امر بیل
از عمیرہ احمد
باب 1
عمر آرہا ہے پرسوں۔"
نچ پر نانو نے اچانک اس سے کہا۔ وہ کھانا کھانا بھول گئی۔
پرسوں آرہا ہے آپ کو کس نے بتایا ؟"
اس نے بے چینی سے نانو سے پوچھا۔
تم اس وقت سو رہی تھیں ، وہ بھی تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا، مگر میں نے جب یہ بتایا کہ تم سورہی ہو تو پھر اس نے جگانے سے
منع کر دیا۔ ”نانو نے تفصیل بتائی تھی۔ علیزہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
چھٹیاں گزار نے آرہا ہے؟"
اس نے پوچھا۔
ہاں یہی سمجھ لو ، فارن سروس چھوڑ رہا ہے۔ کہہ رہا تھا، چند ہفتے تک پولیس سروس جوائن کرلے گا۔"
علیزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
عمر اور پولیس سروس، مجھے یقین نہیں آرہا نانو! اتنی اچھی پوسٹ چھوڑ کر آخر وہ کرے گا کیا یہاں۔ انکل نے اس سے کچھ
نہیں کہا؟"
اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔
" جہانگیر سے اس کا کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔ اس نے مجھے تفصیل نہیں بتائی لیکن
They are not on talking terms now-a-days."
اس میں کو نسی نئی بات ہے، یہ تو پچھلے کئی سال سے ہو رہا ہے۔ "
علیزہ کو واقعی کوئی حیرانی نہیں ہوئی تھی۔
ہاں مگر ابھی پھر کوئی جھگڑا ہوا ہے دونوں میں۔ اب آئے گا، تو پتہ چلے گا کہ کیا ہوا۔ "
نانو بھی زیادہ فکر مند نہیں لگ رہی تھیں۔
یہیں رہے گا کیا ؟"
اس نے نانو سے پوچھا۔
ہاں ، کہہ رہا تھا کہ پوسٹنگ ملنے تک یہیں رہے گا۔ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ تمہارے یا اپنے لئے کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسے بتا
دیں، وہ لے آئے گا۔ اپنے لئے تو میں نے کچھ نہیں کہا لیکن تمہارے لئے کچھ پر فیومز لانے کے لئے کہا تھا۔ میری بات پر وہ
مننے لگا۔ "
Novels & stories
need 1k followers
ایسی گڑیا کی کہانی جو ہر خریدنے والے گاہک کے گھر سے ایک ہفتے بعد غائب ہوجاتی ہے
مکمل کہانی
خوفناک گڑیا
______________________________________
میں 2 سال بعد سعودیہ عرب سے پاکستان اپنے گھر کو جا رہا تھا ۔۔۔ میری ساری تیاری مکمل تھی ۔۔۔ بس اپنی اکلوتی بیٹی کے لئے کچھ کھلونے خریدنے تھے ۔۔۔
فضا میری 6 سال کی بس ایک ہی بیٹی تھی ۔۔۔۔ اور فضا کو گڑیوں کا ہمیشہ سے شوق تھا ۔۔۔ میں خاص طور پر فضا کے لئے گڑیا خریدنے ایک بہت بڑے ڈول ہاوس گیا ۔۔۔۔۔۔
دکان میں داخل ہوتے ہی میں گڑیوں کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔۔ پھر اچانک میری نظر ایک بہت ہی عجیب گڑیا پر پڑی جو دکان کے ایک کونے میں چھپا کر رکھی گئی تھی ۔۔۔۔ میں وہ گڑیا اٹھا کر اس عرب سیلز مین کے پاس گیا اور اس سے گڑیا کی قیمت پوچھی ۔۔۔۔
وہ عرب سیلز مین گڑیا میرے ہاتھ میں دیکھ کر حیران ہو گیا اور اس نے مجھ سے پوچھا یہ گڑیا تمہیں کہاں سے ملی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس سیلز مین نے ایک ملازم لڑکے کو بلا کر اسے ڈانٹنا شروع کر دیا ۔۔۔کہ یہ گڑیا دکان میں کون لایا ۔۔۔۔ ملازم ڈانٹ سنتا رہا ۔۔۔ پھر سیلز مین نے میری طرف معذرتخواہانہ انداز میں دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
' سوری بھائی جان یہ گڑیا فروخت نہیں ہے '
میں کچھ حیران ہوا اور سیلز مین سے پوچھا ۔۔۔
کیوں بھائی ایسا کیا ہے اس گڑیا میں ' اس نے بات ٹالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
' آپ چھوڑیں آپ کوئی اور گڑیا دیکھیں ۔۔ '
لیکن مجھے تجسس ہونے لگا میں نے کہا ۔۔۔
میں نے یہی گڑیا خریدنی ہے ۔۔۔۔ ' اس سیلز مین نے ٹالتے ہوئے کہا ۔۔۔
' بھائی اس گڑیا کو چھوڑیں یہ بہت مہنگی ہے آپ کوئی اور گڑیا لے لیں ۔۔۔۔ ' لیکن میں ضد پر اڑا رہا ۔۔۔
میں نے کہا جتنی بھی مہنگی ہو میں یہی گڑیا لوں گا ۔۔۔ اس سیلز مین نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ۔۔۔۔
' اچھا لے جائیں ۔۔۔۔ ' میں نے قیمت پوچھی ۔۔۔۔
اس سیلز مین نے کہا ' آپ بس گڑیا لے جائیں ۔۔۔ یہ فروخت نہیں ہے ۔۔۔۔ ' میں کچھ حیران ہوا اور کہا۔۔۔
' کیا بات کر رہے ہیں ایسے کیسے لے جاوں ۔۔ آپ کی باتوں کا مطلب کیا ہے ۔۔۔۔ ' اس سیلز مین نے مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔۔۔۔ اور مجھے اپنے پاس ٹیبل پر بٹھایا ۔۔۔ اس وقت دکان میں کوئی خاص رش نہیں تھا ۔۔۔ پھر وہ سیلز مین مجھے بتانے لگا ۔۔۔۔۔
' دراصل یہ گڑیا چالیس سال پہلے میرے دادا مصر سے لائے تھے ۔۔۔۔ اور آج تک بالکل ویسی ہے جیسی اس وقت تھی ۔۔۔۔ میرے دادا نے اس گڑیا کو کئی بار بیچنے کی کوشش کی لیکن یہ گڑیا ایک بار فروخت ہو کر پھر ہمارے پاس واپس آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ گڑیا چل کر یا اڑ کر آتی ہوگی ۔۔۔
جی نہیں کوئی گاہک اس گڑیا کو بیچنے کے لئے ہماری دکان پر لاتا ہے اور ہم اسے پھر سے خرید لیتے ہیں ۔۔۔۔ ہمیں نہیں معلوم یہ گڑیا واپس کیسے آتی ہے اور اس کے پیچھے کیا راز ہے لیکن خریدنے والا اس گڑیا کو جتنی بھی دور لے جائے ایک ہفتے بعد یہ گڑیا ہمارے پاس واپس آ جاتی ہے ۔۔۔ میرے دادا نے اس گڑیا کو سات بار بیچا تھا ۔۔ اور ابو نے بھی لا تعداد بار بیچ دیا اور میں نے خود اس گڑیا کو اپنے ہاتھوں سے چھ بار بیچا لیکن جیسے کہ تم دیکھ رہے ہو یہ گڑیا پھر ہمارے پاس ہے ۔۔۔۔ تین سال پہلے ہم نے اس گڑیا کو ایک کمرے میں بند کر دیا لیکن یہ ہر بار کسی نہ کسی طرح دکان پر پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ '
اس سیلز مین نے اپنی بات ختم کی اور میں مسکرایا ۔۔۔۔مجھے اس سیلز مین کی باتیں کسی لطیفے سے کم نہیں لگ رہی تھیں ۔۔۔ میں اس سیلز مین کا شکریہ ادا کر کے پاکستان چلا آیا ۔۔۔۔۔
فضا اس گڑیا کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔۔۔ اور میں بھی ایک دو دنوں میں اس سیلز مین کی باتوں کو بھول گیا ۔۔۔۔ فضا اس گڑیا کے ساتھ خوش تھی اور میں فضا کو دیکھ کر خوش تھا ۔۔۔۔۔ مجھے اس سیلز مین کی باتیں خوفناک ڈائجسٹ کی کہانیوں سے زیادہ نہیں معلوم ہو رہی تھیں ۔۔۔۔ روٹین کی زندگی جاری تھی ۔۔۔ میں چونکہ سعودیہ سے نیا نیا آیا تھا اس لئے میرے گھر مہمانوں کی آمد تھی ۔۔۔۔ ایک رات مہمانوں سے فارغ ہوا تو میری بیٹی میرے پاس کمرے میں آئی اور اس نے کہا ۔۔۔۔۔۔
' پاپا یہ گڑیا بات کرتی ہے ' میں نے فضا کی بات کو مذاق میں اڑاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
' اچھا کیا کہتی ہے بھئی آپ کی یہ گڑیا ۔۔۔۔۔ '
فضا نے بتایا ۔۔۔۔ ' یہ گڑیا کہتی ہے مجھے چھوڑ دو '
میں فضا کی بات پر ہنسا تھا ۔۔۔
اگلے دن فضا کی وہ گڑیا غائب ہو گئی ۔۔۔ پورا گھر ڈھونڈا کہیں نہیں تھا پھر میں نے اپنا کمرہ دیکھا ۔۔۔۔ وہ گڑیا میرے کمرے کی الماری میں سے نکلی ۔۔۔ میں پہلی بار کچھ حیران ہوا ۔۔۔۔ کیوں کہ جس الماری سے وہ گڑیا نکلی تھی وہ میری ذاتی الماری تھی اور ہر وقت اس پر تالا لگا رہتا تھا ۔۔۔۔ جس کی چابی بھی میرے خود کے پاس ہی ہوتی تھی ۔۔۔۔ پھر وہ گڑیا اس الماری میں کیسے پہنچی ۔۔۔۔۔ خیر میں نے سوچا شاید فضا اور میری بیوی نے غلطی سے لا کر رکھ دیا ہو اس الماری میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اگلی رات کا واقعہ ہے ۔۔۔۔ ہم سب کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔ فضا بھی کرسی پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔ فضا کی عادت تھی جہاں جاتی جو کام کرتی وہ گڑیا اس کے ساتھ رہتی ۔۔۔۔۔ کھانا کھاتے کھاتے اچانک فضا کے ہاتھ سے وہ گڑیا گر گئی ۔۔۔۔ گڑیا فرش پر بڑے زور سے گری تھی ۔۔ اگر گڑیا کی جگہ کوئی گلاس ہوتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ۔۔۔۔ فضا نے کرسی سے اتر کر وہ گڑیا اٹھائی ۔۔۔۔ لیکن میں اور میری بیوی یہ دیکھ کر صدمے میں آ گئے کہ اس گڑیا کی ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔۔۔ میں حیرت سے اس بے جان گڑیا کو دیکھ رہا تھا جس کی ناک سے کسی زندہ انسان کے جیسے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔ اگر کوئی اور مجھے یہ بات کہتا تو میں کبھی یقین نہیں کرتا لیکن وہ سب میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
مجھے پہلی بار اس سیلز مین کی باتیں یاد آ رہی تھیں ۔۔۔ اس واقعے کے بعد میں اس گڑیا کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔ وہ کیسی گڑیا تھی ۔۔۔ اس کے پیچھے کیا راز چھپا تھا مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہونے لگی ۔۔۔۔۔ میں نے پہلی بار فضا کے ہاتھ سے وہ گڑیا لے کر غور سے دیکھی ۔۔۔ وہ تھوڑی مختلف ضرور تھی لیکن پہلی نظر اسے دیکھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا وہ گڑیا پراسرار بھی ہوگی ۔۔۔۔
ایک دن یونہی فضا گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اسے نہلا رہی تھی ۔۔فضا کے سامنے ایک بالٹی رکھی تھی جس سے وہ گڑیا کو نہلا رہی تھی ۔۔۔۔ میں بھی وہیں فضا کے پاس بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جب اچانک گڑیا کو نہلاتے نہلاتے گڑیا فضا کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس پانی کی بالٹی میں جا گری ۔۔۔۔ میں نے بھی گڑیا کے گرنے کی آواز سنی تھی اس لئے فضا کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
' ابو گڑیا بالٹی میں گر گئی ' فضا نے کچھ پریشانی سے مجھے بتایا ۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے فضا سے کہا ۔۔۔۔۔
' کوئی بات نہیں ہم نکال دیں گے '
میں نے گڑیا نکالنے کے لئے جونہی بالٹی میں ہاتھ ڈالا تو میں حیران رہ گیا ۔۔۔ کیونکہ بالٹی میں کوئی گڑیا نہیں تھی ۔۔۔ میں بالٹی کو اچھے سے دیکھا پھر بالٹی کا پانی نکال کر بھی دیکھا لیکن وہ گڑیا نہیں ملی ۔۔۔
جبکہ فضا نے میری آنکھوں کے سامنے وہ گڑیا اس بالٹی میں گرائی تھی ۔۔۔۔ اس دن کے بعد وہ گڑیا مجھے پھر کبھی نظر نہ آئی ۔۔۔ فضا روتے ہوئے اس گڑیا کو ڈھونڈتی رہی جب کہ میں نے اور میری بیوی نے بھی بہت تلاش کیا وہ گڑیا ہمیں کہیں نظر نہ آئی ۔۔۔
مجھے اس عرب سیلز مین کی بات یاد آئی میں نے اس سیلز مین کی دکان کے ویب سائٹ سے دکان کا نمبر نکالا اور کال ملائی۔۔۔ تب اس سیلز مین نے کہا وہ گڑیا ان کی دکان پر ہے ۔۔۔ اور میں صدمے سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔ اس دن کے بعد میں کبھی سکون سے نہیں بیٹھا اور یہ سوچتا رہا اس گڑیا کی کہانی کیا ہوگی ۔۔۔ میں نے انٹرنیٹ سے بہت تلاش کیا لیکن کچھ نہیں ملا ۔۔۔۔
میں نے اس سیلز مین سے دوبارہ رابطہ کیا اور اس سے پوچھا کہ ان کی دکان سے پہلے یہاں کس کی دکان تھی ۔۔۔۔۔
تب اس سیلز مین نے بتایا ایک مصر کا تاجر تھا شاید اس کی دکان تھی جیسا اس نے اپنے باپ دادا سے سنا تھا وہی بتا دیا ۔۔۔۔ میں نے انٹرنیٹ سے ہر لفظ لکھ کر سرچ کیا لیکن کوئی چیز ایسی نہ ملی جس سے اس گڑیا کا راز معلوم ہوتا ۔۔۔۔۔ میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا مجھے اس گڑیا کے بارے میں جاننے میں دلچسپی تھی ۔۔۔
وہ گڑیا دیکھنے میں خوفناک ضرور تھی مگر اس نے کبھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔۔۔۔۔۔ پھر ایک دن میں نے اپنے فیس بک آئی ڈی اور کئی گروپس میں پوسٹ لگائی کہ ایسی کسی گڑیا کے بارے میں کوئی جانتا ہے ۔۔۔۔۔
میری فرینڈ لسٹ ایک آدمی تھا ۔۔۔ جسے میں نہیں جانتا تھا لیکن وہ مصر کا تھا ۔۔۔۔ اس نے کمنٹ کیا تھا میری پوسٹ پہ ۔۔۔۔
' کیا آپ مصر کی چارلی ڈول کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ' میں نے کمنٹ کے جواب میں لکھا وہ کون تھا ۔۔۔۔۔تو اس نے ایک تفصیلی جواب لکھا ۔۔۔۔۔
' چارلی مصر میں رہتا تھا 1930 کے درمیان وہ تجارت کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گیا ۔۔۔اور وہاں چارلی نے ایک بہت بڑی کھلونوں کی دکان کھول لی ۔۔۔۔۔ چارلی کے بارے میں مشہور تھا اس کے پاس ہر وقت ایک گڑیا ہوتی جو اس کے والد نے چارلی کو دیا تھا ۔۔۔ اور چارلی نے اپنی زندگی کے کسی بھی عمر میں اس گڑیا کو خود سے الگ نہ کیا ۔چارلی کو اپنی وہ گڑیا جان سے زیادہ عزیز تھی۔۔
وہ گڑیا چارلی کے ساٹھ سال تک ساتھ رہا ۔۔۔۔ پھر ایک دن چارلی کی دکان کی چھت گر گئی اور چارلی اس ملبے تلے دب گیا ۔۔۔۔ اس کے بعد وہ گڑیا کہاں گئی یہ کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔'
اس آدمی کے کمنٹ سے مجھے میرا آدھا جواب مل چکا تھا باقی کا آدھا جواب میں نے سعودی کے سیلز مین سے پوچھا ۔۔۔۔۔ اور اس نے بھی یہی بتایا کہ اس مصر کے تاجر کا نام چارلی تھا ۔۔۔۔ اور اس کے کھلونوں کی دکان تھی ۔۔۔۔۔
میں اپنے کمرے سے ہل بھی نہ سکا ۔۔۔ مجھے اس گڑیا کی حقییت اب پتہ لگ چکی تھی کہ وہ اپنے مالک کےانتظار میں واپس ہھر دکان پر آجاتی ہے
Don't copy paste without my permission 💀❌💀
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اسے پتا تھا کہ اب اسے کوئی کچھ نہیں کہہ پائے گا ۔۔
آنے والے کی اس کی جانب پشت تھی ۔۔ لیکن اس کی پشت سے اس کو پتا لگ گیا تھا کہ وہ شہرام تھا ۔۔
خود کو گھسیٹتے ہوئے اس نے درخت کے پاس کیا اور اپنی پشت اس سے ٹکا دی۔ ۔۔۔
شہرام نے اپنی خونی آنکھوں سے ان سب کو دیکھا ۔۔
اسے دیکھ کر وہ سب بھی پیچھے ہوگئے ۔۔۔
لیکن جولیا ۔۔ وہ ابھی کھڑی تھی ۔۔ اس کی نظریں اب بھی ایوا پر تھی ۔۔ اس کی نظروں میں عجب سا تاثر تھا ۔۔۔
" لارڈ شہرام ۔۔۔ " ان سب ویمپائر نے جھک کر اسے تنظیم دی ۔۔ لیکن اس کے اندر تو جیسے آگ لگی تھی ۔۔ اسے تو یہی بات آگ لگا رہی تھی کہ اگر وہ اس وچ کی موجودگی محسوس کر کے ایوا کو ڈھونڈنے نہ آتا تو وہ ویمپائرز اس کی بیوٹی کے ساتھ کیا کرتے ۔۔
یہی بات اس کے غصے میں اضافہ کر رہے تھی ۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے یوں کھڑا ہوا کہ ایوا کا نازک وجود اس کے پیچھے چھپ گیا ۔۔
ان ویمپائرز میں سے ایک نے بولنے کی ہمت کی ۔۔
" لارڈ مارک کا حکم ہے ۔۔ کہ رائل بلڈ کو ان کے پاس لایا جائے ۔۔ لارڈ شہرام سے درخواست ہے کہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں ۔۔۔ " موداب انداز میں بولتے اس نے باقی ساتھیوں کو اشارہ کیا اور وہ آگے بڑھے ہی تھے کہ شہرام کی سرد آواز پر ان کے بڑھتے قدم رکے ۔۔
اگرچہ رائل بلڈ کا لفظ سن کر وہ چونکا تھا ۔۔ لیکن ان پر اس نے ظاہر ہونے نہیں دیا ۔۔
" اگر ۔۔ تم میں سے ایک بھی آگے بڑھا ۔۔ تو انجام کا زمہ دار خود ہوگا ۔۔ " وہ لوگ تو برا پھنسے اگر شہرام کی مانتے تھے مارک نے نہیں چھوڑنا تھا ۔۔ اور اگر مارک کی مانتے تو شہرام نے نہیں چھوڑنا تھا ۔۔ انہوں بےبسی سے جولیا کی طرف دیکھا ۔۔ جو ایک طرف ان سے بےنیاز کھڑی تھی ۔۔
" لارڈ مارک کی بات ہم نہیں ٹال سکتے ۔۔ " بولتے ساتھ ہی انہوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ۔۔ شہرام نے یوں سر ہلایا جیسے ان کے فیصلے پر افسوس ہو ۔۔
وہ سب اس کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا ۔۔ کہ اس وقت وہ ایوا کے لیے حفاظتی دیوار تھا ۔۔۔
وہ سب ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے ۔۔۔
پھر جیسے بجلی سی کوندی جیسے ہی وہ لوگ اس کے قریب پہنچے ۔۔ ایک پل کھڑے رہنے کے بعد وہ سب کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح زمین پر گرے تھے ۔۔ان کے جسم سے گہرا لال رنگ کا نکل رہا تھا ۔۔ اور پاس ہی ان کے دل پڑے تھے ۔۔
اس کے خون آلودہ ہاتھ میں ان میں سے کسی کا دل تھا ۔۔ جسے اس نے زمین پر پھینکا ۔۔ اور جیب سے سفید رنگ کا رومال نکال کر اپنے ہاتھ صاف کرنے لگا ۔۔ اس سب کے دوران بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا ۔۔
" مارک سے کہنا ۔۔ اب کی بار اس نے بہت غلط جگہ ہاتھ مارا ہے ۔۔ " ہاتھ صاف کرتے ہوے وہ جولیا سے بولا ۔۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیوٹی کی ہلکی ہوتی دھڑکن سن رہا تھا لیکن اس وقت اسے ان سب کا کام تمام کرنا تھا ۔۔
جولیا نے ۔۔ ایوا سے نظر ہٹا کر اب اسے دیکھا ۔۔ اور سر جھکا کر وہاں سے غائب ہونے لگی کہ شہرام نے اگلے حکم پر رکی ۔۔
" اور ہاں یہ مارک کے چمچے بھی اپنے ساتھ لے کر جانا ۔۔۔ " اس نے ان سب کی مردہ لاشوں کی طرف اشارہ کیا ۔۔
جولیا جھکی ۔۔ اگلے پل وہ جگہ بلکل خالی تھی ۔۔ لیکن خون اب بھی وہاں تھا ۔۔۔
ان سب سے فارغ ہوکر شہرام نے ٹھنڈی سانس لے کر اس کی جانب موڑا ۔۔ جو خوفزدہ نظروں سے نیچے وہ گہرے لال رنگ کو دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ خطر ناک حد تک سفید تھا ۔۔
شہرام جھکا تو اس کی نظر اس کی کندھے سے پھٹی شرٹ اور اس آدھے چاند کے بنے نشان پر گئی ۔۔۔ اسے جاننا تھا کہ کیا ہوا مگر اس وقت وہ خوفزدہ تھی ۔۔ اور جب تک اسے جواب نہیں مل جاتے اسے بھی چین نہیں آنا تھا ۔۔
اپنی شرٹ اتار کر پہلے اس نے اس کے کندھے کو ڈھانپا ۔۔پھر اس کی نظروں میں اپنی آنکھیں ڈال کر اس کے دماغ کو اپنے سحر میں جکڑا کہ اسے پتا تھا اس کے علاؤہ ابھی کوئی حل نہیں ۔۔
پھر ایوا سارے دن کی روداد مشینی انداز میں بتاتی گئی ۔۔ شہرام جیسے جیسے سن رہا تھا ۔۔ ویسے ویسے اس کا خون کھول رہا تھا ۔۔
جب سب بول کر وہ چپ ہوئی تو ۔۔ شہرام نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ۔۔ اور اس کی آنکھوں میں اپنی گرے سحرانگیز آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔
" تم نے روٹین کی طرح لیکچر لیے ۔۔ کیونکہ تمہاری طبیعت سہی نہیں تھی اس لیے تم جلدی گھر چلی گئی ۔۔ راستے میں درخت کی ٹہنی کی وجہ سے شرٹ پھٹ گی ۔۔ اور نہ کچھ ہوا نہ تم نے کچھ دیکھا ۔۔ اب یہ سب دہراؤ ۔۔ جو میں بولا ۔۔ " بے تاثر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ایوا نے مشینی انداز میں دوہرایا ۔۔
جبکہ وہ لب بھینچے سن رہا تھا ۔۔
اس کے دماغ میں بہت کچھ چل تھا ۔۔
جس میں سب سے پریشان کرنے والا تھا ۔۔ وہ یہ کہ اس کی بیوٹی کہ جان خطرے میں تھی ۔۔
اسے اس کی حفاظت کرنے تھی ۔۔
وہ ایوا کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس آیا ۔۔
کیونکہ ۔۔ کچھ لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچانا تھا ۔۔۔
________________________________
یہ خالی گھر تھا ۔۔
جہاں نہ کوئی فرنیچر تھا ۔۔
نہ ہی کچھ اور ۔۔
لکڑی کا بنا یہ گھر جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا ۔۔ اگر اس پر ایک قدم بھی رکھو تو ۔۔ چوں کی آواز آتی تھی ۔۔ فضا میں تیرتی دھول اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ یہاں ایک عرصے سے کوئی نہیں آیا تھا ۔۔۔
جولیا ۔۔ نے سامنے لکڑی کے فرش پر ہی کینڈل رکھی ہوئی تھی ۔۔ ٹوٹی کھڑکی سے روشنی اندر آرہی تھی ۔۔۔
جولیا نے آس پاس دیکھا ۔۔ یہ وہ جگہ تھی ۔۔ جہاں بہت ساری جادوگرنیوں کو اکھٹا کر کے قید کیا گیا ۔۔ پھر آگ جلا دی گئی ۔۔ ان سب کی روحیں اب بھی یہیں تھی ۔۔ وہ واپس نہیں گئی تھیں ۔۔ اسے جو سوال پریشان کر رہا تھا ۔۔ اس کا جواب بس یہیں سے مل سکتا تھا ۔۔
اس نے بند کینڈل کے اوپر سے ہاتھ گزرا تو وہ جل اٹھی ۔۔ پھر کینڈل کے فلیم پر ہاتھ رکھے ہی اس نے تھوک نگلی ۔۔ اور آنکھیں بند کر کچھ پڑھنے لگی ۔۔ اسے گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی ۔۔ کیونکہ وہ پہلی بار مری ہوئی روحوں سے رابطہ کرنے لگی تھی ۔۔
لیکن جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی اس کا ڈر جاتا جا رہا تھا ۔۔
پھر اس کے ہلتے لب بند ہوئے ۔۔ اور جسم ساکت پتھر کی مورت کی طرح ۔۔ اس کی سانس بھی نہیں چل رہی تھی ۔۔
کمرے کی کھڑکیاں بند کھل رہی تھیں ۔۔ جس سے چوں چوں کی آواز آرہی تھی ۔۔
تیز ہوا چل رہی تھی ۔۔ جس سے کینڈل کا فیلم مسلسل حرکت میں تھا ۔۔ پھر کینڈل کا فیلم بند ہوا ۔۔ اور اس سے ہلکا سے دھواں نکلا جس کے ساتھ ہی بند کھلتی کھڑکیاں ۔۔۔
اور چلتی ہوا پھر سے ساکت ہوگئی ۔۔
جولیا نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ اسے اس کے جواب مل گئے تھے ۔۔
اس کے چہرے پر اس وقت ہر درجہ سنجیدگی تھی ۔۔۔
کیونکہ جو چیز اس معلوم ہوئی ۔۔ اس کے بارے میں تو کبھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔
لیکن ایک بات تھی ۔۔
اسے یہ بات راز کی طرح رکھنی تھی ۔۔ قیمتی راز کی طرح ۔۔
اور سہی وقت کا انتظار کرنا تھا ۔۔
جو کہ زیادہ دور نہ تھا ۔۔
_______________________________
شام کے گہرے سایوں نے رات کی آمد کی اطلاع دینا شروع کر دی تھی ۔۔
ایسے میں وہ آٹھ لوگوں کا گروپ ہسی مزاج کرتا ڈانس کلب میں داخل ہوا ۔جہاں میوزک کی اتنی تیز آواز میں بج رہا تھا کہ اس کی آواز باہر دور تک آرہی ۔۔ شاید اس لیے یہ کلب آبادی سے دور کر کے بنایا گیا تھا ۔۔
اندر کلب میں آئیں تو ۔۔ نیلے ۔۔ لال رنگ کی روشنی میں لڑکے لڑکیاں ناچ رہے تھے ۔۔ کچھ شراب پینے میں مست تھے ۔۔ اور وہ آٹھ لوگوں کا گروپ جو ابھی اندر آیا تھا ۔۔ وہ بھی ایک طرف اکھٹے بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔ اس بات بے خبر سے کہ موت ان کے سر پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔
" ویسے یار ۔۔ لڑکی بری مست تھی ۔۔۔ " ان میں سے ایک لڑکا ۔۔ وائن کا سیپ لے کر بولا ۔۔
" کہہ تو سہی رہے ہو ۔۔ واقعی بہت ٹائیٹ پیس تھا ۔۔۔ " دوسرے بھی ان کی تاکید کی تو ۔۔ اس کے پاس بیٹھی لڑکی نے زور سے اس کے کندھے پر ناراضگی سے ہاتھ مارا ۔۔۔ تو وہ دنوں قہقہ لگا کر ہنسنے لگے ۔۔ جس کا ساتھ باقیوں نے بھی دیا ۔۔۔
" ویسے ۔۔ روز ۔۔ تجھے اس کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔ " اسی لڑکے نے ہنسی روکتے ہوے اس لڑکی سے جس نے ادائے بےنیازی سے اپنے بال جھٹکے مصنوئی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئی بولی ۔۔
" بکل ٹھیک کہا تم لوگوں نے مجھے اس کے ساتھ ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔ " یہ بول کر وہ چپ ہوئی تو وہ سب بھی خاموش ہوکر اسے دیکھنے لگے ۔۔" بلکہ اس کے ساتھ مجھے اس کے منہ پر ایک لگانی بھی چاہیے تھی ۔۔ " اس کی بات پر وہ سب پھر سے قہقہ لگا اٹھے ۔۔
"ویسے یار کسی نے اس کی ویڈیو نہیں بنائی ۔۔ قسم سے اتنے لائیک ملنے تھے اس مکھن ملائی کے ۔۔۔ " اس بات کے بعد باقی سب نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ کسی پاس ہے جواب ۔۔
" نہیں یار ۔۔ وہ بھاگ گئی تھی ۔۔ اسی وقت ۔۔۔ " ان میں سے ایک بےزرای سے بولا ۔۔
اور وہیں بار کانٹر پر جاؤ تو کالی ٹی شرٹ جس کے ہائف سلیفس سے نظر آتی کسرتی بازؤں اور ان پر ابھری ہوئی نیلی نسیں تنی ہوئی تھیں ۔۔ اس کی پشت ان لوگوں کی جانب تھی اس کے ہاتھ میں پکڑا گلاس جس میں وائن تھی ۔۔ اس پر اس کی پکڑ اتنی سخت تھی کہ گلاس چھنا کی آواز سے ٹوٹا ۔۔ وہ ان لوگوں کا اپنی بیوٹی کے بارے میں بولا ایک ایک لفظ اتنے شور میں بھی بڑے واضح اور صاف طریقے سے سن چکا تھا ۔۔
ان کا انجام ان کے بولے ایک ایک لفظ سے بھیانک ہونا تھا ۔۔ اتنا کہ اگر ان لوگوں کو پتا چل جاتا تو وہ اپنی زبائیں ہی کاٹ لیتے لیکن وہی بات ۔۔ ان کو پتا ہی نہیں تھا ۔۔
اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں شیشہ گھسا ہوا تھا اور وہاں سے خون نکل رہا تھا ۔۔ اس نے آرام سے کانچ کا وہ ٹکرا نکالا تو ساتھ ہی وہ زخم بلکل سہی ہو گیا ۔۔
اب وہ اٹھ کھڑا ہو اور اس گروپ کے پاس جاکر اس سور نامی لڑکے کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔
وہ لوگ جو نشے میں دھت ہوگئے تھے اور ان میں سے کچھ ڈانس فلور پر ناچ رہے تھے ۔۔ وہ لوگ اس کا چہرہ نہ پہچان پائے ۔۔۔
روز تو اتنی وجیہہ اور مضبوط مرد کو اپنی جانب راغب پاکر مغرور ہوئی ۔۔
" مجھے جوائن کروں گی ۔۔۔ " ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال کر اس نے اس کی جانب جھکتے ہوئے دلکشی سے کہا ۔۔ کہ وہ فدا ہی ہوگئی ۔۔ اور اٹھ کر اس کے ساتھ چل دی ۔
جبکہ اس کی باقی ساتھی لڑکیاں ۔۔ جل گئی ۔۔۔
بامشکل 5 منٹ بعد وہ واپس آیا ۔۔ تو وہ سب اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ ڈانس کرنے جو گئے تھے ۔۔ وہ بھی وہی تھیں ۔۔
وہ ان کے پاس آیا
" تمہاری دوست ۔۔ تم لوگوں کو بلا رہی ہے ۔۔ " بےتاثر انداز میں انہیں اطلاع کر کے وہ جیسے آیا تھا ۔۔ ویسے ہی چلا گیا ۔۔
جبکہ وہ لوگ برے برے منہ بناتے اس کے پیچھے چلنے لگے ۔۔۔
وہ آگے آگے چلتا ان کو ڈانس کلب سے کافی دور لے آیا تھا پھر ایک دم ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔۔ ان سب نے بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ اندھیرا بھی کافی تھا ۔۔ اوپر سے جنگل ۔۔ ان نے اپنے موبائیل کی لائیٹ آن کی ۔۔ انہیں پاس کے درخت کے قریب اپنی دوست کا پاؤں نظر آیا ۔۔ تو وہ لوگ اس طرف آئے ۔۔
لیکن وہاں جاکر انہوں نے جو دیکھا ۔۔ اسے سے ان کا سارا نشہ ہرن بن کر اڑ گیا ۔۔ جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی ۔۔
وہ ان کی دوست کے پاؤں تھے ۔۔ جس کے اوپر اس کا چہرہ تھا ۔۔ جس کی آنکھیں نکلی ہوئی تھیں ۔۔ اور پاس ہی اس کے جسم سے اس کا دل ۔۔ اترنیاں سب کچھ باہر نکال کر پھیکنا ہوا تھا ۔۔ وہ سب چیختے ہوئے ۔۔ واپس جانے کے لیے مڑے تو پیچھے ہی وہ کھڑا تھا ۔۔ وہ لوگ دوسری طرف مڑے تو وہاں بھی وہ ۔۔ غرض کے جس طرف بھی مڑتے اس طرف وہ پہلے سے ہی کھڑا ہوتا۔۔
" دیکھو ۔۔ہمیں جانے دو ۔۔۔ " ان لڑکوں نے اس دیکھتے ہوئے گزارش کی ۔۔ جس کی آنکھیں کالی تھیں ۔۔ وہاں کوئی رحم نہیں تھا۔۔ ان میں سے لڑکیاں تو روئی جا رہی تھیں ۔۔
شہرام نے ان کی بات نہیں سنی بلکہ اس کے کان میں تو وہ جملے اور قہقہے گونج رہے تھے جو تھوڑی دیر پہلے وہ اس کی بیوٹی پر لگا رہے تھے ۔۔۔
پھر جیسے جنگل میں ہولناک اور دل خراش چیخیں گونج اٹھی ۔۔
مگر سننے والا کوئی نہ تھا ۔۔
کچھ دیر بعد خاموشی چھا گئی ۔۔ موت سی خاموشی۔۔ جس میں بس پتے پر پاؤں رکھنے سے چر کی آواز پیدا ہوتی تھی ۔۔
اس نے ایک پرسکون نظر ۔۔ اپنی بیوٹی کو تکلیف دینے والوں پر ڈالی ۔۔
درخت کی ٹہنیوں پر ان سب کے منہ گردن سمت لٹکے تھے ۔۔ تو ٹانگیں سب کی کسی الگ ٹہنی پر ۔۔۔ دل کہیں ۔۔ تو کچھ کہیں ۔۔
غرض کے وہ درخت ۔۔ پتوں کی بجائے انسانی اجزاء سے بھرا لگ رہا تھا ۔۔
شہرام کو اب بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔۔ اس نے مٹی کے تیل کی کین پکڑی اور درخت پر چھڑکنے لگا ۔۔ اس نے ساری کین درخت پر خالی کر دی ۔۔
اور جیب سے لائٹر نکلا کر درخت کو آگ لاگ دی ۔۔
پھر ان کے جسم کو جلتے دیکھ کر وہ یہی سوچ رہا تھا ۔۔
اسے اتنی آسان موت نہیں دینی چاہئے تھی ۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Don't copies paste without my permission 💀❌💀
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج کی روشن کرنوں نے آہستہ آہستہ رات کی تاریکی کو اجالے میں بدل دیا ۔۔ رات کے پہر جو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں اب ان پر بھی خاصی چہل پہل ہو رہی تھی ۔۔
وہ بھی کھڑکی کے پاس تیار کھڑی شہرام کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ بلیک پینٹ کے ساتھ بلیک ہی شرٹ جس میں اس کی سفید رنگت اجلی اجلی لگ رہی تھی ۔۔ اس کے گولڈن بال جوڑے میں بندھے تھے بالوں سے کچھ لٹیں نکل کر اس کے گالوں کو چھو رہی تھیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی کا ہارن بجا تو اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور صوفے سے بیگ اٹھا کر گھر کا دروازہ لاک کرتے ہوے ۔۔۔ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔
شہرام نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا جہاں خطرناک حد تک سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ۔ اسے پتا تھا اس سنجیدگی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔اور یہ بھی یقین تھا کہ وہ خود بات شروع کرے گی ۔۔ اس لیے وہ بظاہر اسے نظر انداز کرتے ہوے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔۔لیکن جو بھی تھا ۔۔ یہ ایک مشکل کام تھا ۔۔ ایک تو اس کے خون کہ خوشبو ۔۔۔ دوسرا وہ اس کے فیورٹ کلر میں تھی ۔۔ اور تیسرا وہ ناراض ناراض اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ اس کے دل کر رہا تھا کہ وہ اسے کھا جائے ۔۔۔
جب شہرام نے اسے کچھ نہ پوچھا کہ وہ اتنی سنجیدہ کیوں ہے تو وہ خود ہی جھنجلا کر اس کی جانب مڑی ۔۔
' تم نے پرامس کیا تھا ۔۔ " وہ ناراضگی سے اس کی جانب دیکھتی ہوئے بولی ۔۔
شہرام نے پرسکون انداز میں اس کی جانب اپنا چہرہ کیا ۔۔ اور ہلکے سے سمائل پاس کی جس سے اس کے گال میں ڈمپل پڑے ۔۔
" ہاں کیا تھا ۔۔۔ " دوستانہ انداز میں بولتے ہوئے وہ اتنا ریلکس تھا جیسے اسے پتا ہی نہ ہو کہ ایوا کس بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔
ایوا جس نے بڑی مشکل سے اپنا دل اس کے ڈمپل پر پھسلنے سے بچایا تھا اس کی بات پر تپ ہی تو گئی ۔۔
" تو پھر وہ کیوں ہسپتال میں ہے ۔۔۔ " کڑی نظروں سے اسے دیکھتی ہوے اس نے جراح کی ۔۔
شہرام کو پھر غصہ چڑھا کہ وہ اس کی اتنی پرواہ کیوں کر رہی ہے ۔۔ ساتھ میں افسوس بھی ہوا ۔۔ کہ اس نے اسے مار کیوں پڑوائی ۔۔۔ بلکہ واقعی جان سے مار دینا چاہیے تھا ۔۔ کہ نہ ڈھولا ہو سی ۔۔ نہ رولا ہو سی ۔۔
" میں نے اپنا پرامس نہیں توڑا ۔۔۔ " سر جھٹکتے ہوے وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ ایوا کو اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ اس کا یوں کسی اور کے لیے ۔۔۔(کسی اور بھی کون جس نے اس کو ڈیٹ کے لیے پوچھا تھا ) فکرمند ہوتا دیکھ کر اس کے اندر کتنی آگ لگی ہے تو وہ کبھی نہ بولتی ۔۔
" بٹ ۔۔۔ تم نے ۔۔ " اور اسے سے زیادہ وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا اس لیے اس کی بات کے بیچ میں ہی دھاڑا ۔۔۔
" انفففف ۔۔۔۔ " وہ اتنی زور سے بولا تھا کہ ایوا کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اس نے اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ سے ڈھانپ لیا ۔۔ اس کا دل بڑے زور سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔
شہرام نے گاڑی روکی اور اس کے کندھوں سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے خود سے قریب کرتے ہوئے سلگتے لہجے میں بولا ۔۔
" میں نے اگر اس کو پکڑا ہوتا تو وہ زندہ نہ ہوتا نہ ہی ہسپتال میں پڑا ہوتا بلکل اس کا جسم اب تک جانور کی خوراک بن چکا ہوتا ۔۔ اور اب اگر مزید تم نے اس کی بات کی ۔۔ تو میں واقعی یہی کروں گا ۔۔۔ " اس نے اتنی زور سے اس کو پکڑا تھا کہ اسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔
آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی ۔ پتا نہیں یہ درد کی وجہ سے تھی کہ شہرام کے رویہ کی وجہ سے جو بھی تھا لیکن آنسو پھسل کر گال پر گرنے لگے ۔۔۔
وہ جو مزید بولنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔ اس کے آنسو دیکھ کر ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔ وہ اسے رولانا تو نہیں چاہتا تھا ۔۔ اس کی گرفت کندھوں سے ہلکی ہوئی ۔۔ وہ چھوڑ کر پیچھے ہونے لگا اسی وقت ایوا اس کے سینے میں منہ چھپا کر وہ تیزی سے رونے لگی ۔۔
اور ۔۔ شہرام سٹل تھا ۔۔ اس کے گلے میں گلٹی ابھر کر غائب ہوئی ۔۔ وہ عجیب نظروں سے اپنے ساتھ لگی ایوا کو روتے دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے ۔۔
پھر جب سمجھ آنا شروع ہوئی تو رہا سہا غصہ بھی بھک سے اڑ گیا ۔۔ لب دھیرے سے مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔ آنکھوں میں چمک آئی ۔۔ اس نے ایوا کے گرد بازوں کا مضبوط حصار باندھ کر خود سے قریب کر لیا ۔۔ اور سرگوشی کے انداز سے بولا ۔۔۔
" تم جادوگرنی ہو ۔۔۔ " اس کی بات سے ایوا کا رونا بند ہوا ۔۔ وہ جھجھک کر اس سے دور ہوئی تو شہرام نے بھی آرام سے اسے آزاد کردیا ۔۔ اب فرصت سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔
رونے کی وجہ سے جس کی آنکھ لال ہوگئی تھی ۔۔ آنکھیں بھی بوجھل سی تھی ۔۔
اب وہ ٹشو سے آنسو صاف کر رہی تھی جب شہرام نے اس کا ہاتھ پکڑا لیا ۔۔ اور اب وہ جھک کر اپنے لبوں سے اس کے آنسو چن رہا تھا۔۔ اور وہ سانس روکے ۔۔ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
جب وہ آنسو چن کر پیچھے ہوا تو ۔۔ وہ سرخ چہرہ لیے اسے نظریں چراتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔
شہرام وہ یہ سوچ رہا تھا کہ آخر اس کے اور کتنی روپ باقی ہیں ۔۔ ہر روپ میں وہ پہلے سے زیادہ قاتلانہ لگتی ہے۔
" دیر ہو رہی ہے یونی سے ۔۔۔ " جب وہ اسے اسی طرح دیکھتا رہا تو ایوا نے اس کا دھیان اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے کہا ۔۔
تو اس نے بھی اس پر ترس کھاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کردی ۔۔۔ جب گاڑی یونی کے آگے روکی تو اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا ۔۔ وہ دوڑ کر جانا چاہتی تھی کہ اسی وقت شہرام نے اس کے ارادوں پر پانی پھیر کر اس کی کلائی تھام لی ۔۔
" آئندہ بلیک ڈیس پہننے سے پہلے سوچ لینا کہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پاؤں گا ۔۔۔ " نرمی سے اس کی کلائی سہلاتے ہوئے اس نے اپنی بات کی ۔۔
ایوا کا چہرہ مزید سرخ ہوا ۔۔ اس نے مسکین صورت بنا کر اس کی جانب دیکھا تو اس نے اس کی کلائی۔ چھوڑ دی ۔۔ ایوا کلائی کہ آزاد ہوتے ہی اسے دیکھے بنا دیکھے وہاں سے بھاگی ۔۔
جبکہ وہ گاڑی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس کا خون زیادہ اچھا تھا کہ آنسو ۔۔۔ !!!!
_______________________
پرفیسر کیا سمجھا رہے تھے اسے نہیں پتا تھا ۔۔ وہ تو بس شہرام کے بارے میں سوچتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔۔
اس کا خود کے لیے پوزیسیو ہونا اسے اچھا لگتا تھا ۔۔ پھر جب وہ اس کا خیال کرتا ۔۔ نرمی سے پکڑتا ۔۔ اسے خود پر غرور سا ہوتا تھا کہ اتنا شاندار مرد ۔۔ اوہ ویمپائر اس سے محبت کرتا ہے ۔۔
وہ ابھی یہی باتیں سوچ رہی تھی کہ اس کی نظر پرفیسر کے ساتھ کھڑی خوبصورت لڑکی پر پڑی جس کے بال لال تھے آنکھیں گرین سفید رنگت چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ ۔۔ وہ بہت دلکش تھی ۔۔۔۔ شاید وہ نیو تھی ۔۔ یا ٹرانسفر ہوا تھا ۔۔
" ہائے ۔۔ میں جولیا ہوں ۔۔ " گہری نظروں سے سب کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کروایا ۔۔ اور پھر وہ ایوا کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔
ایوا کا دھیان اب شہرام سے ہٹ کر اس لڑکی کی طرف ہوگیا تھا ۔۔ یہ لڑکی اسے بہت اچھی لگی تھی ۔۔
آخر جب لیکچر ختم ہوا تو وہ خود اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کے جانب ہاتھ بڑھاتے ہوے بولی ۔۔
" میں ایوا "
" جولیا ۔۔۔ " جیسے جولیا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو ایک پل کے لیے اس کی مسکرہٹ سمٹی ۔۔۔ مگر پھر وہ سنبھل گئی ۔۔
اب ایوا اس سے اس کے بارے میں پوچھتے ہوئے کینٹین کی طرف جا رہی تھی وہ اس سے باتیں کرنے میں اتنی گم تھی کہ اسے سامنے آتے ساتھ آٹھ لڑکے اور لڑکیوں کا گروپ نظر نہیں آیا اور وہ زور سے ان سے ٹکرائی جس کی وجہ سے وہ لڑکی نیچے گری خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ایوا نے فوراً معذرت کی ۔۔ جس سے وہ لڑکی ٹھنڈی ہوئی ۔۔ اور اپنے گروپ کو لے کر مڑ کر جانی لگی کہ جولیا کہ دماغ میں ایک تقریب آئی ۔۔ اس نے منہ میں کچھ پڑھتے ہوے اس گروپ کی طرف اشارہ کیا ۔۔ پھر اطمینان سے مڑ کر ایوا کے ساتھ کینٹین کی جانب چل دی ۔۔۔
جولیا نے اپنا لنچ لے کر ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی ایوا بھی اپنی ٹرے لے کر اس کی جانب آرہی تھی جب کسی نے اس کے راستے میں پاؤں کیا اور نتیجہ وہ ٹرے سمت نیچے گری ۔۔۔
اس کے گرنے سے کینٹین میں قہقہے گونج اٹھے ۔۔
وہ کپڑے جھاڑ کر کھڑی ہوئی تو دیکھا یہ وہی گروپ طنزیہ مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا جس سے تھوڑی دیر پہلی وہ ٹکرائی تھی ۔۔
"یہ کیا تھا ۔۔۔ !!!" وہ کھڑی ہو کر بھرم انداز میں بولے ۔۔اس کے کپڑے بھی خراب ہوگی تھے ۔۔
" میرا سارا ڈریس خراب کر دیا ۔۔ " اپنے کپڑوں کو افسوس سے دیکھتے اس نے انہیں کہا ۔۔ جن کے چہرے پر اس کی بات سے عجیب مسکرہٹ آئی تھی ۔۔
ان میں سے ایک آگے بڑھی اور پھر اس کی شرٹ گلے سے پکڑ کر کندھے تک پھاڑ دی
ایوا کا دل کیا کہ وہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔۔ اسی وقت وہ سینے پر ہاتھ باندھے اور روتے ہوئے وہاں سے بھاگی ۔۔
لیکن جولیا پرسکون ہوگئی ۔۔۔ اس کو وہ مل گی جس کی اس کو تلاش تھی ۔۔
وہ ایوا کے کندھے پر بنے چاند کے نشان کو دیکھ چکی تھی ۔۔ اس لیے تو اس نے یہ سب کیا تھا ۔۔
______________________________
اسے نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی ۔۔بس وہ بھاگی جا رہی تھی ۔۔انکھوں سے آنسو نکلی جا رہے تھے ۔۔ بار بار وہ منظر آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔۔
کہ ایک جگہ وہ ٹھوکر کھا کر گری ۔۔ تو اس کے گھٹنے سے خون نکلنے لگا ۔۔ وہ سیدھی ہوئی تو اس کی نظر لال ہیل سے ہوتی اوپر گی ۔۔ وہ جو کوئی بھی تھی اس نے لال رنگ کا چوگا پہنا ہوا تھا ۔۔ جس کی ہوڈ سے اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا ۔۔ وہ کوئی لڑکی تھی بس اتنا پتا لگ رہا تھا ۔۔
لیکن وہ آئی کہاں سے اسے یہ سمجھ نہیں آئی ۔۔۔
پھر اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں اس کے ساتھ اور بھی لوگ دائرے کی شکل کی اس کا راستہ بنا کر کھڑے تھے ۔۔ ان سب نے کالے چوگے اور ہوڈی سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا ۔۔۔
ایوا کو گھبراہٹ ہوئی ۔۔ اس نے جگہ پر غور کیا ۔۔ تو وہاں پر درخت تھے بس ۔۔ وہ کہاں آگئی۔۔۔ ایسی جگہ پر تو وہ کسی کو مدد کے لیے بھی نہیں پکار سکتی تھی ۔۔
وہ لڑکی جھکی اور اس نے کے گلے کے نیچے کندھے پر بنے برتھ مارک کو انگلی سے ٹریس کرنے لگی ۔۔۔
پھر وہ سیدھی ہوئی اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا ۔۔ وہ سارے اس کی جانب بڑھے ہی تھے کہ کوئی بجلی کی رفتار سے آیا ۔۔ اور اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ۔۔ ایوا کا وجود اس کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔۔
لیکن اسے اتنا پتا چل گیا تھا کہ اب کوئی اسے کچھ نہیں کہہ پائے گا ۔۔۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Dont copy paste without my permission 💀❌💀
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور اگر ویمپائر ٹاؤن میں جاؤں تو جولیا آج پھر وہی عمل کر رہی تھی ۔۔۔
لیکن پچھلی بار والا اطمینان اس بار اس کے چہرے سے رخصت تھا ۔۔
اب کی بار گھبراہٹ تھی ۔۔
اس نے چاند کی طرف دیکھا ۔۔ جس کے پورے ہونے میں چند دن ہی باقی تھی ۔۔اگر اس نے دیر کی تو اس کی جان بھی اس کے باقی ساتھیوں کی طرح مارک کے ظلم کا نشانہ ہونی تھی ۔۔
اس نے آنکھیں بند کیں ۔۔ پھر سے اور وہی سارا عمل دھرایا ۔۔۔
اور ویمپائر کے خون میں اپنا خون ڈال کر آنکھیں بند کی ۔۔ تو اب کی بار اسے جگہ واضح نظر آئی ۔۔ لیکن اس بار اس نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک وہ رائل بلڈ کو نہیں ڈھونڈ لے گی مارک کے پاس نہیں جائے گی ۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کو اپنے ہونٹ کے اوپر کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا ۔۔ اس نے ہاتھ سے اس جگہ کو چھوا ۔۔ اور اپنی انگلی کو دیکھا ۔۔ تو وہاں خون لگا تھا ۔۔
اس نے لمبی سانس لی اور اٹھ کھڑی ہوئی یہ اس کے لیے نئی بات نہیں تھی جب بھی یہ وہ عمل اکیلے کرنے کی کوشش کرتی ۔۔ جو دو یا تین جادوگرنیوں کے کرنے والا ہوتا تھا تب تب اس کی ناک سے خون نکلتا تھا ۔۔
اس کا مطلب ہوتا تھا کہ اس عمل میں اس کی زندگی میں جا سکتی ہے ۔۔لیکن غلاموں کی اپنی زندگی بھی کہاں ہوتی تھی ۔۔ اس نے سر جھٹکا ۔۔ اور تمام تلخ سوچوں کو دماغ سے نکالا۔۔
ابھی سب سے ضروری اس جگہ جانا اور رائل بلڈ کو ڈھونڈنا تھا ۔۔۔
___________________________
وہ کلاس لے کر باہر نکلی تو اس کے ساتھ جیٹ تھا ۔۔ جو یونی کے باسکٹ بال کا کپٹن تھا وہ اسے ڈیٹ کے لیے پوچھ رہا تھا جسے اس نے بڑے طریقے سے منع کردیا ۔۔ تبھی اس کی نظر شہرام پر گئی جو باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔ اگرچہ اپنی طرف سے تو وہ آرام سے چل رہا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی اس کی چلنے کی رفتار بہت تیز تھی ۔۔
اسے دیکھ کر ایوا کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔ اور گلابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔ وہ جیٹ سے معذرت کرتے ہوئے اس کی طرف تیز قدموں سے بڑھنے لگی ۔۔ لیکن پھر بھی اسکی پاس نہ پہنچ پا رہی تھی آخر میں اس نے تھک کر اس کا نام پکرا ۔۔۔
" شہرام ۔۔۔ " اس کے چلتے قدم رکے ۔۔ ناصرف اس کے بلکہ آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس نے بھی حیرت سے اسے دیکھا جس نے خود موت کو آواز دی تھی ۔۔
وہ مڑا ۔۔ تو اس کے ماتھے پر بل تھے ۔۔ اور آنکھوں میں ناگواری اس نے پہلے اپنی سرد آنکھوں سے سٹل کھڑے سٹوڈنٹس کو گھورا ۔۔ تو سب فوراً حرکت میں آئے اور وہاں سے جانے لگے ۔۔
جبکہ شہرام اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا ۔۔۔ ایوا کو اس کے تیور پتہ نہیں کیوں خطرناک سے لگ رہے تھے ۔۔ اس نے اس کی اور اپنی آخری ملاقات کا سوچا ۔۔ تب تو سب پرفیکٹ تھا اب کیا ہوگیا ۔۔ لیکن کوئی سرا اس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا ۔۔
وہ اسے لے کر یونی کی بیک سائیڈ پر لے کر آیا ۔۔ اور دیوار کے ساتھ اس کی پشت لگا کر اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اس کی جانے کی راہیں مفعود کر دیں ۔۔
" شہرام ۔۔۔ " ایوا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔۔ جس کے تیور واقعی خونخوار تھے ۔۔
اس کے چہرے کی رگیں تنی ہوئی تھیں ۔۔ لب بھینچیں ہوئے ۔۔ اور آنکھوں میں عجیب سے چبھن لیے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
" بتاؤ ۔۔ کس کی ہو تم ۔۔۔؟؟ " اس کے کان کی جانب جھکتے ہوئے اس نے سرسراتے لہجے میں پوچھا ۔۔ ایوا نے پیچھے ہونا چاہا لیکن وہ تو پہلے ہی دیوار کے ساتھ لگی تھی ۔۔ اور پیچھے کہاں جاتی ۔۔ پھر پریشانی سے اسے دیکھا جو اپنے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔
اس کے یہ تیور اسے ڈرا رہے تھے ۔۔
" ڈیم ایٹ ۔۔۔ جواب دو ۔۔۔ " جب اس نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ زور سے دیوار پر ہاتھ مار کر دھاڑا ۔۔ ایوا کو ایک پل کو لگا جیسے اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے ۔۔
" ۔۔۔ تمہار ی ۔۔ "آنکھوں بند کر کے اٹکتے ہوے اس نے جواب دیا ۔۔ جبکہ دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔۔
شہرام نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔
" تو اس کی ہمت کیسی ہوئی تم سے ڈیٹ کا پوچھنے کی ۔۔۔ " ایوا کو سمجھ آئی وہ جیلس ہو رہا تھا ۔۔ اس لیے وہ غصے میں تھا ۔۔ لیکن اسے اتنا پتا تھا کہ وہ اسے کچھ نہیں کہے گا ۔۔ لیکن جیٹ اس کی چھوڑے گا نہیں ۔۔ اس لیے اس نے خود کو کمپوز کیا ۔۔کیونکہ یہ ضروری تھا اس خطرناک ویمپ کو ٹھنڈا کر سکے ۔۔۔
جو اسے اپنا لگتا تھا ۔۔
پہلے دن سے ڈھرکن کی طرح لیکن اس کا روڈ رویہ دیکھ کر اسے پیچھے ہونا پڑا ۔۔۔
لیکن اب جب وہ خود کہتا تھا تو وہ کیوں پیچھے ہو رہی تھی ۔۔
اس نے شہرام کے دل پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔ تو اس کے تنے سارے تاثرات یکدم ڈیھلے پر گئے ۔۔
ایوا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی بولنا شروع کیا ۔۔
" میں کسی اور کی نہیں ہوسکتی کیونکہ میں پہلے ہی کسی کی ہو چکی ہوں ۔۔ اور اس کی ہی رہوں گی ۔۔کیونکہ اب " یہ کہہ کر وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوئی ۔۔
اس کی باتیں سنتے شہرام کے تاثرات پھر سے تن گئے ۔۔ اندر آگ سی لگ گئی ۔۔ وہ تو اس لڑکے کی اس کی بیوٹی کو ڈیٹ آفر کرنے پر ہی اتنا بھڑک گیا تھا تو کیسے اس کے منہ سے ایسی باتیں برادشت کر سکتا تھا ۔۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہرطرف آگ لگا دے جیسے اس کے اندر لگی ہے لیکن ایوا کی اگلی بات نے ٹھنڈی کر دیا ۔۔۔
" کیونکہ اب میرا دل بھی ۔۔ اس ویمپائر کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ۔۔۔ " شہرام اس کی جانب دیکھا ۔۔ جو اظہارِ کرنے کے بعد سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
" Say it … "
ایوا کو پتا تھا کہ وہ کیا کہنے کا کہہ رہا ہے ۔۔ اس نے گہری سانس لی ۔۔
" I love you shahram " اس نے آخرکار وہ بول ہی دیا جو وہ اس سے سنا چاہتا تھا ۔۔اس نے اسے گلے سے لگایا تو جواب میں ایوا نے بھی اپنے نازک بازوں اس کے گرد باندھ دیئے ۔۔۔ وہ اب پرسکون تھا ۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوٹی کو ڈیٹ آفر کرنے والے کو چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔یہ سوچتے ہوئے اس کی گرفت ایوا کے گرد سخت ہوئی تو وہ کسمسائی لیکن شہرام وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ اس لڑکے کو کیسے مارنا بیسٹ ہوگا ۔۔۔
" مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔ " آخر جب وہ اس کی سخت گرفت برادشت نہ کر پائی تو بول اٹھی ۔۔۔
شہرام نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔اور ہاتھ سے اس کا گال سہلایا۔۔
اس کے ایسے کرنے سے ایوا کا دل پھر زور سے ڈھرکا ۔۔۔ اس کا دل کیا کہ یہاں سے بھاگ جائیں لیکن ابھی ایک ضروری کام کرنا تھا ۔۔
" میری ایک بات مانو گے ۔۔۔ " اس نے آس سے اس سے پوچھا ۔۔۔
" ہممم ۔۔۔۔ " شہرام اس کی گردن پر جھکتے ہوے بولا ۔۔ ایوا کا کلیجہ منہ کو آگیا اس کے ایسے کرنے سے۔۔۔ الفاظ خاک نکلتے ۔۔۔
شہرام نے جھک کر اس کی گردن سے بال ہٹا کر پیچھے کیے ۔۔ پھر ان نشان پر لب رکھے جہاں سے اس نے خون پیا تھا ۔۔ پھر پیچھے ہوگیا کیونکہ وہ اس کی پاگل ہوتی دھڑکن سن سکتا تھا اسے پتا تھا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر ٹھہرتا تو ایوا نے بے ہوش جانا تھا ۔۔ اور شاید وہ خود بھی اپنے پر قابو نہ رکھ پتا ۔۔
" تم کچھ کہہ رہی تھیں ۔۔ " اب وہ اسے چھوڑ کر کھڑا ہوا ۔۔ کہ وہ آرام سے بات کر سکے ۔۔
ایوا کا دل کیا کہ جائے سب بھاڑ میں ۔۔۔ خود تو یہاں سے بھاگے لیکن پھر وہ کر بھی دیتی لیکن پھر آنکھوں کے سامنے جیٹ کا زخمی وجود گھما تو اسے روکنا پڑا ۔۔
شہرام اس کی ساری حرکات نوٹ کر رہا تھا ۔۔ لیکن اس نے کچھ نہیں کہا ۔۔ وہ بس اس کے بولنے کا منتظر تھا ۔۔
" پہلے پرومس کرو ۔۔ میری بات مانو گے ۔۔ " ایوا کی بات پر اس کی بھنویں اوپر کو ہوئی ۔۔ کہ ایسی بھی کیا بات ۔۔ لیکن اس نے پھر بھی سر ہلا دیا ۔۔
جس سے ایوا کو تسلی ہوئی ۔۔۔
" تم جیٹ کو کچھ نہیں کہوں گے ۔۔۔ اس نے بس پوچھا تھا ۔۔ اور میرے منع کرنے پر پیچھے بھی ہوگیا ۔۔ " ایوا نے ساتھ صفائی بھی دے دی ۔۔ پھر اس کا چہرہ دیکھا جو سپاٹ تھا ۔۔
" اوکے ۔۔۔ کچھ نہیں کرتا ۔۔۔ " اس نے آرام سے بات مان لی ۔۔ جس کی اس کو بلکل بھی امید نہیں تھی ۔۔ اس لیے اس نے پھر تسلی چاہی ۔۔۔
" تم پکا اس کو ہاتھ نہیں لگاؤ ۔۔ گے ۔۔۔ "
" پکا میں ہاتھ نہیں۔ لگاؤں گا ۔۔ لیکن اب ایک بار بھی تم نے مزید اس سے ریلڈڈ کچھ کہا تو مجھ سے شکایت مت کرنا ۔۔۔ " اس پھر سے منہ کھولے دیکھ کر وہ بولا تو اس نے جلدی سے منہ بند کیا اور وہاں سے غائب ہوگئی ۔۔
اسے شہرام کا ۔۔ یوں ۔۔ اتنی آسانی سے بات مان لینا ۔۔ بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔
بہت سے بھی زیادہ ۔۔
" وہ تم سے پیار کرتا ہے ۔۔ اس لیے مان گیا ۔۔ " دل نے دلیل دی ۔۔ تو اس نے بھی خود کو سوچوں سے آزاد کیا ۔۔ لیکن اندر ابھی کچھ کھٹک رہا تھا ۔۔
_______________________________
وہ اپنے دوستوں کو بائی کہہ کر پارکنگ کی طرف آیا ۔۔ اپنی گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے جیب سے چابی نکالی اس سے پہلے کہ وہ چابی دروازے کو لگتا ۔۔ اس نے پانچ چھ ہٹے کٹے لوگوں کو ہاتھ میں ہاکی ۔۔ بیٹ تھامے اپنی جانب آتے دیکھا ۔۔۔
وہ سارے آنکھیں جھپکے بغیر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
اسے خطرے کا احساس ہوا تو جلدی سے چابی گاڑی کے دروازے کو لگائی اور اندر بیٹھ کر دروازہ لاک کر کے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا ۔۔۔
مگر گاڑی تھی کہ سٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔ اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ آگئی ۔۔ وہ سارے اس کے سر پر تو پہنچ چکے تھے ۔۔
پھر انہوں نے گاڑی کے بند شیشوں پر بیٹ اور ہاکی مارنا شروع کردیا ۔۔۔
شیشے میں دراڑیں پڑ گئیں۔۔۔ ایک اور وار ہوا تو شیشہ ٹوٹ گیا ۔۔ جس سے انہوں نے دروازے کا لاک کھول کر اسے باہر نکالا اور ٹوٹ پڑے ۔۔ وہ بیچارا اپنا قصور پوچھتا رہ گیا ۔۔
وہیں اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا شہرام ۔۔ سینے پر ہاتھ باندھے یہ دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے وعدے کے مطابق ہاتھ نہیں لگایا ۔۔
بس چھ لوگوں کو اپنے سحر میں کیا ۔۔اور اس کی گاڑی کا انجن ناکارہ کیا ۔۔
اب بھلا اس کی بیوٹی نے پہلی بار کچھ مانگا تھا وہ انکار کیسے کر سکتا تھا ۔۔
پھر جب اسے دبنگ کٹ پڑی تو اس نے ان لوگوں کو وہاں سے چلتا کیا پھر اس کے پاس آکر اسے گاڑی میں ڈالا ۔۔ اور ہاسپٹل لے گیا ۔۔۔
تاکہ ایوا اس پر شک بھی نہ کر سکے ۔۔
اففف یہ پیار کے لیے کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔۔۔
_______________________________
رات کا وقت ۔۔ یونی ساری ویران ۔۔خاموش اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔
کہ سنسان کوریڈور میں یخلت ۔۔ قدموں کی آواز آئی ۔۔۔ اور کچھ لوگ سایوں کی طرح وہاں آئے ۔۔۔
" یہاں تو کوئی نہیں ۔۔۔ " ان میں سے ایک بولا ۔۔
" جگہ یہی تھی ۔۔ اب ہمیں ۔۔ باقی خود ڈھونڈنا ہے ۔۔۔ کیونکہ اتنا تو پکا ہے کہ رائیل بلڈ یہیں کہیں ہے ۔۔ اب صبح کا انتظار کرنا ہے ۔۔ " وہ تھوڑا آگے ہوئی تھی چاند کی روشنی میں اس کا چہرہ واضح ہوا ۔۔
وہ جولیا تھی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.