Ali Tahir Zahoor

Ali Tahir Zahoor

Share

Founder & CEO SULNAQ Consulting

Photos from Ali Tahir Zahoor's post 10/11/2025

🕊️ ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرہ – اردو زبان کی روشن شمع بجھ گئی 🕊️

آج اردو زبان ایک عظیم ہستی سے محروم ہو گئی۔
نامور محققہ، دانشور اور استادِ محترم ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرہ انتقال فرما گئیں۔
اِنّا لِلّٰہِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔

ڈاکٹر عارفہ زہرہ صاحبہ نے اپنی پوری زندگی اردو زبان، ادب، اور تہذیب کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
ان کی باتوں میں علم، شائستگی اور وقار جھلکتا تھا۔
ان کی وفات اردو دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
اور ہمیں ان کی علمی و فکری وراثت کو آگے بڑھانے کی توفیق دے۔
آمین 🤍

20/10/2025

ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ، ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے آنکھیں بند کر لیں ، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا " ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"
کارلا دھندہ کرنے والی عورت تھی ، بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگ پڑی ، 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ، سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی ، موقعہ واردات پر مزاحمت ھوئی اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ، کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کے چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ، اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کی زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا ، وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔
ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ، اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کے فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لیئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی
سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا" ، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا " نہیں بلکے میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی"
امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لئیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی"
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا"
جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے تو مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول یاد آ جاتا ھے

" معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ھیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں....

Copied





03/10/2025
03/10/2025
03/10/2025

اگر میں مر جاؤں تو مجھے فلسسطین میں کسی خوبصورت پھول کے سائے میں دفن کر دینا۔ اپنے لوگوں کے ساتھ۔ مشتاق احمد خان کو قابض اسسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا ہے۔ میں بالکل بھی مایوس نہیں ہوں کیونکہ ایسا ہونا ہی تھا۔ اسسرائیل کبھی بھی ان لوگوں کو وہاں جانے نہیں دے گا۔ لیکن بدقسمتی سے مشتاق احمد صاحب کو کئی بار اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اسلام آباد میں فلسسطینی عوام کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ اب اسسرائیل ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بعض ممالک کے سربراہان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اگر اسسرائیل نے ہمارے لوگوں کے ساتھ کچھ کیا تو ہم باقاعدہ کارروائی کریں گے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران کیا کرتے ہیں ؟ آیا وہ مشتاق احمد صاحب کے رہائی کے بارے میں ٹویٹ وغیرہ کرتے ہیں یا نہیں ؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب گھروں سے نکلیں اور مشتاق احمد صاحب اور ان کے ساتھ 44 ممالک کے رضاکاروں کی فوری رہائی کے لیے آواز بلند کریں۔ آئیے اس میں حصہ لیں اور پاکستان کے حکمرانوں کو آواز بلند کرنے پر مجبور کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

11/09/2025

دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس سے کسی نے پوچھا
"کیا دنیا میں آپ سے زیادہ بھی امیر کوئی ہے؟"
بل گیٹس نے جواب دیا، ہاں، ایک شخص ہے جو مجھ سے بھی زیادہ امیر ہے۔
پھر اس نے ایک قصہ سنایا۔
یہ وہ وقت تھا جب میں امیر یا مشہور نہیں تھا۔"
نیویارک کے ہوائی اڈے پر تھا جب میں نے ایک اخبار" فروش کو دیکھا۔
میں ایک اخبار خریدنا چاہتا تھا لیکن پتہ چلا کہ میرے" پاس خریدنے کے لئے اضافی پیسے نہیں ہیں چینج وغیرہ۔ لہذا میں نے خریدنے کا خیال چھوڑ دیا اور اسے اخبار فروش کو واپس کر دیا۔
میں نے اسے رقم کھلے نہ ہونے کے بارے میں بتایا۔" بیچنے والے نے کہا، میں یہ آپ کو مفت میں دے رہا ہوں۔ ان کے اصرار پر میں نے اخبار لے لیا۔
اتفاق سے دو تین ماہ کے بعد میں اسی ہوائی اڈے پر اترا اور ایک بار پھر میرے پاس اخبار کی خریداری کے لئے کھلے پیسے دستیاب نہیں تھے۔
دکاندار نے مجھے دوبارہ اخبار پیش کیا۔ میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اسے نہیں لے سکتا کیونکہ آج پھر سے میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں. اس نے کہا، آپ لے سکتے ہیں، میں اسے اپنے نفع میں سے بانٹ رہا ہوں، مجھے نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے اخبار لے لیا۔
سال کے بعد میں مشہور ہو گیا اور لوگوں میں جانا 19 پہچانا گیا۔
اچانک مجھے وہ اخبار فروش یاد آیا۔ میں نے اسے ڈھونڈنا شروع کیا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ کی تلاش کے بعد مجھے وہ مل گیا۔
میں نے اس سے پوچھا کیا تم مجھے جانتے ہو؟" اس نے کہا، 'ہاں، آپ بل گیٹس ہیں۔
میں نے اس سے دوبارہ پوچھا کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے مجھے ایک بار مفت میں اخبار دیا تھا؟
اخبار فروش نے کہا، 'ہاں، مجھے یاد ہے۔ میں نے تمہیں دو" بار دیا تھا۔
میں نے کہا، 'میں اس مدد کو واپس کرنا چاہتا ہوں جو آپ" نے مجھے اس وقت پیش کی تھی۔
تم اپنی زندگی میں جو چاہو بتاؤ، میں اسے پورا کروں گا۔
اخبار فروش نے کہا 'جناب کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسا" آپ میری مدد کو پورا نہیں کر پائیں گے؟ کرنے سے

'میں نے پوچھا، کیوں؟
اس نے کہا، 'میں نے اس وقت آپ کی مدد کی تھی جب میں ایک غریب اخبار فروش تھا اور اب جب کہ آپ دنیا کے امیر ترین آدمی بن چکے ہیں تو آپ میری مدد کرنے کی کوشش کر
رہے ہیں۔
آپ کی مدد میری مدد کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟
اس دن میں نے محسوس کیا کہ اخبار فروش مجھ سے زیادہ امیر ہے کیونکہ اس نے کسی کی مدد کرنے کے لیے امیر بننے کا انتظار نہیں کیا۔
لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی امیر وہ
ہیں جن کے پاس ڈھیروں پیسے کی بجائے امیر دل ہوں.








08/09/2025

سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے

یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،

ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905

ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ

👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں

یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے

copied







05/09/2025

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں“ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا‘ ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ”ہیلو ہنری آر یو اوکے“ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا‘ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ”یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے“ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ” یہ شخص کیاکرتا ہے؟“ فورڈ نے جواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے“ ۔
صحافی نے پوچھا ”آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں“ فورڈ نے جواب دیا ”کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے“ فورڈ کا کہنا تھا ”میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔
میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں“ ہنری فورڈ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے“ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔
آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔
بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں‘ یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائین میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے۔
ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا، چنانچہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔






06/04/2025

فلسطین علماء اتحاد کے صدر ڈاکٹر نواف تقروری کی اہم اپیل:

"اے امتِ مسلمہ کے جوانو!
سب سے آسان کام کرو — جمعہ نماز کے بعد صیہونی اور امریکی سفارتخانوں کا گھیراؤ کرو!

اے مصر اور اردن کے نوجوانو!
چاہے تمہیں اچھا لگے یا نہ لگے، تمہیں سرحدوں کی طرف مارچ کر کے محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہوگا!

اگر آج نہیں نکلو گے تو کب نکلو گے؟
خاموشی امت کے لیے ایک تاریخی شرمندگی ہے۔
کل اللہ کو کیا جواب دو گے؟"

جتنا ہو سکے اس پیغام کو اگے پہنچائیں
آر ٹی ای اردو

Photos from Ali Tahir Zahoor's post 05/04/2025

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے غزہ پٹی میں اتنی شدید ترین اور مسلسل بمباری کی، جس کے نتیجے میں 86 سے زائد فلسطینی شہید اور 280 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ جنگ کی سب سے ہولناک راتوں میں سے ایک تھی۔

فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس نے فیس بک پر لکھا:
"چند ہی گھنٹے باقی ہیں اور غزہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ تم ہمیں صرف جنت میں پاؤ گے۔ خداحافظ اُن سب سے جو تاریخ کے سب سے ظالم 'عرب' کہلائیں گے۔"

غزہ کی ایک فلسطینی لڑکی نے لکھا:
"ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور سب ختم ہو جائیں گے۔
اللہ اُس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا۔"

ایک فلسطینی شیخ نے کہا:
"میں نے ابھی اپنی بیٹی کو دفنایا ہے۔ بغیر سر کے۔"

یا اللہ رحم !!
Copied

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Garden Town
Lahore
54000