Chitral Hunter's Club

Chitral Hunter's Club

Share

Chitral Hunter’s Club established with the mission to promote the hunting activities in youth of C

Photos from Chitral Hunter's Club's post 30/06/2025

Pبریٹا اٹلی

Photos from Chitral Hunter's Club's post 04/02/2025

ATA میڈ ترکی

Photos from Chitral Hunter's Club's post 04/02/2025

فرنچی میڈ اٹلی

20/07/2024

عَربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے، تُرکیوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ھے اِسلیے اُن میں طاقت، جرات اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ھے، انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ھے اِسلیے اُن میں فحاشی وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے، حَبشی اَفریقی بندر کھاتے ہیں اِسلئیے اُن میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے۔....
اِبنِ القیم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :..جِس کو جِس حیوان کے ساتھ اُنس ھوتا ہے اُس کی طبیعت میں اُس حیوان کی عادتیں غیر شعُوری طور پر شامل ھوجاتی ہیں اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائیں تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ھوجاتا ہے۔
ھمارے دور میں فارمی مُرغی کھانے کا رِواج بن چکا ہے چُنانچہ ھم بھی مُرغیوں کی طرح صُبح و شام چُوں چُوں تو بُہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ھمیں ﺫِبح کر دیا جاتا ہے، فارمی مُرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ھم میں سُستی کاھلی کی، ایک جگہ ٹِک کر بیٹھنے کی، سر جُھکا کر چلنے کی اور پستی میں رھنے کی عادتیں پیدا ھوچکی ہیں۔ہیں۔

04/07/2024

‏بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" کا تذکرہ ملتا ہے، وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہی ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا، تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برہمن ہندو ہیں۔ اور وہ الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت زبان کے ماھر اور معروف محقق اسکالر ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے کالکی اوتار کی بابت اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محقق پنڈتوں کے سامنے پیش کیا تھا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔
برھمن پنڈت وید پرکاش نے اپنی اس تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں دراصل ايک عظیم رہنما کا ذکر ملتا ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا جاتا ہے، سو پنڈت وید پرکاش گہری تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ھے کہ اس کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں، جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو اب کسی اور کالکی اوتار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے انہیں محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے، جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیئے ہیں۔

1۔ ”وید" کتاب میں لکھا ہے کہ
(( کالکی اوتار بھگوان کاآخری اوتار ہوگا، جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔ ))
ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش لکھتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا اطلاق صرف حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔

2۔”ویدوں“ کی پیش گوئی کے مطابق (( کالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے))
اور يہ عرب علاقہ ھی ہے، جسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔

3۔ مقدس کتاب وید میں لکھا ہے کہ (( ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ”سومانب“ ہوگا۔))
جبکہ سنسکرت زبان میں ”وشنو“ ﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی ”عبد ﷲ“ ہوا۔
اور سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب "امن" ہے, جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہو گا، اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبد ﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہی ہے۔

4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ
((”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اور وہ اپنے قول وقرار میں سچا اور دیانتدار ہو گا۔ ))
اور يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ جبکہ آپ سچائی اور دیانتداری میں تو اس حد تک معروف تھے کہ مکہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔

5۔ ”وید “ کے مطابق ((”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا))
اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی پورے عرب میں عزت اور شام وعراق میں پہچان تھی۔

6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔))
اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں ﷲ تعالی نے غار حراء میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔

7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔))
اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ”براق پر معراج کا سفر“ اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اسے آپ کی بابت ھی درست ثابت کرتا ہے؟

8۔ نیز لکھا ھے کہ
((ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔))
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔

9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق یہ پیش گوئی ملتی ھے کہ
((” کالکی اوتار“ گھڑ سواری، تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگا۔))

پنڈت وید پرکاش نے اس پیش گوئی پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ جو بڑا اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
"گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب تو ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اس دور جدید میں تلواروں، نیروں اور برچھیوں سے مسلح‏”کالکی اوتار“ کا انتظار کرتے رہ جائیں۔ حالانکہ حقیقت يہ ہے کہ مقدس کتابوں میں ”کالکی اوتار“ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں جو ان تمام حربی فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ٹینک، توپ اور مزائل کے اس دور میں گھڑ سوار، تیغ زن اور تیر انداز کالکی اوتار کا انتظار نری حماقت ھے۔
(نقل وچسپاں)

01/07/2024

‏ایک شخص نے اپنی پراڈو قصائی کی دکان کے سامنے کھڑی کی اور ایک کلو گوشت مانگا
اتنے میں ایک 1980 ماڈل کا ڈالا آ کر رکا اور اس میں سے اترنے والے نے پانچ کلو گوشت تین کلو کلیجی اور دو دیسی مرغیوں کا آرڈر دیا
پراڈو والا کھڑا رہا اور ڈالے والے کے جانے کا انتظار کرتا رہا
👇👇
‏پھر قصائی سے پوچھا: یہ بندہ کون ہے اور کیا کرتا ہے
قصائی نے کہا: یہ کوئی کام نہیں کرتا لیکن اس نے تین مال دار بیواؤں سے شادی کر رکھی ہے جن کے شوہر بہت امیر تھے اور بہت مال چھوڑ کر فوت ہوئے
👇👇
‏یہ سن کر پراڈو والے نے اپنا آرڈر بڑھا دیا اور دس کلو گوشت پانچ کلو کلیجی سات کلو قیمہ لے کر جیسے ہی گھر پہنچا تو بیوی نے پوچھا: اتنا کچھ اٹھا لائے ہو کس کی دعوت کر رہے ہو؟
کہنے لگا: کوئی دعوت نہیں بس میں اپنے مال کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں اس سے پہلے کہ کوئ ڈالے والا آ جائے
🤣
کچھ لوگوں کے نصیب میں اپنے بُخل کی وجہ سے جمع کرنے کی مُشقت تو ہوتی ہے پر اپنے اوپر خرچ کرنا نصیب نہیں ہوتا۔
اپنا پیسہ خود خرچ کرو اس سے پہلے کہ کوئی اور آپ کا پیسہ خرچ کرے۔

Photos from Chitral Hunter's Club's post 25/06/2024

فیس بُک کے ایک بھائی صاحب نے اپنی وال پر بجلی کے بلوں کی پک لگائی ہوئی ہے
ذرا دیکھیں 197 یونٹ کا بل 3500 ہے اور 205 یونٹ کا بل 11583 روپے ہے
یعنی 7 یونٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 8 ہزار روپے بل زیادہ ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے 7 یونٹ زیادہ استمعال کرنے کے بھیانک جرم میں ان بھائی صاحب کو 6 ماہ یہ سزا ملے گی اور اسی طرح بل آئے گا 😢
خاموشی ایک جرم ہے
مظلوم کی خاموشی ظالم کو مزید ظالم بناتی ہے

24/06/2024

اس لائن میں تو زیادہ تر وہ لوگ کھڑے ہیں جن کے ماں باپ گھر میں فوت ہو جاتے ہیں تو رفاعی اداروں کو کال کر کے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ا کے ان کا غسل کفن دفن کا انتظام کر دیں یہ اپنے ماں باپ کے نہیں تو اوروں کے کیا ہوں گے۔۔اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ کہ ان ہی، کے ۔ایف۔ سی ، والوں کے پاس ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا اور پاس ہی کُرسی پر میں بیٹھ کر سویٹ کریم کھا رہا تھا پردے کا ذرا بھی انتظام نہیں تھا اس بوڑھے انسان کے ساتھ اس کی بیوی ،اور ساتھ ایک بیٹی بھی بیٹھی تھی اور بیٹی کی بے حیائی کا عالم یہ تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا پردے کا تو سوچے ہی مت دور دور تک ، اور جسم کے اعضاء واضح ہو رہے تھے ، ایک بات بھول گیا اس انسان کی داڑھی بھی تھی ، داڑھی کا ذکر کرنے کا مقصد ہے کہ لازمی نہیں کہ اچھے لوگ ہی داڑھی رکھیں کچھ برے لوگ بھی داڑھی رکھ لیتے ہیں علماء کو بدنام کرنے کے لیے یاد رکھیں ہر داڑھی والا عالم نہیں ہوتا ۔۔
خیر میں پاس بیٹھا تھا تو ، میں نے کسی چیز کی طلب میں ٹیبل کے اُس پار دیکھا تو مجھے وہ صاحب کھنے لگے یار سیدھا دیکھو میرے ساتھ فیملی ہے ۔۔
ایک لمحے کے لیۓ تو مجھ پر سکتا طاری ہو گیا ، پھر سوچا چلو خیر ! کچھ تو غیرت باقی ہے اس انسان میں ۔۔
آپ اپنی بہن بیٹی کو ساتھ لیکر جائیں اور کپڑے بھی تنگ پھنے ہوں اُس سے جسم بھی واضح ہو رہا ہو پھر آپ سوچیں کہ لوگ آپ کی بہن بیٹی کی طرف دیکھے بھی نہ تو آپ ، بیغیرت تو ہیں ہی ساتھ یہ سوچ بھی غلط ہے کہ کوئی دیکھے بھی نہ کیو کہ یہ انسانوں کی بستی ہے نہ کہ فرشتوں کی بیغیرت اس لیے آپ کی بہن کا جسم واضح ہو رہا ہو اور لوگ دیکھے اور آپ کو غیرت بھی نہ آئے ۔۔
اگر کوئی دیکھ لے آپ اُس کو کہیں کہ مت دیکھو جب یہی آپ کی بہن بیٹی آپ کے ساتھ گھر سے تنگ کپڑے ڈال کر باہر نکلتی ہے تب غیرت کہا مر جاتی ہے ہماری تب زبان کیوں گونگی ہو جاتی ہے ، ہمیں تب نظر آنا کیو بند ہو جاتا ہے ۔۔
اللّٰہ ہر ایمان والے کو غیرت مند بنائے ، ایمان والے ہوتے پہلے ہی غیرت مند ہیں لیکن ہمارl ایسا ایمان بھی تو نہیں ۔۔

16/06/2024

عید کے موقع پر سافٹ ڈرنکس کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ تھوڑے سے ذائقے کے لیے اپنی ایمانی غیرت داؤ پر مت لگائیے، بائیکاٹ جاری رکھیں۔

06/06/2024

تصویر میں دائیں جانب موجود شخص امریکہ سے تعلق رکھنے والا جوزف اسٹس ہے( Joseph Estes)اپنے کیریئرکا آغاز ایک ایسے تاجر سے کیا جو انتہا درجے کا متعصب عیسائی تھا مسلمانوں پرطنزوتضحیک اس کا وطیرہ تھا۔( اللہ کی پناہ ۔ کعبۃ اللہ کے بارے میں ) از راہ طنز اس کا کہنا تھا کہ :
مسلمان صحراء میں پڑے ایک سیاہ صندوق کی عبادت کرتے ہیں ۔
تصویر میں بائیں جانب شخص بلاد حرمین سے تعلق رکھنے والا عبد اللہ القصیمی ہے۔
آغاز میں کمال درجے کا داعی اورمبلغ تھا۔
یہاں تک کہ اسے ابن تیمیہ دووم کا لقب دیا گیا ۔
ان کی مشہور زمانہ کتاب
« الصراع بين الإسلام والوطنية »
"اسلام اور نیشنلزم کا ٹکراؤ"
اہل علم میں اس کتاب کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔
کتاب کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس وقت حرم مکی کے امام نے اس کے بارے میں پورا قصیدہ پڑھا تھا ۔ مشہور عالم دین صلاح منجد نے ذکر فرمایا ہے کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ : قصیمی نے اس کتاب کو لکھا گویا کہ جنت کا مہر ادا کیا ۔
1980 میں اس وقت قصیمی اچانک ایک سو اسی درجے پھر گیا جب بیروت میں ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ اسے عشق ہوگیا ، اس کے بعد اس نے بے دین گمراہ افکار کا دفاع شروع کیا اور کتاب لکھی ،،
" يكذبون لكي يروا الاله جميلا "
"وہ جھوٹ اس لیے بولتے ہیں کہ معبود کو خوبصورت دیکھیں"
اسی طرح
« هذي هي الأغلال »
یہی وہ زنجیریں ہیں(کتاب میں صوم وصلاۃ اور دیگر عبادات کو گلے کے طوق کے ساتھ تشبیہ دی ہے )
پھر اس نے اپنے ملحد ہونے اور اللہ کے وجود سے انکار کا اعلان کردیا۔
1996میں زمین اس کے وجود سے پاک ہوئی۔
اسی دوران جوزف اسٹس نے اپنے خاندان سمیت ایک مصری مبلغ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا،یوں ایک متعصب عیسائی سے جوزف امریکہ میں اسلام کا داعی بنا،اپنا نام تبدیل کرکے یوسف رکھا ،اور اس کے ہاتھوں سینکڑوں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔
دلوں کو پھیرنے والی ذات کے کمالات !
*ابتداء ہی سب کچھ نہیں بلکہ انجام اور خاتمہ جاہ عبرت ہے !!!!*
یااللہ ہمارا خاتمہ بالاسلام اور بالایمان اور بالخیر فرمانا آمین😭
منقول

03/06/2024

ڈیجیٹل واپڈا کا سفر شروع میٹر ریڈر سمیت بہت سارے لوگ فارغ ہونے والے ہیں گورنمنٹ نئے "ڈیجٹل آٹو کنٹرول میٹر" لگا رہی ہے جس کا آغاز اسلام آباد، راولپنڈی سے کر دیا گیا ہے۔ذرائع

اس میں کیمرہ بھی نسب ہے۔ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کی ویڈیو ریکارڈ ہو جاتی ھے۔ ذرائع

بل ادا نہ کرنے پر کنٹرول روم سے سپلائی بند کی جا سکتی ہے ،ذرائع

بل ادا کرنے پر خود کار طریقے سے چل بھی جاتا ھے۔

یہ میٹر ریڈنگ بھی خود کار سسٹم کے تحت واپڈا کو

بھیج دیتا ہے۔

واپڈا کا 70% فیصد اسٹاف ختم 30% فیصد مخصوص لوگ کام کریں گے ایک سال سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں یہ تمام کام مکمل کر لیا جائے گا ۔۔۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Chitral?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Chitral
17200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00