17/06/2026
واہ جی واہ! پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا ہے یا پھر میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے؟
ذرا اے کیٹیگری کو ہی دیکھ لیں۔
عامر جمال اے کیٹیگری میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر؟ وہ اس وقت پاکستان کے لیے کوئی فارمیٹ نہیں کھیل رہے، قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہیں، پی ایس ایل میں بھی ان کی پرفارمنس خاص نہیں رہی، پھر آخر کون سی غیرمعمولی کارکردگی ہے جس کی بنیاد پر انہیں اے کیٹیگری دی گئی؟
محمد رضوان اے کیٹیگری میں ہیں جبکہ وہ اب صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ نہ ون ڈے ٹیم کا حصہ ہیں اور نہ ٹی ٹونٹی میں مستقل جگہ رکھتے ہیں، پھر انہیں سب سے اوپر والی کیٹیگری میں رکھنے کی منطق کیا ہے؟
ساجد خان کی بات کریں تو وہ بھی بنیادی طور پر صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہیں، وہ بھی ہر سیریز میں نہیں۔ کبھی ٹیم میں ہوتے ہیں، کبھی مہینوں باہر بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر مستقل مزاجی اور تینوں فارمیٹس میں اہمیت معیار ہے تو پھر اے کیٹیگری کا جواز کیا بنتا ہے؟
اور اب آتے ہیں سعود شکیل پر۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے تقریباً دو سال سے ان کی کارکردگی وہ نہیں رہی جس کی بنیاد پر انہیں پاکستان کے ایلیٹ کھلاڑیوں میں شمار کیا جائے۔ مسلسل مواقع ملنے کے باوجود نہ کوئی غیرمعمولی اثر، نہ میچ وننگ پرفارمنس، لیکن پھر بھی اے کیٹیگری؟
قوم صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے: آخر معیار کیا ہے؟
اگر کارکردگی معیار ہے تو پھر سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ اگر فارمیٹس کی تعداد معیار ہے تو پھر صرف ایک فارمیٹ کھیلنے والے اے کیٹیگری میں کیوں ہیں؟ اگر مستقبل کی پلاننگ معیار ہے تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ یہ پلاننگ آخر ہے کیا؟
محسن نقوی صاحب! کرکٹ پسند ناپسند سے نہیں چلتی، میرٹ سے چلتی ہے۔ جب فیصلے کارکردگی کے بجائے سمجھ سے باہر بنیادوں پر ہوں گے تو سوالات بھی اٹھیں گے اور تنقید بھی ہوگی۔
پاکستان کرکٹ کو تجربہ گاہ نہیں، واضح میرٹ اور انصاف چاہیے۔
#محسننقوی #عاقبجوکر #پاکستان
12/06/2026
11/06/2026
10/06/2026
09/06/2026
06/06/2026
06/06/2026
06/06/2026
06/06/2026