Naved Sports 89

Naved Sports 89

Share

نوید سپورٹس نیٹ ورک

کھیلوں کی تازہ ترین خبروں، اپ ڈیٹس اور مکمل کوریج کا معتبر پلیٹ فارم۔..

29/03/2026

ملتان سلطانز کی شاندار جیت:

پی ایس ایل 2026 میں اسلام آباد یونائیٹڈ پر غلبہ!

​پی ایس ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں، ملتان سلطانز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔
قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 171/8 رنز بنائے۔
مارک چیپ مین نے 40 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنائے۔ مومن قمر نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں اور ملتان سلطانز کے لیے جیت کی بنیاد رکھی۔
ملتان سلطانز نے جوش فلپ (55 رنز) اور ایشٹن ٹرنر (43 ناٹ آؤٹ) کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت مطلوبہ ہدف 18.4 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
شاداب خان اور سلمان ارشاد نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔
مومن قمر کو ان کی شاندار بولنگ پر 'پلیئر آف دی میچ' قرار دیا گیا۔
ملتان سلطانز کی یہ جیت ان کی ٹیم کی طاقت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

28/03/2026
03/03/2026

توقع:

ورلڈ کپ ٹرافی

حقیقت:
ایک بار پھر سیمی فائنل سے پہلے واپسی۔

​صاحبزادہ فرحان کے 383 رنز بھی اس اداسی کو کم نہ کر سکے۔ ٹیم کی کارکردگی پر اب خاموشی نہیں، جواب چاہیے۔
کیا ہم واقعی ایک عالمی معیار کی ٹیم ہیں یا صرف ماضی کی یادوں میں جی رہے ہیں؟

​آپ کے خیال میں اس شکست کا ذمہ دار کون ہے؟

A) ناقص سلیکشن
B) کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی
C) کرکٹ بورڈ کی پالیسیاں

03/03/2026

قومی ٹیم میں کونسی تبدیل کرنی چاہیے؟ کپتان، ہیڈکوچ، چیف سلیکٹر، 🤔😘

28/02/2026

"پاکستان بمقابلہ سری لنکا:

کیلکولیٹر، کالی مرچیں اور قدرت کا نظام"

"پاکستانی قوم کے پاس اس وقت دو ہی چیزیں سب سے تیز ہیں:
ایک ہماری 'بددعائیں' اور دوسرا ہمارا 'کیلکولیٹر'۔

آج سیمی فائنل میں جانے کا جو ٹارگٹ ملا ہے، اسے سن کر سری لنکا والے پریشان نہیں ہیں،
وہ تو حیران ہیں کہ کیا پاکستانی ٹیم نے ناشتے میں 'پٹرول' پی کر آنا ہے یا پچ پر پیچھا کسی 'باؤلر' کا نہیں بلکہ 'سی ٹی ڈی' (CTD) کا کرنا ہے؟

بھائیو!
13 اوورز میں میچ ختم کرنا ہے؟

اتنی جلدی تو ہم پاکستانی کسی کی میت پر جا کر 'بریانی' کی پلیٹ ختم نہیں کرتے جتنی جلدی آج تمہیں سری لنکا کا غرور ختم کرنا ہے۔
اور اگر کہیں دوسری بیٹنگ آ گئی تو پھر تو شاہینوں کو 'بلّے' کی جگہ 'کلاشنکوف' ہاتھ میں پکڑنی پڑے گی کیونکہ اس رن ریٹ کے لیے 'ٹک ٹک' نہیں بلکہ 'ٹھاہ ٹھاہ' کی ضرورت ہے۔

شاہینو!

اگر آج بھی تمہارا 'مردِ مومن' نہ جاگا اور 'قدرت کا نظام' ڈاؤن لوڈ نہ ہوا، تو یاد رکھنا،
قوم نے ایئرپورٹ پر تمہارا استقبال 'پھولوں' سے نہیں، بلکہ ان ہی 'کیلکولیٹرز' کو پگھلا کر بنائی گئی 'تلواروں' سے کرنا ہے جن پر ہم پچھلے چار سالوں سے تمہاری ناکامیوں کا حساب نکال رہے ہیں۔

جتنی کیلکولیشن آج ہر پاکستانی کر رہا ہے، اگر اتنی پڑھائی پر لگا دیتا تو آج ہم قرضے لینے کے لیے آئی ایم ایف (IMF) کے پاس نہیں، بلکہ آئی ایم ایف ہمارے پاس 'لون' لینے کے لیے لائن میں لگا ہوتا۔

خدارا!

آج ہمیں سیمی فائنل دکھا دو،

ورنہ تمہارے لیے واپسی پر ایئرپورٹ کے باہر 'چنگچی' کھڑے ہیں، کیونکہ اتنے گندے رن ریٹ کے بعد تمہیں 'سرکاری پروٹوکول' تو کیا، ویگن کا کنڈکٹر بھی سیٹ نہیں دے گا!"

25/02/2026

پاکستان کرکٹ اس وقت جس نہج پر پہنچ چکی ہے،
اسے دیکھتے ہوئے اب مصلحت پسندی کا وقت ختم ہو چکا ہے کیونکہ سلمان علی آغا کی ٹی ٹونٹی میں موجودگی اور قیادت کسی "سفارشی بوجھ" سے کم نہیں لگتی۔
ایک ایسا کھلاڑی جس کی بیٹنگ اوسط محض 23 اور اسٹرائیک ریٹ 123 ہو، وہ کس بنیاد پر بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس بلے باز کی جگہ لے کر ٹیم کی قیادت کر رہا ہے؟
انگلینڈ کے خلاف اہم ترین لمحے پر غیر ذمہ دارانہ شارٹ کھیل کر صرف 6 رنز پر آؤٹ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ سلمان علی آغا کے اعصاب اس فارمیٹ کے لیے بنے ہی نہیں ہیں۔
ان کی کپتانی کے فیصلے، خصوصاً انگلش بلے بازوں کے سامنے دفاعی فیلڈنگ لگانا اور وکٹ لینے والے باؤلرز کو ہٹانا، ٹیم کو ذلت آمیز شکست کی طرف دھکیلنے کے مترادف تھا۔
دوسری طرف شاہین شاہ آفریدی کی کارکردگی اب ایک مستقل پریشانی بن چکی ہے؛ جو باؤلر خود کو "اسٹار" کہلواتا ہے،
وہ اہم میچوں کے ڈیتھ اوورز میں فل ٹاس اور بے سمت باؤلنگ کر کے ٹیم کی جیت کو شکست میں بدل رہا ہے۔
شاہین کا اپنے آخری اوور میں رنز کی برسات کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انہیں فوری طور پر آرام دیا جائے کیونکہ وہ دباؤ والے میچز جتوانے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کا بے لاگ موازنہ کیا جائے تو بابر اعظم کے 4500 سے زائد رنز اور ان کی 38 سے بلند اوسط سلمان علی آغا کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انہیں اپنی نااہلی صاف نظر آنی چاہیے۔
بابر اعظم کے پاس وہ تکنیک اور اننگز کو سنبھالنے کا فن ہے جو اس ٹیم سے مکمل طور پر مفقود ہو چکا ہے۔
پاکستان کو آج کسی تجرباتی کپتان کی نہیں بلکہ ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جس کے پاس 48 فتوحات کا ریکارڈ ہو اور جو فرنٹ سے لیڈ کرنا جانتا ہو۔
یہ وقت جذباتی تجربات کا نہیں بلکہ حقائق کو تسلیم کرنے کا ہے؛ سلمان علی آغا کو ٹی ٹونٹی سے فوری ڈراپ کیا جائے اور شاہین کی جگہ کسی باصلاحیت نوجوان باؤلر کو لایا جائے جو کم از کم درست لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کر سکے۔
اگر ٹیم کو ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں اپنی بقا کو یقینی بنانا ہے تو بابر اعظم کو فوری طور پر بیٹنگ کے ستون اور قیادت کے منصب پر واپس لانا ہوگا، ورنہ ان نااہل کھلاڑیوں کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا گراف مزید پستی میں گرتا چلا جائے گا۔















25/02/2026

انگلینڈ کے خلاف گزشتہ رات ہونے والا میچ محض ایک شکست نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے،
جس نے ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں اور کھلاڑیوں کی نام نہاد مہارت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
سلمان علی آغا کو ٹی 20 ٹیم کا کپتان بنانا ہی ایک فاش غلطی تھی اور کل انہوں نے اپنی نااہلی سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس فارمیٹ میں محض ایک "پرچی" سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

جب ٹیم کو ایک لیڈر اور ذمہ دار بلے باز کی ضرورت تھی، تو موصوف صرف 5 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور 6 رنز کی حقیر اننگز کھیل کر ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔
ان کی کپتانی میں وہ تیزی اور جارحیت کہیں نظر نہیں آئی جو جدید کرکٹ کا تقاضا ہے،
بلکہ ان کے بزدلانہ فیصلوں اور باؤلرز کی غلط تبدیلیوں نے جیتا ہوا میچ انگلینڈ کی جھولی میں ڈال دیا۔
عثمان طارق جیسے باؤلر کو وکٹ لینے کے باوجود اٹیک سے ہٹا دینا کسی نادان کھلاڑی کا فیصلہ تو ہو سکتا ہے، کسی انٹرنیشنل کپتان کا نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سلمان علی آغا جیسے کھلاڑیوں کو محض ٹیسٹ اور ون ڈے تک محدود کیا جائے اور ٹی 20 ٹیم سے فوری طور پر ڈراپ کر کے کسی ایسے نوجوان کو موقع دیا جائے جو اس فارمیٹ کی نزاکت کو سمجھتا ہو۔

ستم بالائے ستم شاہین شاہ آفریدی کی کارکردگی رہی،
جو خود کو دنیا کا بہترین باؤلر کہلواتے ہیں لیکن کل ان کے چوتھے اوور نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔
ایک سینئر باؤلر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ڈیتھ اوورز میں میچ بچائے گا،
لیکن شاہین نے اپنے آخری اوور میں جس طرح کی گھٹیا اور بے سمت باؤلنگ کی، اس نے پاکستان کی رہی سہی امیدیں بھی ختم کر دیں۔
ان کی فل ٹاس گیندیں اور لینتھ کا درست نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب صرف نام کے اسٹار رہ گئے ہیں اور ان کی پرفارمنس کو زنگ لگ چکا ہے۔
شاہین شاہ آفریدی کو اب اپنی ساکھ اور ماضی کے ریکارڈز کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنی اس ناقص پرفارمنس کا جواب دینا ہوگا۔
ایسی کارکردگی کے ساتھ وہ ٹیم پر بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔

ان دونوں کھلاڑیوں کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ اب ٹیم میں بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔
جو کھلاڑی دباؤ کے وقت ٹیم کے کام نہ آ سکیں، انہیں ٹیم میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
پی سی بی کو چاہیے کہ سفارشی کلچر ختم کرے اور ان جیسے نااہل کھلاڑیوں کو فوری ڈراپ کر کے ڈومیسٹک کے بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لائے،
ورنہ پاکستان کرکٹ کا گراف یوں ہی گرتا رہے گا۔















17/02/2026

🚨 بڑی خبر: کیا پاکستان سپر 8 میں پہنچ پائے گا؟ 🚨

​بھارت کے خلاف شکست کے بعد اب قومی ٹیم کی تمام امیدیں نمیبیا کے خلاف میچ پر ٹکی ہیں۔ 🏏

​اگلا مقابلہ:
پاکستان بمقابلہ نمیبیا (بدھ)

​شرط:
پاکستان کو ہر حال میں جیتنا ہوگا!

​کیا آپ کو لگتا ہے کہ گرین شرٹس کم بیک کریں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں! 👇

17/02/2026

BYE BYE AFGANISTAN....

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Lahore