نگاہ چپ ہے مگر آنکھ بات کرتی ہے
نظر جب بھی اٹھائی تو بولتا ہی لگا
Ay Ishq Humain Barbaad Na Kar :-|
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ay Ishq Humain Barbaad Na Kar :-|, KARACHI, Karachi.
AY ISHQ HUMEIN BARBAAD NA KAR
ham bhooley hoy'on ko yaad na kar
pehley hi bohat naashad hain hum
tuu aur hamen naashaad na kar
qismat kaa sitam hi kam nahein kuch
ye taazaa sitam ijaad na kar
youn zulm na kar bedaad na kar
AY ISHQ HUMEIN BARBAAD NA KAR
jis din se mily hain donon ka
sab chain gayaa aaraam gaya
chehron se bahaar-e-subah g*e
aankhon se farogh-e-shaam gaya
haathon se Khushi
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو
وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
یہ عشق بہت مشکل تھامگرآسان نہ تھایوں جینابھی
اس عشق نےزندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا،پندار دیا
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھااک شخص نے مجھ کو مار دیا
یہ سجا سجایا گھر ساتھی میری ذات نہیں میرا حال نہیں
اےکاش کبھی تم جان سکو جواس سکھ نے آزار دیا
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروّت ميں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
میں چپ رھا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا
یہاں کمان اٹھانا مری ضرورت ہے
وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا
کیوں کہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے تو یہاں کا رخ کرلیا ہے، اب کیوں کہ آہی گئی ہوں تو بتادوں کہ یہ پیج میرے لیے بہت خاص ہے اسی لیے ہر پرانی چیز کباڑیے کو دے کر چنے کھالینےکی اپنی عادت کے باوجود یہ اب تک میرا ہی ہے۔
اب دو کام ہو سکتے ہیں۔
یا تو یہ پیج ڈیڈ ہے
یا آپ سب۔
بتائیں پھر؟
hii...
ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﺟﮍ ﮔﺌﯿﮟ
ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺩُﮬﻮﭖ ﻧﮯ ﭼﮩﺮﺍ ﺟﻼ ﺩﯾﺎ
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﺑﮑﮭﺮ ﭼﻠﯽ
ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻋﮑﺲ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ
ﺁﺋﮯ ﻧﮧ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺍِﮎ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﮔﺌﮯ
ﻭﮦ ﺩﻥ، ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ، ﻭﮦ ﺭُﺕ ، ﻭﮦ ﻣﻮﺳﻢ ،ﻭﮦ ﺳﺮﮐﺸﯽ
ﺍﮮ ﮔﺮﺩﺵِ ﺣﯿﺎﺕ ، ﺍﮮ ﺭﻓﺘﺎﺭِ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ
ﮐﯿﺎ ﺟﻤﻊ ﺍِﺱ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﮨﻮﮞ ﮨﻮ ﻧﮕﮯ ﻧﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ
ﺟﻮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻓﺮﺍﻕ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ
ﭘﺘﮯ ﺟﻮ ﮔِﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﮍ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﮩﺎﺭ
ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﮮ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﻨﮏ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻭُﻓﻮﺭِ ﺭﻧﮓ ﺳﮯ ﺟﮭﻠﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﺍ __
ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍِﮎ ﺯُﻟﻒ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻟﻤﺤﮯ ﺯﻣﺎﻥِ ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﯿﻠﮯ
ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺭﯾﮓِ ﺭﻭﺍﻥِ ﺩﺷﺖ ﮐﯽ ﺗﻤﺜﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﺍِﺱ ﺩﺷﺖ ﭘﺮ ﺳﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ
ﻧﻘﺶِ ﻗﺪﻡ ﺗﮭﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ، ﭘﺎ ﻣﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺭﺳﺘﮧ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﺎ
ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﺟﺲ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﯿﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ
ﺍِﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺗﻮ۔۔۔ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
" ﻭﺻﻞ ﻭ ﻓﺮﺍﻕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﮎ ﺟﯿﺴﮯ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ
ﮐﭽﮫ ﻟُﻄﻒ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﺏ ﻣﯿﮟ، ﮐﭽﮫ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﻣﯿﮟ ہے
وہ درد،، وہ وفا،،،،،،،،، وہ محبت تمام شُد
لے، دل میں تيرے قرب کی حسرت تمام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم،،،،،،،،،،،،،،، عدالت تمام شُد
تُو اب تو دشمنی کے بھی،، قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی،،،،،، عادت تمام شُد
جائز تھی یا نہیں، تيرے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ،،،،،، وکالت تمام شُد
وہ روز روز مرنے کا،،،، قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد
محسن میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد
محسن نقوی
ایک مدت سے
ہم سمجھ نہیں پائے
تم کہاں سے سمجھو گے؟
تم سمجھ نہیں سکتے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Karachi
0213