26/08/2026
ڈراموں کی بدلتی ہوئی کہانیPakistani
میں پہلےPakistani ڈرامے بہت شوق سے دیکھا کرتا تھا۔, Sasi, Alpha Bravo, Ainak Wala Jin جیسے ڈرامے دیکھنے میں ایک الگ ہی مزہ آتا تھا۔ کہانی میں جذبات بھی ہوتے تھے، رشتوں کی اہمیت بھی اور معاشرے کے لیے کوئی نہ کوئی پیغام بھی۔
پھر آہستہ آہستہ میں نے ڈرامے دیکھنا چھوڑ دیے۔
کچھ عرصہ پہلے میرے بازو میں فریکچر ہوا، تو میں کافی دن فارغ تھا۔ وقت گزارنے کے لیے دوبارہ دو چار نئے پاکستانی ڈرامے دیکھنے شروع کیے، جن میں Humrahi, Raja London Ka جیسے نئے ڈرامے بھی شامل تھے۔
لیکن اس بار ڈرامے دیکھ کر مجھے ایک چیز نے خاص طور پر سوچنے پر مجبور کر دیا۔
کچھ ڈراموں میں شراب پینا، دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اسے ایک عام لائف اسٹائل کے طور پر دکھانا، اور لڑکے لڑکی کا بغیر نکاح ایک ساتھ رہنا اتنی عام بات بنا کر پیش کیا جا رہا تھا کہ جیسے یہ ہمارے معاشرے میں بالکل معمول کی بات ہو۔
میں سوچنے لگا کہ کیا واقعی ہمارا معاشرہ اتنا بدل گیا ہے، یا ہم ڈراموں کے ذریعے آہستہ آہستہ ان چیزوں کو نارمل سمجھنے لگے ہیں؟
کہانی میں کسی برائی کو دکھانا الگ بات ہے، لیکن جب اسے بار بار خوبصورت، جدید اور glamorous انداز میں دکھایا جائے اور اس کے منفی نتائج بھی نہ دکھائے جائیں، تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہم اپنی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
پرانے ڈراموں میں بھی معاشرے کی خامیاں دکھائی جاتی تھیں، لیکن آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خامیاں دکھانے اور خامیوں کو normalize کرنے کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔
شاید اسی لیے میں نے چند ڈرامے دوبارہ دیکھنے کے بعد ایک بار پھر سوچا کہ ڈرامے دیکھنے سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
تحریر: ڈاکٹر احسان