17/06/2026
آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز ایک آسان فتح کے ساتھ کیا۔ ڈیبیو کرنے والے جوئل ڈیوس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایڈم زیمپا بھی 18 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کی عمدہ بولنگ کی بدولت بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 131 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
آسٹریلیا نے 132 رنز کا ہدف 19ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ کوپر کونولی نے ایک بار پھر رن چیز میں اہم کردار ادا کیا اور صرف 27 گیندوں پر 47 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی میں نمایاں حصہ ڈالا۔ 🏏🇦🇺🔥
17/06/2026
شاہین شاہ آفریدی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی ہی گیند پر وکٹ لینے والے دنیا کے کامیاب ترین باؤلرز میں سرفہرست ہیں! 🔥🏏🇵🇰
شاہین نے اب تک T20Is میں 18 مرتبہ بلے باز کو اس کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کیا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ اور راشد خان کے ساتھ مشترکہ ریکارڈ ہے۔ 👏
17/06/2026
ایکسٹرا بونس 💵
کھبی تو ایسا لگتاہے کہ فیس بک بھی سستے نشے کاعادی ہے،اس بار فیس بک نے کہاکہ دو پوسٹ کرلو،اور ہر پوسٹ پر 8ہزار ویوز لو تو 20 ڈالر کا بونس مل جائے گا، تو ہم نے ایسا ہی کیا اور 20 ڈالر کا بونس حاصل کرلیا.
ہمارے ساتھ فیس بک کی پھٹان والی زبان چل رہی ہے، ہمیشہ 20 ڈالر کا ایکسٹرا بونس آفر کرتاہے،نہ اس سے کم اور نہ ہی زیادہ. ٹارگٹ اس بار مختلف تھا ورنہ اب تک ٹارگٹ بھی ایک جیسا ہی مل رہاتھا.
آپ لوگوں کی کیا صورت حال چل رہی ہے؟
17/06/2026
🏏⚽ کھیلوں کے شائقین کے لیے آج کا دن ایکشن سے بھرپور!
• بھارت بمقابلہ افغانستان — دوسرا ون ڈے
• انڈیا اے بمقابلہ افغانستان اے — سہ فریقی سیریز
• آسٹریلیا بمقابلہ بنگلہ دیش — پہلا ٹی ٹونٹی
• انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ — دوسرا ٹیسٹ
🌍 فیفا ورلڈ کپ 2026:
• پرتگال بمقابلہ ڈی آر کانگو
• انگلینڈ بمقابلہ کروشیا
• گھانا بمقابلہ پاناما
• ازبکستان بمقابلہ کولمبیا
🏏 ویمنز ورلڈ کپ:
• پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ
• آسٹریلیا بمقابلہ بنگلہ دیش
• بھارت بمقابلہ نیدرلینڈز
🔥 کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے لیے آج کا دن مکمل تفریح اور سنسنی سے بھرپور ہے!
16/06/2026
ایک ون ڈے میچ جہاں بیٹنگ ٹیم نے 241 رنز بنائے ہوں، دس اوورز میں 55 رنز دے کر تین وکٹیں، اعداد و شمار سے یہ باؤلنگ کچھ خاص نہیں لگتی- سکور کارڈ دیکھیں تو نیوزی لینڈ کے خلاف 1999 ورلڈکپ سیمی فائنل میں شعیب اختر کی یہ کارکردگی کسی طور مین آف دی میچ کی حقدار نہیں لگتی، خاص طور پر جب سعید انور نے ایک عمدہ سنچری بھی بنا دی تھی-
لیکن شعیب اختر کے سپیل کی خوبصورتی اعداد و شمار سے اور سکور کارڈ سے کہاں پتہ چلتی ہے- ابھی کچھ عرصہ قبل ایک سوال تھا کہ دنیا میں سب سے مہلک (یا شاید سب سے شاندار) یارکر کس کا تھا تو ڈیل سٹین نے جواب میں شعیب اختر کا نام لکھا اور حوالہ دیا اسی میچ کا-
شعیب اختر نے اس میچ میں نیتھن ایسٹل کو چھٹے اوور میں، سٹیفن فلیمنگ کو 34 ویں اوور میں اور کرس ہیرس کو 46 ویں اوور میں بولڈ کیا تھا، تینوں یارکر پر بولڈ ہوئے تھے اور اس کے علاؤہ بھی شعیب نے اس دن کئی یارکر کئے تھے، تیز رفتار یارکرز- شعیب کی تین وکٹوں کے علاؤہ وسیم اکرم اور عبدالرزاق نے دو دو وکٹیں حاصل کی تھیں-
بیٹنگ میں سعید انور کا ساتھ دیا تھا وجاہت اللہ واسطی نے جو اسی سال سامنے آیا تھا اور اسی سال منظر سے غائب بھی ہو گیا تھا- واسطی 84 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا تھا لیکن سعید انور نے اپنی سنچری مکمل کر لی تھی- دونوں کو کوئی جلدی نہیں تھے، بس کریز پر رکے رہے اور سکور میں رفتہ رفتہ اضافہ کرتے رہے-
یہ سعید انور کی مسلسل دوسری سنچری تھی اور کپتان وسیم اکرم خوش تھے کہ ان کا سب سے اہم بیٹسمین ٹورنامنٹ کے اختتام پر فارم میں واپسی کر چکا ہے اور اب فائنل میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے
اس وقت کسے پتہ تھا کہ اس ٹورنامنٹ کا فائنل اس وقت تک کا سب سے یکطرفہ ورلڈکپ فائنل ہونے جا رہا ہے-
تحریر:شہزاد فاروق
in 1999
15/06/2026
– سلیکٹر کے طور پر ناکام۔
– ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں منیجر کے طور پر ناکام۔
– پاکستان کرکٹ کے انتظامی معاملات میں ناکام۔
– پاکستان ویمنز ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکے۔
آخر وہ کون سی طاقت ہے جو وہاب ریاض کو بار بار پی سی بی میں اہم عہدے دلواتی ہے، حالانکہ ان کے دور میں نتائج مسلسل مایوس کن رہے ہیں؟
پی سی بی میں وہاب ریاض مختلف ادوار میں چیف سلیکٹر، سلیکشن کمیٹی کے رکن اور دیگر انتظامی ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں، جبکہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انہیں سلیکشن کمیٹی سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
کیاوہاب ریاض کے بغیر پاکستان کی کرکٹ نہیں چل سکتی؟
15/06/2026
🚨 سینٹرل کنٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان 🏏
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹس کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے:
✅ ٹریک AB – ڈوئل فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے)
وہ صفِ اول کے کھلاڑی جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، اس مرکزی کیٹیگری میں شامل ہوں گے۔
✅ ٹریک A – ریڈ بال اسپیشلسٹ (ٹیسٹ)
صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی اس ٹریک کا حصہ ہوں گے۔ اس کا مقصد ٹیسٹ اسپیشلسٹس کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کرنا ہے۔
✅ ٹریک BC – وائٹ بال اسپیشلسٹ (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی)
وہ کھلاڑی جو بنیادی طور پر محدود اوورز کی کرکٹ (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) کھیلتے ہیں، اس کیٹیگری میں شامل کیے جائیں گے۔
15/06/2026
لاسٹ دو ون ڈے سیریز میں پاکستان کا ٹاپ اسکورر بابر اعظم رہاہے، اور یہ سلسلہ اکثروبیشتر رہتاہے،
اس کے باوجود بھی بھی سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بابر اعظم کو بنایاجاتاہے،ٹھیک ہے اس کی کارکردگی اس لیول کی نہیں جوکہ کسی دور میں ہوتی تھی مگر اس کے باوجود دیگر پلیرز سے اس کی کارکردگی اچھی ہی ہوتی ہے،
اگر بابر اعظم اسکور کرتاہے تو کہتے ہیں سلو کھیلا، اسٹرائک ریٹ خراب ہے،
اگر ففٹی کرلیتاہے تو کہتے ہیں سینچری کیوں نہیں کی،
اگر کسی دن تیز اننگز کھیل دی تو کہتے ہیں سوئپ شاٹ کیوں نہیں کھیلی،
اور اگر کسی دن اچھی گیند پڑ کر جلدی آؤٹ ہوجائے تو کہتے ہیں یہ ختم ہوگیا، اب اسے رخصت کیاجاناچاہئے، بھائی کسی حال میں تورہنے دو.
ابھی ایک دو دن قبل محسن نقوی نے کہاکہ تمام پلیرز کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی ہے،
تو پھر بعض صحافی شروع ہوگئے کہ بابر اعظم ڈومیسٹک نہیں کھیلتا،ٹھیک ہے بابر اعظم کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی چاہئے، مگر باقی سینئرز پلیرز بھی تو ڈومیسٹک نہیں کھیل رہے، مگر ان کا نام کوئی نہیں لے رہا،
تو خدارا یہ دوغلی پالیسی چھوڑ دیں سب پلیرز کو ایک ہی طرح ٹریٹ کریں.
14/06/2026
انگلینڈ کی ٹیم انتظامیہ نے ورلڈکپ 2015 سے جلد باہر ہونے کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہوئے ٹیم کی ون ڈے کرکٹ کھیلنے کی حکمت عملی کو مکمل تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا- انگلینڈ کے بیٹسمین پہلی بار اپنے تسلسل کے ساتھ اتنی جارحانہ بیٹنگ کرتے نظر آئے تھے- اس تبدیلی کا پہلا مظاہرہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے ہوا اور پھر 2016 میں پاکستان کے خلاف ایک میچ میں انگلینڈ نے ایک ون ڈے اننگ میں زیادہ سے زیادہ سکور بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی بنا ڈالا-
چمپئنز ٹرافی 2017 کے اس پہلے سیمی فائنل میں ٹاس میں شکست کے بعد بیٹنگ کرنے والی انگلینڈ کا آغاز ایک بار پھر سے جارحانہ تھا لیکن پچ تھوڑی سی سست تھی تو یہاں دھماکے دار بیٹنگ کا امکان کم تھا- محمد عامر ان فٹ تھے اور ان کی جگہ کھیلنے والے رمان رئیس نے ایلیکس ہیلز کی وکٹ جلدی حاصل کر لی تھی لیکن پھر بیئرسٹو اور جو روٹ کے درمیان ایک عمدہ پارٹنرشپ کا آغاز ہوا- بیئرسٹو کی وکٹ گرنے کے بعد رن ریٹ میں کمی ضرور آئی لیکن جوئے روٹ اور مورگن کی کریز پر موجودگی کے وقت یہی لگ رہا تھا کہ انگلینڈ ٹیم تین سو کے آس پاس سکور بنانے میں کامیاب ہو جائے گی-
جوئے روٹ کو فہیم اشرف کی جگہ کھیلنے والے شاداب خان اور مورگن کو حسن علی نے آؤٹ کیا تو اس کے بعد انگلینڈ کی اننگ بکھر گئی- بین سٹوکس کے علاوہ کوئی بھی وکٹ پر نہ رک سکا- وکٹیں تسلسل سے گر رہی تھیں اور سکور بنانا بھی نہایت مشکل ہوا جا رہا تھا- بین سٹوکس جیسے بیٹسمین کی اننگ اس میچ میں انگلینڈ کی مشکلات کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے- بین سٹوکس نے 64 گیندوں پر 34 رنز بنائے اور اس دوران وہ باؤنڈری لگانے میں ناکام رہے- حسن علی 35/3، رمان رئیس 44/2 اور جنید خان کی 42/2 کی عمدہ باؤلنگ نے انگلینڈ کو 211 تک محدود کر دیا-
پاکستانی اننگ کا آغاز نہایت شاندار تھا, فخر زمان اور اظہر علی ایک بار پھر سے اپنے اپنے کردار کو بخوبی نبھا رہے تھے- جہاں فخر زمان گیند کو ہوا میں کھیل کر باؤنڈری کے پار پہنچا رہے تھے وہیں اظہر نہایت سکون سے صرف بری گیندوں کو بہترین سٹروکس کھیل رہے تھے- نصف سنچری بنانے کے بعد فخر زمان (58 گیندوں پر 57) آؤٹ ہو گئے لیکن اظہر علی (100 گیندوں پر 76) اور بابر اعظم (45 گیندوں پر 38) نے ایک اور عمدہ پارٹنرشپ بنا ڈالی- اظہر کی وکٹ گری تو اس کی جگہ محمد حفیظ (21 گیندوں پر 31) نے لے لی اور باقی سکور بڑی تیزی سے حاصل کر لیا گیا اور یوں پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی، دوسرے فائنلسٹ کا فیصلہ اگلے دن ہونے والے انڈیا بنگلہ دیش میچ میں ہونا تھا- حسن علی کو شاندار باؤلنگ پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا-
تحریر: شہزاد فاروق
in 2017