Nasir Khan Jatoi

Nasir Khan Jatoi

Share

business, commercial, study

31/07/2024

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
زندگی کی پیچیدگیوں سے،
خوابوں کی ٹوٹتی کڑیوں سے،
محبت کی بیکار آرزوؤں سے،
مقدر کے بے رحم فیصلوں سے،
خاموشی کی چیختی گونج سے
میں نڈھال ہوں ان لمحوں سے بھی،
جو ابھی آنے والے ہیں
ان یادوں سے بھی جو گزر چکیں،

میں نڈھال ہوں!
رشتوں کی پیچیدہ گہرائیوں سے،
وعدوں کی دھندلی روشنیوں سے،
انتظار کی بے پایاں راتوں سے،
سوچ کی نہ ختم ہونے والی گہرائیوں سے،
آنسوؤں کی بہتی دھار سے،
غم کے اندھیروں سے،
مایوسی کی تلخیوں سے۔

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
اس زمانے کی سختیوں سے،
آنے والے کل کی بے یقینی سے،
ماضی کی تلخ یادوں سے،
لوگوں کی بے رخی سے،
خود کی خاموشی سے،
دل کی بے چینی سے،
روح کی تھکن سے۔

میں نڈھال ہوں اس خواب سے بھی،
جو کبھی پورا نہ ہو سکا
اس حقیقت سے بھی جو ہمیشہ جھوٹی نکلی،
ان لمحوں سے بھی جو کبھی رکے نہیں،
ان جذبات سے بھی جو کبھی ختم نہ ہوئے۔

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
ہسپتال کے سرد کمروں سے،
ڈاکٹروں کی بے رحم آنکھوں سے،
دواؤں کی تلخیاں اور انجکشن کے درد سے،
ہسپتال کے بستروں پر گزری راتوں سے،
مرنے والے کی آہ و بکا سے،
زندگی کی آخری سانسوں کے انتظار سے۔

کیسے بتاؤں کہ تم اسے مبالغہ نہ سمجھو؟
آنسوؤں کے سیلاب سے،
زخموں کی گہرائیوں سے،
درد کی شدت سے،
خوابوں کے ٹوٹنے کی آہ و بکا سے،
دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے،
روح کی بے چینی سے۔

میں نڈھال ہوں،
انسانی رشتوں کی بے وفائی سے،
محبت کی ناقدری سے،
خوابوں کی ناپائیداری سے،
زندگی کی ناپائداری سے،
اور اُس دکھ سے، جو کبھی کم نہیں ہوتا۔

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
ایمرجنسی وارڈ کی ہلچل سے،
آئی سی یو کی خاموش چیخوں سے،
آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے خوف سے،
ہر آتی ہوئی ایمبولینس کے سائرن سے،
ہر اُس چہرے سے جو موت کے قریب ہے،
ہر اُس دل سے جو درد سے تڑپ رہا ہے۔

کیسے بتاؤں کہ تم اسے مبالغہ نہ سمجھو؟
ہسپتال کے لمبے راستوں سے،
پریشانی میں بھاگتے قدموں سے،
آپریشن تھیٹر کی بے بسی سے،
ڈاکٹروں کی فکر مند سرگوشیوں سے،
مریضوں کی چیخوں اور کراہوں سے،
انتظار گاہ کی خاموش دعاؤں سے،
نہ ختم ہونے والے اندیشوں سے،
ہسپتال کے بے جان ماحول سے،
انتظار گاہ میں بیٹھے رشتہ داروں کی پریشانی سے،
ہر گزرتے لمحے کی بے یقینی سے،
ڈاکٹروں کے تشویشناک چہرے سے،
ہر قدم پر بڑھتی بے بسی سے،
ایکس رے کی سرد روشنیوں سے،
خون کی رپورٹس کے انتظار سے،
شیشے کے پیچھے سے تڑپتی نگاہوں سے،

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
ہر قدم پر نظر آتی مایوسی سے،
ہر لمحہ بڑھتے خوف سے،
ہر آنکھ میں چھپی بے بسی سے،
ہر دل میں دھڑکتے درد سے،
ہر نرس کے چہرے پر عیاں پریشانی سے،
ہر ڈاکٹر کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ سے،

کیسے بتاؤں کہ میں نڈھال ہوں؟
ہر مرہم کے بعد بھی باقی رہنے والے درد سے،
ہر دعوے کے بعد بھی نہ ہونے والی شفا سے،
ہر امید کے بعد بھی نہ ملنے والی خوشی سے۔

16/07/2024

اگر وزیراعظم چاہتا تو 10 روپے بھی مہنگا کر سکتا تھا لیکن اس کو غریب عوام کا احساس تھا اس لیے 9 روپے 99 پیسے مہنگا کیا۔

07/11/2023
Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Jatoi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Basti Thar
Jatoi