27/02/2026
پاکستان ہو یا افغانستان…
سرحدیں انسانوں نے بنائی ہیں،
مگر خونِ مسلم—
اس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان دل کو ہلا دینے والا ہے:
“جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔”
صحابہؓ حیران ہوئے، عرض کیا:
“یا رسول اللہ! قاتل تو سمجھ میں آیا، مگر مقتول کیوں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنے کی نیت رکھتا تھا۔” (بخاری و مسلم)
یہ صرف ایک حدیث نہیں…
یہ امت کے سامنے رکھا ہوا آئینہ ہے۔
آئینہ جس میں ہم آج اپنی حالت دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔
ہم نے دشمن کو دشمن سمجھنا چھوڑ دیا،
اور مسلمان کو دشمن بنا لیا۔
ہم نے دلوں میں نفرت کے وہ بیج بو دیے
جن کا پھل صرف خون، آنسو اور لاشیں ہیں۔
آج جو مسلمان مسلمان پر بندوق اٹھا رہا ہے،
وہ یہ بھول گیا ہے کہ
اللہ کو اس کا پہلا گولی چلانا نہیں—
اس کا پہلا بُرا ارادہ بھی پتہ ہے۔
زمین کی سیاست…
نسل، زبان، قبیلے، سرحدیں…
یہ سب عارضی ہیں۔
مگر مسلمان کے دل کی نیت،
اور ہاتھ سے نکلا ہوا خون—
یہ دونوں اللہ کی میزان میں تولے جائیں گے۔
اور جب اللہ تولے گا…
تو وہاں کسی کا ہتھیار نہیں چلے گا،
صرف اعمال اور نیتیں بولیں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دشمن کے فریب سے بچائے،
اپنے بھائیوں کا خون بہانے سے بچائے،
اور دلوں میں وہ رحمت پیدا کرے
جو کسی بندوق سے پیدا نہیں ہوتی—
صرف ایمان سے ہوتی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ پاکستان، افغانستان،
اور پوری امتِ مسلمہ پر
رحم، خیر اور امن کا نزول فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
27/02/2026
22/02/2026
20/02/2026
20/02/2026
20/02/2026