Sada Sohna Paind Bawary

Sada Sohna Paind Bawary

Share

A place where you will get entertainment, music, sports and news from around the globe

17/07/2021

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‎,
باورے ۔
میرے بہت اچھے دوست علی ملک بھائی کے نانا جی اور ملک شوکت صاحب، ملک ریاست صاحب ، ملک عثمان صاحب کے والد عبدلمالک ملک صاحب رضاۓ الہی سے انتقال کرگئے ہیں نماز جنازہ 10 بجے باورے والے قبرستان ادا کی جائیگی ۔ ۔ دعا فرمائیں اللّه پاک جنت الفردوس میں آعلیٰ مقام عطاء فرماۓ اور لواحقین کو انتہائی صبر جمیل عطاء فرماۓ آمین ۔

06/05/2021

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‎

انتہائی افسوس ناک خبر

تلونڈی موسیٰ خاں ۔ ڈاکٹر مصطفیٰ چیمہ ڈینٹسٹ و میٹر ریڈر گیپکو تلونڈی موسیٰ خاں سب ڈویژن رضاۓ الٰھی سے انتقال کر گۓ ۔ ابتدائی خبر وں کے مطابق ان کی وفات کیوجہ ہارٹ اٹیک بتائی گئی ہے ۔ مرحوم نوجوان اپنے گاؤں کی ہر دل عزیز شخصیت تھے اور بہت ہنس مکھ اور خوش اخلاق انسان تھے ۔ نماز جنازہ کا اعلان بعد میں ہوگا ۔ دعا فرمائیں کہ اللّه کریم مرحوم کی مغفرت فرماۓ اور انکے تمام لواحقین کو صبر جمیل و اجر عظیم عطاء فرماۓ آمین ثم آمین ۔

23/04/2021

Paa g ki kuch cricket k related

20/03/2021

ِ
♥حضرت سُلطان باھوؒ♥

'' نفس غصے کی حالت میں درندہ "اور گناہ کرتے وقت بچہ
فراوانی اور نعمت کے وقت فرعون " اور سخاوت کــــــــے
موقع پر قارون بھوک کی حالت میں دیوانہ کتا " اور پیٹ
بھــــــــــــر جانے کے بعد مغرور گدھا ہوتا ہـــــے "

20/03/2021

یہ گائے کے کُھر نما جوتے امریکی ریاست نیواڈا ( Nevada) کے نیواڈا نارتھ ایسٹ میوزیم میں رکھے ہیں۔ یہ جوتے ایک انتہائ شاطر مویشی چور صاحب کے ہیں جن کا نام کرزی ٹیکس ھیزل
‏( Kirzi Tex Hazel)تھا۔ ماضی میں جب امریکہ میں کاؤ بوائز اور مویشیوں کو پالنے کا دور تھا تب یہ مویشی چور جب گائیں چرا کر لے جاتا تو اپنے قدموں کے نشانات چھپانے کے لئے یہ جوتے پہن لیا کرتا تھا اور کُھرا ڈھونڈنے والے اس کو تلاش ہی کرتے رہ جاتے تھے۔🙄😒😶

16/03/2021

سیرت النبی ﷺ پارٹ 55
(اللّٰہ کمی بیشی معاف فرمائے)
عنوان: مسجدِ قباء اور مسجدِ الجمہ اور حضرت ایوب انصاری۔۔۔۔۔
قباء میں سب سے پہلا کام مسجد کی تعمیر تھی،اس مقصد کیلئے آپ ﷺ نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللّٰہ عنہ کی ایک زمین کو پسند فرمایا جہاں خاندان عمرو بن عوف کی کجھوریں سُکائی جاتی تھیں۔اسی جگہ آپ ﷺ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے مسجدِ قباء کی بنیاد ڈالی جو آج بھی موجود ہے اور جسکی شان میں قرآن کی یہ آیات نازل ہوئی جنکا ترجمہ یہ ہے۔( یقیناً وہ مسجد جسکی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیز گاری پر رکھی ہوئی ہے اور وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کے آپ ﷺ اس میں کھڑے ہوں اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جنکو پاکی بہت پسند ہے اور اللّٰہ تعالٰی پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے)۔سورہ توبہ۔ اس مبارک مسجد کی تعمیر میں صحابہ کرام کے ساتھ آپ ﷺ بہ نفسِ نفیس اپنے دستِ مبارک سے بڑے بڑے پتھر اُٹھاتے تھے انکے بوجھ سے جسمِ نازک خم ہو جاتا تھا اور اگر آپ ﷺ کے جانثار اصحاب سے کوئی عرض کرتا یا رسول اللّٰہ ﷺ آپ ﷺ پر ہم اور ہمارے والدین قربان ہو جائیں آپ ﷺ چھوڑ دیجئیے ہم اُٹھائیں گے تو آپ ﷺ صحابہ کی دلجوئی کیلئے چھوڑ دیتے مگر پھر اسی وزن کا دوسرا پتھر اُٹھا لاتے اور عمارت میں لگاتے اور تعمیری کام میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کیلئے صحابہ کرام کے ساتھ آواز ملا کر آپ ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ کے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ( وہ کامیاب ہو گیا جو مسجد تعمیر کرتا ہے اور اُٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور سوتے ہوئے رات نہیں گزارتا ہے)
چودہ یا چوبیس روز کے قیام میں مسجدِ قباء کی تعمیر فرما کر جمعہ کے دن آپ ﷺ قباء سے مدینہ روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ کے محلے بنی سالم کی جس مسجد میں آپﷺ نے پہلا جمعہ ادا کیا، اب اس مسجد کو "مسجد جمعہ" کہا جاتا ہے۔یہ قباء کی طرف جانے والے راستے کے بائیں طرف ہے۔اس طرح یہ پہلی نماز جمعہ تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے پہلے خطبہ بھی دیا تھا۔اس پہلے خطبے میں جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا کچھ حصہ یہ تھا۔
"پس جو شخص اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہے تو ضرور بچالے۔چاہے وہ آدھے چھوہارے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، جسے کچھ بھی نہ آتا ہو، وہ کلمہ طیبہ کو لازم کرلے، کیونکہ نیکی کا ثواب دوگنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے اور سلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو۔"
نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ جانے کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑدی، یعنی اسے اپنی مرضی سے چلنے کی اجازت دی۔اونٹنی نے پہلے دائیں اور بائیں دیکھا، جیسے چلنے سے پہلے فیصلہ کررہی ہوکہ کس سمت میں جانا ہے، ایسے میں بنی سالم کے لوگوں( یعنی جن کے محلے میں جمعے کی نماز ادا کی گئی تھی)تو وہ آپ ﷺ کو کہنے لگے
"اے اللہ کے رسولﷺ ! آپ ﷺ ہمارے ہاں قیام فرمایئے، یہاں لوگوں کی تعداد زیادہ ہے - یہاں آپ ﷺ کی پوری حفاظت ہو گی... یہاں دولت بھی ہے، ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں... ہمارے پاس باغات بھی ہیں اور زندگی کی ضرورت کی سب چیزیں بھی موجود ہیں -"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات سن کر مسکرائے، ان کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا:
"میری اونٹنی کا راستہ چھوڑدو، یہ جہاں جانا چاہے، اسے جانے دو، کیونکہ یہ مامور ہے -"
مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے اونٹنی خود چلے گی اور اسے اپنی منزل معلوم ہے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو دعا دی:
"اللہ تعالٰی تمہیں برکت عطا فرمائے -"
اس کے بعد اونٹنی روانہ ہوئی - یہاں تک کہ بنی بیاصہ کے محلے میں پہنچی - یہاں کے لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ہاں ٹھہریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی وہی جواب دیا جو بنی سالم کو دیا تھا - اسی طرح بنی ساعدہ کے علاقے سے گزرے - ان حضرات نے بھی یہ درخواست کی - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب فرمایا - اونٹنی آگے بڑھی - اب یہ بنی عدی کے محلے میں داخل ہوئی، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی ننھیال تھی - ان لوگوں نے عرض کیا:
"ہم آپ ﷺ کے ننھیال والے ہیں، اس لیے یہاں قیام فرمایئے - یہاں آپ ﷺ کی رشتہ داری بھی ہے، ہم تعداد میں بھی بہت ہیں - آپﷺ کی حفاظت بھی بڑھ چڑھ کر کریں گے، پھر یہ کہ ہم آپ ﷺ کے رشتہ دار بھی ہیں، سو ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں -"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی وہی جواب دیا کہ یہ اونٹنی مامور ہے، اسے اپنی منزل معلوم ہے۔ اہلِ مدینہ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشین خواتین مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور یہ استقبالیہ اشعار پڑھنے لگیں"" ہم پر چا ند طلوع ہو گیا وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک اللّٰہ سے دعا مانگنے والے دعا مانگتیں رہیں""اے وہ ذاتِ گرامی جو ہمارے اندر مبعوث کیے گئے آپﷺ وہ دین لاے ہیں جو اطاعت کے قابل ہے آپ ﷺ نے مدینہ کو مشرف فرنا دیا تو آپ ﷺ کیلئے خوش آمدید ہے اے بہترین دعوت دینے والے""تو ہم لوگوں نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر کپڑے پہنا کرتے تھے،تو آپﷺ پر اللّٰہ تعالی اسوقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک اللّٰہ کیلئے کوششں کرنے والے کوششں کرتے رہیں۔""چھوٹے بچے لڑکے اور غلام جھنڈ بنا کر خوشی کے مارے مدینہ کی گلیوں میں آپ ﷺ کی آمد آمد کا نعرہ لگاتے ہوئے دوڑتے پھرتے تھے۔ صحابیء رسولﷺ براءبن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو فرحت و سرور انوار و تجلیات آپ ﷺ کے مدینہ میں تشر یف لانے کے دن ظاہر ہوئے نہ اس سے پہلے کبھی ظاہر ہوئے اور نہ اسکے بعد۔تمام قبائل انصار جو دستہ میں تھے انتہائی جوش اور مسرت کیساتھ اونٹنی کی مہار تھام کر ارض کرتے اے اللّٰہ کے رسول ﷺ آپﷺ ہمارے گھروں کو شرفِ نزول بخشیں مگر آپ ﷺ ان سب محبین سے یہ ہی فرماتے میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو جس جگہ خدا کو منظور ہوگا اِسی جگہ میری اونٹنی بیٹھ جائے گی۔ اونٹنی اور آگے بڑھی اور اسی محلے میں ایک جگہ بیٹھ گئی - یہ جگہ بنی مالک بن نجار کے محلے کے پاس تھی اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب تھی - جس جگہ آج مسجدِ نبوی موجود ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا نام خالد بن زید نجار انصاری تھا - یہ قبیلہ خزرج کے تھے - بیعت عقبہ کے موقع پر موجود تھے - ہر موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے - حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت قریبی معاونین میں سے رہے - ان کی وفات یزید کے دور میں قسطنطنیہ کے جہاد کے دوران ہوئی -
اونٹنی بیٹھ گئی، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اُترے نہیں تھے کہ وہ اچانک پھر کھڑی ہوگئی... چند قدم چلی اور ٹھہر گئی... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام بدستور چھوڑے رکھی تھی - اونٹنی اس کے بعد واپس اس جگہ آئی جہاں پہلے بیٹھی تھی - وہ دوبارہ اسی جگہ بیٹھ گئی - اپنی گردن زمین پر رکھ دی اور منہ کھولے بغیر ایک آواز نکالی - اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اترے - ساتھ ہی فرمایا:
"اے میرے پروردگار! مجھے مبارک جگہ پر اتارنا اور تو ہی بہترین جگہ ٹھہرانے والا ہے -"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ چار مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا:
"ان شاء اللہ! یہی قیام گاہ ہوگی -"
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان اتارنے کا حکم دیا - حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"کیا میں آپ ﷺ کا سامان اپنے گھر لے جاؤں -"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی - وہ سامان اتار کر لے گئے - اسی وقت حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ آگئے - انہوں نے اونٹنی کی مہار تھام لی اور اونٹنی کو لے گئے، چنانچہ اونٹنی ان کی مہمان بنی -
بنی نجار کے ہاں اترنے پر ان کی بچیوں نے دف ہاتھوں میں لے لیے اور خوشی سے سرشار ہوکر ان کو بجانے لگیں اور یہ گیت گانے لگیں:
ترجمہ:"ہم بنی نجار کے پڑوسیوں میں سے ہیں، کس قدر خوش قسمتی کی بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہیں -"
ان کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے - ان کے نزدیک آئے اور فرمایا:
"کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟"
وہ بولیں :
"ہاں! اے اللہ کے رسولﷺ -"
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ جانتا ہے، میرے دل میں بھی تمہارے لیے محبت ہی محبت ہے -"
حضرت ایوب انصاری نے اوپر کی منزل آپﷺ کو پیش کی مگر آپ ﷺ نے ملاقاتیوں کی آسانی کا لحاظ فرماتے ہوے نیچے کی منزل کو پسند فرمایا۔حضرت ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ دونوں وقت آپ ﷺ کیلئے کھانا بھیجتے اور آپ ﷺ کا بچا ہوا کھانا بطور طبرق سمجھ میاں بیوی کھاتے۔کھانے میں جہاں آپ ﷺ کی انگلیوں کا نشان پڑا ہوتا حصولِ برکت کیلئے حضرت ایوب انصاریﷺ اسی جگہ سے لقمہ اُٹھاتے اور اپنے ہر قول و فعل سے نبے پناہ عقیدت اور ادب واحترام اور جانثاری کا مظاہرہ کرتے۔ایک دفعہ مکان کے اوپر کی منزل پر پانی کا گھڑا ٹوٹ گیا تو اس اندیشہ سے کہ کہیں پانی بہہ کر نیچے کی کی منزل میں نہ چلا جائے اور آپ ﷺ کو کہیں کچھ تکلیف نہ ہو جائے،حضرت ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ نے سارا پانی اپنے لحاف میں خشک کر لیا،گھر می ایک یہی لحاف تھا جو گیلا ہو گیا،رات بھر میاں بیوی نے سردی کھائ مگر آپﷺ کو ذرہ برابر تکلیف پہنچ جائے یہ گوارا نہیں کیا۔احضرت ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ اسی شان کیساتھ آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ کسی جگہ سات مہینے کا ذکر آیا کہ آپﷺ نے حضرت ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ کہ گھر قیام کیا تو کسی روات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر اس وقت تک ٹھہرے جب تک کہ مسجد نبوی اور اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ تیار نہیں ہوگیا -کسی رویات میں گیارہ ماہ تک وہاں ٹھہرے رہہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبا سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ساتھ اکثر مہاجرین بھی مدینہ منورہ آگئے تھے - اس وقت انصاری مسلمانوں کا جذبہ قابل دید تھا - ان سب کی خواہش تھی کہ مہاجرین ان کے ہاں ٹھہریں - اس طرح ان کے درمیان بحث ہوئی - آخر انصاری حضرات نے مہاجرین کے لیے قرعہ اندازی کی - اس طرح جو مہاجر جس انصاری کے حصہ میں آئے، وہ انہی کے ہاں ٹھہرے، انصاری مسلمانوں نے انہیں نہ صرف اپنے گھروں میں ٹھہرایا بلکہ ان پر اپنا مال اور دولت بھی خرچ کیا -
مہاجرین کی آمد سے پہلے انصاری مسلمان ایک جگہ باجماعت نماز ادا کرتے تھے - حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے -

15/03/2021
28/02/2021

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‎,
انتقال پر ملال
غلام رسول چشتی صاحب کے بڑے بیٹے اختر رسول چشتی آج رضاے الہی سے وفات پا گئے ہیں اللّه پاک انکی مغفرت فرمائیں اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرماۓ آمین

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Gujranwala