23/03/2026
اچھی کارکردگی کی خاموش سزا
اداروں، دفاتر اور تنظیموں میں ایک رویہ نہایت عام ہوتا جا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس پر سنجیدگی سے کم ہی بات کی جاتی ہے۔ یہ رویہ بظاہر تعریف، اعتماد اور پیشہ ورانہ اعتراف کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک خاموش ناانصافی چھپی ہوتی ہے۔ یہ ناانصافی ان ملازمین کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنے فرائض دیانت داری، مہارت اور مستقل مزاجی سے انجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد جو وقت پر کام مکمل کرتے ہیں، معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے، مسائل کا حل نکالتے ہیں اور ادارے کے لیے قابلِ اعتماد ثابت ہوتے ہیں، اکثر انہی کو مزید کام سونپ دیا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ عمل ایک اعزاز محسوس ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی “اعتماد” ایک “سزا” کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
دفاتر میں عام طور پر یہ منطق کارفرما ہوتی ہے کہ جو شخص کام بہتر کر سکتا ہے، اضافی ذمہ داری بھی وہی سنبھال لے گا۔ مینیجر یا باس کے نزدیک یہ ایک عملی فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اہم کام کسی ایسے شخص کے حوالے کیا جائے جو اسے خراب نہ کرے۔ پہلی نظر میں یہ سوچ غلط بھی نہیں لگتی۔ اداروں کو قابل افراد کی ضرورت ہوتی ہے، اور مشکل حالات میں انہی لوگوں پر انحصار کیا جاتا ہے جو سنجیدگی، ذمہ داری اور اہلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی طریقہ مستقل پالیسی بن جائے اور ہر بار اضافی بوجھ صرف انہی افراد کے کندھوں پر ڈال دیا جائے جو پہلے ہی اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہے ہوں۔
ایک محنتی اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا ملازم ابتدا میں اضافی کام کو اپنی قابلیت کے اعتراف کے طور پر لیتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا باس اس پر اعتماد کرتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو مانتا ہے، اور اسی لیے اسے اہم ذمہ داریاں دے رہا ہے۔ اس احساس میں فخر بھی ہوتا ہے اور پیشہ ورانہ اطمینان بھی۔ ملازم یہ سمجھتا ہے کہ شاید یہ اس کی ترقی، اس کی ساکھ، اور اس کے روشن مستقبل کی طرف ایک قدم ہے۔ چنانچہ وہ خوش دلی سے مزید محنت کرتا ہے، زیادہ وقت دیتا ہے، اور بعض اوقات اپنی ذاتی زندگی، آرام اور سکون کو بھی پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
مگر ہر مثبت احساس کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب اضافی کام کبھی کبھار کی ضرورت کے بجائے مسلسل معمول بن جائے، جب ہر ہنگامی کام، ہر حساس فائل، ہر مشکل پروجیکٹ، اور ہر اضافی ذمہ داری ایک ہی شخص کے سپرد ہونے لگے، تب یہ احساس بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ملازم سوچنے لگتا ہے کہ کیا اس کی قابلیت اس کے لیے انعام نہیں بلکہ بوجھ بن چکی ہے؟ کیا وہ جتنا اچھا کام کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس سے لیا جاتا ہے؟ کیا اس کی محنت کا صلہ صرف مزید محنت ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں تعریف کا احساس آہستہ آہستہ ناانصافی کے احساس میں بدل جاتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف زیادہ کام نہیں ہوتا بلکہ غیر متوازن اور غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔ ایک طرف کچھ ملازمین ایسے ہوتے ہیں جو کم رفتار سے کام کرتے ہیں، محدود ذمہ داری لیتے ہیں یا خود کو نمایاں کرنے سے گریز کرتے ہیں، اور نتیجتاً نسبتاً کم دباؤ میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ افراد ہوتے ہیں جو ہر بار اپنی قابلیت ثابت کرتے ہیں، اور انہی کو مزید ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ یوں ایک عجیب پیغام پیدا ہوتا ہے: اچھی کارکردگی کا انعام بھی اضافی بوجھ ہے۔ اس صورت میں ملازم کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہونا فطری ہے کہ شاید اوسط کارکردگی دکھانا زیادہ محفوظ ہے۔
یہ رویہ کسی بھی ادارے کے لیے طویل المدت بنیادوں پر نقصان دہ ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کام ہو رہا ہے، نتائج آ رہے ہیں، اور قابل لوگ ادارے کو سہارا دے رہے ہیں۔ لیکن پس منظر میں ایک اور عمل جاری ہوتا ہے: تھکن، ذہنی دباؤ، جذباتی لاتعلقی، اور خاموش بددلی۔ ایک وقت آتا ہے جب بہترین ملازم بھی اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ کام تو کرتا ہے، لیکن اس کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہ اضافی تعاون سے پیچھے ہٹنے لگتا ہے، اپنی پہل کم کر دیتا ہے، اور بعض صورتوں میں دانستہ طور پر اپنی کارکردگی بھی محدود کرنے لگتا ہے تاکہ اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ یہ صورت حال ادارے کے لیے نہایت خطرناک ہے، کیونکہ اس طرح تنظیم اپنی بہترین صلاحیتوں کو خود ہی مایوسی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو نفسیاتی بھی ہے۔ انسان صرف تنخواہ کے لیے کام نہیں کرتا، بلکہ عزت، انصاف، شناخت اور توازن بھی چاہتا ہے۔ جب کسی ملازم کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی قابلیت کو سراہا نہیں جا رہا بلکہ استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس کے دل میں ادارے کے لیے منفی جذبات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر اضافی کام کے ساتھ واضح تعریف، ترقی کا موقع، معاون عملہ، مناسب اختیار، یا مالی و پیشہ ورانہ انعام موجود نہ ہو تو یہ اضافی ذمہ داری اعزاز کے بجائے سزا لگنے لگتی ہے۔
یہاں قیادت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک اچھا مینیجر وہ نہیں جو صرف بہترین کارکنوں سے زیادہ سے زیادہ کام لے لے، بلکہ وہ ہے جو کام کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، کمزور افراد کو بھی تربیت دے، ٹیم کی مجموعی صلاحیت بڑھائے، اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو بوجھ کے بجائے سہارا فراہم کرے۔ کسی بھی ادارے میں اگر ایک ہی شخص ہر بحران کا حل بن جائے تو یہ اس فرد کی قابلیت کے ساتھ ساتھ مینیجر کی ناکامی بھی ظاہر کرتا ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کام کی تقسیم، استعداد کی نشوونما، اور ٹیم کی تیاری میں کہیں نہ کہیں کمی موجود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنی کارکردگی کے نظام کو صرف نتائج کی بنیاد پر نہ دیکھیں، بلکہ یہ بھی جانچیں کہ نتائج کس قیمت پر حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اگر ایک بہترین ملازم مسلسل اضافی بوجھ اٹھا رہا ہے، اپنی نجی زندگی قربان کر رہا ہے، ذہنی دباؤ کا شکار ہے، اور اس کے بدلے میں اسے صرف زبانی تعریف مل رہی ہے، تو یہ صورتحال قابلِ فخر نہیں بلکہ قابلِ اصلاح ہے۔ پائیدار ادارے وہی ہوتے ہیں جو اپنے بہترین لوگوں کو تھکاتے نہیں، بلکہ انہیں محفوظ، متوازن اور باعزت ماحول فراہم کرتے ہیں۔
ملازمین کے لیے بھی یہ ایک اہم سبق ہے کہ وہ ہر اضافی ذمہ داری کو خاموشی سے قبول کرتے رہنے کے بجائے اپنی حدود، ترجیحات اور بوجھ کے بارے میں پیشہ ورانہ انداز میں بات کرنا سیکھیں۔ اکثر باصلاحیت افراد اس خوف سے کچھ نہیں کہتے کہ کہیں انہیں غیر تعاون کرنے والا نہ سمجھا جائے، لیکن مسلسل خاموشی بعض اوقات استحصال کو معمول بنا دیتی ہے۔ مؤدبانہ اور واضح گفتگو نہ صرف ملازم کے لیے مددگار ہوتی ہے بلکہ مینیجر کو بھی صورتحال سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔
آخرکار، کسی بھی ادارے کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ اپنے بہترین ملازمین سے کتنا کام لے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کی صلاحیت، وفاداری اور محنت کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے۔ اگر اچھی کارکردگی کا نتیجہ صرف مزید بوجھ، زیادہ دباؤ، اور کم ذاتی سکون کی صورت میں نکلے، تو یہ ایک بیمار تنظیمی ثقافت کی علامت ہے۔ اعلیٰ کارکردگی کو سزا نہیں، قدر، توازن اور مناسب اعتراف ملنا چاہیے۔ ورنہ ادارے بظاہر چلتے رہتے ہیں، مگر اندر سے اپنی سب سے قیمتی انسانی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
بائی ڈاکٹر محمد وسیم باری
16/09/2020
18/07/2020
29/06/2020
21/06/2020
09/06/2020
15/05/2020
03/05/2020
25/04/2020
18/04/2020