22/11/2025
Food insecurity and limited rural opportunities are major drivers of conflict and forced migration.
IFAD investments address these challenges at their source, creating the conditions for lasting stability by:
➡️ Strengthening agricultural systems
➡️ Raising incomes
➡️ Providing opportunities for rural youth
By supporting communities to overcome these key issues and reducing the pressures that drive migration and conflict, IFAD supports the development of resilient communities.
Paris Peace Forum
26/09/2024
زرعی یونیورسٹی پونچھ کے زیر اہتمام کسان میلہ
پہلی پوزیشن جنوبی باغ کے نام
ہمارا قابل فخر بھائی
Muhammad Nadeem Ajk
زرعی یونیورسٹی پونچھ کے زیر اہتمام کسان میلہ ہوا جہاں پر100 سے زائد زرعی نمائشی سٹال لگائے گئے
زرعی یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے تمام اسٹال کا دورہ اور معائنہ کرنے کے بعد جنوبی باغ کے ہمارے لائق تقلید بھائی سردار ندیم کی تمام زرعی اجناس کو سب سے بہتر اور آرگینک قرار دیتے ھوے پہلی پوزیشن کا حق دار ٹھہراتے ھوۓ انعام و سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ زراعت باغ، محکمہ ابریشم باغ ،محکمہ ابپاشی باغ نے ندیم بھائی سمیت کئی ایسے بھائیوں کی رہنمائی کی اور ٹریننگز دیں جسکے باعث وہ آج نا صرف بہترین نتائج کیساتھ اپنا رزق کما رہے ہیں بلکہ علاقے کا نام بھی روشن کر رہے ہیں ۔
ویلڈن ندیم بھائی
31/08/2024
Capitalizing on the growing demand for chemical-free food
“When I went to university, my friends asked me ‘Why don’t you study accounting instead of agriculture? But having grown up in a farming family and having seen many farmers struggle on a small piece of land, I was convinced that I had made the right choice and that I could help my country,” says Mori Gouroubera, an ERA (Entrepreneur for Rural Access) from Benin.
“Already providing advisory services, after receiving the smart projector with its library of quality farmer training videos in local languages, I suddenly had a unique tool and a competitive advantage over other service providers,” recalls Mori.
Read more at pages 11 to 15 of the book Young Changemakers, available at https://www.accessagriculture.org/our-young-entrepreneurs
22/05/2024
یہ تو مجھے کنفرم نہیں کے اماں حوا اور حضرت آدم کو گندم کا دانہ کھانے کی پاداش میں جنت سے ہاتھ دھونے پڑے لیکن اس بات کا میں چشم دیدہ گواہ ہوں کے جب سے ہم لوگوں نے گندم کی کاشتکاری بند کی ہے تب سے ہمیں بھی گندم کے ان دانوں کی خاطر بڑی زلتیں اٹھانے پڑی ہیں۔چاہے وہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کے ہاتھوں مصنوعی قلت اور مہنگے داموں آٹے کی دستیابی ہو یا آٹے کی ایک تھیلی کی خاطر امت کی ماووں بہنوں بیٹیوں کو سڑکوں میں چوک چوراہوں میں اور چپے چپے پہ لائنوں میں لگانے ،بدتمیزی کرنے،ذلت آمیز رویے کے ساتھ چند سو روپووں کی تھیلی کو ماووں بہنوں بیٹیوں کے آگے پٹخنہ ہو یا تازہ ترین عوامی ایکشن کمیٹی کی کٹھن جدوجہد اور بھائیوں کی قربانی کے بعد چند سو رپووں کی کمی ہو ۔ ۔۔ہر گزرتے دن میں گندم کے دانوں نے جنت نظیر کشمیر کے باسیوں کو ذلت اور پریشانی کے وہ لمحات دکھاے جو زیادہ پرانی بات نہیں۔۔بس یہی کوئی بیس سال پہلے ہم تصور تک نہیں کر سکتے تھے۔آج سے بیس سال قبل ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ گندم کے یہ دانے ہم سے خون کا خراج لے کہ ملیں گے۔
یہ کل کہ بات لگتی ہے کہ جب محلے میں کوئی بازاری آٹا گھر لاتا تو اہل محلہ اسے بڑی طنزیہ نظروں سے دیکھتے تھے کہ کتنا نالائق ہے کہ وقت پہ گندم کاشت نہ کرسکا اور بازار کا ملاوٹ شدہ اور دو نمبر آٹا گھر لایا ہے۔اہل خانہ بھی بے دلی سے مہینہ پورا کرتے بازاری آٹے سے۔۔
لیکن اب یہ عالم ہے کہ بازار کا آٹا بھی ہمارے لیے مثل چاندی و سونا بن چکا ہے،،کیا کیا دکھ، تکالیف، ہریشانیاں اور زلتیں نہیں سہنی پڑتی ہمیں اس آٹے کی خاطر۔
ہمارے بیکار پڑے کھیت ہمارے راہ تکتے تکتے سونے پڑ گے۔۔۔
کاش ہم افغانیوں سے ہی سبق سیکھ لیں کہ جنہوں نے تباہ شدہ افغانستانی کو ترقی اور خوشحالی کے ٹاپ پہ پہنچانے کی ٹھانی اور ایسی ٹھانی کے آج افغانستان کے ہر بچے بوڑھے جوان میں ایک دُھن سی سوار ہے اپنے تباہ شدہ آنگن کو پھر سے مہکانے کی اور کھنکھار پہاڑوں کو سرسبز و شاداب جنگلوں میں بدلنے کی صحراووں کو سرسبز لہلاتے گھیتوں میں بدلنے کی۔۔میری یہ تحریر سنبھال کے رکھیے گا اور میرے یہ الفاظ بھی کہ "آج سے ٹھیک دس سال بعد ہم افغانستان کے ویزے کے لیے تڑپیں گے" ،
ہم کشمیریوں کے لیے کیا یہ ناممکنات میں شامل ہو چکا ہے کہ ہم اپنے کھیتوں کو پھر سے نہ آباد کر سکیں۔ اللہ کی قسم ۔۔۔نہیں ۔۔۔بات ہے صرف اور صرف بس تھوڑی سی ہمت کی۔۔بس تھوڑی سی مظبوط قوت ارادی کی۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں گندم کی کاشت نہ آپ کا زیادہ وقت لے گی اور نہ ہی اس کی روزانہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔۔بس تھوڑا وقت نکال کہ بس تھوڑی سی دیکھ بھال اور ہورے سال کا خالص اور صحت بخش آٹا آپ کے گھر کی دہلیز پہ۔