16/09/2026
ثقافتی بیل کراہ کے متعلق بہت اہم گفتگو، حقائق داستان نقصان اور بھدریں 2026 کا مہینہ
السلام وعلیکم شائقین کراہ
امید ہے کہ تمام احباب خیر خیریت سے ہوں گے اور دعا ہے کہ اللّٰلہ پاک تما م دوستوں بھائیوں کو صحت وسلامتی اور تندرستی عطا فرمائے میری تحریر لکھنے کا مقصد ثقافت کے چند اہم پہلو پہ روشنی ڈالنا ہے جو اس دور میں بہت ضروری وجوہات بن چکی ہیں تحریر تھوڑی لمبی ضرور ہے اپنے قیمتی وقت سے 5,10منٹ نکال کر ضرور پڑھیں اور آخر میں اپنی رائے کا اظہار کریں
پسِ منظر
تمام شائقین کراہ جیسا کے سب کو علم ہے آجکل بھدریں کا مہینہ چل رہا ہے اور بھدریں کا مہینہ خاص تمام ثقافتی کراہ گروپس کا اپنے اپنے گروپ کا منظم طریقے سے وجود قائم کرنا اور اپنے گروپ کی پاور شو کرنا ہوتا ہے ہر سال بھدریں کا مہینہ ایک نئے انداز اور نئی ترتیب سے شروع ہو کر نئے داندوں کو ویلکم اور گروپ چھوڑ کر جانے والوں کو خدا حافظ کہتا ہوا اختتام پذیر ہوتا ہے
سوشل میڈیا اور کراہ ثقافت
سال 2015,16 سے سوشل میڈیا کی کراہ ثقافت میں انٹری ہوئی جس میں سب سے پہلے فیس بک پر کراہ ثقافت کے پیج بنائے گئے اور سب سے پہلا پیج کراہ نیوز کا بنا جس پر ہونے والے جلسوں کے پھیرے اور جلسے پر وگنے والے داندوں کی پوسٹیں اپلوڈ کی جاتی تھیں اس کے بعد ٹچ موبائل کے عام ہونے اور سوشل میڈیا تک ہر بندے کی آسان رسائی کہ بناء پر فیس بک پر جلسہ بیل کراہ کے بہت پیجز بنے اسکے بعد واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ایپس نے اس ثقافتی سر گرمی کو اور فروغ دیا تھوڑے ہی عرصے میں سوشل میڈیا نے علاقہ دھن پکھڑ پوٹھوہار تھل کی اس ثقافت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر خبر منٹوں اور سیکنڈوں میں پانچوں اضلاع بلکہ ان اضلاع کے بیرون ملک مقیم لوگوں تک پہنچ جانے لگی سوشل میڈیا کے ان آسان روابط اور ہر خبر کی فوری اطلاع سے نے نوجوان نسل کو بہت زیادہ متاثر کیا جسکی وجہ سے پہلے جو شوق صرف خالص اور چند گنے چنے زمینداروں یا بڑی عمر کے افراد کا تھا وہ شوق ہر عام شخص خصوصا نوجوان نسل میں منتقل ہوا اب تقریبا ہر علاقہ کی نوجوانوں کہ بہت بڑی تعداد اس شوق سے وابستہ ہے
سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال اورثقافتی ضد انا اور بے پناہ پیسے کا استعمال
کل تک جو ثقافت عام روابط علاقائی کھیل اور تفریح کا ذریعہ اور آپس میں مل جل کر بیٹھنے اور دکھ سکھ بانٹںے کا زریعہ تھی آج وہ زوال پذیر ہوتی نظر آ رہی ہے جسکی دو بہت بڑی وجوہات ایک پیسے کا حد سے زیادہ استعمال اور سوشل میڈیا کا ناجائز اور بے ھنگم اور غیر ضروری استعمال ہے
یہ ثقافت اپنی زبان سے بولے گئے قول و قرار ، بیان یا بات اور پھر اس پہ عمل کرنے پہ منحصر ہے آج سوشل میڈیا پہ غیر ضروری پیجز جن کی کوئی تصدیق نہیں جس کا کسی کو علم نہیں کہ اس کے پیچھے کون موجود ہے اور وہ کس سے مخاطب ہے ٹک ٹاک کے فیک اکاؤنٹس جہاں کسی کی شناخت ممکن نہیں اور واٹس ایپ پر بے ھنگم اور لا محدود ثقافتی گروپس کا بننا ہے جس کا دل کرتا ہے اپنا واٹس ایپ گروپ بنا لیتا ہے اور اس گروپ سے وائس کے زریعے ثقافتی گروپ کے سربراہان داندئی حضرات بانیان جلسہ اور ثقافتی سفید پوش حضرات اور بزرگوں پر طنز کرنا انکی عزت اچھالنا اور غیر ضروی اور نامناسب گفتگو کرنا شامل ہے حالیہ 2026 کے اس بھدریں کے جلسوں کی شروعات کے ساتھ اس دفعہ سوشل میڈیا کا بہت ہی زیادہ غلط استعمال جاری ہے جہاں فیس بک پہ فیک اکاؤنٹ کے زریعے فیک پوسٹس بنا کر اپلوڈ کی جا رہی ہیں ٹک ٹاک پہ غلط افواہیں اور غلط خبریں شیئر کی جا رہی ہیں جبکہ سب سے زیادہ واٹس ایپ گروپس میں بحث ومباحثہ اور تبصرے کیئے جارہے ہیں جن کے اوپر کوئی روک تھام نہیں ہے جس میں ہر چھوٹی چھوٹی یا سنی سنائی غیر تصدیق شدہ خبر کو توڑ مروڑ کر یا بہت بڑا ایشو بنا کر پروپیگنڈا کر کے یا سوشل میڈیا سٹار کا اپنی فیم حاصل کرنے کےلیئے غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے جس کا حقیقت کیساتھ دور تک کوئی تعلق نہیں بلکہ مالکان کو جس کا علم ہی نہیں ہوتا وہ باتیں کی جا رہی ہوتی ہیں اس بے لگام سوشل میڈیا کے ناجائز استعمال سے غلط فہمیاں نفرتیں دوریاں بڑھنے کا سلسلہ زورو شور سے جاری ہے اور یہ کام زیادہ تر ثقافتی گروپس کے سپوٹران ہیں جنکی کوئی شناخت نہیں ہوتی وہ کر رہے ہیں جن کو حقیقت کا سہی علم ہی نہیں ہوتا سوائے چند ایک کے زیادہ تر سپوٹران نوجوان نسل ہے جنکی عمریں ہی 25,20سال ہیں جو ثقافت کے قانون کو اپنے لحاظ سے بنا کر اپنا نام بنانا چاہتے ہیں اور جنکی عمر اس شوق سے وابستہ رہی ہے ان کو بتا سمجھا رہے ہوتے ہیں اور کچھ حضرات کسی بھی ثقافتی خبر کو صرف اپنے مطلب کے لحاظ سے استعمال کرتے ہیں جہاں پر انکا مطلب پورا ہو رہا ہو اتنی خبر نکال کر وائرل کرتے ہیں اور آگے پیچھے کی خبر بیان نہیں کرتے جسکی وجہ ایک پروپیگنڈہ جھوٹ کا طوفان اور غیر ضروری بحث جنم لیتی ہے سوشل میڈیا کے بد ترین استعمال نے ثقافت کا کباڑہ اور اجاڑا کر کے رکھ دیا ہے
سوشل میڈیا کے اس غلط استعمال غلط خبروں جھوٹے پروپیگنڈوں کی وجہ سے کسی بھی سفید پوش یا داندئی حضرات کو اپنی عزت اور بات بچانے کےلیئے جلسہ رکھنا یا انتہائی مہنگے دام لگا کر داند خریدنے پڑتے ہیں کہ جن داندوں کی قیمتیں ہزاروں یا لاکھوں میں تھی وہ کروڑوں سے اوپر جا چکی ہیں اور ایک عام سا جلسہ کروانے کےلیئے بھی لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جس سے لوگوں کے گھروں کا اجاڑا ہوتا ہے اور پھر کبھی داندی حضرات کا آپس کے اختلافات ضد اور اناء کی وجہ سے بھی پیسے کا از حد استعمال کیا جاتا ہے اناء میں اور اگلے بندے سے بڑھنے کےلیئے کروڑوں روپے کے داند خریدے جاتے ہیں پیسے کا بے پناہ استعمال جو سراسر عام شوقین اور زمیندار کیساتھ ظلم ہے اگر کسی عام طبقہ زمیندار کے ساتھ کوئی معاملہ بنے تو وہ کہاں سے اتنے پیسوں کا داند خریدے یا جلسے کیساتھ جلسے لگانے کےلیئے کہاں سے اتنا پیسہ لائے اکثر وبیشتر لوگوں نے داند صرف اس لالچ میں رکھے ہیں ہمارے داند بڑی قیمتوں میں فروخت ہو جائیں اور کچھ داندئی حضرات اپنے مخالف فریق کی سیاسی طور پہ کمر توڑنے کےلیئے بڑی قیمت کا داند لے کر وادھا گھاٹا کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں سوشل میڈیا کے بعد پیسے کے اس پناہ استعمال نے ثقافت کے رہے سہے حصے کو اور مزید مشکل بنا دیا ہے اور برائے نام ثقافت صرف پیسے والے لوگوں کے ہاتھوں میں چڑھ گئی ہے چھوٹے اور درمیانے طبقے کے داندئی اپنا شوق ڈر کر پورا کر رہے ہیں کیونکہ پیسے کیساتھ معاملات کا حل ان کے بس سے باہر ہے حالانکہ کبھی یہ خالص زمیندارانہ شوق ہوا کرتا تھا۔
سال 2026 کا بھدریں
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ سال 2026 بھدریں کا مہینہ پچھلے کئی سالوں سے اس دفعہ ایک مختلف انداز میں آیا ہے اس کی وجہ سال2026 میں دو نئے گروپس کا وجود میں آنا ہے جو کہ ایک فخرے پاکستان گروپ سے الگ ہو کر کنگ آف پاکستان گروپ اور دوسرا ڈھوک سر گروپ سے الگ ہو کر برینڈ آف پاکستان کے نام سے وجود میں آئے ہیں اور بھدریں کی پہلی انٹری کیساتھ اپنا وجود ثابت کریں گے ان نئے گروپس کے بننے سے اس دفعہ داندی جوڑ توڑ بہت زیادہ ہوا ہے اور مزید ہوگا نئے گروپس بننے سے جو نئے داند اور چھوٹے طبقہ کہ زمیندار ہیں ان کی ویلیو میں اضافہ ہو گا یہ ثقافت کےلیئے ایک اچھا قدم ہے کیونکہ پرانی ثقافت میں داندوں کی تعداد بہت کم تھی ہر گاؤں میں کسی زمیندار کے پاس اکا دکا داند تھے یا کسی کے پاس پورا جوڑا ہوا کرتا تھا لیکن موجودہ ثقافت میں نوجوان نسل کا اس شوق سے وابستہ ہونے اور سوشل میڈیا سے کراہ ثقافت کو فروغ ملنے سے داندوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے ایک گھر میں چار،پانچ یا کہیں چھ چھ داند بھی موجود ہیں اور ایک ہی گاؤں میں اتنے داند ہیں کہ اگر سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو ایک بہت بڑا جلسہ لگایا جا سکتا ہے
ثقافت کے بچاؤ کےلیئے ایک اچھا پیغام
اتنی لمبی تحریر لکھنے کا مقصد ثقافت کے ناقابل تلافی ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہے جو روز بروز سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی جھوٹی افواہوں، فیک پوسٹس، فیس بک فیک آئی ڈیز، ٹک ٹاک فیک اکاؤنٹس اور واٹس پہ غیر ضروری گروپس جن میں فیک نمبرز یا بغیر پہچان کے نمبرز سے چلنے والی غلط وائس میسجز کے خلاف ایک مہم چلا کر اس کو روکنا ہو گا اور ہر فرد کو زمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا
فیس بک استعمال کرنیوالے
سب سے پہلے فیس بک پہ کراہ ثقافت کے صرف مستند اور پرانے پیجز کو لائک کر کے پروموٹ کرنا ہو گا لوکل پیجز کا بائیکاٹ کریں فیک اور گمنام اور بغیر تصویر کی آئی ڈیز کو انفرینڈ بلاک اور رپورٹ کریں
صرف مستند پیجز کی خبر لائک کمنٹ اور شیئر کریں یا کسی ویڈیو پیغام کو مستند سمجھیں لکھائی پڑھائی والی پوسٹ کو بغیر تصدیق کے سچ نا سمجھیں
کراہ ثقافت کے پیجز اپنی خبر کی ویلیو بنانے یا بڑھانے کےلیئے پوسٹ پہ کم سے کم لکھائی کریں اورجس کی طرف سے خبر ہو اس کا نام اور خبر اپلوڈ کرنے والے کا نام ضرور لکھیں اور بغیر تصدیق کے خبر اپلوڈ نا کریں ویڈیو پیغام کو زیادہ ترجیح دیں اپنی فیم یا ریٹنگ کے چکر میں ثقافت کو، ثقافتی سرگرمیوں کو، ثقافتی لوگوں کو مشکل میں نا ڈالیں یا تباہی کی طرف نا لے کر جائیں
بلکہ ثقافت کا ایک اچھا رخ پیش کریں
ٹک ٹاکرز
ٹک ٹاکر حضرات سے گزارش ہے کہ سب اپنی اپنی اوریجنل تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنا کر اپنی پہچان برقرار رکھیں اپنے لائک ویوز کے چکر میں ثقافتی تباہی کا دروازہ نا کھولیں آپکی ایک غلط پوسٹ وائرل ہو کر کتنی مشکلات بناتی ہے اس کا آپ کو اندازہ نہیں سب ثقافتی اشخاص کی عزت اور ساکھ کی حفاظت کو لحاظ میں رکھیں غلط کمنٹس اشتعال انگیز دوہڑے اور جملے لکھ کر یا ویڈیو پہ لگا کر غصے کی آگ کو مت بھڑکائیں
واٹس ایپ ممبران
واٹس ایپ پہ جتنے بھی لوکل گروپس ہیں ان کو لیفٹ کر کے ثقافتی کراہ گروپ کے اپنے پیج جوائن کریں اور تمام ثقافتی گروپ کے سربراہان اپنے گروپ کی تصدیق کریں اور لوکل گروپس سے لا تعلقی کریں اپنے گروپ کے ایڈمن کی نمائندگی یا زمہ داری گروپ کے کسی سینئر معتبر اور قریبی بندے کے سپرد کریں گروپس میں فیک اور بغیر پہچان کے بندوں اور نمبرز کو ریمو کریں غلط اور کسی کی عزت اچھالنے والے وائس ریکاڈر یا خبر کو غلط رخ دینے والے کے خلاف فوری ایکشن لیں اور اس طرح کی وائس کو آگے فارورڈ کرنے کے بجائے فوری ایڈمن حضرات ڈیلیٹ کریں جب تک خبر پھلتی رہے گی مشکلات بڑھتی رہیں گی فیک پوسٹ بھیجنے اور بغیر پہچان والے کسی شخص کی وائس فارورڈ کرنے والے سے پوچھ گچھ اور تصدیق تردید ضرور کریں
جتنے بھی ثقافتی گپ شپ کے گروپس ہیں لوگوں کی وائس لیک کر کے پھیلانے سے گریز کریں اس سے غلط فہمیاں اور خبر کو غلط رخ ملتا ہے
سوشل صارفین
تمام سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پہ ہر بندہ آزاد ہے ہر بندہ اپنی رائے ضرور پیش کر سکتا ہے مگر اخلاق اور تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا کا استعمال کریں بداخلاقی بد زبانی گالم گلوچ کسی کی عزت اچھالنے کسی پہ ہٹ کرنا کسی مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک جاہلانہ اور گھٹیا حرکت ہے لہذا اچھی رائے اور اچھا کمنٹ کریں اچھی پوسٹ کریں تا کہ آپ کو اچھے جواب کی توقع ہو جب بھی کوئی وائس ریکارڈنگ کرنی ہو تو وائس کے شروع میں ہی اپنا تعارف گاؤں کا نام ضرور بتائیں تا کہ آپ کی خبر مستند اور رائے کی تائید کی جا سکے
ثقافتی سپوٹران
تماثقافتی گروپس کے سپوٹران سے گزارش ہے کسی بھی ہونے والی ثقافتی سرگرمی چاہے جلسہ ہو داند کی دعا خیر ہو داند مانگنے کی یا داند مخالف گروپ میں شامل ہونے کی کوئی بھی بات ہو تو گروپس کے سربراہان بانیان جلسہ یا داندی مالکان کے فیصلے کا انتظار کریں ان کی تصدیق تریدد اور مستند خبر کے بعد ہی گروپس میں اس موضوع پہ گپ شپ کریں مالکان انتظامیہ یا گروپ نمائندگان کے فیصلے سے پہلے غیر ضروی بحث مباحثہ مت کریں اس سے گروپس اور داندئی حضرات اور جلسہ بانیاں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے اور مسئلے حل ہونے کے بجائے بگڑتے ہیں داندئی حضرات اور سفید پوش شخصیات کا آپس میں مقابلہ نہ بنائیں سب ثقافتی شخصیات برابر ہیں اور آپس میں بلا تفریق عزت و احترام کرتے ہیں آپ سپورٹر ضرور بنیں لیکن ایک حد تک ضرورت سے زیادہ نہیں
اور تمام سپوٹران حضرات ثقافتی دنیا کے کیس داندوں اور جلسوں کی گپ شپ کو بحث مباحثہ بنا کر ذاتیات پہ مت جایا کریں اور اپنے آپ کو ثابت کرنے اور سچا کرنے کی کو شش میں ثقافت کا بیڑہ غرق اور جنازہ مت نکالیں پرسنلائز مت ہوں آپ کا آپس کے بحث مباحثے سے داندی حضرات کے فیصلہ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا وہ اپنا اچھا برا خود سوچ اور کر لیں گے
بانیان جلسہ اور داندئی حضرات
بانیان جلسہ اور داندئی حضرات سے مؤدبانہ التماس ہے درخواست ہے کہ داندوں کی کوئی بھی بات ہو دعا خیر ہو کہیں بھی جلسہ ہونا واہنا ہو تو ایک زبان کی جائے اور دعا خیر کے بعد یا کسی بانی جلسہ کو بلانے کے بعد کیس کے چکر میں دعا خیر مت توڑیں اللّٰلہ کا نام لے کر اس دعا خیر کا پاس کیا کریں اور بانیان جلسہ سے گزارش ہے کہ کسی بھی داند کو دعا خیر کے بعد فارغ کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے براہ کرم سب اپنی اپنی بات کا پاس کریں میں ادنٰی سا شوقین ہوں اور گزارش ہی کر سکتا ہوں۔
گروپ سربراہان اور ثقافتی اشخاص
آخر میں تمام سفید پوش ثقافتی اشخاص ثقافتی گروپ سربراہان بانیان جلسہ کسی بھی خبر کے متعلق اپنا ویڈیو بیان کے زریعہ پیغام شائقین تک پہنچانے کی کوشش کریں لکھائی والی پوسٹ سے بہت زیادہ اجتناب کریں
ثقافتی امپائرز واٹس ایپ ہلچل گروپ کے معززین اور ثقافتی اشخاص گروپ سربراہان ثقافتی سرگرمیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو اچھا پیغام ویڈیو کے ذریعے پہنچائیں تا کہ نوجوان نسل میں شعور پیدا ہو اور غلط اور فیک کام کرنے والے کو ڈھونڈ کر نمونہ بنائیں تا کہ مزید ایسی کوئی حرکت کرنے سے گریز کرے آپ لوگوں کے مستند فیصلے ہی اس ثقافت کو قائم رکھ سکتے نہیں تو یہ ثقافت چند دنوں کہ مہمان ہی ثابت ہو گی یہ ایک المیہ ہے
میری اس تحریر پہ اپنی اچھی رائے ضرور پیش کریں غیر اخلاقی کمنٹ گفتگو سے پرہیز کریں ایک مومن وہ ہے جسکی گفتگو آداب اور زبان سے دوسرا مسلمان بھائی محفوظ رہے
وسلام تحریر ملک عثمان ڈھرنال
fans