03/08/2026
جن کے ہاں اولاد نہیں، وہ ضرور پڑھیں... اور جن کے ہاں اولاد ہے، وہ "الحمدللہ" ضرور کہیں۔
آج ڈیوٹی کے دوران ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں تعارف ہوا تو میں نے پوچھا
بابا جی، آپ کیا کام کرتے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
بیٹا، میں مستری کا کام کرتا ہوں۔
میں نے حیرت سے پوچھا:
اس عمر میں بھی؟
وہ مسکرا کر بولے:
بیٹا، مجبوری عمر نہیں دیکھتی۔
پھر میں نے پوچھا:
آپ کے کتنے بچے ہیں؟
اس سوال پر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید بات کچھ اور ہے۔
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بولے:
بیٹا، میری دو شادیاں ہیں۔ پہلی شادی اپنی پسند سے کی، لیکن اللہ نے اولاد نہ دی۔ پھر مجبوری میں دوسری شادی کی، جس سے اللہ نے پانچ بیٹیاں عطا کیں۔ الحمدللہ، سب میری جان ہیں، مگر میرا کوئی بیٹا نہیں۔
میں نے کہا:
بابا جی! آپ تو خوش نصیب ہیں، اللہ نے آپ کو اولاد دی ہے۔
وہ آہ بھرتے ہوئے بولے:
بیٹا، میری بیٹیاں میری دنیا ہیں، لیکن کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھے 'ابو' کہہ کر کندھے پر ہاتھ رکھے، یا میں کسی کو آواز دوں: 'بیٹا، ذرا اِدھر آؤ۔' یہی کمی مجھے اندر سے توڑ دیتی ہے۔
پھر کہنے لگے:
میں حج بھی کر چکا ہوں، سعودی عرب میں برسوں مزدوری بھی کی، نماز بھی پڑھتا ہوں، اللہ سے دعائیں بھی مانگتا ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ دل کی یہ بے چینی کیوں ختم نہیں ہوتی۔
میں نے ان سے کہا:
بابا جی! اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں ضرور کوئی حکمت ہوتی ہے۔ بیٹیاں بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ ان کی اچھی تربیت کیجیے، ان سے محبت کیجیے، صدقہ و خیرات کیجیے اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ بے شک اللہ جب چاہے، جیسے چاہے، عطا فرماتا ہے۔
یہ کہہ کر میں وہاں سے تو آ گیا، مگر ان کی باتیں آج بھی میرے دل میں گونج رہی ہیں۔
میری رائے:
اس ملاقات نے مجھے یہ سکھایا کہ ہر انسان کے دل میں ایک ایسی خواہش ہو سکتی ہے جسے دنیا نہیں سمجھ پاتی۔ ہمیں کبھی کسی کے دکھ کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، بلکہ اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں اللہ کی عطا ہیں، اور اصل کامیابی نیک اور صالح اولاد ہے، نہ کہ صرف بیٹے کی خواہش۔
آپ بھی اپنی رائے ضرور لکھیں۔ کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟
30/07/2026