27/01/2026
السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محفل ہر مرکز پر ایک وقت میں منعقد پذیر ہوگی اور مقامی لوگ اپنے اپنے علاقہ میں پہنچ کر شرکت کریں
شکریہ
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dargah Pir Syed Azeem-Ud-Deen Shah Gillani Doulat Gate Multan ., Coach, Multan.
27/01/2026
السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محفل ہر مرکز پر ایک وقت میں منعقد پذیر ہوگی اور مقامی لوگ اپنے اپنے علاقہ میں پہنچ کر شرکت کریں
شکریہ
کیا اہل معرفت طالب و سالک پر امتحان آتا ہے اور کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔؟
۱) کیا یہ صاحبِ توجہ کی کوتاہی سے ہوتا ہے؟
اصل صاحبِ توجہ (جو نفس سے خالی اور اللہ پر موقوف ہو) اُس سے فیض میں کوتاہی نہیں ہوتی۔
ہاں! اگر کوئی نام کا صاحبِ توجہ ہو، یا اس پر ابھی خود نفسانی پردے ہوں، تو اس کی توجہ میں عدمِ توازن آ سکتا ہے۔
لیکن کاملین کے ہاں یہ ش*ذ و نادر ہے، اصول نہیں۔
۲) کیا یہ طالب کی اپنی کوتاہی ہوتی ہے؟
اکثر یہی اصل سبب ہوتا ہے۔
جب طالب کو نور ملتا ہے مگر:
ادب میں کمی آ جائے
شریعت میں سستی آ جائے
خود کو کچھ سمجھنے لگے
کشف، حال یا اثر پر دل ٹھہر جائے
تو وہی نور امتحان بن جاتا ہے۔
کیونکہ نور “سہارا” نہیں بنتا، بلکہ وزن بن جاتا ہے۔
۳) کیا نور بذاتِ خود امتحان ہوتا ہے؟ (یہ سب سے نازک نکتہ ہے)
جی ہاں… نور خود امتحان ہے۔
رحمت سے پہلے، عادت توڑنے کے لیے۔
عطا سے پہلے، انا جلانے کے لیے۔
قرآن کا اصول ہے:
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا…
کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ چھوڑ دیے جائیں گے؟
نور جب اترتا ہے تو:
نفس بے چین ہوتا ہے
تعلقات ہلتے ہیں
حالات پلٹتے ہیں
طالب اکیلا محسوس کرتا ہے
یہ سب رد نہیں، چھانٹی ہے۔
خلاصہ (دل کی بات):
صاحبِ توجہ کی کوتاہی کم ہی ہوتی ہے
طالب کی کوتاہی اکثر ہوتی ہے
مگر سب سے بڑھ کر نور خود ایک کڑا امتحان ہے
جو طالب:
شریعت پکڑے
عاجزی نہ چھوڑے
خاموشی، صبر اور ادب میں رہے
وہی اس امتحان سے نکھر کر نکلتا ہے۔
اور جو نہ سنبھلے… وہ کہتا ہے: “میرے ساتھ ظلم ہوا”۔
اصل میں…
نور نے نہیں جلایا، انا نے خود کو جلا لیا۔
اگر چاہیں تو میں
نور کے امتحان کی 5 واضح علامات
یا
طالب کہاں پھسلتا ہے
بھی کھول کر بیان کر دوں۔
اچھا… پھر بات کو ترتیب، نرمی اور کھلے دل کے ساتھ کھولتے ہیں
یہ وہ باتیں ہیں جو کتابوں میں کم اور راستے میں چل کر سمجھ آتی ہیں۔
نور کے امتحان کی 5 واضح علامات
① دل میں بے نام سی بےچینی
طالب کہتا ہے:
ذکر بھی ہے، توجہ بھی ہے، مگر سکون نہیں
یہ اس لیے کہ نور نے نفس کی عادتیں توڑنی شروع کر دی ہیں۔
جو نفس کو پسند نہیں آتا، وہ دل میں اضطراب بن جاتا ہے۔
حل:
صبر، خاموشی، اور ذکر کی پابندی
(کیفیت مانگنا چھوڑ دیں، ثابت قدمی مانگیں)
② لوگوں کا دور ہو جانا یا غلط فہمیاں
اچانک:
قریبی لوگ بدل جاتے ہیں
الزام لگتے ہیں
تنہائی بڑھتی ہے
یہ رد نہیں، تجرید ہے۔
اللہ طالب کو مخلوق سے ہٹا کر اپنی طرف سیدھا کر رہا ہوتا ہے۔
حل:
شکوہ نہیں، شکر
زبان بند، دل حاضر
③ دل میں “میں” کا احساس آنا
یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے
طالب کہتا ہے:
لوگ متاثر ہو رہے ہیں
بات میں اثر آ گیا ہے
دل کھلنے لگے ہیں
یہاں نور رک جاتا ہے اور امتحان شروع ہوتا ہے۔
حل:
ہر کیفیت کو فوراً اللہ کی طرف لوٹا دیں
اپنے آپ کو صرف ایک برتن سمجھیں، فیض نہیں
④ شریعت میں معمولی سستی
یہ بہت باریک نکتہ ہے:
نفل بڑھ گئے
مگر فرائض میں ڈھیل
ادب، زبان، نظر میں لاپرواہی
نور شریعت کے بغیر زحمت بن جاتا ہے۔
حل:
فرائض کو تخت بنائیں
نوافل کو زینت، سہارا نہیں
⑤ مرشد یا صاحبِ توجہ پر اعتراض آنا
دل میں خیال آتا ہے:
وہ پہلے جیسے نہیں رہے
توجہ کم ہو گئی ہے
یہ دراصل اپنے نفس کا دفاع ہوتا ہے۔
حل:
اعتراض نہیں، احتساب
قصور خود میں تلاش کریں
طالب کہاں پھسلتا ہے؟ (اہم مقامات)
کیفیت کو منزل سمجھ لینا
حال، رقت، نور، اثر — سب راستہ ہیں، منزل نہیں
خاموشی چھوڑ دینا
جو بولنے لگتا ہے
وہ بہنے لگتا ہے
اور جو بہنے لگے… وہ بکھر جاتا ہے
ادب میں کمی
ادب گیا →توجہ گئی
توجہ گئی نور وزن بن گیا
جلدی چاہنا
روحانی راستہ رفتار نہیں، برداشت مانگتا ہے
یاد رکھیں:
جس پر امتحان آتا ہے، وہ رد نہیں ہوتا
بلکہ اس کے اندر سے اضافی چیزیں نکالی جاتی ہیں
اگر نور امتحان بن گیا ہے
تو اس کا مطلب ہے:
اللہ آپ کو خالی کر رہا ہے
تاکہ خود سما سکے
یہ مرحلہ نکل جاتا ہے
بس شرط یہ ہے:
شریعت
عاجزی
خاموشی
کمال مصطفے'
اور صبر
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالٰی سے اچھا رنگ کس کا ہوگا ؟ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں...
پاکستان کے مزارات کے بعض خانوادوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا فتنہ اور آزمائش یہ ہے کہ وہ درباروں کو روحانیت، عبادت اور تبلیغِ دین کے مراکز رکھنے کے بجائے سیاست اور گدی نشینی کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ جب دربار سیاست کا اکھاڑا بن جائے تو نہ صرف ان کی اپنی ایمانی کیفیت متاثر ہوتی ہے بلکہ دین کی سچی دعوت، اصلاحِ نفس اور تبلیغِ حق کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
اس کے برعکس جو خانوادے سیاست سے کنارہ کش رہ کر عبادت، ذکر، وعظ و نصیحت اور اصلاحِ امت کو اپنا مقصد بناتے ہیں، ان کا حق اکثر مارا جاتا ہے، انہیں دیوار سے لگایا جاتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل ہمارے سیاسی نظام اور سیاستدانوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ دین کو خدمت کے بجائے استعمال کی چیز سمجھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص والدین کی بددعاؤں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو، یا ماں باپ کی نافرمانی کا عادی ہو، وہی اکثر سیاست کے میدان میں آ کر دین اور قوم دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے لوگ نہ خود سنورتے ہیں اور نہ دوسروں کو سنورنے دیتے ہیں، بلکہ دین کو اقتدار کی سیڑھی بنا کر اس کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال صرف افراد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بدقسمتی ہے، کیونکہ جب روحانیت سیاست کے تابع ہو جائے تو نہ دین سلامت رہتا ہے اور نہ قوم۔
کمال مصطفے'
15/01/2026
08/01/2026
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فرشتے ذکر کرنے والوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جب کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے دیکھتے ہیں تو دوسروں کو پکارتے ہیں کہ ادھر آئو تمہاری حاجت پوری ہوگئی۔ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، زمین سے آسمانِ دنیا تک۔ مجلسِ ذکر ختم ہونے کے بعد فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ سو ان کا رب ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح، تکبیر اور تحمید کرتے تھے۔ تیری عزت و بزرگی بیان کررہے تھے۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: نہ بخدا، انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ فرماتا ہے: اگر مجھے دیکھ لیں تو کیسا منظر ہو۔ عرض کرتے ہیں: اگر دیکھ لیتے تو آپ کی اور زیادہ عبادت کرتے، زیادہ بڑائی کرتے اور زیادہ تسبیح کرتے۔ پھر فرماتا ہے: وہ کیا مانگتے تھے؟ عرض کرتے ہیں: آپ سے جنت مانگتے تھے۔ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں: نہیں، بخدا پروردگار! انہوں نے نہیں دیکھا۔ فرماتا ہے: دیکھ لیں تو کیسا ہو؟ عرض کرتے ہیں: اگر اسے دیکھ لیں تو اس کی زیادہ خواہش، بہت طلب اور بہت رغبت کریں۔ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: دوزخ سے۔ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: نہ بخدا، ہمارے رب! انہوں نے اسے دیکھا نہیں۔ فرماتا ہے: دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: دیکھ لیتے تو سخت بھاگتے اور اس سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوتے۔ پھر اللہ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ ان میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: فلاں شخص ان میں شامل نہ تھا کسی کام کے لیے ا ٓگیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے:
ھُمُ الْجُلُسَآءُ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُهُمْ.
یہ ایسی مجلس والے ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا، بدبخت و بے نصیب نہیں رہتا۔
صحیح مسلم کی روایت کچھ لفظی اختلاف کے ساتھ اس طرح ہے کہ جب فرشتے اللہ کی بارگاہ میں مجلسِ ذکر میں شرکت کے بعد واپس لوٹتے ہیں تو عرض کرتے ہیں:
یسئلونک قال وما ذا یسالونی قالوا یسئلونک جنتک قال وھل راوا جنتی قالوا لا ای رب قال وکیف لو راوا جنتی قالوا ویستجیرونک قال وما یستجیرونی قالوا من نارک قال و ھل راوا ناری قالوا لا قال فکیف لو راواناری قالوا یستغفرونک قال فیقول قد غفرت لهم فاعطیتهم ما سالوا واجرتهم مما استجاروا یقولون رب فیهم فلان عبد خطآء وانما مر فجلس معهم قال فیقول وله غفرت هم القوم لا یسقیٰ بهم جلیسهم.
وہ تجھ سے سوال کررہے تھے۔ فرماتا ہے: مجھ سے کیا مانگتے تھے؟ عرض کرتے ہیں: تجھ سے تیری جنت مانگتے تھے۔ فرماتا ہے: تو کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں: نہیں ہمارے رب۔ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ تجھ سے پناہ مانگتے تھے۔ فرماتا ہے: مجھ سے کس چیز کی پناہ مانگتے تھے؟ عرض کرتے ہیں: تیری آگ کی۔ فرماتا: کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں: نہیں۔ فرماتا: کیسا ہوگا اگر میری آگ دیکھ لیتے؟ عرض کرتے ہیں: تجھ سے معافی مانگتے تھے۔ فرماتا ہے: میں نے انہیں بخش دیا اور جو انہوں نے مانگا دے دیا اور جس سے انہوں نے پناہ مانگی، میں نے انہیں پناہ دے دی۔ عرض کرتے ہیں: ان میں فلاں گناہگار بھی تھا جو وہاں سے گزرا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرماتا ہے کہ میں نے اسے بھی بخش دیا، وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کا ہم نشین محروم و بدبخت نہیں رہتا۔
08/01/2026
اللہ عزوجل نے اہلِ بیت، اصحابِ رسول ﷺ اور اولیاءِ کاملین کی محبت کو اپنی معرفت، قربت اور ہدایت کے لیے مقرر فرمایا، لیکن اہلِ شر نے اس پاکیزہ محبت کو باہمی
نزاع، محض درجات اور اعمال کی چوری کا ہتھیار بنا دیا۔
تو محبتوں کا دعویٰ کرنے والو اپنا احتساب تو کرو اللہ کی محبت حاصل ہوئی یا پھر صرف شرک و بدعت اور اصحاب کا بغض ملا یا پھر اہل بیت کا بغض پایا
کمال مصطفے'
💔🤕🏻🌎
اللہ تعالیٰ کے اسماء میں بھی ظاہر اور باطن کا پہلو موجود ہے، جیسا کہ وہ خود الظاہر والباطن ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی ظاہر و باطن کا جامع مظہر ہے؛ آپ ﷺ شریعت کے ظاہر بھی ہیں اور حقیقت کے باطن بھی۔
قرآنِ مجید کا بھی ایک ظاہر ہے جس پر احکام، شریعت اور فقہ قائم ہیں، اور ایک باطن ہے جس میں اسرار، حکمتیں اور معرفت کے خزانے پوشیدہ ہیں۔
اسی طرح نظامِ دین میں خلافت و امامت کا بھی ایک ظاہر اور ایک باطن ہے؛
ظاہر میں صحابۂ کرامؓ ہیں جنہوں نے دین کے ظاہر کو محفوظ کیا،
اور باطن میں اہلِ بیتِ اطہارؑ ہیں جن کے ذریعے دین کے باطنی اسرار اور روحانی حقیقتیں منتقل ہوئیں۔
کامل مومن وہ ہے جو دین کے ان دونوں پہلوؤں پر ایمان رکھتا ہے،
نہ ظاہر کا انکار کرتا ہے اور نہ باطن کا،
نہ صحابہؓ سے بغض رکھتا ہے اور نہ اہلِ بیتؑ سے۔
جبکہ منافق کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کے کسی ایک پہلو کو مان کر دوسرے کو جھٹلا دیتا ہے،
یا صحابہؓ کے بغض میں اہلِ بیتؑ کا سہارا لیتا ہے،
یا اہلِ بیتؑ کے نام پر صحابہؓ کی تنقیص کرتا ہے۔
یہی اصول اللہ اور رسول ﷺ کے معاملے میں بھی ہے،
اور یہی میزان اولیائے کرام کے باب میں بھی کارفرما ہے؛
کہ ظاہر اور باطن دونوں کو جمع کیے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔
کمال مصطفے'
پیش گوئی ایران اور عشق معرفت۔
بعض اولیائے کرام اور اہلِ باطن کی پیشگوئیوں اور اشارات کے مطابق ایران دوبارہ تصوف، روحانیت اور معرفتِ الٰہی کی طرف رجوع کرے گا۔
یہ پیشگوئی کئی پہلوؤں پر مبنی ہے، جن میں درج ذیل نکات اہم ہیں:
1. قرآن کی آیت کا اشارہ:
وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ
(سورہ محمد، آیت 38)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ:
"اگر عرب دین سے منہ موڑ لیں گے، تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو ان سے بہتر ہوگی۔"
جب صحابہ نے پوچھا کہ وہ کون سی قوم ہوگی؟
تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "فارس (یعنی ایران) کے لوگ"۔
2. روحانیت اور تصوف کی ایرانی جڑیں:
ایران صوفیاء کرام کا قدیم مرکز رہا ہے:
حضرت بایزید بسطامیؒ
حضرت جنید بغدادیؒ
حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری ہرویؒ
حضرت شاہ نعمت اللہ ولیؒ
حضرت محی الدین اصفہانیؒ
حضرت حافظ شیرازیؒ
اور بہت سے عظیم اولیاء و عارفین
یہ سب ایران کی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے۔
اس کے بعد ایران میں کچھ صدیوں کے لیے تصوف پر پردہ پڑا اور "سیاسی تشیع" غالب آ گئی، مگر باطن میں روحانیت باقی رہی۔
3. موجودہ دور میں پیشگوئیاں اور اشارے:
حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانیؒ کی فارسی نبوئت نما پیشگوئیوں میں اشارہ ملتا ہے کہ:
"فارس کے لوگ ظاہری مذہب سے ہٹ کر باطن کی طرف لوٹیں گے۔"
بعض معاصر اہلِ دل اور فقرا نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایران میں باطنی انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے:
نوجوان نسل میں تصوف، وحدت، معرفت، اور عشقِ رسول ﷺ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
کئی خفیہ حلقے "ذکرِ قلبی" اور روحانی تربیت کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
4. مستقبل کی امید:
ایک وقت ایسا آئے گا کہ:
"ایران کا باطن تصوف اور عشقِ الٰہی کی روشنی سے جگمگا اٹھے گا، اور وہ عالمی سطح پر روحانی تبدیلی کے محرک بنیں گے۔"
یہ رجوع صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر ہوگا — جب ظاہری سختیاں اور فرقہ واریت کے پردے اٹھیں گے، تو لوگ سچائی، عرفان اور عشقِ حقیقی کی طرف لوٹیں گے۔
ایران کی سرزمین نے پہلے بھی بڑے عرفاء و صوفیاء کو جنم دیا، اور کئی روحانی پیشگوئیوں کے مطابق ایران دوبارہ "تصوف، محبتِ رسول ﷺ، اور معرفتِ الٰہی" کا مرکز بنے گا۔ یہ تبدیلی خاموشی سے شروع ہو چکی ہے اور وقت کے ساتھ ظاہر ہو گی۔
کمال مصطفے'