بینک آف بہاولپور ایک تاریخی بینک تھا جس نے پاکستان کی ابتدائی مالی مشکلات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب ملکی خزانہ خالی تھا تو بینک آف بہاولپور نے پاکستان کی کرنسی کی ضمانت دی اور اس نے پاکستان کے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں فراہم کیں۔ یہ ایک نادر مثال تھی جس میں بہاولپور ریاست نے پاکستان کی مدد کی۔
ریاست بہاولپور اور پاکستان کے درمیان الحاق کا معاہدہ طے پایا تھا جس میں طے کیا گیا تھا کہ خارجہ، دفاع، اور کرنسی کے امور وفاق کے پاس ہوں گے جبکہ باقی معاملات اور اختیارات بہاولپور اور اس کی عوام کے پاس رہیں گے۔ لیکن اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی اور ریاست بہاولپور کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا گیا۔
بہاولپور بینک اس وقت تک موجود رہا جب تک بہاولپور خود مختار صوبہ رہا۔ مگر 1970 میں جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا تو بہاولپور اور اس کی عوام کو تخت لاہور کے حوالے کر دیا گیا، گویا انہیں لوٹ کا مال سمجھا گیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد اور متنازعہ مثال ہے کہ ایک صوبے کو دوسرے صوبے کو "تحفے" کے طور پر پیش کیا گیا۔ غیر آئینی اور غیر اخلاقی طور پر صوبہ بہاولپور کو پنجاب کے ماتحت کر دیا گیا، اور اس کی خود مختاری ختم کر دی گئی۔
لاہور نے بہاولپور کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا، اور بینک آف بہاولپور کا وجود بھی ختم کر دیا گیا۔ اس بینک کی عمارتوں اور دیگر اثاثوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔
اس طرح، بہاولپور کے لوگوں کے ساتھ ناانصافیوں، حق تلفیوں اور محرومیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس کا خاتمہ اب تک نہیں ہوا۔
Fllow me
GameRift
We will show you sports videos here which will entertain you about Sports, Passion, Life and much more.
ہانگ کانگ سپر سکسز 2024 میں بھارت کی ٹیم چار میچ ہار گئی ہے۔ ❌😂
- پاکستان کے خلاف 6 وکٹوں سے شکست.✔
- یو اے ای کے خلاف 1 رن سے شکست.✔
- انگلینڈ کے خلاف 15 رنز سے شکست.✔
نیوزی لینڈ کی خلاف 44 رنز کا شکست.✔
بھارت کی ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں بڑی ٹیموں میں شمار کیا جا رہا تھا مگر اس کی کارکردگی زیرو رہی اور انڈیا والے پورے ٹورنامنٹ میں میچ جیتنے سے قاصر رہے۔
Male, Female & Mother
مرد کو ہینڈل کرنا اصل میں یہ سیٹ ہی عورت کی ہے، عورت ہی اس کو پیدا کرتی ہے ، زنانہ وارڈ میں اس کا نزول ہوتا ہے، عورتیں ہی اس کو خوش آمدید کہتی ہیں ،
عورت ہی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ہے اچھی ہو یا بری، پھر ہار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ دیتی ہے ، لہذا ہر ماں یہ دیکھ لیا کرے کہ وہ اپنا لعل کس کو سونپ رہی ہے !
اس کی میت بھی عورتوں میں ہی پڑی ہوتی ہے، مرد صرف اٹھانے آتے ہیں ! عورت کے بگاڑے کو عورت ہی سدھار سکتی ہے، ماں کے بگاڑے ہوئے کو بیوی ہی سدھار سکتی ہے ، اور ماں کے سدھارے کو بیوی ہی بگاڑ سکتی ہے،
اس کا پاس ورڈ password ازل سے عورت کے پاس ہے، اور یہ ہمیشہ ماں یا بہنوں یا بیوی کے درمیان فٹ بال بنا رہتا ہے جو اپنی اپنی مرضی کی گیم اس پر کھیلتی اور اس کی سیٹنگز تبدیل کرتی رہتی ہے، ماں کی سیٹنگز بیوی رات کو تبدیل کر دیتی ہے صبح اماں ایک پھونک سے وہ ہٹا کر دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ریسٹور کر لیتی ہے، بس اتنی ساری کہانی ہے اس بیچارے مرد کی...
یونس خان 🗣️
فخر زمان نے T20 میں اپنی پوزیشن قربان کردی ہے جو کے بنیادی طورپر اوپنر تھا وہ گزشتہ تین سالوں سے کھبی نمبر 4 تو کھبی نمبر 5 پر کھیل رہے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فخر خود سے زیادہ ٹیم کے بارے میں سوچ رکھنے والا بندہ ہے اسی لیے میں کہتا ہوں کہ وہ ایک لیڈر ہیں جو ٹیم کے لیے خود کو قربان کر سکتا ہے
قانون کی کلاس میں استاد نے ایک طالب کو کھڑا کر کے اُس کا نام پوچھا اور بغیر کسی وجہ کے اُسے کلاس سے نکل جانے کا کہہ دیا۔ طالبعلم نے وجہ جاننے اور اپنے دفاع میں کئی دلیلیں دینے کی کوشش کی مگر اُستاد نے ایک بھی نہ سنی اور اپنے فیصلے پر مُصِّر رہا۔ طالبعلم شکستہ دلی سے اورغمزدہ باہر تو نکل گیا مگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ظلم جیسا سمجھ رہا تھا۔ حیرت باقی طلباء پر تھی جو سر جُھکائے اور خاموش بیٹھے تھے۔
لیکچر دینے کا آغاز کرتے ہوئے استاد نے طلباء سے پوچھا: قانون کیوں وضع کیئے جاتے ہیں؟ ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر کہا: لوگوں کے رویوں پر قابو رکھنے کیلئے۔
دوسرے طالب علم نے کہا: معاشرے پر لاگو کرنے کیلئے۔
تیسرے نے کہا؛ تاکہ کوئی طاقتور کمزور پر زیادتی نہ کر سکے۔
استاد نے کئی ایک جوابات سننے کے بعد کہا: یہ سب جواباتُ ٹھیک تو ہیں مگر کافی نہیں ہیں۔
ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا: تاکہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔
استاد نے کہا: جی، بالکل یہی جواب ہے جو میں سننا چاہتا تھا۔ تاکہ عدل کو غالب کیا جا سکے۔
استاد نے پھر پوچھا: لیکن عدل اور انصاف کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟
ایک طالب علم نے جواب دیا: تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔
اس بار استاد نے ایک توقف کے بعد کہا: اچھا، مجھ سے ڈرے بغیر اور بلا جھجھک میری ایک بات کا جواب دو، کیا میں نے تمہارے ساتھی طالبعلم کو کلاس روم سے نکال کر کوئی ظلم یا زیادتی کی ہے؟
سارے طلباء نے بیک زبان جواب دیا؛ جی ہاں سر، آپ نے زیادتی کی ہے۔
اس بار استاد نے غصے سے اونچا بولتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے کہ ظلم ہوا ہے۔ پھر تم سب خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ کیا فائدہ ایسے قوانین کا جن کے نفاذ کیلئے کسی کے اندر ھمت اور جرات ہی نہ ہو؟
جب تمہارے ساتھی طالبعلم کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی اور تم اس پر خاموش بیٹھے تھے، اس کا بس ایک ہی مطلب تھا کہ تم اپنی انسانیت کھوئے بیٹھے تھے۔ اور یاد رکھو جب انسانیت گرتی ہے تو اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہوا کرتا۔
اس کے ساتھ ہی استاد نے کمرے سے باہر کھڑے ہوئے
طالب علم کو واپس اندر بلایا، سب کے سامنے اس سے اپنی زیادتی کی معافی مانگی، اور باقی طلباء کی طرف اپنا رخ کرتے ہوئے کہا: یہی تمہارا آج کا سبق ہے۔ اور جاؤ، جا کر معاشرے میں ایسی نا انصافیاں تلاش کرو اور ان کی اصلاح کیلئے قانون نافذ کرانے کے طریقے سوچو۔۔۔۔
كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان كو تيار كر كے ديا تها وه اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا،
یہ مكهن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے كا وزن ايک كلو تها۔
شہر ميں كسان نے اس مكهن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتھوں فروخت كيا
اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيره خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا.
كسان كے جانے بعد…… دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا….
اسے خيال گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے.
وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے
مگر كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 – 900 گرام ہى تها۔
اگلے ہفتے كسان حسب سابق مكهن ليكر جيسے ہى دوكان كے تهڑے پر چڑها،
دوكاندار نے كسان كو چلاتے ہوئے كہا کہ وه دفع ہو جائے، كسى بے ايمان اور دهوكے باز شخص سے كاروبار كرنا اسكا دستور نہيں ہے.
900
گرام مكهن كو پورا ایک كلو گرام كہہ كر بيچنے والے شخص كى وه شكل ديكهنا بهى گوارا نہيں كرتا.
كسان نے ياسيت اور افسردگى سے دوكاندار سے كہا:
“ميرے بهائى مجھ سے بد ظن نہ ہو ہم تو غريب اور بے چارے لوگ ہيں،
ہمارے پاس تولنے كيلئے باٹ خريدنے كى استطاعت كہاں.
آپ سے جو ايک كلو چينى ليكر جاتا ہوں اسے ترازو كے ايک پلڑے ميں رکھ كر دوسرے پلڑے ميں اتنے وزن كا مكهن تول كر لے آتا ہوں.🥀🌹🍁🍁
سور کی تاریخ
*ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے
*یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے*۔
*کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔*
*اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔*
*اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔*
*شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔*
*چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔*
*اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا*
P
*1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟* *تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔*
*اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!*
*آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا* *استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں*،
*ان مصنوعات میں*
*دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں*
*کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں* *چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔*
*سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔*
*لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی* *فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،* *کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔*
*E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ*
*👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں*۔
*یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے*
اگر آپ کا وزن زمین پر 100 کلو ہے تو مریخ پر 38 کلو ہوگا 🤨 اور چاند پر 6.16 کلو ہوگا
کہنا یہ تھا آپ موٹے بالکل نہیں غلط سیارے پر ہیں کھانا پینا نہ بدلیں 🤨 سیارہ بدل دیں
_*🇵🇰 پاکستان کی ٹیم اب بھی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔*_🏆
*لیکن اس کے لیے ان شرائط کو پورا کرنا ہوگا: پاکستان کو اپنے باقی 5 میچز جیتنا ہوں گے۔*_
_جنوبی افریقہ کے خلاف (2)، اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی (2)_
_اگر بھارتی ٹیم اپنے تمام 6 میچ ہار جاتا ہے ( 1 بمقابلا نیوزی لینڈ) اور (5 بمقابلا آسٹریلیا)_
_اگر جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو 2-0 سے ہرا دیا۔_
_اگر نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو 3-0 سے شکست دی۔_
_اور بنگلہ دیش نے، جنوبی افریقہ کو 2-0 سے ہرانا ہوگا۔_
_*پھر ہم 2025 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں 🇵🇰 پاکستان اور 🇦🇺 آسٹریلیا کو دیکھیں گے۔🥳😉
ہندو 3700 سالوں سے کالکی کا انتظار کر رہے ہیں۔
بدھ 2,600 سالوں سے میتریہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہودی 2500 سال سے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔
عیسائی 2,000 سال سے یسوع کا انتظار کر رہے ہیں۔
مسلمان 1400 سال سے حضرت عیسیٰ کی منتظر ہے۔
شیعہ سنی مسلمان 1,080 سال سے حضرت مہدی کا انتظار کر رہے ہیں۔
دروز (Druze) ایک ہزار سال سے حمزہ ابن علی کا انتظار کر رہے ہیں۔
ہم میں سے اکثر اس انتظار میں ہیں کہ ایک "نجات دہندہ" آئے گا ، اس وقت تک دنیا بدی سے بھری رہے گی جب تک کہ اس نجات دہندہ کی آمد نہ ہو اور وہ اسے نیکی اور انصاف سے بھر دے گا۔
شاید اس کرہ ارض پر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کے بجائے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہمارے مسائل حل کرے !
شطرنج کی ایجاد کے پیچھے عجیب داستان؟
شطرنج اسی خطے (برصغیر) میں ایجاد ہوئی۔
یہ کھیل گپتا خاندان کے دور حکومت میں سیزا نامی شخص نے ایجاد کیا تھا۔
اس کی ایجاد سے ایک بہت اہم اور دلچسپ کہانی جڑی ہوئی ہے۔
سیزا نے کھیل ایجاد کیا تو وہ بادشاہ کے پاس آیا۔
بادشاہ نے خوش ہو کر سیزا سے کہا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟
سیزا نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور کہا کہ مجھے چاول کے چند دانے چاہئے۔
سیزا نے کہا: آپ شطرنج کے 64 ڈبے چاول کے دانے سے بھر دیں لیکن میرے فارمولے کے مطابق۔
بادشاہ نے کہا یہ کیا فارمولا ہے؟ سیزا نے کہا، “پہلے دن پہلے ڈبے میں چاول کا ایک دانہ، دوسرے دن دوسرے ڈبے میں دوگنا چاول اور تیسرے دن تیسرے ڈبے میں دگنا چاول۔
” پچھلے باکس کو دوگنا کریں جب تک کہ 64 باکس مکمل نہ ہوجائیں۔
اس احمقانہ مطالبے پر بادشاہ ہنس پڑا اور شرط مان لی اور اس شرط کے ساتھ وہ کھیل شروع ہوا جس کے اصول نے آج مائیکرو سافٹ جیسی کمپنی کو جنم دیا۔
یہ ایک آسان کام لگتا تھا لیکن یہ دنیا کا سب سے مشکل معمہ نکلا۔
اور آج 3500 سال بعد بھی شطرنج کے 64 ڈبوں کو چاولوں سے بھرنا ممکن نہیں۔
بادشاہ نے پہلے دن شطرنج کے پہلے ڈبے میں چاول کا ایک دانہ رکھا۔
سیزا اسے لے کر چلا گیا۔
دوسرے دن بادشاہ نے دوسرے ڈبے میں دو دانے رکھے اور سیزا کو دے دئیے۔ تیسرے دن تیسرے ڈبے میں چاولوں کی تعداد چار اور چوتھے دن چاولوں کی تعداد آٹھ، پانچویں دن سولہ اور چھٹے دن بتیس، ساتویں دن 64 اور آٹھویں دن چاولوں کی تعداد 128 ہو گئی۔
یعنی شطرنج کی پہلی قطار کے آخری ڈبے میں چاولوں کی تعداد 128، نویں دن 256، دسویں دن 528 اور گیارہویں دن 1024 اور بارہویں دن ہو گئی۔
یہ تعداد 2048 ہو گئی۔
تیرہویں دن یہ تعداد 4096 ہو گئی اور چودھویں دن یہ تعداد 8192 ہو گئی، پندرہویں دن یہ تعداد 16384 ہو گئی اور سولہویں دن 32768 ہو گئی اور یہاں پہنچ کر شطرنج کی دو قطاریں مکمل ہو گئیں۔
اب بادشاہ کو احساس ہوا کہ وہ مشکل میں ہے کیونکہ وہ اور اس کے تمام وزیر سارا دن بیٹھے چاول گنتے رہتے۔
شطرنج کی تیسری قطار کے اختتام تک چاولوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ چکی تھی اور بادشاہ کو چاولوں کو کھیت میں لانے اور سیزا کو دینے کے لیے درجنوں افراد کی ضرورت تھی۔
تیسری شطرنج کا تیسرا خانہ شروع ہوا تو پورے ملک میں چاول ختم ہو گئے۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔
اس نے فوراً ایک ریاضی دان کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ شطرنج کے 64 خانوں کے لیے کتنے چاول درکار ہوں گے اور کتنے دن لگیں گے۔
ریاضی دان کئی دن بیٹھے رہے لیکن وہ وقت اور چاول کا اندازہ نہ لگا سکے۔
یہ تخمینہ موجودہ دور میں بل گیٹس نے لگایا تھا۔
ساڑھے تین ہزار سال بعد بل گیٹس کا خیال ہے کہ اگر 19 صفر کو ایک ساتھ جوڑا جائے تو شطرنج کے 64 خانوں میں اتنے چاول ہو سکتے ہیں۔
بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک بوری میں ایک ارب چاول ڈالیں تو ہمیں 18 ارب بوریوں کی ضرورت ہوگی اور ان چاولوں کو گننے اور بساط پر رکھ کر اٹھانے میں ڈیڑھ ارب سال لگیں گے۔
اس طرح بظاہر ایک آسان نظر آنے والا کام اس وقت ایک ایسا معمہ بن گیا تھا جسے بادشاہ اپنی پوری زندگی حل نہ کر پایا.
"اندھوں کا دیس"
انگریزی ناول نگار ہربرٹ جے ویلز نے اس کو پہلی مرتبہ 1936 میں پبلش کیا گیا تھا اور آج بھی یہ پبلش ہورہی ہے
اس کہانی میں مصنف ہمیں ایک عجیب و غریب بیماری کے بارے میں بتاتا ہے - برف پوش پہاڑوں کے بیچوں بیچ دنیا سے الگ تھلگ ایک کٹے ہوئے دور افتادہ گاؤں میں جوائینڈس کی بیماری پھیل گئی تھی ، اور اس بیماری نے گاؤں کے تمام مکینوں کو اندھے پن کی بیماری میں مبتلا کردیا تھا -
اس بیماری کے بعد سے اس گاؤں کا دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہوگیا تھا. کوئی آنکھ سلامت نہ رہی تھی، کوئی شخص گاؤں چھوڑ کر باہر نہ جاسکتا تھا . سو یہ تمام لوگ مکمل طور پر اندھوں میں تبدیل چکے تھے اور ان کی اولادیں بھی نسل در نسل نابینا پیدا ہونے لگی تھیں - گاؤں کے سب مکین اندھے ہو چکے تھے . اور ان میں ایک بھی آنکھ سلامت نہ تھی، کوئی بھی دیکھنے والا شخص اب باقی نہ بچا تھا -
ایک دن ایک کوہ پیما نیونز غلطی سے وہاں آنکلا، جب وہ پہاڑ سر کرنے کی مشق کر رہا تھا تو اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ پہاڑ کی ایک بلند و بالا چوٹی سے سیدھا نیچے اس گاؤں میں گر گیا۔ نیونز کو کوئی تکلیف نہ پہنچی .
کیونکہ یہ برفانی گاؤں گھنے درختوں سے ڈھکا رہتا تھا، اور نیونز کو ان درختوں نے اپنی گود کا سہارا دے کر بچا لیا تھا -
چنانچہ وہ نیچے اترا اور جب اس نے گاؤں کا تشویشناک منظر دیکھا تو اس کا پہلا تبصرہ یہ تھا؛
"اس گاؤں کے کسی بھی گھر میں روشنی کے لیے کھڑکیاں نہیں بنی ہوئی تھیں ، اور گھروں کی دیواروں کو مختلف رنگوں کے پینٹس سے بے ترتیب انداز میں پینٹ کیا گیا تھا."
یہ منظر دیکھ کر نیونز نے اپنے دل میں کہا کہ؛
“جس کسی نے بھی یہ گھر بنائے ہیں وہ ضرور اندھا ہوگا۔ ”
چنانچہ یہ کوہ پیما گاؤں کے عین بیچوں بیچ پہنچ گیا اور لوگوں کو پکارنے لگا - اس نے دیکھا کہ لوگ اس کے قریب سے گزرتے جارہے ہیں اور کوئی بھی اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھ رہا ، یہاں تک کہ نیونز کو پتہ چل گیا کہ وہ واقعی اندھوں کے دیس میں موجود ہے!
وہ گاؤں کے لوگوں کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا، اور انہیں جاننے کی کوشش کرنے لگا: کہ یہ کون لوگ ہیں ، اور کیا حالات تھے جس کی وجہ سے یہ سب نابینا ہوگئے ،یہ لوگ اب کیسے دیکھتے ہیں، کیسے زندگی گزارتے ہیں اور دوبارہ کیسے ٹھیک کیے جا سکتے ہیں -
اس نے لوگوں کے سامنے اپنے سوالات بار بار دہرائے کہ: وہ کیسے دیکھتے ہیں؟ اور آنکھوں کے بغیر کیسے رہ لیتے ہیں ؟ اندھے لوگوں نے اس کو سیدھا سادہ جواب دینے کے بجائے الٹا نیونز کا مذاق اڑایا اور وہ اس کو طنز و استہزا کا نشانہ بنانے لگے-
یہ نابینا افراد اپنی دیوانگی کی حالت میں اس سے زیادہ آگے بڑھ گئے جب انہوں نے اس کوہ پیما کو کہا کہ وہ نارمل انسان نہیں ہے کیونکہ اس کی آنکھیں ہیں وہ دیکھ سکتا ہے ، نارمل انسان تو وہ ہوتا ہے جو دیکھ ہی نہ سکتا ہو!
اس گاؤں والوں نے اسے دیوانہ بنا دیا اور کچھ لوگوں نے اس کو بتایا کہ وہ اس کا مذاق اڑانا تب ہی ترک کریں گے جب وہ اپنی آنکھیں نکال دے گا، اور ان کی طرح مکمل طور پر اندھا ہوجائے گا ، سب اندھوں نے مل کر اس کو ان کی طرح اندھا ہونے کا کہا -
اس کہانی کا ہیرو "اندھوں کے دیس میں" بینائی کا مطلب سمجھانے میں بری طرح سے ناکام رہتا ہے، کیونکہ اندھا بھلا کیا سمجھے کہ بینائی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
چنانچہ وہ اس اندھوں کے ملک سے بھاگ گیا اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس کی آنکھیں نکال دیتے وہ یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا تھا کہ بھلا ان بیمار لوگوں کا اندھا پن کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، جب وہ آنکھوں والے تندرست شخص کو ہی بیمار سمجھتے ہیں ؟
"اندھوں کا ملک" ہر وہ معاشرہ ہے جس میں جہالت، کم علمی، کرپشن ، بدعنوانی، پسماندگی، غربت، تشدد اور ہٹ دھرمی کا غلبہ ہو، اور کوئی بھی اہل بصیرت آواز جب اٹھے تواس کو رد کردیا جاتا ہو؛ جہاں حکیم، صاحب علم و حکمت اور دانشمندوں کو لوگوں کی جہالت، کج فہمی اور کم عقلی اور تشدد کا سامنا ہو۔
ہر وہ دیس "اندھوں کا دیس ہے" جہاں پوری قوم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہو چکی ہو، اور لوگوں کا ہر گروہ خود کو افضل سمجھے اور دوسرے ہر گروہ سے نفرت رکھتا ہو - ہر وہ دیس "اندھوں کا دیس ہے" خود سے مختلف ہر دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے، تکلیف دینے کا جھوٹا جواز تلاش کرکے اس پر ظلم و ستم کیا جاتا ہو-
اندھوں کا دیس ہر وہ معاشرہ ہے جہاں لوگوں کو بس اس چیز سے سروکار ہو کہ انہوں نے دوسروں سے کیا لینا ہے، نہ کہ انھیں کیا دینا ہے!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Attock
43600