07/09/2024
تم کو خود آ جائیگا چاکٍ گریباں کا شعور
تم وہاں تک آ تو جاؤ ہم جہاں تک آ گئے
درویش چلا تُرکیہ ۔۔۔
التماس دُعا
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Chishtiya International Network - CIN, Coach, Airport Road, Lahore.
07/09/2024
تم کو خود آ جائیگا چاکٍ گریباں کا شعور
تم وہاں تک آ تو جاؤ ہم جہاں تک آ گئے
درویش چلا تُرکیہ ۔۔۔
التماس دُعا
10/04/2024
04/01/2024
خود کلامیاں
صاحبو ! کسی وقت ہمیں سر اور عقل سے باہر نکل کر پوچھنا چاہیے ۔
کیا ہم اپنے دل سے دیکھ سکتے ہیں؟
یہ جو تاریخ انسانی میں تمام عارف کہتے چلے آئے ہیں کہ دل کی آنکھ سے دیکھو، دل کے کان سے سُنو۔۔ اور جب خالق کہتا ہے کہ وہ دلوں پر مُہر لگا دیتا ہے اور صمم بکمم کر دیتا ہے ۔
کیا ایسا تو نہیں کہ اس مادیت پسندی اور مادیت پرستی نے ہمارے شعور کو صرف بیرون اور خارجی دنیا میں ہی اُلجھا رکھا ہے۔
کیونکہ جب ہم اپنے دل سے دیکھتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ خوبصورتی کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انصاف کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سچائی کیا ہے۔
صاحب من! مصیبت یہ ہے کہ اب ہم اس پر یقین ہی نہیں کرتے کہ “ من کی دنیا” بھی ہے۔ ہم ظاہر کو حقیقت اور باطن کو افسانہ یا ایک شاعرانہ تخیل کے علاوہ کچھ اہمیت نہیں دیتے
ہم ایک ایسی ثقافت میں زندہ ہیں جو ہماری توجہ کو ہم سے باہر ( خارج) پر مرکوز رکھتی ہے۔ جس نے ایک خود ساختہ آنٹولوجی ontology بنائی ہے جس میں اسباب اور نتائج ہیں اور اس چپٹی flat اور horizontal آنٹولوجی کے تابع آج کے انسان کے لیے جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکی وضاحت صرف وجہ یعنی cause اور اسکے اثر یعنی effect کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔
صاحبو ! روایتی حکمت یہ بتاتی ہے کہ انسانی زندگی کی صرف ایک ہی خارجی جہت یا جسے آپ outward dimension کہتے ہیں نہیں ہے۔ صرف ظاہر ہی نہیں ہے بلکہ ایک اندرونی یا باطنی جہت بھی ہے جسے آپ inner dimension کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ باطنی جہت ، آپ کی خارجی جہت جو اُفقی یا horizontal ہوتی ہے اُس سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ یہ بالکل عمودی یعنی verticalہوتی ہے۔
صاحبو ! آپ کو بظاہر اندرون کی دنیا یوں لگتی ہے کہ جیسے آپ نے اپنے اندر غوطہ لگانا ہوتا ہے۔ پھر آپ یہ بھی پڑھتے آئے ہیں کہ “ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغ زندگی”۔۔۔۔۔ اور آپ کو ڈوبنے سے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو یہ خارج کی دنیا پڑھا چکی ہے کہ ڈوبنا موت ہے۔ اور آپ اپنی اسی زہنی ساخت کی وجہ سے کھبی بھی ڈوبنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
You are afraid of drowning; so you never give it a try no matter how much you have read or heard about it.
صاحبو! ہم انسانوں کے ساتھ ایک مسلہ ہے کہ ہماری زبان کی مجبوری یہ ہے کہ سب کچھ کہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ رہ جاتا ہے۔
صاحبو! یہ ڈوبنا نہیں اُبھرنا ہوتا ہے، یہ تنزلی نہیں بلکہ عروج کا سفر ہوتا ہے۔ یہ آپ کے شعور کا vertically اُٹھنا ہوتا ہے ۔ وہ شعور جو اب تک صرف خارج میں horizontally اُلجھا ہوتا ہے یہ اُسی شعور کا verticle یا عمودی سفر ہوتا ہے۔
آپ کا horizontal شعور جس کا تعلق خارجی دنیا سے ہے اسکی seat آپ کا سر اور آپ کی عقل ہے۔ جو حسیات کے زریعے آپ کے زہن میں آنے والی معلومات کو چھوٹا چھوٹا۔ dissect کرتی ہے۔ اور کیونکہ آپ سب ہی اب کمپیوٹرز سے واقف ہیں تو آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی کہ آپ کا زہن بنیادی طور پر ایک algorithm ہی ہوتا ہے۔ اور جس algorithm کو ہی استعمال کرتے ہوئے آج کے انسان نے مصنوعی زہانت یا Artificial Intelligence کو خود ہی تخلیق کر لیا ہے۔ اور کیونکہ آپ کو اب تک بتایا جاتا رہا ہے کہ جذبات کا تعلق دل سے ہوتا ہے اس لیے آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان مصنوعی زہانت والی مشینوں کے اندر عقل تو ہو گا لیکن ان خود سے سوچتی مشینوں کے اندر احساسات نہیں ہوں گی تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آپ کے جذبات کا تعلق آپ کے عقل سے ہوتا ہے اور جلد یا بدیر جب یہ خود سے سوچنے والی مشینیں ترقی پا جائیں گی تو ان میں جذبات بھی ہوں گے۔
آپ horizontal شعوری میدان میں ان مشینوں سے بہتر perform نہیں کر سکیں گے ۔
صاحبو ! انسان کے پاس اب صرف ایک ہی انتخاب یا choice رہ جائے گی جس میں مصنوعی ذہانت کی مشین بالکل عاری ہو گی اور وہ ہے انسان کا نئے شعور میں داخل ہونا۔ ایک vertical conscious ، ایک عمودی شعور میں اپنے سفر کا آغاز کرنا۔ اور اسُ عمودی سفر کا آغاز دل سے ہو گا۔ یہ خارج کا نہیں یہ اندرون کا سفر ہو گا۔
صاحبو ! مجھے لگتا ہے کہ انسان اپنے ارتقاء کے مراحل میں اب اپنے آپ کو unfold کرنے کے لیے تیار ہونا شروع ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب۔ energy patterns تبدیل ہو رہے ہیں۔
اس vertical dimension سے آپ کو یہ خارج کی دنیا جس میں ہم جی رہے ہیں صرف ایک پردہ سکرین نظر آتا ہے جس پر اندرونی دنیا سے یا جسے آپ vertical dimension کہہ سکتے ہیں وہاں سے اسمائے الٰہیہ اُترتے ہیں۔ وہ اسما جن کا کلی علم آدم کو عطا ہوا۔ اس خارج کے پردہ سکرین پر اندرون سے اسما الٰہیہ وارد ہوتے ہیں، اختلاط کرتے ہیں ، ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو رہے ہوتے ہیں اور جو مخالف ہیں وہ ایک دوسرے سے متصادم ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس vertical consciousness یا عمودی شعور سے آپ دیکھیں گے تو آپ کو لگے گا کہ یہ اسمائے الٰہیہ اس کائنات کی گرامر ہیں۔ اور حق کو پانے کے لیے اور سچ کو سمجھنے کے لیے آپ کا اس کائناتی گرامر کا سمجھنا لازم ہے۔
نوٹ: یہ خود کلامی ہے کسی کو سمجھانے کے لیے نہیں لکھی گئی اور اگر آپ کو اس لکھے سے کچھ سمجھ آ رہا ہے.تو یقین مانیں آپ مجھ سے زیادہ زہین ہیں ۔
دُعاگُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی ۔
Sheikh Mahir, the imam of Masjid al-Haram,
has given a formula for the *last ten days of Ramadan.*
1. Donate one dirham
(one taka) per day, if the day falls in the middle of Lailatul Qadr, you will get the reward of donating one taka per day for 74 years or 1000 months.
2. Perform two rak'ats of nafl salat every day. If the day falls between Lailatul Qadr, then you will get the reward of performing two rak'ats of nafl salat every day for 74 years.
3. Recite Surah Ikhlas three times a day. If the day falls between Lailatul Qadr, you will get the reward of reciting one complete Qur'an every day for 74 years.
He further said, "Spread these words among the people, who will act on hearing this from you, you too will get the same reward for their deeds, InshaAllah." Because the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said, "The one who guides to good deeds will get the same reward, but there will be no shortage of reward for the doer." (Muslim, 264)
May ALLAH (swt) bless everyone to do more and more.
Ameen.
12/11/2022
the Quran, through constant recitation, meditation, and practice, is the source of Islamic mys- ticism, at its beginning and throughout its growth. Complete recitals (qi-
r a ) ' and frequent "rereadings" of the text, which is considered sacred, were the foundation of Sufism, and from these activities developed its dis- tinctive characteristics: reading in groups in a loud voice (dhiker, raf al- sawt) and the regular sessions established for "recollection," majalis al-dhiler, in which practitioners recited sections of the Quran, as well as prose and verse on related themes for meditation.
12/11/2022
Shath - Wikipedia A shath (Arabic: شطح šaṭḥ, plural: šaṭaḥāt or šaṭḥiyyāt),[1] in the Islamic mystical tradition of Sufism, is an ecstatic utterance which may be outrageous in character. The word is derived from the root š-ṭ-ḥ, which carries the sense of overflowing or outpouring caused by ag...
One of the seven (7) letters written by sultan ul Hind Khawaja Moinudin Hasan Chishty ( RA)
The perfect Fakir
In the name of God, the Compassionate, the Merciful.
“One who is initiated in to the divine love and knows God, lover of Allah, my brother, Khwaja Qutubuddin, May the most high God increase your piety.
“After Salaams, full of love, from one who invokes God to pour His blessings on you, be it known to you.
“My dear, do tell your disciples what is meant by a perfect fakir, and what his signs are and how he is known. The sheikhs of the path (Tariqat), May the most high God hallow their graves, have said: “He is a fakir who is indifferent to all wants, and does not want but His eternal face; because all the creation is the mirror and manifestation of that Eternal face. He, therefore, seeks his end from it.”
“Some of the savants have explained it thus:
“A perfect devotee is one from whose heart everything is absent but God; and nothing but Him is his aim and object. When things other than God are driven away from his heart, the object is achieved.”
“The seeker should, therefore, be after his aim and object. Now, one ought to know what to seek? Be it plain to you that the aim is pain and heart-burning, whether divine or worldly. Here is meant by worldly heart-burning, the preliminary injunctions of the religious laws (shari-at).
-And Salaams.”
Note – These letters was originally published in the book “Holy Biography of Khwaja Muinuddin Hasan Chishty” by Khwaja Wahiduddin Begg .
صوفی ازم موجودہ دور میں تصوف کا جدید لفظ ہے۔اسلام کی 'روحانی جستجو' کو قرآن میں "تزکیہ" اور حدیث میں "احسان" کہتے ہیں۔ صاحبانِ تصوف نے کبھی بھی اپنے آپ کو صوفی نہیں کہلایا۔ بلکہ خود کو فقراء (غریب، اللہ تعالیٰ کے سامنے) رب العالمین کے سامنے اپنے آپ کو عاجزی کی حالت میں پیش کرتے رہے۔ حضرت سید علی ہجویؒ لاہور کے داتا گنج بخش نے آٹھویں صدی میں صوفیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ:
تصوف کبھی نام کے بغیر ایک حقیقت تھی، آج یہ حقیقت کے بغیر نام ہے۔
’اِسم‘ (نام- خود نمائی) ہمیشہ گھاٹے کا شکار کرتی ہے۔کیونکہ یہ اندرونی روحانی جستجو کو ظاہری مذہبیت اور جعلی روحانیت میں بدل دیتی ہے۔
حضرت سید شیخ عبدالقادر گیلانی (رحیمتہ اللہ علیہ) ایک اعلیٰ ترین کاروباری شخصیت تھے۔ حالانکہ انہوں نے ایک کاروباری حوالے سے زندگی نہیں گزاری۔ وہ فقر کی زندگی بسر فرماتے تھے اور فروغِ اسلام کی خاطر دولت کماتے تھے۔ ان کا کاروبار اتنا کامیاب تھا کہ ان کا ایک ذاتی تجارتی بحری بیڑہ تھا۔ ایک روز وہ اپنے طلباء کو پڑھا رہے تھے کہ انہیں خبر موصول ہوئی کہ ان کا بحری جہاز ڈوب گیا ہے۔ آپ(رح) نے نیچے دیکھا اور فرمایا الحمدللہ۔ تھوڑی دیر بعد انہیں خبر ملی کہ بحری بیڑا بچ گیا ہے آپ(رح) نے دوبارہ نیچے دیکھا اور پھر فرمایا الحمد للہ۔
آپ(رح) کے قریبی شاگردوں میں سے ایک نے عرض کی :
حضور میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب بُری خبر آئی کہ بحری جہاز ڈوب گیا ہے تو آپ نے الحمدللہ کہا اور جب اچھی خبر آئی تب بھی آپ نے الحمدللہ کہا۔
یہ کیا عجیب واقعہ ہے؟
حضرت سید شیخ عبد القادر گیلانی (رحمۃ اللہ علیہ) مسکرائے اور فرمایا:
"آپ سوچنے میں غلطی کر رہے ہیں کہ میں نے بحری جہاز کے ڈوبنے یا بچانے پر الحمدللہ کہا۔درحقیقت میں نے اپنے اندر جھانکا اور اپنے اندر کا جائزہ لیا کہ آیا چونکا دینے والی خبر یا خوشخبری کا میرے جذبات پر ذرا سا بھی اثر ہوا ہے۔تو مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی نہیں تھا۔ اور تب میں نے کہا:
الحمدللہ۔"
20 صفر سید علی ہجویؒ کا 979 واں عرس ہے
رب العالمین حضور داتا علی ہجویری(رحمتہ اللہ علیہ) اور تمام بزرگانِ طریقت کے درجات بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
12/02/2022
810th Urse Khawaja Gharib Nawaz Mubarak | Syed Farid Maharaj Ahata-e Noor Astane Khawaja GharibNawaz 810th Urse Khawaja Gharib Nawaz Mubarak| Sayed Farid MaharajPlease Subscribe our Chanel Sarparast News LIVE We are Available on Google App Store.Please use ...
03/02/2022
Life History Of Khwaja Gharib Nawaz | Sahabzade Farid Maharaj | 809th Urs Khwaja Gharib Nawaz
Today marks the 10th of Muharram. Today, we remember the martyrdom of the Prophets ﷺ grandson, Imam Hussain (AS) son of Imam Ali bin Abu Talib(AS).
What did his sacrifice teach us? To raise our voice for the oppressed and to hold high the standard of justice.
Allah Akbar.
Salutation on the Habib our Holy Prophet Syeduna Muhammed bin Abdullah bin Abdul Mutalib bin Hashim salat o Salam Yaa Rasul Allah. Yaa Rehmat ul Alamein and his pure Progeny
Salaam ale ka yaa Aba Abdullah al Husain
Salam ale ka Aulad al Husain
Salam ale ka Ashab al Husain
O Allah grant us your Hidaya ( guidance) and Rehma ( mercy)