Sports Talak

Sports Talak

Share

Welcome to Sports Talak, your go-to source for the latest in cricket & other sports news & updates!

Stay updated on all the action, drama, and highlights from the world of cricket with our daily news clips. Hello, welcome to my page "Sports Talak" where you will find all sports related news and updates. Sports news
Game highlights
Athlete interviews
Match analysis
Sports commentary
Player profiles
Sports updates
Team statistics
Game recaps
Behind-the-scenes
Sports events
Training tips
Sports lifestyle
Fan reactions
Sports community

24/05/2026

ٹریوس ہیڈ کے بیان نے ویرات کوہلی اور کوہلی کے سوشل میڈیا کے بچوں کے اندر اگ لگا دی ہے۔
ٹریوس ہیڈ سے میچ کے بعد پوچھا گیا کہ میچ کے دوران ایسا کیا ہوا کہ میچ کے بعد ویرات کوہلی نے اپ کے ساتھ ہاتھ ہی نہیں ملایا
تو ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ بڑا پلیئر وہ نہیں ہوتا جو کسی کو عزت نہیں دے سکتا بلکہ بڑا پلیئر وہ ہوتا ہے جو کرکٹ کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزت کا بھی خیال رکھیں جو کہ ویرات کوہلی نے نہیں رکھا
ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ جب میں اؤٹ ہوا تھا تو ویرات کوہلی نے بہت اوور ایکٹنگ والی سیلیبریشن کی تھی جو کہ میں نے برداشت کی لیکن جب ویرات کوہلی اؤٹ ہوا تو جب میں نے سیلیبریشن کی تو ویرات کوہلی سے برداشت نہیں ہوئی
حالانکہ اگر دیکھا جائے تو سیلیبریشن سب سے زیادہ ویرات کوہلی کرتا ہے جس کا ہم نے کبھی برا نہیں مانا کیونکہ یہ گیم کا حصہ ہے لیکن پھر یہ تو وہی بچوں والی بات ہو گئی کہ جب یہ سیلیبریشن کریں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن جب ہم کریں تو اس کا رونا دھونا شروع ہو جاتا ہے
مزید ٹریورس ہیڈ کہتے ہیں کہ میں بس اخر میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اپ جو بھی کام کرتے ہیں وہ کرنے سے پہلے بس اتنا سوچ لیا کریں کہ اگر کوئی اور یہ کام کرے گا تو کیا اپ برداشت کر پائیں گے💯

23/05/2026

Pakistan ODI Squad for Australia Tour

22/05/2026

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ون ڈے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو بنایا گیا ہے، حالانکہ موجودہ فارم اور فٹنس کو دیکھتے ہوئے ان کی کسی بھی ٹیم میں جگہ بنتی نظر نہیں آتی۔ نہ ان سے پہلے جیسی بولنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ مکمل فٹ دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ اپنی انجری چھپا چھپا کر مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
حارث رؤف کو اتنے میچز ہروانے کے باوجود ہر بار کسی نہ کسی فارمیٹ میں ٹیم میں شامل رکھا جاتا ہے۔ شاداب خان نے اپنا آخری ون ڈے میچ 2023 کی چیمپئنز ٹرافی میں کھیلا تھا، اس کے بعد وہ زیادہ تر انجری کا شکار رہے، لیگز کھیلتے رہے، اور لسٹ اے کرکٹ کا بھی آخری میچ 2024 میں کھیلا۔ نہ کوئی خاص پرفارمنس، نہ بہتری، لیکن پھر بھی وہ ہر بار یا ون ڈے یا ٹی20 ٹیم میں شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ سینٹرل کنٹریکٹ میں بھی ہمیشہ اوپر رہتے ہیں۔
عرفات منہاس کو شامل کیا گیا جو اچھی بات ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ صرف بینچ پر ہی بیٹھیں گے کیونکہ شاداب خان کو پلیئنگ الیون سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ عبدالصمد، معاذ صداقت اور شامل حسین جیسے کھلاڑیوں نے ٹی20 میں اچھی پرفارمنس دی، لیکن انہیں ون ڈے فارمیٹ میں ڈال دیا گیا، جبکہ ایک مناسب مڈل آرڈر بیٹر کامران غلام، جس کی کارکردگی بھی اچھی تھی، اسے ٹیم سے دور رکھا گیا۔
غازی غوری نے آخر ایسا کیا کر دیا کہ اب وہ ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں ٹیموں میں مستقل نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف حسیب اللہ خان، جو کئی سالوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے، اتنی اچھی پرفارمنس کے باوجود اب بھی ٹیم سے باہر ہے۔ فیصل اکرم کو پچھلی سیریز میں ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن ایک بھی میچ نہیں کھلایا گیا، اور اب وہ دوبارہ باہر ہیں۔
محمد رضوان، جو پچھلے سال سے ون ڈے میں سلمان آغا کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں، انہیں ٹیم سے ڈراپ کر کے روحیل نذیر کو شامل کر لیا گیا، جبکہ ورلڈ کپ اتنا قریب ہے اور اب بھی نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔
نسیم شاہ نے اپنی بولنگ سے کبھی کوئی بہت بڑی پرفارمنس نہیں دی، لیکن نہ جانے ایسی کیا بات ہے کہ ہر فارمیٹ میں ان کی جگہ لازمی بن جاتی ہے۔ حالانکہ وہ پی ایس ایل میں بھی ان فٹ تھے، اور اب بھی واضح نہیں کہ مکمل فٹ ہیں یا نہیں، پھر بھی ٹیم میں شامل ہیں۔
عاکف جاوید، جو ون ڈے میں آپ کے ٹاپ پرفارمرز میں شامل تھا، اس کے ساتھ پھر زیادتی کی گئی اور اسے دوبارہ ٹیم سے دور رکھا گیا۔ وسیم جونیئر، جو پچھلی سیریز میں 145 سے 146 کی رفتار سے بولنگ کر رہا تھا، اب ٹیم سے باہر ہے۔ شاید آپ یہی 127، 128 کی اسپیڈ والے بولرز ڈیزرو کرتے ہیں۔
عاقب جاوید نے پاکستان کرکٹ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، لیکن مجال ہے کوئی اسے ہٹا دے۔ اتنے غلط فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اور شاباش ہے محسن نقوی صاحب کو، جو خود ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور سارا نظام عاقب جاوید کے حوالے کر دیا ہے، جس نے پاکستان کرکٹ کو مکمل تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔
پاکستانی عوام کا کرکٹ سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے، اور بہت جلد کرکٹ کا بھی وہی حال ہو گا جو ہاکی کا کیا گیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حال ہو ہی چکا ہے، کیونکہ اب اگر پاکستان امریکہ، زمبابوے یا بنگلہ دیش جیسی ٹیموں کے خلاف بھی کھیل رہا ہو تو عوام کو یقین نہیں ہوتا کہ ٹیم میچ جیت بھی پائے گی یا نہیں۔
اب صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

20/05/2026

بابر اعظم پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے واحد
ناکام ترین کپتان بن گئے، جسکو سب سے زیادہ
میگا ایونٹ میں فراہم کیے گئے لیکن اب
تک بابر اپنی کپتانی میں کوئی ٹائٹل نہیں جتوا
سکا۔
بابر اعظم بطور کپتان
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2021❌
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2022❌
👈ٹی 20 ورلڈ کپ 2024❌
👈ایشیاء کپ 2022❌

👈ایشیاء کپ 2023❌
👈پچاس اوور ورلڈ کپ 2023❌
👈آئی سی سی ٹیسٹ چمپئن شپ 2023❌
اور اسکے علاوہ پی ایس ایل میں بطور کپتان
👈پی ایس ایل 6❌
👈پی ایس ایل 7❌
👈پی ایس ایل 8❌
👈پی ایس ایل 9❌
👈پی ایس ایل 10 ❌

Photos from Sports Talak's post 20/05/2026

گیم اویرنس کا فقدان
کل چوتھے دن کے اختتام پر ٹیل اینڈرز کے ساتھ بیٹنگ کرنے کے آرٹ پر بات کی تھی۔ آج بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہونے کے بعد گیم اویرنس کے معاملے کو سمجھنا ضروری ہے۔ انضمام الحق نے 23 سال قبل ملتان میں 262 چیز کرتے ہوتے 138 ناٹ آوٹ کی میچ وننگ اننگز کھیلی تھی۔
انضمام اوور کی 5 یا 6 گیندیں خود کھیلتے اور کوئی اکا دکا ٹیل اینڈرز کو کھیلنے دیتے۔ آصف اقبال، جاوید میانداد اور اسٹیو واہ بھی ایسی کئی شاندار اننگز کھیل چکے۔ حالیہ دور میں بین سٹوکس نے بھی ٹیل کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایسا ہی کر کے دکھایا۔
مگر یہاں گیم اویرنس کی کمی ہے۔ رضوان 92 پر کھیل رہے تھے۔ پاکستان کو 80 رنز درکار تھے۔ ناہد کے 92 ویں اوور کی آخری گیند پر 2 رنز لے کر ساجد کو سٹرائیک دے دیی اور خود کا اسکور 94 پر پہنچا دیا۔ ساجد کوئی مستند بیٹسمین تھوڑی ہے۔ تاجی جو پیلے ہی 4 وکٹ لے چکا تھا، اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
اسے معلوم تھا اب میرے پاس موقع ہے ساجد کو سیٹ اپ کرنے کا اور وہی ہوا۔ ساجد کے آوٹ ہوتے ہی رضوان خود بھی آوٹ ہوگئے یوں پاکستان 78 رنز سے ہار گیا۔
اگر رضوان ناہد کی آخری گیند پر گیم اویرنس استعمال کرتے ہوئے سنگل لیتے تو معاملہ مختلف ہو سکتا تھا۔ پورا دن پڑا تھا بیٹنگ کرنے کے لئیے۔ یہی گیم ایورنس انضمام، اسٹیو واہ اور بین اسٹوکس جیسے کھلاڑیوں کو عظیم بناتی ہے۔
افسوس، پاکستان کرکٹ کی عظمت کے یہ قصے آگے بھی اب تاریخ میں ہی ملتے نظر آرہے ہیں اگر ابھی بھی پرسنل مائل سٹون والے خمار سے نہ نکلا گیا تو!

20/05/2026

In the first innings for Bangladesh, senior player Liton Das scored 126, rescued his team from collapse, and carried them from 116/6 to 278, giving Bangladesh a crucial lead of 46 runs.
In the second innings, another senior player, Mushfiqur Rahim, scored 137, once again saving his team from collapse and taking them from 114/4 to 390, setting Pakistan an almost impossible target of 437 runs.
On the other hand, in Pakistan’s first innings, the most senior player — “the greatest batter of Pakistan and the world,” “The King” Babar Azam — scored his personal fifty (68) and left Pakistan struggling at 142/5.
In the second innings, while chasing 437, “The King” Babar Azam managed only 47 runs and left Pakistan in trouble again at 133/3.
That’s the big difference today’s kids fail to understand.

19/05/2026

ورلڈ کپ 2003 کے بعد تمام سینئر کھلاڑیوں کی چھٹی کے بعد راشد لطیف کو کپتان بنایا گیا اور بنگلادیش پاکستان آ گئی
تیسرا اور آخری ٹیسٹ ملتان میں چل رہا تھا گو کہ پاکستان سیریز اپنے نام کر چکا تھا لیکن تیسرا ٹیسٹ ہاتھ سے نکلتا نظر آ رہا تھا اور وہ وقت تھا جب پاکستان کے لئے بنگلادیش سے ٹیسٹ ہارنا کسی صورت ہضم نہ ہوتا چاہے پاکستان کی آدھی سے زیادہ ٹیم تین ڈیبو کھلاڑیوں کے ساتھ نئی ہی تھی ۔
فرحان عادل سلمان بٹ اور یاسر علی اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رھے تھے اور آخری روز پاکستان کو جیت کے لئے 114 رنز درکار تھے اور چھے وکٹ گر چکے تھے اور انضمام الحق کے ساتھ ثقلین مشتاق وکٹ پر موجود تھے ۔
انضمام نے اننگ شرع کی تو دوسری طرف ساتھ دینے کیلئے ٹیل اینڈرز تھے جن کو سٹرائیک دینے کے ڈر سے سنگل بھی لینا ایک رسک تھا ایسے میں صرف بونڈری پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا اور ہر اوور کی آخری بال پر سنگل بھی ضروری تھا اور جب نہ لے پاتے تو کسی نہ کسی وکٹ کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا تھا
انضمام ایک ایسی چٹان بن کر کھڑے تھے کہ جہاں ہمت حوصلہ گیم اویرنس سکور کیلکولشن لیڈر شپ اور پریشر ہینڈلنگ کا امتحان ایک ساتھ چل رہا تھا لیکن انضمام الحق کو آج پھر ثابت کرنا تھا کہ وہ انضمام الحق ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں

ثقلین مشتاق بھی 11 رنز پر ساتھ چھوڑ گئے مگر انہوں نے 51 گیندیں سروائو کیا جی بھی ایک اچھی کارکردگی تھی لیکن پھر شبیر احمد آئے 25 گیندیں کھیلنے کے بعد 11 رنز بنا کر داغ مفارقت دے گئے اور پھر عمر گل آئے جو بلکل نئے تھے اور 50 گیندیں کھیل کر انضمام کا ساتھ دیا دوسری طرف انضمام فیلڈ کو دیکھ کر گیپ
میں چوکے مارتے سکور چلاتے رھے اور پھر صرف چار رنز باقی تھے کہ عمر گل کے رن آؤٹ نے میچ اور تماشایئوں کی سانسوں کو طوفان میں بدل کر خون کی گردش یوں تیز کی کہ پاکستانی عوام جن کو ایسے میچ تب ہارنے کی عادت نہیں تھی وہ یہ تسلیم کرنے سے گھبرا رھے تھے کہ بنگلادیش سے 99 میں پہلا ون ڈے ہارنے کے بعد آج ٹیسٹ بھی ہارتا دیکھنا پڑے گا
اور بنگلادیش پاکستان سے پہلا ٹیسٹ جیت کا جشن منانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ رہا تھا کہ آخری بلے باز یاسر علی جو ڈیبو کر رہا تھا وہ کریز پر آیا اور اسکو خالد محمود کی پانچ گیندیں سروائیو کرنی ہیں یا سنگل لے کر انضمام کو موقع دینا ہے ۔
اف ۔۔ . نیل بائٹنگ مومنٹ
ہر گیند کسی نہ کسی کو ہارٹ اٹیک دیتی نظر آ رہی تھی جب بنگلادیش کی ساری فیلڈنگ ایک نو بیاہتا دلہن کے سرہانے کھڑی ہو اور اس کو سویاں کھانی ہوں ۔۔

چوتھی گیند بالر سے فل ٹاس ہو گئی یا جان بوجھ کر ہنی ٹریپ پھینکا گیا مگر بچے نے لانگ لیگ پر سنگل لے کر دی بگ مین کو سٹرائیک دے دیا جو کہ اوور کی آخری گیند ہونے کی وجہ سے خود ایک امتحان تھی کہ سنگل نہ ہوا تو اگلا اوور پھر تلوار کے تیز دھارے پر دریا كراس کرنے کر مترادف ہو گا مگر وکٹ پر تھے انضمام
جو اٹھارہ سال کی عمر مین سڈنی اور میلبرن میں ورلڈ کپ کا پریشر جھیل چکے تھے آج تو پھر اسکا اپنا دیس اپنی دھرتی اپنا شہر اولیا کی دھرتی ملتان میں ووہیں کا ایک سید کا صاحبزدہ وکٹ پر موجود تھا کرکٹ کے پنڈتوں کو یقین تھا کہ
انضی کر لے گا لیکن میرے جیسے کم عقل ڈرے ہوئے تھے
پھر کیا ہوا کہ محمود نے آخری گیند پھینکی ملتان کے سلطان نے لیگ پر آتی بال کو ہپ سے فلک کرتے لونگ لیگ پر چوکا مار کر پاکستان کو یقینی شکست سے بچا کر فتح سے ہمکنار کیا اور پورا اسٹیڈیم پاکستان زندہ باد انضمام الحق زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا ملتان کے باسیوں نے اپنے شہزادے پر سرخ گلاب کی پتیاں برسا کر خراج تحسین پیش کیا ۔۔

آج پھر وہی صورتحال ہے مگر آج ہم ہار ہار کر عادی ہو چکے ہیں پاکستان کو 121 رنز درکار ہیں وکٹ پر ٹیل اینڈر کے ساتھ حافظ رضوان موجود ہیں اگرچہ تب امید زیادہ تھی آج کم لیکن دل امید اب بھی زندہ ہے رضوان کے پاس
موقع ہے کہ تاریخ میں اپنا نام درج کروا لے کیوں کہ انضمام بننے کے لئے ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے اور ایسے پل كراس کرنے سے ہی جاوید میانداد رزاق یا انضمام بنا جاتا ہے
رضوان تو بھی کچھ نہیں سے بہت کچھ تک پہنچا ہے تم بھی کر سکتے ہو تم ہمت کرنا باقی اللّه کے حوالے

پاکستان زندہ باد ۔

See less

18/05/2026

یہ ہیں تنویر احمد، پاکستان کے سابق فاسٹ بولر، جنہوں نے پاکستان کے لیے 5 ٹیسٹ میچز کھیلے اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 550 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔

لیکن پچھلے کچھ سالوں سے یہ ایک ایسے فین بوائے بن چکے ہیں جنہیں بابر اعظم کے علاوہ پاکستان ٹیم میں کوئی دوسرا کھلاڑی نظر ہی نہیں آتا۔ ان کی ہر ویڈیو، ہر پوسٹ اور ہر ٹویٹ صرف بابر اعظم کے نام سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کے خلاف جاری دوسرے ٹیسٹ میں جب بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ پاکستان ٹیم کی مجموعی پوزیشن اچھی نہیں تھی، تو یہ صاحب اپنی ویڈیو میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ پوری ویڈیو میں صرف “بابر بابر” کرتے رہے اور ٹوئٹر پر بھی ہر طرف صرف بابر اعظم کا چرچا کرتے رہے، جیسے باقی ٹیم کی کارکردگی کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ ان کے لیے بس یہ کافی ہے کہ ان کا پسندیدہ کھلاڑی اچھا کھیلے، چاہے پاکستان ٹیم جیتے یا ہارے۔

اصل مسئلہ یہی ہے جس کی وجہ سے آج ہماری کرکٹ اس حال تک پہنچی ہے۔ ہمارے کئی سابق کرکٹرز اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے فین بوائے بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ اپنے یوٹیوب اور فیس بک پلیٹ فارمز پر صرف انہی کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ تعمیری تنقید کریں یا پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے بات کریں۔

انہیں چاہیے کہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ ہمارے بولرز کون سی ٹیکنیکل غلطیاں کر رہے ہیں، کن کھلاڑیوں کو ٹیم میں ہونا چاہیے اور کن کو نہیں۔ آپ ایک تجربہ کار بولر رہے ہیں، اچھی خاصی کرکٹ کھیل چکے ہیں، لیکن افسوس کہ اس تجربے کا فائدہ پاکستان کرکٹ کو پہنچانے کے بجائے آپ صرف دوسروں پر تنقید اور اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے قصیدے پڑھنے میں لگے رہتے ہیں۔

ایسے سابق کرکٹرز کو خود بھی سوچنا چاہیے، اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ صرف ویوز اور پیسوں کے لیے بنائی جانے والی ایسی جانبدارانہ ویڈیوز کو دیکھنا کم کریں۔

14/05/2026

Pakistan Lost to Bangladesh

10/05/2026

احمد شہزاد اذان اویس ویس کی سنچری میں بھی نقص نکالنے لگے 😳💔

آج جب اذان اویس نے شاندار سنچری اسکور کی تو احمد شہزاد نے کہا کہ
“ایسی وکٹ جہاں بال خود بلے پر آ رہا ہو، نہ سوئنگ ہو نہ اسپن، وہاں سنچری کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ میں اس عمر اور اس فٹنس میں بھی ایسی وکٹ ہر ڈبل سنچری کر سکتا ہوں۔ اذان ویس صرف اپنی سنچری کے لیے کھیلا اور سنچری مکمل ہوتے ہی آؤٹ ہو گیا۔” 😶

اب آپ لوگ احمد شہزاد کو کیا کہنا چاہیں گے؟ 🤔

اگر میں نے کچھ کہا تو میرا تو پیج ہی اُڑ جائے گا 😠

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

DHA Phase 2
Karachi
75500