Safdar Ul Haq Shinwari Official

Safdar Ul Haq Shinwari Official

Share

I am Safdar Ul Haq Shinwari...
I am a Graphic Designer a Teacher and a Sports Athlete...

27/10/2024

سور کی تاریخ
*ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے

*یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے*۔
*کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔*
*اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔*
*اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔*
*شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔*
*چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔*
*اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا*
P
*1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟* *تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔*
*اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!*
*آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا* *استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں*،

*ان مصنوعات میں*
*دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں*
*کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں* *چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔*
*سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔*
*لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی* *فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،* *کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔*
*E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904*

*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ*

*👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں*۔

*یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے*

21/10/2024

پچھلے مہینے، میرے پڑوسی نے مجھ سے انٹرنیٹ کا پاس ورڈ مانگا۔
میں نے اسے دے دیا کیونکہ اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں تھا اور میں اس کے ساتھ اچھے تعلقات میں تھا۔
کل میں گھر واپس آ رہا تھا تو وہ دروازے پر موجود تھا۔ میں نے اس سے معمول کے مطابق کچھ دیر بات کی اور اس نے خوشی سے بتایا کہ اب اس کے پاس نیٹ فلکس ہے۔

میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا، "میں سخت محنت کرتا ہوں، اور بمشکل ٹیلی ویژن دیکھنے کا وقت ملتا ہے، لیکن یہ زبردست ہے، کیا آپ مجھے بھی پاس ورڈ دے سکتے ہیں تاکہ میں کچھ سیریز دیکھ سکوں؟ میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔"
اس دوران دور سے اس کی بیوی کی آواز آئی: "ہم اسے نہیں دے سکتے کیونکہ میں ہی ادایگی کرتی ہوں اور میں اسے شریک نہیں کر سکتی۔"
سکونت چھا گیا!

آدمی نے آہستہ آواز میں معذرت کی اور میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ ہم نے دوسری چیزوں پر بات جاری رکھی، اور آخرکار میں گھر واپس آیا جبکہ وہ اپنے کاموں کی نگرانی کے لیے باہر ہی رہا۔
کچھ دیر بعد، اس کی بیوی باہر آئی، بہت زیادہ پریشان دکھائی دی، اور کہا کہ ٹیلی ویژن نہیں چل رہا!

چند منٹ بعد، وہ اور اس کی بیوی میرے ساتھ بات کرنے کے لیے آئے اور مجھے بتایا کہ نیٹ ورک کام نہیں کر رہا، اور پاس ورڈ اب کام نہیں کرتا!
میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا، "میں نے اپنا پاس ورڈ تبدیل کر لیا ہے، کیونکہ میں ہی ادائیگی کرتا ہوں اور میں اسے شریک نہیں کر سکتا۔"

اس کی بیوی غصے میں آ گئی اور کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن میں نے کہا، "میڈم، میرے پاس میرا نیٹ ورک ہے اور آپ کے پاس نیٹ فلکس ہے، سب کچھ ٹھیک ہے اور سب خوش ہیں۔"
وہ مڑے اور چلے گئے، اور دروازہ بند کر دیا، پھر انہوں نے مجھ سے دوبارہ بات نہیں کی...

سبق:

دوستی باہمی ہونی چاہیے۔

محبت باہمی ہونی چاہیے۔

مودت باہمی ہونی چاہیے۔

کام برابر ہونا چاہیے۔

احترام موجود ہونا چاہیے۔

خدمات دو طرفہ ہونی چاہیے۔

ایک طرف سے احساسات ختم ہو گئے ہیں!
ہم استحصال کرنے والوں اور چالاک لوگوں سے گھیرے ہوئے ہیں، یہ تبدیلی ضروری ہے، یہ انصاف نہیں ہے کہ آپ اپنی توانائی کسی ایسے شخص کے لیے خرچ کریں جو بدلے میں کچھ نہیں کرتا۔

21/10/2024

‏‎لوگوں نے ضمیر بیچا .. مبارک زیب نے بھائی کی لاش بیچی

اور زین قریشی بے غیرت نے ابا ہی بیچ دیا ، 🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️

20/10/2024

‏بہادر اتنے بنو کہ آپ کا راستہ روکنے کے لئے آئین اور قانون کو تبدیل کیا جائے۔

11/10/2024

میں بطور پاکستانی خیبر جرگے میں لوگوں کی طرف سے افغانستان کے جھنڈے لہرانے پر بھرپور مذمت کرتا ہوں۔۔۔۔

سب سے پہلے پاکستان۔🇵🇰🇵🇰🇵🇰

10/10/2024

گزر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
یوم وصال محسن پاکستان ( ڈاکٹر عبد القدیر خان )
اللّٰہ کریم درجات بلند فرمائے ۔

07/10/2024

پچھلے دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر ذاکر نائیک اور لکی مروت کی لڑکی پلوشہ کے درمیان کی ایک تکرار زیرِ بحث ہے۔ جس نے کم و بیش ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس تکرار پر بات کرنے سے پہلے ہم لڑکی کے سوال کو سمجھتے ہیں کہ اُسکا سوال کیا تھا؟ لڑکی نے اپنا سوال دو حصوں میں کیا۔ پہلے حصے میں اُس نے اپنے معاشرے کے دوہرے معیار کو واضح کیا اور دوسرے حصے میں اس تضاد کی وجہ معلوم کی۔ آیئے ہم لڑکی کے سوال کے پہلے حصے پر نظر ڈالتے ہیں۔ لڑکی نے کہا کہ:

1۔ ہمارا معاشرہ مکمل اسلامی معاشرہ ہے۔
2۔ خواتین بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلتیں۔
3۔ مرد کوئی بھی نماز قضاء نہیں کرتے۔
4۔ ہر شب جمعہ کو دعوتی بیان بھی سنتے ہیں۔
5۔ لوگوں کا میل ملاپ بھی مذہب کی بنیاد پر ہے۔

اسکے بعد لڑکی نے اپنے معاشرے کو دوسرا روُپ بتایا کہ:

1۔ نشے کی لت بھی پھیلی ہوئی ہے۔
2۔ بچوں سے زنا بھی ہوتا ہے۔
3۔ مرد اور عورت کے درمیان زنا بھی پھیلتا جا رہا ہے۔
4۔ سود بھی لیا / دیا جاتا ہے۔

اور پھر لڑکی نے سوال کیا کہ ((آپکی سمجھ بوجھ کے مطابق اس تضاد کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟)) یعنی لڑکی دراصل وہ وجہ جاننا تھی جو کہ اس معاشرے کے دو متضاد رویوں کا باعث ہو۔ یاد رہے کہ تضاد سوال میں نہیں ہے بلکہ تضاد اس معاشرے میں ہے۔ جس کی طرف اس لڑکی نے اشارہ کیا۔
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈاکٹر نائیک اس لڑکی کو اس تضاد کی وجہ بتاتے اور راہنمائی کرتے۔ لیکن غیر متوقع طور پر انہوں نے لڑکی کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔ پہلے کہا کہ آپکے سوال میں تضاد ہے۔ پھر لڑکی نے وضاحت کی کوشش کی تو کہنے لگے کہ آپکو ماننا پڑے گا کہ آپکے سوال میں خطاء ہے۔ اسکے بعد اللہ کے دربار کا فیصلہ بھی خود ہی کر دیا کہ اگر یہ سوال آپ اللہ کے دربار میں کریں گی تو آپ پھنس جائیں گی۔ کسی پر الزام لگانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہیے۔ لڑکی نے دوبارہ وضاحت کی کوشش کی تو ڈاکٹر صاحب نے باقاعدہ زبردستی کرتے ہوئے کہا کہ آپکو ماننا پڑے گا آپ کا سوال غلط ہے۔ اگر آپ نہیں مانیں گی تو میرا جواب ختم سمجھیں۔ (یہ یقیناً ہم سب کے لیے سرپرائزنگ جواب تھا جسکی توقع کوئی بھی نہیں کر رہا تھا)

خیر، ہمارے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی اِس معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں سمجھا۔ یہاں مسلمان ضرور بستے ہیں لیکن ان کی مثال ویسی ہی ہے جیسے اقبال نے کہا کہ "امتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں"۔ ایک طرف اسلامی معاشرے کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف چوری، جوا، شراب، زنا، بچوں سے بدفعلی، سود، ملاوٹ، نا انصافی، الغرض ہر طرح کی ممنوع اور حرام حرکت بھی کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس تضاد کی طرف توجہ دلا دے تو اسی پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ سو لڑکی کے سوال کا مختصر جواب یہی ہے کہ بہن یہ معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے ہی نہیں۔ بلکہ اس نے اسلامی معاشرے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اسی لیے یہاں پر یہ تمام حرام کام بڑی آزادی کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اب اس پر اگر داعی یہ کہے کہ اس سوال پر معافی مانگیں تو یہاں معافی مانگنے کی کوئی منطق بنتی نہیں ہے۔

جہاں تک ڈاکٹر نائیک کا تعلق ہے تو ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر نائیک بہرحال ایک انسان ہیں۔ ان سے معاملہ mishandle ہو سکتا ہے۔ سوال کو سمجھنے میں یا جواب دینے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ مخالفین کو نہ تو اس پر بغلیں بجانی چاہییں اور نہ ہی حامیوں کو گوبر کو ساگ ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اتنے سوالوں کے جوابات دیے جا رہے ہوتے ہیں وہاں اگر کچھ اونچ نیچ ہو جاتی ہے تو یہ روٹین کا حصہ ہے۔

ہو جاتا ہے، چلتا رہتا ہے، جانے دیجیے۔

رہے گا نام اللہ کا۔

#منہاجیات

30/08/2024

اپنے لہجے، الفاظ اور معاملات میں نرمی برتیں!
”جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا“۔
صحیح مسلم

29/08/2024

‏جمعہ کو کراچی کے سرکاری اور نجی تمام اسکول بند رہیں گے ۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی

‎ ‎

28/08/2024

خود مِیں صَحرا ہوں اور پانی بھی
مَیں ہوں کردار اور کہانی بھی

ایک شطرنج زندگانی ہے
مَیں پیادہ، وزیر، رانی بھی

رانا عزیر

07/06/2023

A bigBang has to Come...
keep waiting....

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

H#9/A Block B Abidabad Baldia Town
Karachi
75760