The Qalam TV

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینئر صحافی مظہر جاوید کا 53 سالہ صحافتی سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
17/10/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی مظہر جاوید کا 53 سالہ صحافتی سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم مظہر جاوید کی مذہبی 'سیاسی صحافت ۔۔۔ نصف صدی کا قصہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دادا 'نانا بن گیا ہوں مگر اپنے والد مرحوم کی محبت نہیں بھولا ہوں: مظہر جاوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھٹی کلاس میں نعت پڑھی 'گورنر پنچاب نے خصوصی انعام دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرفتاری کے لئے آ نے والے انسپکٹر نے نہ پہنچانتے ہوئے مجھے لفٹ دیکر دفتر پہنچادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافت میں انکے استاد دونوں صحافی ماموں محترم ممتاز طاہر اور عزیز انجم ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میری تینوں بیٹیاں ڈاکٹرز اور دونوں بیٹوں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان کا پہلا صحافی ہوں جس کے خلاف 5سو اور 5 سو ایک کے تحت مقدمہ درج ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دوست بھائی سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید نے صحافت میں وہ کام کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی ہے: مظہر جاوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " شاید یہ جملہ ملتان کے چند صحافیوں پر بھی فٹ ہوتا ہے جنہوں نے ملتان کی عملی میں صحافت میں اپنے قیمتی 50 سال دیے یعنی اپنی نوجوانی' جوانی اور بڑھاپے تک پہنچ گئے ہیں ان کی ملتان کی صحافت میں بڑی خدمات ہیں جن کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ملتان کی صحافتی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی ان حضرات کا نام ضرور ہوگا ۔ اج میں اپنے صحافیوں کے صحافتی سفر کے سلسلے میں جس شخصیت کو اپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ ایک محنتی اور متحرک شخصیت ہے۔دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں اور اس انداز سے کرتے ہیں کہ سننے والا ان کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور تقریبات میں اگر سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے رہے ہوں تو پنڈال میں بیٹھے ہر شخص کی توجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اگر مہمانوں کا تعارف کراناہو تو سٹیج پر بیٹھے مہمان بھی ان کو دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں اور لگتا ایسے ہی کہ وہ چاہ رہےہیں کہ یہ شخصیت ان کے حوالے سے لفظوں کے موتی مزید بکھیرتی رہے ۔ اس شخصیت نے گزشتہ 52 سالوں کے دوران عملی صحافت میں بھرپور حصہ لیا "کہتے ہیں کہ ایک نسل کا دورانیہ 10 سال کا ہوتا ہے" اسکے بعد دوسری نسل اور پھر تیسری ۔۔۔ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا جاتا ہے۔اس طرح اس سینئر صحافی نے پانچ نسلوں کے ساتھ مل کر عملی صحافت کی ہے اور ان کے ساتھ ایسے کام کیا ہے کہ اگر یہ بزرگ صحافیوں میں کھڑے ہو کر صحافت کررہے ہوں تو بزرگ بن جاتے ہیں۔۔۔ جوانوں کے ساتھ صحافت کریں تو جوان بن جاتے ہیں اور نئے انے والے صحافیوں کے ساتھ صحافت کریں تو ان کے ساتھ ایسے گھل مل جاتے ہیں تو وہ ان کو اپنا نوجوان ساتھی سمجھتے ہیں ۔ ابتدائی رپورٹنگ سے ہی جو بیٹس لیں تو اج تک ان دونوں بیٹس پر مکمل اپنی گرفت رکھتے ہیں ایک مذہبی بیٹس اور دوسری سیاسی بیٹس اور ان دونوں بیٹس کے حوالے سے اپنے استاد اپنے دونوں بزرگ سینیئر صحافی اور رشتے میں ان کے ماموں جان لگتے ہیں ان کو ہی استاد مانتے ہیں اور ان کو ہی کریڈٹ دیتے ہیں۔ابھی کم عمر ہی تھے کہ والد کے دست شفقت سے محروم ہو گئے اور ان کے والد صرف 39 سال کی عمر میں اچانک بیمار ہوئے اور دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے والد محترم نے 13 سال کی عمر میں حفظ قرآن کیا تھا۔۔۔اس محنتی ' باصلاحیت متحرک اور حالات کی سختیوں کو جھیلنے والے اور آ ج بھی رپورٹنگ کرنی تو آ پ کو موقع پر رپورٹنگ کرتے نظر آ ئیں گے ۔ یہ ہیں سینئر صحافی اور عملی صحافت کی گولڈن جوبلی کرنے والے مظہر جاوید سیال اور محترم ہستی حافظ محمد یوسف کے فرزند ہیں ۔میرا مظہر جاوید صاحب سے 35 برس پرانا تعلق ہے اور جب پہلی بار ملے تو بڑی خوش دلی سے ملتے اور رپورٹنگ میں معاونت بھی کرتے تھے اور آ ج بھی کوئی نوجوان صحافی ملتا ہے تو اس کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ملتان کے صحافیوں کے صحافتی سفر کے حوالے سے جب رابطہ ہوا تو بڑی محبت سے کہا کہ آ غا صاحب ۔۔اپ کو اجازت کی کیا ضرورت ہے اور پھر اپنے "فیس بک مشہور زمانہ ناشتے کی ٹیبل پر دعوت دے دی" مشہور زمانہ اس لئے کہا کہ فیس بُک پر ان کے دوست جانتے ہیں کہ وہ ہر اتوار کو ناشتے کی ٹیبل پر اشیاء سجاتے ہیں اور فوٹو کھینچ کر اپ لوڈ کردیتے ہیں مظہر بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا پسند کرو گے ناشتے کے لئے 'میں نے کہا میں تو بہت سادہ ناشتہ کرتا ہوں اور یہ حقیقت بھی ہے لہذا چائے کے دوکپ ہوجائیں تو یہ سن کر قہقہ لگایا اور کہا اوکے ۔۔۔ٹھیک صبح 9 بجے کا وقت دیا تھا ہم پہنچ گئے اور گلبرگ کالونی کی مشہور زمانہ دو ٹرانسفارمر والی گلی میں مجھے یہ کہہ کر انتظار کرایا کہ گیراج میں گاڑی کھڑی ہے میری موٹر سائیکل کی سیٹنگ بنادیں میں گلی میں ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا کہ ایک سینئر اخبار فروش ان کو روزنامہ آ فتاب دینے آ یا تو اخبار دیتے ہوئے انکی نظر مجھ پر پڑ گئی دعا سلام کے بعد کہنے لگے کہ میں آ پ کے صحافیوں کے صحافتی سفر کے سلسلے کو باقاعدگی سے پڑھ رہا ہوں اچھا سلسلہ ہے جاری رکھنا ۔۔پھر مظہر بھائی نے مجھے آ ہستہ سے کہا کہ میں اپنا ذاتی اور صحافتی حوالے سے پہلی بار انٹرویو تمہیں دے رہا ہوں میں نے شکریہ ادا کیا اور کمرے میں چلے گئے اور کمرے میں جاتے ہی ٹیبل پر قسم قسم کی اشیاء کی سیٹنگ کر دی گئی تھی اب سمجھ آ یا کہ مجھے تھوڑا انتظار گلی میں کیوں کرایا گیا تھا ۔ٹیبل پر تین قسم کے چنے 'نہاری ' پائے دہی شکر سادہ پراٹھے اور میری پسند کے گھر پر تیار مولی والے پراٹھے بھی موجود تھے ۔۔یہ دیکھ کر میں نے کہا مظہر بھائی میں نے آ پ کو منع کیا تھا اور پھر بھی آ پ باز نہیں آئے ۔۔میں نے کہا آ پ بد پرہیزی کریں گے چند روز قبل آ پ کی طبیعت بھی خراب ہوگئی تھی اور مجھے بھی یہ ہیوی ناشتہ کرائیں گے مظہر بھائی نے کہا خیر ہے خیر۔۔۔۔۔۔ آ ج بد پرہیزی ہونے دے اور تو اور مظہر بھائی کی ڈاکٹر صاحبزادی اور ہماری بھتیجی بھی کہنے لگی کہ آ ج دونوں ابو 'انکل کو کھل کر بد پرہیزی کرنے کی اجازت ہے اور فکر نہ کرنا ڈاکٹر بھی گھر پر موجود ہے ۔بس پھر کیا تھا ہم نے دونوں یعنی میں نے اور مظہر جاوید بھائی نے ملکر خوب ڈٹ کرناشتہ کیا اپ یقین مانیں کہ انتہائی لذیذ مولی کے پراٹھے بنے ہوئے تھے اور سادہ بل والے پراٹھے تو اتنے خستہ اور مزے کے تھے کہ جیسے جیسے کھاتے جاتے تھے ویسے ہی مزہ بھی دوبالا ہو جاتا تھا اور دل کھانے کو مزید کرجاتا اور پھر کھاتے چلے گئے اخر میں مظہر بھائی نے شکر اور دہی بھی کھلا دی اور پھر چائے کے بعد ہماری گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا۔مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کی تین بہنیں اور وہ ان کے بھائی تھے اور ایک چھوٹے بھائی کے لیے تو انہوں نے باقاعدہ حضرت نواب سخی دربار جا کر چراغ بھی جلا کر منت مانی تھی اپنے چھوٹے بھائی کے لیے اور اللہ تعالی نے ان کو ایک چھوٹا بھائی بھی دیا ۔اس وقت 13 سال کے تھے جب ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے چند برس بعد نانی اماں اور ماموں نے انکی والدہ کا رشتہ بھٹہ فیملی میں کردیا تھا ان کے دو سٹیپ بھائی بھی ہیں محمد فہیم بھٹہ اور محمد فاروق بھٹہ۔ خونی برج ایم سی پرائمری سکول میں ان کو داخل کروادیا گیا ان دنوں وہاں پر باقاعدہ بچوں کو صبح دودھ اور بسکٹ بھی دیے جاتے تھے اور ورزش بھی کرائی جاتی تھی جب وہ دوسری کلاس میں پہنچے تو ان کو پرائمری سکول حرم گریٹ میں داخل کرا دیا گیا اور پہلے دن ہی ان کا ٹیسٹ لیا گیا تو ٹیسٹ پہ انتہائی خوشخطی دیکھ کر ہیڈ ماسٹر صاحب نے فوری طور پر اساتذہ کرام کو بلایا اور ان کے سامنے ان کو انعام دیا مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کو بچپن سے ہی نعت پڑھنے کا شوق تھا اور پانچویں تک وہ باقاعدہ سکول میں لب پہ اتی دعا بھی پڑھا کرتے تھے مظہر بھائی نے بتایا کہ جب وہ چھٹی کلاس میں تھے تو اس وقت گورنر پنجاب امیر محمد خان ملتان سیلاب کے سلسلے میں ائے ہوئے تھے۔ تو ایک تقریب کے سلسلے میں وہ ولایت حسین اسلامیہ سکول میں بھی ائے اس وقت میں نے کرسی پر کھڑے ہو کر نعت شریف پڑھی اور میرا نعت پڑھنے کا انداز گورنر صاحب کو اتنا پسند ایا کہ انہوں نے مجھے خصوصی طور پر بلا کر انعام دیا مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کو نعت یاد کرانے اور سکھانے میں استاد نواز کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور پھر یہ بھی بتایا کہ استاد نواز بہت ہی قابل استاد تھے اور وہ ہمارے صحافی عامر مشتاق کے دادا بھی ہیں مظہر بھائی نے بتایا اسلامیہ سکول حرم گیٹ میں ایک تقریر ی مقابلہ ہوا تھا کہ" موجودہ دور باعث ترقی٫ تنزلی نہیں" اگرچہ ہم اس مقابلے کو ہار گئے تھے اور اس کی ہار کی وجہ بھی وہ اپنے ان دوستوں کو جو کہ مقابلے میں حصہ لینے کے بعد باہر چلے جاتے تھے اور اپنے ساتھی کو بک اپ نہیں کرتے تھے قرار دیا لیکن ان کے انداز تقریر کو پسند کیا گیا اور انہیں اس بات پر اچھے لب و لہجے اور اچھے دلائل پر ان کو خصوصی ملا تھا مظہر بھائی نے بتایا کہ بچوں کو کتابی کیڑا نہیں بنانا چاہیے ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دینی چاہیے پھر انہوں بتایا کہ میٹرک پاس کر کے اپنے گھر کے نزدیک ولایت حسین اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور وہاں پر تاریخی ٹٹوریل گروپ سوسائٹی میں سیکرٹری جنرل بھی منتخب ہوئے ٹٹوریل گروپ میں اور اس وقت اعجاز مڈو ایڈوکیٹ صدر ہوتے تھے مظہر جاوید نے ایک واقعہ اس وقت کا سناتے ہوئے بتایا کہ ایک طالب علم ایوب دور میں پولیس کی فائرنگ سے شہید ہو گیا تھا غالبا اس کا نام جودت کامران تھا اور اج کل گھنٹہ گھر اور کچہری کے درمیان میں رحمہ سنٹر کے ساتھ اس کی ایک یادگار بھی تھی واقعہ کچھ یوں ہوا تھا کہ ان کی برسی کے حوالے سے طالب علم اس یادگار کے پاس جمع ہوئے اور اغا صاحب اپ یقین مانیں کہ اتنی بڑی تعداد تھی کہ بیان نہیں کی جاسکتی ہے انہوں نے ڈسپلن کا بھی ایسے مظاہرہ کیا تھا کہ تمام طالب علموں نے گھنٹہ گھر کے پاس ترتیب سے اپنے جوڑے جوتوں کے رکھے اور پیدل اس مقام تک پہنچے اس شہید کو خراج عقیدت پیش کر نے کیلئے مظہر جاوید نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد اس وقت موجود تھی اور اس کی رپورٹ بھی انہوں نے تیار کر کے اپنے مامو ممتاز طاہر سینیئر صحافی جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور اپنے دوسرے ماموں عزیز انجم صاحب کو دکھائی تھی مظہر صاحب نے بتایا کہ انہیں لکھنے لکھانے کا شوق بچپن ہی سے تھا اور اس میں ان کی نانی اماں اور مذکورہ مامو کا بڑا ہاتھ ہے مظہر جاوید نے بتایا کہ بچپن میں جب وہ صرف چھ سال کے تھے تو نوائے ملتان کا ایک ایڈیشن بچوں کا میگزین اتا تھا وہ اس کی اخبارات میں فولڈنگ کیا کرتے تھے اور پھر ان پیپرز کو باقاعدہ پوسٹ کرنے کے لیے ڈاکخانے لے جاتے تھے اور یہ اخبار مشرقی پاکستان تک جایا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جس وقت نوائے ملتان کا افتتاح ہوا تھا تو تقریب میں مخدوم شوکت حسین گیلانی مخدوم حامد رضا گیلانی مخدوم علمدار حسین گلانی رحمت حسین گیلانی اور بڑی بڑی شخصیات نے شرکت کی تھی سینیئر صحافی مظہر جاوید نے بتایا کہ انہوں نے 1973 میں باقاعدہ رپورٹنگ شروع کر دی تھی اور وہ نوائے ملتان میں خبریں دیا کرتے تھے ان کی پہلی خبر بھائی نیم ایک رپورٹ تھی جو کہ انہوں نے ایک مشاعرہ تقریب اٹینڈ کیا تھا اور اس کی رپورٹ تیار کرکے اپنے ماموں ممتاز طاہر اور عزیز انجم کو دکھائیں انہوں نے اس کو بڑا پسند کیا اس وقت ان کے ماموں عزیز انجم نے ان کو باقاعدہ مذہبی رپورٹنگ کے حوالے سے سکھانا شروع کیا اور بڑے ماموں ممتاز طاہر نے ان کو سیاسی رپورٹنگ سکھائئ مظہر جاوید نے بتایا کہ 74ء میں ان کے ماموں ممتاز طاہر نے سنگ میل ایک سال کے لیے ٹھیکے پر لے لیا تھا اے ایم ار روحانی صاحب سے اور اس کے لیے بڑی محنت بھی کی تھی اور اس کے بعد چھ ستمبر 1975 کو روزنامہ افتاب کا ڈکلیریشن حاصل کر کے اس کی اشاعت شروع کردی۔مظہر جاوید نے بتایا کہ روزنامہ افتاب کا پہلا ایڈیشن لاہور سے چھپ کر آ یا تھا جس بس پر ملتان پہنچا تو بس کی چھت ایڈیشن بنڈلز سے بھری ہوئی تھی ۔روزنامہ آ فتاب کی کتابت شمس ملک مرحوم اور باسم میواتی کرتے تھے اور اس اخبار میں لیڈ ایسے شاعرانہ انداز سے نکالی جاتی تھی اور اس کو ٹیبل بجاکر باقاعدہ گیت کے انداز میں پڑھا بھی جاتا تھا ۔جاسوسی ناول کے خالق مظہر کلیم سب ایڈیٹر فرائض سر انجام دیتے تھے ۔ابھی آ فتاب کو شاہع ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہی ہوا تھا کہ ٹریڈ یونین امروز نے تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتال کی کال دے دی اور جب احتجاج بڑھا چند روز تک جاری بھی رہا تو ایک دن صوبائی وزیر اعتزاز احسن جن سے ان کا پہلے ایک پریس کانفرنس میں تعارف بھی ہو چکا تھا وہ موقع پر ائے اور پل شوالہ پر جب ملازمین ہڑتال پہ تھے اور ان میں زیادہ تر روزنامہ امروز جو کہ اس وقت بہت بڑی اشاعت میں شائع ہوتا تھا اس کے ملازمین شامل تھے ایسے میں صوبائی وزیر نے مجھے پہچان لیا اور مجھ سے پوچھا کہ افتاب کو شائع ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو میں نے کہا کہ ابھی تو ایک ماہ ہوا ہے تو انہوں نے حیرانگی سے پوچھا تو تنخواہوں کا کیسے مسئلہ ہو سکتا ہے ابھی تو ایک ماہ مکمل ہوا ہے تو دو چار دن تنخواہ میں تاخیر بھی ہو جاتی ہے اس کے بعد مظہر جاوید نے بتایا کہ ہڑتال کے دنوں میں بھی روزنامہ افتاب نے اپنی اشاعت بند نہیں کی تھی ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈ یونین ایک اچھا اقدام ہے مگر اس کی طرف سے ہڑتال کے دوران اداروں کو بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ادارے بند ہونے سے کارکنان کو فرق پڑتا ہے انہوں نے بتایا 77 ءکی تحریک میں روزنامہ افتاب نے ہیڈ لائن چھاپی تھی" بھٹو کے ساتھی سارے سفید ہاتھی" جس پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا ہوا کچھ یوں تھا کہ بھٹو کے قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور جب بھی سابق ذولفقار علی بھٹو ملتان اتے تھے تو نواب صادق قریشی کے ہاں ہی قیام کرتے تھے تو ان کے مقابلے میں چاچا ملک عطا اللہ نے کاغذات جمع کرا دیئے ازاد حیثیت میں 'اس کا یہ عمل کچھ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کو اچھا نہیں لگا اور انہوں نے ملک عطا اللہ کو اغوا کرا لیا بلکہ ان پر پرچہ بھی کرا دیا تھا لیکن ان کے وکیل نے ان کے کاغذات جمع کرا دیے تھے وہ ہنگامہ اتنا بڑھ تھا پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت بھی سامنے آ گئی تھی ۔77ء کی تحریک میں انہوں نے بھرپور رپورٹنگ کی ۔اس تحریک کے حوالے سے بی بی سی سے کہ اس وقت کے نمائندے مارک ٹیلی بھی ملتان پہنچ گئے تھے اس زمانے میں نوائے وقت اور افتاب نے 77ء کی تحریک کو بھرپور رپورٹنگ کی جبکہ امروز اخبار جو کہ سرکاری اخبار ہے اس نے اس کو ناکام لکھتا رہا اس دوران خواتین کا بھی ایک بہت بڑا اجتماع ہوا تھا اور اس میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین نے قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی تھیں اور احتجاج کیا تھا مظہر جاوید نے بتایا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش ایا کہ وہ نئے نئے رپورٹنگ کے میدان میں آ ئے تھے انہوں نے کرائمز رپورٹنگ شروع کی ہی تھی تو ایک دن سینیئر صحافی خان ظفر اللہ خان نے جو کہ سنگ میل میں کام کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اپ ریڈ لائٹ ایریا کے حوالے سے کیوں نہیں سٹوری دیتے ہیں میں نے اس کا ذکر دفتر میں کیا تو اس وقت ہمارے ایک نمائندے غلام علی بھی موجود تھے انہوں نے جن کا تعلق غالبا مظفرگڑھ سے تھا نے بھی کہہ دیا کہ اس کی سرپرستی ایک ایس ایچ او کرتے ہیں خیر وہ سٹوری بنائی اور وہ نمایاں طور پر شائع بھی ہو گئی ہوا کچھ یوں کہ اس سٹوری کے شائع ہونے کے بعد وہ چوک کچہری پر کھڑے تھے کہ وہ ایس ایچ او جس کے خلاف میں نے سٹوری چھاپی تھی اس نے سکوٹر میں مجھے لفٹ دیتے ہوئے بٹھا لیا اور راستے میں کہا کہ اپ روزنامہ روز امروز میں کام کرتے ہیں تو میں نے جواب نہیں دیا لیکن وہ یہی سمجھا تھا تو راستے میں بات چیت ہوتے ہوئے میں نے پوچھا کہاں جا رہے ہیں اپ !!تو اس نے کہا کہ کوئی مظہر جاوید نامی صحافی ہے اس نے میرے خلاف خبر چھاپی ہے میں اس کو گرفتار کرنے جا رہا ہوں اور سکوٹر کے فرنٹ پر رکھی ہتھکڑی کی طرف اشارہ بھی کیا اب میں دبک کر اور خاموش بیٹھا رہا اور محمد احمد خان ایس ایچ او نے مجھے روزنامہ امروز ڈیرہ اڈے ا کے دفتر پر اتار دیا میں محترم مسعود اشعر صاحب سینیئر صحافی کے دفتر میں چلا گیا اور سارا واقعہ ان کو بتا دیا انہوں نے میرے افس میں فون کرکے آ گا ہ کر دیا اور محمد احمد خان جو کہ مجھے چھوڑ کر مجھے ہی گرفتار کرنے کے لیے میرے افس میں پہنچ چکا گیا تھا پھر وہ وہاں طویل انتظار کے بعد چلا گیا اور میں ملتان کا پہلا صحافی بنا جس کے خلاف مقدمہ 500 اور 501 کے تحت درج کیا گیا تھا اس کے بعد ایس پی کی ایک پریس کانفرنس کے دوران جب تمام صحافی موجود تھے تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا کہ ہمارے ایک صحافی کے خلاف غلط پرچہ درج کیا گیا ہے تو ایس پی نے فورا اس ایس ایچ او کو وائرلس پر طلب کر لیا اور اس وقت جب پریس کانفرنس کے دوران ہی محترم فخر الدین بلے صاحب بھی موجود تھے تو انہوں نے معاملے کو تھوڑا سا ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن ایس پی صاحب کا موقف تھا کہ انسپکٹر نے ان کی اجازت کے بغیر کسی بھی صحافی کا کے خلاف پرچہ کیوں درج کیا ہے خیر بات یہاں ا کر ختم ہوئی کہ محترم فخر الدین بلے صاحب کے افس میں ایس ایچ او اور مظہر جاوید صاحب کو بلا کر معاملے کو ختم کر دیا جائے گا اس کا بھی ایک دلچسپ پہلو تھا کہ جس وقت محمد احمد خان ایس ایچ او فخر الدین بلے کے دفتر میں پہنچ گئے تو میں پہلے سے ہی جا کر دفتر بیٹھ گیا تھا تو ایس ایچ او نے کہا کہ اپ ان کو کیوں نہیں بلاتے مظہرجاوید کو جس نے میرے خلاف خبر لگائی ہے تو فخر الدین بلے صاحب بولے یہی تو مظہر جاوید ہے وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا اور کہا کہ یہ تو امروز میں کام کرتے ہیں اور مظہر جاوید تو سنگ میل کے رپورٹر ہیں تصدیق ہونے کے بعد کہا دیکھو میں جسے گرفتار کرنے جارہا ہوں اور اسی ملزم کو ہی لفٹ بھی دے رہا تھا ۔خیر یہ معاملہ ختم ہوگیا اور مجھے پتہ چلا کہ جس نمائندے غلام علی نے خبر میں ایس ایچ او کا نام لکھوایا تھا اس کی ایس ایچ او سے پرانی رنجش چلی آ رہی تھی ۔اس دن کے بعد میں نے تہیہ کر لیا کہ کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شائع نہیں کروں گا۔مظہر جاوید نے بتایا کہ انہوں نے کچھ عرصہ وفاق لاہور اور جسارت کراچی میں بھی کام کیا ہے بلکہ جسارت کراچی میں تو کافی عرصے تک کام کیا ہے اس کے علاوہ عبدالقادر حسن سینٹر صحافی ہی کا ایک میگزین افریشیا ہوتا تھا اس میں بھی میں کالم لکھا کرتا تھا مظہر جاوید نے خبریں میں انٹری کے حوالے سے بتایا کہ محترم ضیا شاہد صاحب سے ان کا تعارف ان کے ماموں ممتاز طاہر صاحب جو کہ اے پی این ایس کے طویل مدت تک نائب صدر رہ چکے تھے انہوں نے ایک کنوینشن لاہور بلوایا تھا تو اس کے لیے مجھے انہوں نے سٹیج سیکرٹری کا کہا جب میں لاہور پہنچا تو محترم ضیا شاہد صاحب نے پہلے ہی سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی اور اس طرح اس فنکشن میں جو کہ ایک بہت بڑا فنکشن تھا اس میں' میں نے محترم ضیا شاہ صاحب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھاتے ہوئے دیکھا اور ان کے انداز سے اس قدر متاثر ہوا کہ میں ان کا فین ہو گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ضیاء شاہد صاحب کے گھر ماڈل ٹاؤن میں بڑے بڑے صحافیوں کے ساتھ ناشتہ بھی کر چکے ہیں پھر ملتان میں روزنامہ خبریں کے بیورو افس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملتان میں روزنامہ خبریں کا افس اٹو پلازہ ڈیرا اڈا میں تھا اور افس میں پرویز اعوان بھی کام کرتے تھے ان دنوں اسلم اکرام صاحب نے مجھے ضیا شاہد صاحب سے ملوایا ضیا صاحب چونکہ مجھے میرے مامو ممتاز طاہر کے حوالے سے پہلے ہی جان چکے تھے تو انہوں نے رضامندی ظاہر کر دی اور ملتان اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے جوائن کرنے کو کہا ان دنوں میری پریس کلب کے الیکشن میں مصروفیت بہت زیادہ تھی تو میں نے ایک سینیئر صحافی ایڈوکیٹ حامد سعید ملک صاحب کا تعارف کرایا کہ ان کو اپ بےبیورو چیف بنا دیں جبکہ لاہور انتظامیہ کا موقف یہی تھا کہ بیورو چیف میں بنوں مظہر جاوید نے بتایا کہ امتیاز فوٹوگرافر کے والد کا نشتر میں ایک بک سٹال ہوتا تھا وہی ہمارے پہلے نیوز ایجنٹ بنے اور ملتان میں بغیر ایجنسی کے پہلے دن پانچ ہزار رنگین اخبار پہنچا تھا تو ہم نے اس کو مارکیٹ میں فروخت کر دیا اور اس کی امدن کو لاہور ہیڈ افس میں بھجوا دیا ہیڈ افس نے اس میں سے ایجنسی کا جو کمیشن تھا وہ ملتان افس کے لیے بھجوا دیا کہ اس کو افس کے اخراجات کے لیے استعمال کر لیں روزنامہ خبریں ملتان کا بیورو آ فس اٹو پلازہ سے بلقیس پلازہ بامن جی چوک پر ایک پلازے میں شفٹ ہو گیا تھا۔مظہرجاوید نے اپنے صحافتی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے روزنامہ خبریں کہ چینل فائیو کے لیے بھی تھوڑا عرصہ کام کیا تھا لیکن انہوں نے پھر روزنامہ خبریں کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں حالانکہ انتظامیہ چاہتی تھی کہ میں چینل فائیو کے لیے کام کرو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روزنامہ خبریں ملتان سے شائع ہونے کے بعد اس میں مختلف عہدوں پر بھی کام کیا اور اسی افس میں روزنامہ نیا اخبار میں بھی اپنی خدمات پیش کی اور روزنامہ نیا اخبار میں بطور جوائنٹ ایڈیٹر بھی کام کیا اس کے علاوہ روزنامہ خبریں ملتان کے چیف رپورٹر بھی رہ چکے ہیں اور اب گزشتہ کئی برس سے روزنامہ افتاب جو کہ ان کے ماموں ممتاز طاہر صاحب نے شروع کیا تھا اور اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو اسی اخبار میں بطور جوائنٹ ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔مظہر جاوید نے ملتان پریس کلب کے لیے بھی بڑی خدمات سر انجام دی ہیں اور وہ کئی بار سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی کامیاب ہو چکے ہیں اور ان دنوں بھی ایگزیکٹو باڈی کے ممبر ہیں انہوں نے بتایا کہ پریس کلب کے قیام کے وقت بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ وہ سنگ میل میں جونیئر رپورٹر کے طور پر کام کر رہے تھے کہ پریس کلب کے قیام کے حوالے سے نواں شہر میں بڑے نامور صحافی حضرات نے یہ خبر تیار کی اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خبر کو ری رائٹ انہوں نے کیا اور پریس کلب کے قیام کے حوالے سے ان کا نام اس حوالے سے شامل ہو گیا ہے کہ اس کی خبر کو ری رائٹ ان کے ہاتھوں نے کیا تھا اور وہ اخبار میں شائع ہوئی تھی مظہر جاوید ملتان پریس کلب کی تقریبات کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور اپنے اس دور میں انہوں نے بڑے بڑے پروگرام ارگنائز کیےہیں۔مظہر جاوید طویل عرصے سے ریڈیو پی ٹی وی اور دیگر چینلز پر تجزیہ نگار کی حیثیت سے بھی دکھائی دیتے ہیں اور اج بھی فیلڈ میں کوئی بھی واقعہ ہو جائے یا کوئی بھی بڑی شخصیت ملتان میں ائے تو قلم کاغذ کے ساتھ موقع پر رپورٹنگ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔مظہر جاوید صاحب بات چیت کے دوران اس قدر گم ہوگئے تھے کہ وقت کا احساس ہی نہیں رہا اور وہ تو ہماری بھتیجی نے بتایا کہ ابو بچے سکول انتظار کر رہے ہیں ان کو نہیں لاناہے اور پھر اوہ ہو اوہ کرتے اٹھے اور کہا کہ یار آ غا تونے یہ کیسا شاندار سلسلہ شروع کیا ہے کہ تیرے ساتھ ملا قات میں وقت کے گزرنے کا احساس نہیں رہتا ہے اور جب اس کالم کو شائع کرتا ہے تو پڑھنے والا ایک بار بس پڑھنا شروع کردے تو اس کے اختتام تک ماضی کی یادوں میں گم رہتا ہے ۔ڈھیرو دعائیں دیں اور کہا اسی طرح "ملتان کے سلطانوں"کے بارےمیں لکھ کر ملاقاتیں کراتے رہیں ۔مظہر صاحب نے اپنے نواسوں کو سکول سے لانے کے لیے موثر سائیکل اسٹارٹ کی اور ہم نے اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کرکے گھر کی طرف موڑ لی ۔

سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پھر بزرگ ہستیوں اور محترم شخصیات کا جن کے بیحد محبتوں سے تعاون کرنے کا شکریہ جن کی وجہ سے کالم ای...
17/10/2026

سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پھر بزرگ ہستیوں اور محترم شخصیات کا جن کے بیحد محبتوں سے تعاون کرنے کا شکریہ جن کی وجہ سے کالم ایڈیشن "چلتے چلتے " کا چیپٹر ٹو مزید دس شخصیات کے ساتھ مکمل ہوا ہے ان دس شخصیات میں محترم رضی الدین رضی ادیب شاعر،محترم سابق ڈی سی او ملتان نسیم صادق،سینئر صحافی ادیب محترم ڈاکٹر امجد بخاری،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محترم خالد جاوید بخاری،محترم نعمان خان بابر ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ دنیا،محترم ناصر محمود شیخ جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ قوم،محترم احمد اعجاز مسعود بھٹی سابق وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی،محترم ذوالقرنین حیدر سینئر صحافی اے آ ر وائے اسلام آباد،محترم وسیم شہزاد ایڈیٹر "نگاہ " ڈیجیٹل،محترم اقبال شیخ سینئر صحافی ایکسپریس نیوز ملتان شامل ہیں ۔اسی طرح ڈیجیٹل بک کی 💯 شخصیات کے مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے کے تحت نئی شخصیات کی جدوجہد سٹوریز کو پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ایک بار پھر آ پ سب شخصیات کی محبتوں کا شکریہ خوش رہیں سلامت رہیں آمین ۔۔دعا گو سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید

سینئر صحافی پیر آ غا محمد علی فرید کی زبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینئر صحافی وصدر پریس کلب ملتان شکیل انجم کی کہانی...
17/10/2026

سینئر صحافی پیر آ غا محمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی وصدر پریس کلب ملتان شکیل انجم کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے" شکیل انجم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
20 برس سے ایکسپریس نیوز ملتان سے وابستہ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکسپریس نیوز ٹی وی ملتان کے بیورو چیف اور روزنامہ ایکسپریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چولستان صحرا میں موت کو بہت قریب سے دیکھا 'زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی میں دوست سجاد جہانیہ سے کسی نے جھگڑا کیا تو وہاں پہنچ گئے اور نثار اعوان نے آ ؤٹ سائیڈر بلوالئے تھے ۔۔۔ بعد میں معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالج اور یونیورسٹی میں اپنی مرضی سے جارحانہ زندگی گزاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار خبریں ملتان میں رپورٹنگ کے دوران محترم مخدوم جاوید ہاشمی نے مجھے ٹھیک ٹھاک سنادیں ۔۔۔اب ان سے پیار محبت کا رشتہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ غا محمد علی فرید میرا بھائی دوست اور "آ غا جانی"ہے یہ محبتوں کا اور گڈ سلسلہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافی دوستوں کے فلاحی کاموں کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ہے ۔۔۔ کوئی کچھ بھی کہے۔۔۔ صحافیوں اور پریس کلب ملتان کی بہتری کے لیے جو ہوسکتا ہے کررہا ہوں اور کرتا رہونگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر نسیم شاہد ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جو بھی کام کرتے ہیں کمال کرتے ہیں ۔۔ مارننگ واک کو ایک تحریک بنادیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"1998ءکا سال اور مہینہ شدید گرمی کا 'ایسے میں پانچ دوستوں نے چولستان کے تپتے صحرا میں ہرن کے شکار کا پلان بنایا 'لائسنس اسلحہ لیا ایک پراڈو اور ایک ویگو ڈالا لیکر سفر پر بھی روانہ ہوجاتے ہیں صحرا میں شکار کے حوالے سے مطمئن اس لئے تھے کہ ان کو صحرا چولستان کے چپے چپے سے واقف گائیڈ نے ان کے ساتھ چلنے کا گرین سگنل دے دیا تھا گاڑیوں میں ہنستے ہنساتے گیت سنتے اور سروں کی پروا کئے بغیر گانے گاتے جاتے ہیں ۔۔۔۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ اگلے دن چولستان صحرا ان کو کیسی کیسی مشکلات میں مبتلا کرنے والا ہے اور ان میں سے ایک کاتو سفر زندگی ختم کرکے اگلے جہاں میں رخصت بھی کردے گا اور باقی چار دوستوں کو موت اتنے قریب سے دکھائے گا کہ ان کو اپنی سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوگی ۔۔۔ ان سب کا معمولی سا بھی خیال آ ئے بغیر پانچوں دوست قلعہ ڈیر آ وور پہنچ جاتے ہیں کھانا کھاکر اور گپ شپ لگا کر سو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے علی الصبح اٹھ کر ہرن کا بھی شکار کرنا تھا صبح اٹھے گاڑیاں لیں اور گائیڈ کے ساتھ صحرا کے اس مقام پر پہنچے جہاں پر ہرنوں کا جھنڈ تھا ہرنوں کو دیکھ کر نشانے بھی لگائے مگر کامیابی نہ ملی اب گرم موسم اور گرمی اور صحرا میں گھنٹوں "ریت چھاننے " کے عمل نےنڈھال کرنا شروع کردیا اور پراڈو گاڑی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا اب ان دوستوں کی مشکلات کا آ غا ز ہوتا ہے تین ساتھیوں کو گاڑی کے پاس چھوڑ کر دو گائیڈ کے ساتھ ایک بستی کی طرف ویگو ڈالے میں پانی جو ختم ہو گیا تھا لینے کے لیے سفر کرتے ہیں کہ اچانک پہاڑ جیسا 25'30فٹ بلند ٹیلا سامنے آ جاتا ہے ایک دوست کہتا ہے مجھے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے دیں اور دو پیدل اس پر چڑھ جاتے ہیں ۔۔۔ ڈرائیور دوست مہارت سے چڑھائی کے بعد اتر بھی جاتا ہے ابھی مزید سفر کے لیے چلتے ہیں کہ ڈالا کے انجن میں دھماکہ دھواں اور گاڑی بند۔۔۔ پریشانی میں اضافہ اور فیصلہ ہوتا ہے کہ اب ایک دوست گائیڈ کے ساتھ آ گے بستی جاکر پانی لائے گا ۔۔۔گھنٹوں کی مسافت کے بعد اس بستی میں پہنچتے ہیں جوبیس گھنٹے گزرجاتے ہیں بستی کے ایک کمرے میں وہ دوست بھوک پیاس سے نڈھال اور زبان پر بس ایک ہی لفظ "ماں " اور خیال بھی ایک ہی کہ میری ماں اپنے جوان بیٹے کی لاش کو کیسے دیکھ پائے گی ۔۔۔موت زندگی کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے کہ اچانک گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر وہ جوان ہمت کرکے گرتا پڑتا وہاں پہنچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے ایک دوست کی لاش گاڑی میں رکھی ہے تین بے ہوش ہیں وہ بھی بے ہوش ہو جاتا ہے ۔۔۔ان کو قریبی لوگوں کی بڑی تعداد جو اس صحرا سے واقف تھے لیکر ان کو احمد پور شرقیہ ہسپتال پہنچا دیتے ہیں اور اگلے دن ملتان تین بیمار پریشان اپنے ساتھی کی میت کے ساتھ ملتان پہنچ جاتے ہیں " یہ کوئی ہالی وڈ 'بالی وڈ 'لالی وڈ کی فلم کا منظر نہیں نہ ہی کوئی ڈرامے کا سین اور نہ ہی افسانوی قصہ کہانی ہے ۔۔۔ یہ واقعہ جس میں نوجوان اپنی ماں کو یاد کرتا ہے وہ موجودہ سینئر صحافی وپریس کلب ملتان کے صدر اور ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل ملتان کے بیورو چیف محترم شکیل انجم ہیں اور انکے دوست جو اس سفر میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے وہ سیاسی شخصیت محترم خلیل اللہ لابر تھے دوستوں میں منا شیخ ' ملک فاروق کھر ' ملک مرتضی کھر ' جبکہ گائیڈ کا نام حکیمن تھا ۔۔۔اب میں اپنے" چلتے چلتے " کالم ایڈیشن سلسلے میں محترم شکیل انجم کی ذاتی زندگی اور صحافتی زندگی کے سفر کی سیر کراتا ہوں ۔۔۔محترم شکیل انجم سے میرا تعلق 30 برس پرانا ہے جب سے انہوں نے اپنی عملی صحافت کا آغاز کیا تھا ۔۔۔شکیل انجم بھائی ہمیشہ جب بھی مجھ سے لائیو ملیں یا فون پر بات ہو تو بلند آواز سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے "آ غا جانی" کہہ کر کرتے ہیں ۔۔۔۔اس بار طویل عرصے بعد فون پر رابطہ ہوا تو بلند آواز میں ہمیشہ کی طرح آغا جانی کہا اور کہا بھائی کیا خدمت کرسکتا ہے !!!۔۔۔ میں نے کہا ملاقات کرنی کہا اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے جب مرضی میرا آ غا جانی آ جائے ۔۔۔ایکسپریس افس کا مقام طے ہوا اور مقررہ وقت پر دفتر پہنچ گیا ابھی دفتر کے صحن میں موٹر سائیکل سٹینڈ پر لگا کر سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ محترم شکیل انجم کچھ فاصلے پر دونوں ہاتھ کھولے مسکرا رہے ہیں اور ویلکم آ غا جانی کہہ رہے ہیں ۔۔یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اس دوست بھائی میں آ ج بھی ملتان کی بڑی شخصیت بننے کے بعد بھی کسی قسم کا ۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے ہوں گے نہیں ہے ۔۔جھپی ڈالی اپنے کمرے میں لے گئے کھانے پینے کا آ رڈر دیا ۔۔میں نے کہا ہم تو آ پ کی " چاہ " لینے آ ئے ہیں ۔۔ پھر کہا مجھے پتہ تھا بھائی اپنے کالم ایڈیشن کیلئے آ ررہا ہے ۔۔میں نے کہا تو پھر ٹھیک ہے بھائی اپنی پیدائش سے سکول تک کا سفر بتانا شروع کر دیں ۔۔شکیل انجم صاحب نے بتا یا ان کے والد محترم کا نام عبد الجلیل قریشی ہے اور وہ دس بہن بھائی ہیں انکا نمبر چھٹا ہے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل کود میں وقت گذرتا تھا کہ انہیں ان کے گاؤں کے سرکاری سکول میں داخل کرادیا گیا اپنے بستے اور بیٹھنے کے لیے ٹاٹ بوری ساتھ لیکر جاتا ' مڈل تک وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر نویں کلاس میں گورنمنٹ مسلم ہائی سکول میں داخلہ لے لیا ..۔۔میں نے کہا ضلع مظفر گڑھ تحصیل علی پور میں بھی مسلم سکول ہے تو۔۔۔ قہقہہ لگایا اور کہا میں ملتان کے مسلم ہائی سکول کی بات کررہا ہوں جہاں آ پ کے والد محترم ہیڈ ماسٹر آ غا وسیم احمد صاحب تھے ۔۔اس وقت میں نے بے ساختہ دوست شہادت حسین کا تکیہ کلام ۔۔۔ نہ کر ۔۔۔کہا اور پھر نہ کر شکیل بھائی کہا ۔۔۔ شکیل بھائی نے کہا دیکھ لو آ پ کا اور سجاد جہانیہ کا سکول فیلو بھی ہوں ۔۔۔شکیل انجم نے بتایا ملتان میں دل نہیں لگا چند ماہ پڑھ کر واپس اپنے گاؤں چلا گیا اور وہاں گاؤں کے سکول سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کیا تو گھر والوں نے مظفرگڑھ کالج میں ایف ایس سی میڈیکل میں داخلہ کرادیا اور میرے ڈاکٹر بننے کی خواہش اور خواب دیکھ لئے۔۔۔ پھر نہ ایف ایس سی کو ہم پسند آ ئے اور نہ ہی ہم نے ایف سی کو لفٹ کرائی ۔۔۔ ہم تو کالج طلباء یونین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے تھے کئی بار احتجاج کرکے کالج میں چھٹیاں بھی کرائیں ۔۔ایک دن ہم دو تین دوستوں کو نجانے کیا سوجھی میٹھے پان لیکر کالج چوکیدار سے اچھے مراسم بنانے پہنچ گئے گپ شپ ہوئی اور اتفاق سے اس رات کالج کی فوٹو سٹیٹ مشین چوری ہوگئی کالج چوکیدار نے سارا مدعا ہم پر ڈال دیا کہ مجھے پان کھلا کر بے ہوش کردیا اور مشیین چرالی کالج انتظامیہ نے ان پر اور ان کے دوستوں پر ایف آئی آر کٹوادی میں گھر آ گیا بعد میں مسلم لیگی رہنما نے مقدمہ ختم کرادیا میرا دوست اقبال چانڈیہ اے ایس آئی بھرتی ہوگیا اور میں نے گاؤں میں "قریشی جنرل سٹور" کے نام سے دکان کھول لی وجہ یہ بنی تھی بھائی نے بڑی تعداد میں فینسی شوز آ رڈر پر تیار کرائے اور آ رڈر لینے والا غائب ہو گیا اور ہم نے ان شوز کو فروخت کرنے کیلئے دکان کھولی تھی اور جنرل سٹور کا سامان بھی رکھدیا یہ گاؤں میں سب سے بڑی دکان بن گئی تھی کاروبار چمکنے لگا تھا میں ملتان میں شوکت نقشبندی صاحب سے شوز کی خریداری کرنے کے لیے آ تا تھا ۔۔ایک دوست نے ایف کیا تو اس کی پرانی کتابیں لیکر ایف اے امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرلیا ۔۔تھرڈ ائیر میں اسی کالج میں داخلہ لیا جہاں پر مشین چوری کا الزام لگا تھا مگر پھر اپنے دوست کے مشورے پر پرائیویٹ جرنلزم مضمون کے ساتھ بی اے کرلیا ۔۔بی زیڈ میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کا نیا شعبہ شروع ہوا تو داخلہ لیکر یونیورسٹی پہنچ گیا وہاں میرے دوستوں میں ظفر آ ہیر 'سجاد جہانیہ 'رانا عارف اور ازور کامران شامل ہوئے ۔۔۔۔پہلا سال تو یونیورسٹی سیاست میں گزرا البتہ دوسرے سال پڑھائی میں دل لگالیا تھا ایک بار پروفیسر مصطفیٰ چودھری کے خلاف احتجاج کیا تو بعد میں ڈرا کہ کہیں تھیسسز میں فیل ہی نہ کردیں مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔یونیورسٹی میں میرے دوست سجاد جہانیہ کو ایک دن کچھ طلباء نے اکیلا سمجھ کر جھگڑا کیا مجھے پتہ چلا تو ان جھگڑا کرنے والوں کو سبق سکھانے پہنچ گیا وہاں دیکھا تو نثار اعوان اور ان کے دوستوں نے ا وٹ سائیڈر بلوا رکھے تھے مگر پھر بعد میں معافی تلافی کے بعد معاملہ ختم ہو گیا ۔۔میرے دوست رانا عارف کو مخالفین نے گولیاں برسا کر ماردیا اور گولیوں کے واپس پلٹ کر لگنے سے گولیاں مارنے والا ایک شخص بھی مرگیا ۔۔ایم اے صحافت کرنے کے بعد روزنامہ خبریں ملتان میں رپورٹرز کی آ سامیاں آ ئیں تو اپلائی کردیا محترم ضیاء شاہد صاحب مرحوم نے انٹرویو لیا اور 15سو وظیفہ مقرر کرکے بھرتی کرلیا ان دنو ں ملتان خبریں کے بیورو چیف محترم مزمل سہروردی ہوتے تھے پھر 14 جون کو خبریں ملتان سے شروع ہوا تو پہلی بار ریزیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار صاحب سے محترم ضیاء شاہد نے تعارف کرایا تھا اور پھر میاں غفار صاحب کی سربراہی میں دلیرانہ رپورٹنگ کی بہت ایکسکلیوسو خبریں دیں ۔۔ایک بار حضوری باغ روڈ پر یوٹیلیٹی سٹور کے باہر چینی کے لئے لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھی مگر سٹور انتظامیہ چینی نہیں دے رہی تھی میرے اندر سے کالج یونیورسٹی کا یونین لیڈر شکیل انجم جاگ گیا اور تقریر فرمادی ۔۔۔پھر کیا تھا لوگ سٹور پر ٹوٹ پڑے اور چینی لوٹ کر چلے گئے اور میرے خلاف مقدمہ درج ہوگیا جسے سینئر صحافی اسلم گوہر مرحوم نے ختم کروایا ۔خبریں سے علیحدگی کے بعد اسلام آباد چلا گیا دل نہ لگا واپس ملتان آ کر روزنامہ صحافت بیورو چیف جوائن کرلیا پھر روزنامہ نیا دن کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد روزنامہ نوائے وقت رپورٹنگ ٹیم کا حصہ بن گیا 5برس روزنامہ نوائے وقت میں تحقیقاتی خبریں فائل کیں۔۔۔ پھر محترم عابد عبد اللہ صاحب کی روزنامہ ایکسپریس ملتان کی آ فر پر چند دن سوچنے کا کہہ کر فیملی کے ساتھ مری سیر سپاٹے پر چلا گیا پہلے خیال آ یا تھا روزنامہ نوائے وقت سرکاری نوکری کی طرح کا ادارہ ہے سیٹ بھی ہو گیا ہوں کیوں اس ادارے کو چھوڈوں۔۔!!! پھر مری واپسی پر 2006ء میں روزنامہ ایکسپریس ملتان جوائن کرلیا روزنامہ ایکسپریس میں کچھ عرصہ انچارج نمائندگان بھی رہا پھر ایکسپریس نیوز چینل لانچ کرنے کے لیے کام شروع ہوگیا تھا اس کے لیے محترم سلطان لاکھانی صاحب نے طویل انٹرویو کیا اور میں چینل کی ٹریننگ کیلئے تین ماہ کے لیے چلا گیا ۔۔واپسی پر ابھی ایکسپریس نیوز چینل چند دن ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے بعد یکم جنوری کو آ ن ائیر ہوگیا تھا ۔۔شکیل انجم صاحب نے بتا یا انہوں نے 97ء میں پہلی بار سیکرٹری جنرل پریس کلب ملتان الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے تھے ۔۔میں نے کہا کہ شکیل بھائی ابھی پریس کلب کی کہانی رہنے دیں آ پ پارٹ ٹو میں پریس کلب کے تاریخی دور پر آ پ کے ساتھ نشست ہوگی اور تفصیلی اس سفر کی داستان کو پیش کریں گے ۔جس پر شکیل انجم نے اپنے مخصوص انداز سے کہا "گڈ ہوگیا" پھر شکیل انجم صاحب نے ایکسپریس نیوز چینل کیلئے اپنی بریکنگ نیوز کا زکر کیا جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد اپیل نہ کرنے کا فیصلہ 'محترمہ کلثوم نواز شریف کے دنیا سے رخصت ہوئے کی خبر 'سابق گورنر پنجاب محترم لطیف کھوسہ صاحب کے گورنر بننے کے علاوہ لاتعداد خبریں دی ہیں شکیل انجم صاحب 8برس سے ایکسپریس نیوز چینل کے پروگرام ایکسپرٹ میں بطور تجزیہ نگار بھی شامل ہوتے ہیں ۔شکیل انجم صاحب بہت اچھے ایتھلیٹ اور ریسلر رہ چکے اور انٹر یونیورسٹی مقابلوں میں پوزیشن بھی حاصل کرچکے ہیں شکیل انجم صاحب سرکاری دورے پر جب محترم یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے مصر کا دورہ کرچکے ہیں وہاں وہ کوہ طور پر بھی گئے اور کہتے ہیں آ غا صاحب وہاں جاکر خانہ کعبہ جیسی فیلنگ آ ئی ۔۔۔دوبار عمرہ کی سعادت بھی ملی ہے اور لندن ناروے جرمنی اور دبئی تو آ نا جانا لگا رہتا ہے شکیل انجم نے بتایا کہ اہرام مصر کو دیکھکر بڑی حیرانی ہوتی کہ یہ کیسے تعمیرات کی گئیں دنیا کے کئی ممالک گھومنے کے بعد جو مزہ لطف اور آ زادی پاکستان میں ہے وہ کہیں نہیں ہے پاکستانی قوم بھی بڑی بہادر اور ٹیلنٹڈ ہے بس ایک قائدانہ صلاحیت کے لیڈر کی کمی ہے۔ایک سوال پر شکیل انجم نے کہا آ ج کی صحافت میں کام کرنے والوں کی اکثریت نے محنت اور موقع پر جاکر رپورٹنگ چھوڑ دی ہے واٹس ایپ گروپوں سے ہی صحافت کی جارہی ہے آ ج بھی محنت لگن اور تحقیقات سے نکالی گئی سٹوری اپنا اثر رکھتی ہے۔ میں نے محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب کے ساتھ مارننگ واک کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے پروفیسر نسیم شاہد ایک زندہ دل شخصیت ہیں رونقیں لگائے رکھتے ہیں اب دیکھ لیں مارننگ واک کو ایک تحریک میں بدل دیا ہے دوستوں میں ساتھ ہوں تو اپنی شاعری اور گلوکار ی کا تڑکا لگا دیتے ہیں محبت بانٹنے والے انسان ہیں ۔۔شکیل انجم صاحب ایک دردمند اور رحم دل انسان ہیں میں نے خصوصی طور پر سینئر صحافی اقبال شیخ جو کہ کئی برس سے بیماری سے جنگ لڑ رہے ہیں اس کا خصوصی خیال رکھنے پر اقبال شیخ صاحب کی طرف سے ان سے گلے مل کر شکریہ ادا کیا ۔۔۔اخر میں 'میں نے جب اپنے پانچ قریبی دوستوں اور ان کے حوالے سے کمنٹس دینے کا کہا تو کئی منٹ خاموش رہنے کے بعد کہا آ غا جانی یہ بہت مشکل کام ہے اس سوال کو کو پاس کردیں میں نے کہا کہ چلیں جس کے ساتھ آ پ کے محبت بھرے تعلقات کو زمانہ جانتا ہے اس کے بارے میں ہی دو لائنیں کہہ دیں ۔۔فوری کہا ظفر آ ہیر ۔۔وہ محبت کرنے والا دوست ہے اور ایک گیت کے شعر گنگنا دیے ۔۔۔۔ تیرے جیسا یار کہا ۔۔۔کہاں ایسا یارانہ ۔۔۔۔پھر کہنے لگے آ غا صاحب آ پ تو میرے آ غا جانی ہو اور خوشی سے دوتین بار کہا ۔۔۔اور کہنے لگے آ غا صاحب محبتوں کے اس سلسلے کو جاری رکھئے گا تاریخی اور کمال ہے ۔۔۔ میں نے ان کے انداز میں کہا اس کا مطلب ہے ۔۔۔ گڈ ہے ۔۔۔تو ہنسے اور کہنے لگے گڈ ہوگیا ۔۔اخر میں دونوں بھائیوں نے تصاویر بنائیں اور میں ریفریشمنٹ کے بعد رخصت ہو گیا ۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Qalam TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category