Bombproof lady of Pakistan
CC :Emirates Love Pakistan 🇵🇰
Apki Awaz
Tell us your most heart felt, disgusting, hilarious, filthy, and embarrassing confessions and Compliments and your name will remain a secret.
Which sect is right.
CC: MA talks
19/09/2021
A “mouse” was put at the top of a jar filled with grains.
He was so happy to find so much food around him that no longer he felt the need to run around searching for food and now he could happily live his life.
After a few days of enjoying the grains, he reached the bottom of the jar.
Now he was trapped and he couldn't get out of it.
He now has to solely depend upon someone to put grains in the same jar for him to survive.
He also may not get the grain of his choice and he cannot choose either.
Here are a few lessons to learn from this:
1) Short term pleasures can lead to long-term traps (living on benefits/furlough/spoilt by parents perhaps?).
2) If things are coming easy and you are getting comfortable, you are getting trapped into dependency.
3) When you are not using your skills, you will lose more than your skills. You lose your CHOICES and FREEDOM.
4) Freedom does not come easy but can be lost very quickly.
NOTHING comes easily in life and if it comes easily, maybe it is not worth it..
Arfa karim asaked a question to bill gates which shocked him
CC:Emirates Love Pakistan
Courtesy :Propakistani
29/01/2021
جس معاشرے میں لڑکے کے والدین کو جہیز اور لڑکی والوں کو بڑا گھر، گاڑی اور ایک لاکھ سے اوپر کمانے والا داماد چاہیے۔
جس معاشرے کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لبرل اور فیمینزم والی استاد آنٹیاں خود طلاق لے کر سٹوڈنٹ لڑکیوں کی شادی نا کرنے کی برین واشنگ کرتی ہوں۔
جس معاشرے کی یونیورسٹیوں میں کیفے پر گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھنا ٹریند اور بیوی کو باہر گھمانے لے کر جانے کو رن مریدی کہا جاتا ہو۔
ایسے معاشرے میں پھر ایسا تو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇👇👇
بچوں کا نکاح کریں۔ معاشرے کو پاک بنائیں۔
03/09/2020
11/08/2020
۔ 👈 *پاکستانیوں اِس چینی کہاوت سے ہی سیکھ لو!* 👉
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں بی اے، بی کام ، ایم کام، بی بی اے، ایم بی اے، انجینئرنگ کے سیکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں 🎓 اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں GPA کے لیےخوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟
آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔
ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔2014 میں سام سنگ کا ریوینیو 305 بلین ڈالرز تھا ۔ " ایسر " لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جب کہ ویتنام جیسا ملک بھی " ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔ خدا کو یاد کرنے کے لیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔
وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزارتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گزارتے ہیں۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔
ہم اسقدر "وژنری " ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اس لیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے۔
آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں جب کہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں اور دوسری طرف لے دے کر ایک " مری " ہی ہمارے لیے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آگئی۔ کاش ہمیں بھی آجائے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ " ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا۔ "۔ خدارا ! ملک میں " ڈگری زدہ " لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجیے ۔ دنیا کے اتنے بڑے " ہیومن ریسورس " کی اس طرح بے قدری کا جو انجام ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہے۔
07/08/2020
Situation of students of Gcg!!!
Click here to claim your Sponsored Listing.