26/11/2015
Horizon
Training, Development, Consultancy We help people Grow, Develop and Become Successful.
26/11/2015
29/07/2014
25/04/2014
Be Happy
Your life is the fruit of your own doing. You have no one to blame but yourself.
اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا
ظلم کرنے والوں کی وردیاں جلا دینا
ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہے
دیکھنے میں آساں ہے بستیاں جلا دینا
دربدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
بیلچے اٹھا لینا، ڈگریاں جلا دینا
موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا
پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا
ظلم کے اندھیروں سے تم نہ ہارنا منظر
جب چراغ بجھ جائے، انگلیاں جلا دینا
منظر بھوپالی
ایک ڈاکٹر صاحب نےمطب شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوِں میں کامیاب ہوگیا۔ انھوں نے یہ خصوصت دکھائی کہ وہ ہر آنے والے مریض کو سلام میں پہل کرتے۔ عام طور پر ڈاکٹر لوگ اس کےمنتظر ہوتے ہیں کے کہ مریض ان کو سلام کریں ۔ یہاں پر ڈاکٹر نے خود مریض کو سلام کرنا شروع کردیا۔ یہ طریقہ کامیاب رہا۔ اور جلد ہی ان کا مطب خوب چلنے لگا۔
ایک دوکاندار نے دیکھا کہ گاہک کے پاس اگر کئی نوٹ ہیں تو عام طور پر وہ میلے اور پھٹے ہوئے نوٹ دوکاندار کو دیتا ہے، اور اچھے اور صاف نوٹوں کو بچا کر جیب میں رکھتا ہے۔اس سے دوکاندار نے سمجھا کہ گاہک صاف نوٹ پسند کرتا ہے،اس نے گاہک کی اس نفسیات کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس نے یہ اصول بنایا کہ جب کوئی گاہک اس سے سامان خریدے گا اور قیمت ادا کرنے کے لئے بڑا نوٹ دے گا تو وہ حساب کرتے وقت گاہک کو نئے اور صاف نوٹ لوٹائے گا۔
دوکاندار کی یہ تدبیر بظاہر معمولی اور بے قیمت تھی۔ مگر اس نے گاہکوں کو بہت متاثر کیا۔ وہ سمجھے کہ دوکاندار ان کا بہت خیال کرتا ہے۔ دھیرےدھیرے اس نے اس معمولی تدبیر سے گاہکوں کے دل جیت لئے۔ اس کی دوکان اتنی کامیاب ہوگئی کہ ہروقت اس کے ہاں بھیڑ لگی رہتی۔
کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنےاندرکوئی امتیازی خصوصیت پیدا کریں ،آپ یہ ثابت کریں کہ آپ لوگوں کہ ہمدرد ہیں۔ یہ کام کسی معمولی تدبیر سے بھی کیاجاسکتا ہے۔ حتیٰ کے چند الفاظ بولنے یا پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ دینےسے بھی۔
ڈیڑھ منٹ کی اس تحریر کو ضرور پڑھئے !!!
مردان سے پنڈی آنے والی ہائی ایس پر کنڈیکٹر نے ڈیڑھ گُنا کرایہ طلب کیا تو ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ نے انکار کردیا۔
کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی والوں کے بائیکاٹ کے بعد اُنہیں پٹرول مہنگا پڑتا ہے، چُنانچہ زیادہ کرایہ لینا اُنکی مجبوری ہے۔ سٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے طے ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلُوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اُترنے کا مطالبہ کردیا۔ مُجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ
اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک مُعمر شخص نے داڑھی چباتے ہوئے “پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔ پتا یہ چلا کہ حضرت کوپنڈی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری “خوامخواہ کی تکرار” سے اُنکا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ اُن کیساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسبِ توفیق ہمیں کوسنوں سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ ‘الخاموشی،نیم رضا’ کے مصداق راضی برضائے کنڈیکٹر ہوگئے سوائے میرے اور اُس یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے۔ ہم دونوں بھی بادلِ ناخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ سب کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے آواز اُبھری “بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ خُدا کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہمارے حکمران چاہیں توہماری فوج لمحوں میں گرا مارے ان ڈرونوں کو؟”
اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، یونیورسٹی سٹُوڈنٹ نے جلے کٹے لہجے میں کہا، “چاچا جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سُپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی اچھی نہیں لگتی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Telephone
Website
Address
Faisalabad
38000