخیں ہوئیں دُو نیم جو ٹھنڈی ہوا چلی
گُم ہو گئی شمیم جو باد۔ صبا چلی
انگریز نے وہ چال بجور و جفا چلی
برپا ہوئی برات ، کہ گھر میں چلا چلی
خُون۔ چمن بہار کے آتے ہی بہہ گیا
اُترا جو طوق ، اور بھی دم گُھٹ کے رہ گیا
جُھومی گھٹا ، فضا شرر آمیز ہو گئی
کُھولی خُوشی نے زلف ، غم انگیز ہو گئی
مچلی نسیم ، عقل جنوں خیز ہو گئی
سائے میں دُھوپ اور بھی تیز ہوگئی
پارہ چلیں جو سرد ہوائیں تو چڑھ گیا
درماں ہوا تو درد۔ جگر اور بڑھ گیا
اک دل نشیں کلی جو سر۔ باغ کھل گئی
تو خاک میں لطافت۔ گلزار مل گئی
پہنی قبائے نرم تو جلد اور چھل گئی
ٹہرا جو دل تو صبر کی بنیاد ہل گئی
شبنم اُدھر گُہر ، ورق۔ گل پہ جڑ گئی
گلزار۔ زندگی پہ ادھر اُوس پڑ گئی
باجے بجے تو شور۔ فغاں دُور تک گیا
کشتی ملی تو خیر سے دریا پچک گیا
شبنم گری ، دل۔ سمن و سرو پک گیا
بوندیں پڑیں تو اور بھی گلشن دندک گیا
اپنا گلہ خروش۔ ترنم سے پھٹ گیا
تلوار سے بچا تو رگ۔ گُل سے کٹ گیا
دولت ملی تو اور بھی نادار ہو گئے
صحت ہوئی نصیب تو بیمار ہوگئے
اُترا جو بار تو اور گراں بار ہو گئے
آزاد یوں ہوئے کہ گرفتار ہو گئے
پگھلا جو آسماں تو زمیں سنگ ہو گئی
پو یوں پھٹی کہ صبح دنگ ہو گئی
باطل ہوا جو خوف تو دل اور ڈر گیا
بھیگیں مسیں تو زیست کا منہ اُتر گیا
پایا سُبو تو عمر کا پیمانہ بھر گیا
پُرساں ہوئے مسیح تو بیمار ہو گئے
نغمے چھڑے تو شُورش۔ پیکار بن گئے
گُونجے جو راگ ، تیغ کی جھنکار بن گئے
چہکے جو اعتماد کے گلزار میں طُیُور
بے اعتمادیوں کا گیا شُور دُور دُور
دوڑا رخ۔ فسردہ پہ جب زندگی کا نُور
دی موت نے صدا کہ " نمستے شری حضُور "
" باقی رہے جگہ نہ کوئی سوت کے لئے "
" لونڈی سبھا میں آئی ہے ڈنڈوت کے لئے "
فتنے ملے تو اماں کی دعا نہیں رہی
انسان کی وہ قدر و قیمت نہیں رہی
حاصل ہوا عروج تو عزت نہیں رہی
پائی جو حریت تو حرارت نہیں رہی
جب روز گار نرم ہوا ، سنگ ہو گئے
وسعت ملی تو اور بھی دل تنگ ہو گئے
چٹکی جو چاندنی تو بڑھی ظلمتوں کی شان
بازار جب کُھلا تو ہوئی بند ہر دُکان
حاصل ہوا عروج تو عزت نہیں رہی
چھت کی لگی جو ڈاٹ تو شق ہو گیا مکان
درماں سے اور دل ہمہ تن درد ہو گیا
پُھوٹی کرن تو صبح کا منہ زرد ہو گیا
شادی ہوئی تو غم کے خزانے لُٹا دئے
کچھ یوں دئے جلائے کہ دل ہی بُجھا دئے
سہرا بندھا تو شرم کے پردے اُٹھا دئے
مہندی لگی تو خُون کے دریا بہا دیئے
دولھا بنے تو حد۔ مسرت سے بڑھ گئے
گھوڑے کے لات مار کے سُولی پہ چڑھ گئے
دہکے تو سُوز۔ موج۔ تکلم نہیں رہا
چہکے تو لحن و ساز و ترنم نہیں رہا
لہکے تو رقص و رنگ و تبسُم نہیں رہا
مہکے تو بُوئے گُل کا تلاطم نہیں رہا
کانپے جُو تار ، دیو۔ محن بُولنے لگا
خیمے ہوئے جو نصب ، تو رن بُولنے لگا
اُبھرے تو جوش۔ بادہ گُساراں نہیں رہا
بادل گھرے تو رنگ۔ بہاراں نہیں رہا
راتیں کھلیں تو رقص۔ نگاراں نہیں رہا
بُوتل کُھلی تو مجمع۔ یاراں نہیں رہا
کوئی سبیل۔ بادہ پرستی نہیں رہی
مستی کی رات آئی تو ہستی نہیں رہی
جب باغبان۔ قوم ، ظفر مند ہو گیا
ہر برگ۔ نرم ، خاک کا پیوند ہو گیا
عاشق جو وصل۔ یار سے خُرسند ہو گیا
فالج گرا دماغ پہ ، دل بند ہو گیا
اُترا بُخار ، عقل کو طاعون ہو گیا
پیدا ہُوا لہو تو جگر خُون ہو گیا
بخیہ ہوا تو اور بھی چادر اُدھڑ گئی
بندھن کُھلے ، تو جسم کی رگ رگ جکڑ گئی
بھرنے لگے جو شہر ، تو بستی اُجڑ گئی
ٹوٹی رسن تو عقل میں زنجیر پڑ گئی
طاقت ملی تو کوئی توانا نہیں رہا
برسا جو مینھ تو کھیت میں دانا نہیں رہا
بارش ہوئی زمین ، دندک کر اُبل گئی
اُودی گھٹا اُٹھی تو ہری دُوب جل گئی
اُبھری حیات ، موت کے سانچے میں ڈھل گئی
بانہیں پڑیں گلے میں کہ تلوار چل گئی
آب۔ بقا سے ، زہر کی لہریں اُبل پڑیں
بوسے ملے تو منھ سے زبانیں نکل پڑیں
دُشمن گئے تو دُوست بنے دُشمن۔ وطن
شبنم جو پی تو کھول گئے لالہ و سمن
سنکی ہوائے سرد تو کجلا گیا چمن
خلعت کی تہہ کُھلی تو برآمد ہُوا کفن
نغمے چھڑے تو شُور سر۔ بام مچ گیا
چٹکی کلی تو باغ میں کُہرام مچ گیا
ہر مُوئے زُلف اینٹھ گیا ، مار بن گیا
ہر مہر کا خطیب جفا کار بن گیا
ہر صبح کا رسُول شب۔ تار بن گیا
ہر لُوچ اک اُپی ہوئی تلوار بن گیا
" بدلی نگاہ ، طور سے بے طور ہو گئے "
" ہم تو جوان ہوتے ہی کچھ اور ہو گئے "
سکھ نے گرو کے نام کو بٹہ لگا دیا
مندر کو برہمن کے چلن نے گرا دیا
مسجد کو شیخ جی کی کرامت نے ڈھا دیا
مجنوں نے بڑھ کے پردہء محمل جلا دیا
اک سوئے ظن کو غُلغُلہء عام کر دیا
مریم کو خُود مسیح نے بد نام کر دیا
سکوں کی انجمن میں خریدار آ گئے
سیٹھوں کے خادمان۔ وفا دار آگئے
کھدر پہن پہن کے بد اطوار آ گئے
در پر سفید پوش سیاہ کار آ گئے
تاریکیوں کو چھوڑ کے روشن جبیں گئے
جو لوگ آسمان تھے ، زیر۔ زمیں گئے

چلنے لگی لغت پہ چُھری انتقام کی
چھانٹی گئیں تمام جو لفظیں تھیں کام کی
رحمن کی بات چلی اور نہ رام کی
گُدی سے کھنیچ لی گئی ، جو زباں تھی عوام کی
حیوان بوکھلا. گئے ، منہ کُھولنے لگے
انسان بُولیاں وہ نئی بُولنے لگے
پل بھر میں سُوئے دشت مُڑ گئی سماج
اپنے وطن کی شرم نہ اپنے گُرو کی لاج
رسمیں بدل گئیں ، تہہ و بالا ہوے رواج
وہ گفتگو رہی ، نہ وہ لہجے ، نہ وہ مزاج
گھر اپنا گھر گرہست ہی خُود ہُوسنے لگی
حد ہے زبان۔ دیو ، پری چُوسنے لگی
نسرین و گُل کو شعلہء بے باک کر دیا
سر و چنار کو خس و خاشاک کر دیا
چُھوڑے انار ، لاکھ کا گھر خاک کر دیا
خُود بُوئے گُل نے ، دامن۔ گُل چاک کر دیا
" شعلے بھڑک کے اُٹھنے لگے دل کے داغ سے "
" اس گھر کو آگ لگ گئی ، گھر کے چراغ سے "
خائن ہوئے حریم۔ امانت میں بار یاب
شیطاں بنے فراز۔ ہدایت کے آفتاب
بیڑے ڈبو چکے ہیں جُو بے حد و بے حساب
اُن ظالموں کا ، حضرت۔ الیاس ہے خطاب
وہ جو تمام راہ زنُوں کا امام ہے
وہ شخص آج خضر علیہ السلام ہے
دیتے تھے صبحُ شام سزایئں جو نا سزا
گردن پہ جن کی خُون ہے مردان۔ راہ کا
کل جن کی ڈپٹیوں کا نشانہ تھے رہنما
اُن ڈپٹیوں کو ہم نے کلکٹر بنا دیا
قیدی چُھٹے تو خیر سے برباد ہُوگئے
جو قید کر رہے تھے وہ آزاد ہو گئے
حُکام و مُجرموں کے ہیں داماں سلے ہوئے
سی آئی ڈی ہے بادہء غفلت پیئے ہوئے
داروغہ جی ہیں قول ، بدوُں کو دئے ہوئے
چوروں سے ہے ، کوتوال سازش کئے ہوئے
برٹش کے خادموں کو اُچھالے ہوئے ہیں ہم
سانپوں کو آستینوں میں پالے ہوئے ہیں ہم
غدار تھے جو کل ، محب۔ وطن ہیں آج
بد خُواہ۔ باغ ، ہمدم۔ سرو سمن ہیں آج
کل تک جو تھے سُمُوم ، نسیم۔ چمن ہیں آج
خُسرو کے جو غلام تھے ، وہ کوہ کن ہیں آج
لچھمن کا دل ہے شدت۔ غم سے پھٹا ہُوا
در پر ہے رام چندر کے راون ڈٹا ہوا
مُفسد ہیں فوج۔ امن کے سالار آجکل
ڈاکو ہیں سیم و زر کے نگہ دار آجکل
زاغُ و زغن ہیں مُطرب۔ گلزار آجکل
افسر ہیں ، بُبُلوں کے چڑی مار آجکل
چنگیز خاں ہیں عیسئ دوراں بنے ہوئے
کانٹے ہیں ، چُوب۔ خیمہء بُستاں بنے ہوئے
برطانیہ کے خاص غلامان۔ خانہ زاد
دیتے تھے جو لاٹھیوں سے ، حُب۔ وطن کی داد
جن کی ہر ایک ضرب ہے اب تک سروں کو یاد
وہ آئ سی ایس اب بھی ہیں خُوش وقت و با مُراد
شیطان ایک رات میں انسان بن گئے
جتنے نمک حرام تھے ، کپتان بن گئے
سینُوں سے اُٹھ رہی ہے وہی بے دلی کی بھاپ
اب بھی بغل میں پُن کو دبائے ہوئے ہے پاپ
ما تھے پہ اب بھی دولت۔ طاغُوت کی ہے چھاپ
بیٹے ہیں اُس کے آج بھی ہم لوگ ، اور وہ ہے باپ
آزادیاں ہیں بُوئے غُلامی لئے ہوئے
اب بھی سروں پہ تاج ہے ، سایہ کئے ہوئے
جُھونکوں میں رقص و کیف ہے موسم میں اعتدال
لہکا ہوا ہے باغ تو نکھرا ہوا ہلال
لیکن بہ ایں سرور و بہ ایں کثرت۔ جمال
عشاق کی روش ہے نرالی شب۔ وصال
معشوقہ ہے وفور۔ حیا سے گڑی ہوئی
اغیار کے گلے میں ہیں باہیں پڑی ہوئی
ارباب۔ اختیار کا الله رے کمال
دیکھو تو سر بلند ، ٹٹولو تو پائمال
کالوں کے عارضوں پہ ہیں گُورُوں کے خد و خال
بھارت کا رنگ و رُوپ ہے برٹش کی چال ڈھال
ہاتھوں میں پُھول ، جیب میں ڈھیلے لئے ہوئے
ساری گُرو کی شان ہیں چیلے لئے ہوئے
گُو حُکم ہے بند شبستاں کا در نہ ہُو
جُو آئے اعتراض کسی شخص پر نہ ہُو
قدغن ہے یہ مگر کہ لب۔ خُشک تر نہ ہُو
اندر سبھا میں لال پری کا گزر نہ ہُو
روشن تھے کل جُو سُرخ پیالُوں کے سامنے
گُل آج وہ چراغ ہیں کالُوں کے سامنے
وحشت روا ، عناد روا ، دُشمنی روا
ہلچل روا ، فساد روا ، سنسنی روا
رشوت روا ، فساد روا ، رہ زنی روا
القصہ ہر وہ شے کہ ہے نا کردنی روا
انسان کے لہُو کو پیو ، اذن۔ عام ہے
انگور کی شراب کا پینا حرام ہے
جن کے قلم ہیں تیغ و تبر سے لڑے ہوئے
جن کی لڑائیوں کے ہیں جھنڈے گڑے ہوئے
حق پر ہیں جو پہاڑ کی صورت اڑے ہوئے
ذلت کے غار میں ہیں وہ اب بھی پڑے ہوئے
شاعر ہو یا ادیب ہو ، قلندر ہے آج بھی
انگریز کا غُلام ، گورنر ہے آج بھی
وہ شاعران۔ قوم گراں قدر و مُعتبر
رہتے ہیں جن کی جیب میں اسرار۔ بحر و بر
سورج پہ جن کا ہاتھ ہے اور پاؤں چاند پر
رُوٹی وہ ڈھونڈتے ہُوے پھرتے ہیں در بدر
کیا چیز ہے ادب ، یہ کوئی جانتا نہیں
جانے وہ کیا جو حرف بھی پہچانتا نہیں
وہ جن کی وسعتوں کی کوئی انتہا نہیں
سب سے سوا اُنھیں کے لئے تنگ ہے زمیں
دفتر میں کوئی قید ، کوئی بُوریا نشیں
وہ ابتری ہے ، کوئی کہیں ہے ، کوئی کہیں
لُوگ آئے اور گئے بھی غذا بانٹتے ہوئے
یہ رہ گئے دوات و قلم چاٹتے ہوئے
جاہل حضور کو نظر آتا ہے دُور بیں
عالم کو آنکھ اُٹھاکے کبھی دیکھتے نہیں
باطل تبھی تو حق پہ چڑھائے ہے آستیں
بیٹھی ہے آسماں کو دبُوچے ہوئے زمیں
کوا ہے زمزمُوں کی ترازُو بنا ہُوا
مُرغ۔ چمن ہے کاٹھ کا اُلو بنا ہُوا
چھائی ہُوئی ہیں زیر۔ فلک بد حواسیاں
آنکھیں اُداس اُداس ، تُو مُنھ ہیں دُھواں دُھواں
منکے ڈھلے ہُوئی ہیں تو اینٹھی ہُوئی زباں
وہ ضعف ہے کہ مُنھ سے نکلتی نہیں فُغاں
اک دُوسرے کی شکل کو پہچانتا نہیں
میں خُود ہُوں کون ، یہ بھی کوئی جانتا نہیں
خامُوش ہیں طیور ، چمن سرمہ در گُلُو
شاخیں فسُردہ خُوشہء انگُور زرد رُو
پُھولُوں کو اب نہیں ہے تمنائے رنگ و بُو
بُلبُل کو آشیاں میں ہے ، قفس کی آرزُو
غارت گر۔ بہار کا مُنھ چُومنے لگے
آئیں جو آندھیاں تُو چمن جُھومنے لگے
سرو سہی ، نہ ساز ، نہ سُنبُل ، نہ سبزہ زار
بُلبُل ، نہ باغباں ، نہ بہاراں ، نہ برگ و بار
جیحُوں ، نہ جام۔ جم ، نہ جوانی ، نہ جُوئے بار
گلشن ، نہ گُل بدن ، نہ گُلابی ، نہ گُل عذار
اب بُوئے گُل ، نہ باد۔ صبا مانگتے ہیں لُوگ
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لُوگ
پھر زلزلے ہیں راکب۔ تمکین۔ زندگی
بے آئینی ہے ناظم۔ آئیں۔ زندگی
پھر جُرم بن چُکے ہیں قوانین۔ زندگی
پھر موت ہے پیام بر۔ دین۔ زندگی
پھر شکل۔ زندگی سے ڈرے جا رہے ہیں لُوگ
بس ، اے حیات ، بس ، کہ مرے جارہے ہیں لُوگ
فٹ پاتھ، کار خانے ، ملیں ، کھیت ، بھٹیاں
گرتے ہوئے درخت ، سُلگتے ہوئے مکاں
بُجھتے ہوئے یقین ، بھڑکتے ہوئے گماں
ان سب سے اُٹھ رہا ہے بغاوت کا پھر دُھواں
شعلوں کے پیکروں سے لپٹنے کی دیر ہے
آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے کی دیر ہے
وہ تازہ انقلاب ہُوا ، آگ پر سوار
وہ سنسنائی آنچ ، وہ اُڑنے لگے شرار
وہ گُم ہُوئے پہاڑ ، وہ غلطاں ہُوا غُبار
اے بے خبر ، وہ آگ لگی آگ ، ہُوشیار ! !
بڑھتا ہُوا ، فضا پہ قدم مارتا ہُوا
بُھونچال آرہا ہے وہ پُھنکارتا ہُوا

جوش ملیح آبادی

07/09/2017

اس کی کالی آنکھوں میں ہیں انتر منتر سب​
چاقو واقو، چھریاں وُ ریاں، خنجر ونجر سب​

جس دن سے تم روٹھے مجھ سے، روٹھے روٹھے ہیں​
چادر وادر، تکیہ وکیہ، بستر وِستر سب​


مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی کہاں اب پہلے جیسا ہے​
پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے، زیور شیور سب​


آخر میں کس دن ڈوبوں گا، فکریں کرتے ہیں​
دریا وریا، کشتی وشتی، لنگر ونگر سب​

عشق وشق کے سارے نسخے مجھ سے سیکھتے ہیں
ساگر واگر، منظر ونظر، جوہر ووہر سب

تُلسی نے جو لکھا اب کچھ بدلا بدلا ہے
راون واون، لنکا ونکا، بندر وندر سب
​_________________________________

उसकी काली आखों में है अन्तर मन्तर सब
चाकू वाकू, छुरियाँ वुरियां, खंजर वंजर सब

जिस दिन से तुम रूठे मुझ से, रूठे रूठे हैं
चादर वादर, तकिया वकिया, बिस्तर विस्तर सब

मुझे से बिछड़ कर, वह भी कहाँ अब पहले जैसे हैं
फीके पड़ गए कपड़े वपड़े, ज़ेवर शेवर सब

आखिर मैं किस दिन डूबूंगा, फ़िक्रें करते हैं
दरिया वरिया, कश्ती वशति, लंगर वंगर सब

इश्क़ विश्क के सारे नुस्खे मुझ से सीखते हैं
सागर वागर, मंज़र वन्ज़र,जौहर वौहर सब

तुलसी ने जो लिखा है अब कुछ बदला बदला है
रावन वावन, लंका वन्का, बन्दर वन्दर सब
**********************************

16/07/2017

तवक्कुल मस्जिद* मालेगांव पर चस्पां एक notice
ख़ुश आमदीद
*GST*

जी एस टी से परेशान होकर सरकार आप की तरफ़ ध्यान नहीं देती?
हुकूमत आप के मुतालिबात (demands) पर कान नहीं धरती तो घबराओ मत, सिर्फ़ एक GST गुनाहों से तौबा अपने अमल में ले आएये, फिर देखए इन हुकूमतों से बड़ा हुकूमत वाला, सब सरकारों से बड़ी सरकार अल्लाह रबबुल_ इज़्ज़त आप के मुतालिबात को किस तरह पूरा करता है
GST गुनाहों से तौबा के साथ अहकम_ उल_हकिमीन के दर पर आजाएये फिर आप को अपनी सनअत (manufacturing) की बक़ा (establish) और कारोबार के तहफ्फ़ुज़ (security) के लिए किसी वज़ीर (minister) की चौखट पर मेमोरैंडम लेजाने की ज़रूरत पेश नहीं आएगी।
तो आजाएये GST *गुनाहों से तौबा* लेकर इस दरबार में जहाँ मलाईका (angel's) भी खुश आमदीद (welcome) की सदा (announcement) लगा रहे हैं
GST
*गुनाहों से तौबा*

26/06/2017

Eid mubarak all of u☪️

21/05/2017

and का ड्रेस देखकर ऐसा लग रहा है की IPL सेरेमनी के बाद शादी में फोटो खिचाने भी जाना है।😂😂

18/05/2017

हर किसी के मेसेज आ रहें हैं की इस नंबर 77788 8999 से कोई कॉल आये तो मत उठाना...

उठाया तो मोबाइल ब्लास्ट हो जायेगा...

मैंने इसी नंबर पर कॉल किया और उसका मोबाइल ब्लास्ट हो गया है

अब टेंशन मत लो

मामला निपट गया है...। 😊

17/05/2017

3 बरस हो गए फीते काटते काटते... और कहते हैं मनमोहन ने कुछ नहीं किया

मेरी चप्पल किधर है बे!

16/05/2017

कल फेसबुक स्टेट्स और व्हाटसएप डीपी पर बहोत ढूँढ़ा
पर कोई भी गाय की फोटो लगाकर Happy Mothers Day बोलता नहीं दिखा😕😕

Photos 15/05/2017
11/05/2017

आज की रात अपनी दुआओं में खुसुसी तौर पर सीरिया, फिलिस्तीन, यमन, इराक, अफगानिस्तान, नाइजीरिया, लीबिया इत्यादी मुस्लिम मुमालिक के उन बेकसूरों के लिए भी दुआ करें जो जुल्म ओ सितम के बावजूद खुदा की वहदानियत पर यकीन रखकर अपना जीवन व्यतीत कर रहे,

उन बेगुनाह मुसलिमों के लिए भी दुआ करें जो बरसों से जेलों में बंद हैं , किसी सुनवाई नहीं हो रही तो किसी के बेगुनाही के सबुत नहीं मिल रहे, अल्लाह उनके रिहाई के राह को आसान कर दे।

कशमीर के नन्हे मासुमों के लिए भी दुआ करें जिनके अभी खेलने कुदने की उम्र में पेलेट की छर्रों ने उनसे उनकी बीनाई छीन ली है।

गौरक्षकों द्वारा गुंडागर्दी के शिकार और आए दिन संघियों के आतंक का शिकार होते मुसलमानों के लिए दुआएं करें। खुसुसी तौर पर सोई हुई कौम जो जगाने के हक में ताकि जुल्म के खिलाफ आवाज़ तो बुलंद कर सकें।

खोए हुए नजीब को भी याद रखें और उनकी अम्मी को सब्र की भी दुआ करें। ऐसे ही खोए हुए बच्चो और उनके वालिदैन के लिए दुआ करें।

और सबसे महत्वपूर्ण, जो लोग भी इसलाम और इसलामी शरीयत एंव कवानीन में दख़ल देने का प्रयास कर रहे हैं उनको अल्लाह सख्त से सख्त अजाब में मुब्तिला करें।

- बेशक अल्लाह हर शय पर क़ादिर है, न जाने वो हम में से किसकी दुआ कबुल कर ले।

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Maunath Bhanjan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Maunath Bhanjan