G Cricket

G Cricket

Share

Like and Follow page for Cricket Updates, live coverage and Highlights of Cricket and Sport Events

26/05/2026
Photos from G Cricket's post 26/05/2026

⚠️ اہم ترین تنبیہ و اطلاع
​راولپنڈی سے مکر و فریب کا ایک انتہائی تشویش ناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تین عیار نوسربازوں نے ایک معصوم شہری کو مال برداری کا جھانسا دے کر شاہزور گاڑی سمیت اپنے ساتھ لیا۔ جوں ہی یہ کارواں گلیال کے مضافاتی جنگل کے قریب پہنچا، ملزمان نے اپنے اصل عزائم آشکار کرتے ہوئے ڈرائیور کو زبردستی گاڑی سے اتارا، اس سے نقدی و اثاثہ رقم چھین لی اور رسیوں سے جکڑ دیا۔
​بعد ازاں، ملزمان گاڑی چھین کر فرار ہونے ہی والے تھے کہ متاثرہ ڈرائیور کے شور مچانے پر قرب و جوار کے غیور مکین فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، جس سے ملزمان فرار ہوگئے۔
​اس سنگین مجرمانہ اقدام کے بعد مقامی لوگ متحرک ہوگئے۔ انہوں نے نصف شب تک بستی کے چپے چپے اور قریے کے ہر گوشے کو چھان مارا، جس کے نتیجے میں بالآخر ایک ملزم کو دھر دبوچا۔

📍​واضح رہے کہ اس کامیاب کارروائی میں بستی کے نوجوانوں کے مابین قائم فعال اور منظم واٹس ایپ نیٹ ورکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اہالیانِ گلیال بلا مبالغہ لائقِ صد تحسین و آفرین ہیں۔ مزید برآں، جو احباب 'گلیال' کے فعال و متحرک واٹس ایپ گروپس میں شمولیت کے خواہاں ہیں (بشرطیکہ ان کا تعلق خالصتاً امن امان کے فروغ اور مقامی آبادی سے ہو)، وہ فراہم کردہ نمبر پر رابطہ کریں۔ 03309321260

fans

26/05/2026

عرفات کے دن لالچی بنو۔ جو ناممکن ہے وہ مانگو

سب کچھ مانگو کیونکہ اس دن سے زیادہ طاقتور اور قبولیت کا دن اور کوئی نہیں ہے۔

25/05/2026

ورلڈ کپ جیسا بڑا ایونٹ سر پر کھڑا ہے اور پاکستانی ٹیم کی تیاریوں کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ میگا ایونٹ سے پہلے پاکستان نے صرف دس میچ کھیلنے ہیں، لیکن سلیکشن کمیٹی اور مینیجمنٹ اب بھی تجربوں کی لیبارٹری کھولنے بیٹھی ہے۔ دنیا کی بڑی ٹیمیں اپنے مہروں کو سیٹ کر کے میدان میں اتار رہیں ہیں اور یہاں ہمیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ ہماری فائنل الیون کیا ہوگی، بلکہ پندرہ رکنی سکواڈ پر بھی سوالیہ نشانات قائم ہیں۔

دو نئے وکٹ کیپرز کو بیک وقت ساتھ رکھ لیا گیا ہے، جبکہ مڈل آرڈر میں نمبر چار کی اہم ترین پوزیشن کے لیے ہمارے پاس کوئی مستقل اور بھروسے مند کھلاڑی ہی موجود نہیں۔ سلمان علی آغا کے بعد ہمارے پاس مڈل آرڈر کے آپشنز ویسے ہی ختم ہو جاتے ہیں، لیکن جو صلاحیت والے کھلاڑی ہیں، انہیں مینیجمنٹ کی ناعاقبت اندیشی کی نظر کر دیا جاتا ہے۔

حسن نواز کی مثال سب کے سامنے ہے، جو کل تک ٹیم کے پلانز کا حصہ نظر آ رہا تھا اور آج اچانک یوں منظر نامے سے غائب کر دیا گیا ہے جیسے وہ کبھی سکواڈ کا حصہ تھا ہی نہیں۔ وہ ان چند باصلاحیت بیٹرز میں سے تھا جو ناصرف اننگز کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتا ہے، بلکہ ضرورت پڑنے پر تیزی سے گیئر بدل کر نیچے آ کر میچ فنش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں صبر اور بیکنگ نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں۔ اگر کسی کھلاڑی کو محض ایک یا دو ناکامیوں کی بنیاد پر جج کر کے سیدھا پندرہ رکنی سکواڈ سے ہی باہر پھینکنا ہے، تو پھر ٹیم کبھی بن ہی نہیں پائے گی۔ یہاں کچھ مخصوص نام پرفارمنس نہ ہونے کے باوجود بار بار موقع پاتے رہتے ہیں، جبکہ شاداب خان جیسے سینیئر کھلاڑی بغیر کوئی لسٹ اے میچ کھیلے براہِ راست ٹیم میں واپس آ جاتے ہیں۔

اگر کھلاڑیوں کے لیے معیارِ انتخاب اتنا الگ ہوگا اور ہر میچ میں صرف نئے تجربے ہی ہوتے رہیں گے، تو شائقینِ کرکٹ کے پاس ورلڈ کپ سے پہلے امید کا دامن چھوڑنے اور سر پکڑ کر بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔

25/05/2026

پرائیویٹ اساتذہ 3 ماہ کے لیے بے روزگار کیے جارہے، اسکولوں کی طرف سے نوٹیفکیشن موصول ہو رہے ہیں.اگر ایسا کیا جارہا؟ تو اساتذہ کا امین کون؟

25/05/2026

حسن علی نے کبھی بھی ایسی کارکردگی پاکستان کی طرف سے کھیلتے ہوئے کیوں نہیں دکھائی؟

آپ کا کیا خیال ہے؟

ذرا یہ پڑھیے اور پھر کمنٹ میں بتلائیے

وائٹیلٹی بلاسٹ ٹی20 ٹورنامنٹ میں پاکستانی اسٹار فاسٹ بولر حسن علی نے اپنی شاندار اور جارحانہ بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے ایک ایسا میچ اپنی ٹیم کی جھولی میں ڈال دیا جو بظاہر یارکشائر کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
ڈربی شائر اور یارکشائر کے درمیان کھیلے گئے اس ہائی اسکورنگ میچ میں ڈربی شائر نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے یارکشائر کو 195 رنز کا ایک پہاڑ جیسا ہدف دیا۔ حسن علی نے بولنگ میں مناسب کارکردگی دکھائی اور اپنے 4 اوورز میں 37 رنز دے کر 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ لیکن اصل ڈراما ابھی باقی تھا!
ہدف کے تعاقب میں یارکشائر کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور صرف 139 رنز پر اس کے 8 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ جیت اب ایک ناممکن خواب لگ رہی تھی کیونکہ یارکشائر کو میچ جیتنے کے لیے 27 گیندوں پر 56 رنز درکار تھے اور کریز پر صرف ٹیل اینڈرز موجود تھے۔ ایسے انتہائی دباؤ والے اور مشکل وقت میں حسن علی بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے۔
حسن علی نے آسٹریلین بولر اینڈریو ٹائے کے ساتھ مل کر ڈربی شائر کے بولرز پر لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ دونوں نے حریف بولنگ الٹ پلٹ کر رکھ دی اور صرف 23 گیندوں پر 56 رنز کی ناقابل یقین اور طوفانی پارٹنرشپ قائم کر کے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ اس دھواں دار بیٹنگ کی بدولت یارکشائر نے یہ میچ 4 گیندیں پہلے ہی اپنے نام کر لیا۔ اس تاریخی میچ میں حسن علی نے صرف 12 گیندوں پر 31 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی جبکہ اینڈریو ٹائے 13 گیندوں پر 32 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
حسن علی کا یہ روپ واقعی حیران کن تھا۔ امید ہے کہ وہ اپنی اس شاندار فارم کو برقرار رکھیں گے!

24/05/2026

پاکستان ٹیپ بال کرکٹ میں آپ کا پسندیدہ کھلاڑی کون ہے کمنٹس میں مینشن کرے 💚

24/05/2026

مصلحت پسندی، طفلِ تسلی اور عاقب جاوید کا دورِ زوال

ایک زمانہ تھا جب قرائن بتاتے تھے کہ اب شاید پاکستان کرکٹ کا اجڑا ہوا گلشن بھی بہارِ نو سے ہمکنار ہونے کو ہے۔ میرِ کارواں بدلے تو لگا کہ جذباتی فیصلوں کی پرانی روش اب دم توڑ رہی ہے اور بساطِ کرکٹ پر ایک پختہ اور دور اندیش فکر کا ظہور ہو رہا ہے۔

سنہ 2019ء کے ورلڈ کپ کے بعد، یہ چمن ایک سحر انگیز اور تادیر قائم رہنے والی تبدیلی کے دوراہے پر آ کھڑا ہوا۔ سرفراز احمد گوشہ نشیں ہوئے، کچھ کہنہ مشق اور سینیئر کھلاڑیوں کو رخصت کیا گیا، اور ایک نو منتخب اور باشعور انتظامیہ نے زمامِ کار اپنے ہاتھوں میں لی۔
آغازِ سفر میں اگرچہ شکست کے کچھ تلخ گھونٹ بھی پینے پڑے، لیکن رفتہ رفتہ بساط پر ایک واضح وژن، ایک سلیقہ اور شائستہ طریقہِ کار نمودار ہونے لگا۔ چشمِ فلک نے دیکھا کہ ساؤتھ افریقہ جیسی صفِ اول کی ٹیم کو پہلے اپنے آنگن میں شکستِ فاش دی گئی، اور پھر انھی کے دیس جا کر ون ڈے سیریز جیتنے کا سہرا اپنے سر سجایا گیا۔ بعد ازاں، انگلینڈ کا وہ شاندار دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ یہ دراصل ایک ایسی مضبوط ٹیم کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، جس کے تادیر قائم رہنے کی قوی امید تھی۔ اس نظام کے پسِ پشت ایک بصیرت افروز مائنڈ سیٹ کام کر رہا تھا۔ مصباح الحق مسندِ کوچنگ پر متمکن تھے، وقار یونس گیند بازی کو پختہ کر رہے تھے، اور بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کی مسند پر وسیم خان جیسے عالی دماغ شخص جلوہ افروز تھے۔ بورڈ اور ٹیم کے مابین ایک ایسا دلنشیں اور حقیقی استحکام تھا، جو اگر قائم رہتا تو نتائج طویل عرصے تک رشکِ قمر بنے رہتے۔

مگر افسوس۔۔۔۔۔! کہ فلکِ کج رفتار کو یہ استحکام کب گوارا تھا۔

پھر رمیز راجہ کا دور شروع ہوا۔ پچز کو ایسا فلیٹ اور بے جان کیا گیا کہ جیسے مردہ زمین پر مٹی ڈال دی گئی ہو، اور نگاہِ دور اندیش ٹیسٹ کرکٹ کے سنگین تقاضوں کو یکسر فراموش کر کے، محض شارٹر فارمیٹ (T20) کی زلفِ گراں گیر کی اسیر ہو کر رہ گئی۔

سچ تو یہ ہے کہ اس عہد میں بھی شاہینوں نے سنہ 2021ء کے معرکے میں بھارت کو تاریخی شکست سے دوچار کیا اور سنہ 2022ء کے ورلڈ کپ کا فائنل بھی کھیلا، لیکن صد حیف! کہ طویل المدتی کرکٹ کو پسِ پشت ڈال کر صرف "قدرت کا نظام" جیسی طفل تسلیوں اور جذباتی فلسفوں پر تکیہ کر لیا گیا۔

رمیز راجہ کی رخصتی کیا ہوئی، گویا پی سی بی کا قصرِ شاہی تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ چیئرمین کی یہ معزز کرسی ایک ایسی سیاسی 'میوزیکل چیئر' بن گئی جس پر سنجیدگی سر پیٹ کر رہ گئی۔ پہلے نجم سیٹھی جلوہ افروز ہوئے، ابھی ان کی قبا کے بند کھلے نہ تھے کہ ذکاء اشرف نے چارج سنبھال لیا، اور پھر یہ قرعہِ فال محسن نقوی کے نام نکلا۔ اس پیہم بدلتی ہوئی قیادت، ایڈہاک ازم اور من پسند فیصلوں نے ٹیم کے بچے کچھے وقار کا جنازہ بھی نکال دیا۔

اور پھر۔۔۔ اس آشوب چشم بورڈ میں عاقب جاوید کی انٹری ہوئی۔
عاقب جاوید کے قدم رکھتے ہی پاکستان کرکٹ باقاعدہ 'رو بہ زوال' اور پامال ہو گئی۔ ان کے عہد میں جو تباہی مچی، اس نے کرکٹ کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا۔ سلیکشن کے نام پر جو ستم ڈھائے گئے، من پسند اور چہیتے افراد کی جس بیدردی سے ناز برداری کی گئی، اور طویل المدتی منصوبوں کا جس طرح گلا گھونٹا گیا، اس نے میرٹ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔

وہ لشکر جو کبھی دنیا کی عظیم ترین ٹیموں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوتا تھا، اب نوآموز اور اوسط درجے کی ٹیموں کے سامنے بھی زانو ٹیکنے پر مجبور نظر آنے لگا۔ عاقب جاوید کے فیصلوں نے ڈومیسٹک سے لے کر انٹرنیشنل لیول تک ایسا گہرا خلا پیدا کیا، جس کا ماتم پاکستان کرکٹ آج بھی برسرِ عام کر رہی ہے۔

قصہ مختصر، پاکستان کرکٹ کا المیہ ہی یہی رہا ہے کہ یہاں کسی اچھے شجرِ وژن کو کبھی جڑ پکڑنے نہیں دی جاتی۔ یہاں ٹیم کو ہمیشہ اچھے سے برے، اور برے سے بدترین حالات کی دلدل کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

جب تک اس برباد چمن میں خلوص، تسلسل اور حقیقی پروفیشنلزم کا دور دورہ نہیں ہوگا، ہم یوں ہی اجڑی ہوئی بساط پر زوال کا نوحہ پڑھتے رہیں گے۔

23/05/2026

دوستوں ٹیپ بال کرکٹ لائیو آپکو کیمروں پر اچھی لگتی ہے یا موبائل وکٹ کی پیچھے سے لائیو
📸📱

۔

23/05/2026

ٹیپ بال میں ایسا کیا ہوا کہ رونق ختم ہو گئی لوگوں کا انٹرسٹ ختم ہو گیا اب لوگ پرواہ نیں کرتے اور نا ہی میچز میں اتنی ویورشپ آتی ہے؟؟

۔
fans

23/05/2026

ہر عروج کو زوال

یہ کارگاہِ جہاں تماشائے عبرت ہے جہاں ہر کمال کو بلاشبہ ایک نہ ایک دن زوال کی دہلیز پر سر نگوں ہونا ہی پڑتا ہے۔ گردشِ ایام کا یہی وہ دستورِ ازلی ہے جو بڑے بڑوں کا غرور خاک میں ملا دیتا ہے۔

اب دیکھیے نا، آج سے محض دو ماہ قبل کس ستم ظریف کے وہم و گمان میں یہ بات آ سکتی تھی کہ کرکٹ کے اس پُرشور میلے آئی پی ایل کے رواں معرکے میں جسپریت بمراہ جیسے نامور اور یکتائے روزگار گیند باز کے ساتھ تقدیر ایسا ناروا کھیل کھیلے گی۔ شروعاتی پانچ مقابلوں میں کامیابی کا کھاتا تک نہ کھل سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے بارہ میچوں کا طویل سفر تمام ہونے پر جھولی میں صرف تین وکٹیں آ کر گریں۔

اگر بساطِ کرکٹ کے کسی بھی دلدادہ کو نام چھپا کر یہ مایوس کن اعداد و شمار دکھائے جائیں اور اس سے کج کلاہِ دوراں کا اندازہ لگانے کو کہا جائے، تو وہ سسکتی ہوئی حیرت کے ساتھ ہزار نام تو گنوا دے گا مگر بمراہ کے نام کا گمان تک اس کے دلِ ناتواں میں نہ گزرے گا۔ مگر صاحب، یہی تو اس کھیل کا حسن اور یہی اس کی بے رحمی ہے۔

ہمارے گرد و پیش میں ایسے نادان بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جو جوشِ خطابت میں بمراہ کو تاریخ کا عظیم ترین گیند باز قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ وہ معصوم نفوس ہیں جن کی نگاہوں نے کرکٹ کی دنیا کو آباد ہوئے صرف دس، پندرہ یا بیس برس ہی دیکھے ہیں۔ اگر ان کی چشمِ بینا نے ماضی کے ان جادوگروں وسیم اکرم ، وقار یونس، میک گرا وغیرہ کو دیکھا ہوتا، ان کی ہیبت اور جلال کا قصہ سنا ہوتا جو برسوں تک میدانِ جنگ میں بلے بازوں کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بنے رہے، تو یقین جانیے کہ آج بمراہ کے بارے میں ان کا یہ پندارِ عقیدت اس طرح برقرار نہ رہتا۔

اب یہ فیصلہ ہم آپ کے ذوقِ سلیم پر چھوڑتے ہیں کہ اس عہدِ رواں میں بمراہ کا اصل مقام کیا ہونا چاہیے۔

اور اگر آپ کی فہمِ رسا کے مطابق ماضی کا کوئی بھی نامور شہسوار بمراہ سے برتر اور فائق تھا، تو تبصروں کے اس دیوان خانے میں اس کا نام رقم فرما کر ہماری معلومات میں اضافے کا شرف ضرور بخشیں۔

نوازش، کرم اور بے حد شکریہ۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Attock City?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Attock City