17/10/2026
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینئر صحافی مظہر جاوید کا 53 سالہ صحافتی سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم مظہر جاوید کی مذہبی 'سیاسی صحافت ۔۔۔ نصف صدی کا قصہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا 'نانا بن گیا ہوں مگر اپنے والد مرحوم کی محبت نہیں بھولا ہوں: مظہر جاوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کلاس میں نعت پڑھی 'گورنر پنچاب نے خصوصی انعام دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرفتاری کے لئے آ نے والے انسپکٹر نے نہ پہنچانتے ہوئے مجھے لفٹ دیکر دفتر پہنچادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافت میں انکے استاد دونوں صحافی ماموں محترم ممتاز طاہر اور عزیز انجم ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
میری تینوں بیٹیاں ڈاکٹرز اور دونوں بیٹوں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان کا پہلا صحافی ہوں جس کے خلاف 5سو اور 5 سو ایک کے تحت مقدمہ درج ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دوست بھائی سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید نے صحافت میں وہ کام کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی ہے: مظہر جاوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " شاید یہ جملہ ملتان کے چند صحافیوں پر بھی فٹ ہوتا ہے جنہوں نے ملتان کی عملی میں صحافت میں اپنے قیمتی 50 سال دیے یعنی اپنی نوجوانی' جوانی اور بڑھاپے تک پہنچ گئے ہیں ان کی ملتان کی صحافت میں بڑی خدمات ہیں جن کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ملتان کی صحافتی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی ان حضرات کا نام ضرور ہوگا ۔ اج میں اپنے صحافیوں کے صحافتی سفر کے سلسلے میں جس شخصیت کو اپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ ایک محنتی اور متحرک شخصیت ہے۔دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں اور اس انداز سے کرتے ہیں کہ سننے والا ان کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور تقریبات میں اگر سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے رہے ہوں تو پنڈال میں بیٹھے ہر شخص کی توجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اگر مہمانوں کا تعارف کراناہو تو سٹیج پر بیٹھے مہمان بھی ان کو دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں اور لگتا ایسے ہی کہ وہ چاہ رہےہیں کہ یہ شخصیت ان کے حوالے سے لفظوں کے موتی مزید بکھیرتی رہے ۔ اس شخصیت نے گزشتہ 52 سالوں کے دوران عملی صحافت میں بھرپور حصہ لیا "کہتے ہیں کہ ایک نسل کا دورانیہ 10 سال کا ہوتا ہے" اسکے بعد دوسری نسل اور پھر تیسری ۔۔۔ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا جاتا ہے۔اس طرح اس سینئر صحافی نے پانچ نسلوں کے ساتھ مل کر عملی صحافت کی ہے اور ان کے ساتھ ایسے کام کیا ہے کہ اگر یہ بزرگ صحافیوں میں کھڑے ہو کر صحافت کررہے ہوں تو بزرگ بن جاتے ہیں۔۔۔ جوانوں کے ساتھ صحافت کریں تو جوان بن جاتے ہیں اور نئے انے والے صحافیوں کے ساتھ صحافت کریں تو ان کے ساتھ ایسے گھل مل جاتے ہیں تو وہ ان کو اپنا نوجوان ساتھی سمجھتے ہیں ۔ ابتدائی رپورٹنگ سے ہی جو بیٹس لیں تو اج تک ان دونوں بیٹس پر مکمل اپنی گرفت رکھتے ہیں ایک مذہبی بیٹس اور دوسری سیاسی بیٹس اور ان دونوں بیٹس کے حوالے سے اپنے استاد اپنے دونوں بزرگ سینیئر صحافی اور رشتے میں ان کے ماموں جان لگتے ہیں ان کو ہی استاد مانتے ہیں اور ان کو ہی کریڈٹ دیتے ہیں۔ابھی کم عمر ہی تھے کہ والد کے دست شفقت سے محروم ہو گئے اور ان کے والد صرف 39 سال کی عمر میں اچانک بیمار ہوئے اور دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے والد محترم نے 13 سال کی عمر میں حفظ قرآن کیا تھا۔۔۔اس محنتی ' باصلاحیت متحرک اور حالات کی سختیوں کو جھیلنے والے اور آ ج بھی رپورٹنگ کرنی تو آ پ کو موقع پر رپورٹنگ کرتے نظر آ ئیں گے ۔ یہ ہیں سینئر صحافی اور عملی صحافت کی گولڈن جوبلی کرنے والے مظہر جاوید سیال اور محترم ہستی حافظ محمد یوسف کے فرزند ہیں ۔میرا مظہر جاوید صاحب سے 35 برس پرانا تعلق ہے اور جب پہلی بار ملے تو بڑی خوش دلی سے ملتے اور رپورٹنگ میں معاونت بھی کرتے تھے اور آ ج بھی کوئی نوجوان صحافی ملتا ہے تو اس کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ملتان کے صحافیوں کے صحافتی سفر کے حوالے سے جب رابطہ ہوا تو بڑی محبت سے کہا کہ آ غا صاحب ۔۔اپ کو اجازت کی کیا ضرورت ہے اور پھر اپنے "فیس بک مشہور زمانہ ناشتے کی ٹیبل پر دعوت دے دی" مشہور زمانہ اس لئے کہا کہ فیس بُک پر ان کے دوست جانتے ہیں کہ وہ ہر اتوار کو ناشتے کی ٹیبل پر اشیاء سجاتے ہیں اور فوٹو کھینچ کر اپ لوڈ کردیتے ہیں مظہر بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا پسند کرو گے ناشتے کے لئے 'میں نے کہا میں تو بہت سادہ ناشتہ کرتا ہوں اور یہ حقیقت بھی ہے لہذا چائے کے دوکپ ہوجائیں تو یہ سن کر قہقہ لگایا اور کہا اوکے ۔۔۔ٹھیک صبح 9 بجے کا وقت دیا تھا ہم پہنچ گئے اور گلبرگ کالونی کی مشہور زمانہ دو ٹرانسفارمر والی گلی میں مجھے یہ کہہ کر انتظار کرایا کہ گیراج میں گاڑی کھڑی ہے میری موٹر سائیکل کی سیٹنگ بنادیں میں گلی میں ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا کہ ایک سینئر اخبار فروش ان کو روزنامہ آ فتاب دینے آ یا تو اخبار دیتے ہوئے انکی نظر مجھ پر پڑ گئی دعا سلام کے بعد کہنے لگے کہ میں آ پ کے صحافیوں کے صحافتی سفر کے سلسلے کو باقاعدگی سے پڑھ رہا ہوں اچھا سلسلہ ہے جاری رکھنا ۔۔پھر مظہر بھائی نے مجھے آ ہستہ سے کہا کہ میں اپنا ذاتی اور صحافتی حوالے سے پہلی بار انٹرویو تمہیں دے رہا ہوں میں نے شکریہ ادا کیا اور کمرے میں چلے گئے اور کمرے میں جاتے ہی ٹیبل پر قسم قسم کی اشیاء کی سیٹنگ کر دی گئی تھی اب سمجھ آ یا کہ مجھے تھوڑا انتظار گلی میں کیوں کرایا گیا تھا ۔ٹیبل پر تین قسم کے چنے 'نہاری ' پائے دہی شکر سادہ پراٹھے اور میری پسند کے گھر پر تیار مولی والے پراٹھے بھی موجود تھے ۔۔یہ دیکھ کر میں نے کہا مظہر بھائی میں نے آ پ کو منع کیا تھا اور پھر بھی آ پ باز نہیں آئے ۔۔میں نے کہا آ پ بد پرہیزی کریں گے چند روز قبل آ پ کی طبیعت بھی خراب ہوگئی تھی اور مجھے بھی یہ ہیوی ناشتہ کرائیں گے مظہر بھائی نے کہا خیر ہے خیر۔۔۔۔۔۔ آ ج بد پرہیزی ہونے دے اور تو اور مظہر بھائی کی ڈاکٹر صاحبزادی اور ہماری بھتیجی بھی کہنے لگی کہ آ ج دونوں ابو 'انکل کو کھل کر بد پرہیزی کرنے کی اجازت ہے اور فکر نہ کرنا ڈاکٹر بھی گھر پر موجود ہے ۔بس پھر کیا تھا ہم نے دونوں یعنی میں نے اور مظہر جاوید بھائی نے ملکر خوب ڈٹ کرناشتہ کیا اپ یقین مانیں کہ انتہائی لذیذ مولی کے پراٹھے بنے ہوئے تھے اور سادہ بل والے پراٹھے تو اتنے خستہ اور مزے کے تھے کہ جیسے جیسے کھاتے جاتے تھے ویسے ہی مزہ بھی دوبالا ہو جاتا تھا اور دل کھانے کو مزید کرجاتا اور پھر کھاتے چلے گئے اخر میں مظہر بھائی نے شکر اور دہی بھی کھلا دی اور پھر چائے کے بعد ہماری گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا۔مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کی تین بہنیں اور وہ ان کے بھائی تھے اور ایک چھوٹے بھائی کے لیے تو انہوں نے باقاعدہ حضرت نواب سخی دربار جا کر چراغ بھی جلا کر منت مانی تھی اپنے چھوٹے بھائی کے لیے اور اللہ تعالی نے ان کو ایک چھوٹا بھائی بھی دیا ۔اس وقت 13 سال کے تھے جب ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے چند برس بعد نانی اماں اور ماموں نے انکی والدہ کا رشتہ بھٹہ فیملی میں کردیا تھا ان کے دو سٹیپ بھائی بھی ہیں محمد فہیم بھٹہ اور محمد فاروق بھٹہ۔ خونی برج ایم سی پرائمری سکول میں ان کو داخل کروادیا گیا ان دنوں وہاں پر باقاعدہ بچوں کو صبح دودھ اور بسکٹ بھی دیے جاتے تھے اور ورزش بھی کرائی جاتی تھی جب وہ دوسری کلاس میں پہنچے تو ان کو پرائمری سکول حرم گریٹ میں داخل کرا دیا گیا اور پہلے دن ہی ان کا ٹیسٹ لیا گیا تو ٹیسٹ پہ انتہائی خوشخطی دیکھ کر ہیڈ ماسٹر صاحب نے فوری طور پر اساتذہ کرام کو بلایا اور ان کے سامنے ان کو انعام دیا مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کو بچپن سے ہی نعت پڑھنے کا شوق تھا اور پانچویں تک وہ باقاعدہ سکول میں لب پہ اتی دعا بھی پڑھا کرتے تھے مظہر بھائی نے بتایا کہ جب وہ چھٹی کلاس میں تھے تو اس وقت گورنر پنجاب امیر محمد خان ملتان سیلاب کے سلسلے میں ائے ہوئے تھے۔ تو ایک تقریب کے سلسلے میں وہ ولایت حسین اسلامیہ سکول میں بھی ائے اس وقت میں نے کرسی پر کھڑے ہو کر نعت شریف پڑھی اور میرا نعت پڑھنے کا انداز گورنر صاحب کو اتنا پسند ایا کہ انہوں نے مجھے خصوصی طور پر بلا کر انعام دیا مظہر بھائی نے بتایا کہ ان کو نعت یاد کرانے اور سکھانے میں استاد نواز کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور پھر یہ بھی بتایا کہ استاد نواز بہت ہی قابل استاد تھے اور وہ ہمارے صحافی عامر مشتاق کے دادا بھی ہیں مظہر بھائی نے بتایا اسلامیہ سکول حرم گیٹ میں ایک تقریر ی مقابلہ ہوا تھا کہ" موجودہ دور باعث ترقی٫ تنزلی نہیں" اگرچہ ہم اس مقابلے کو ہار گئے تھے اور اس کی ہار کی وجہ بھی وہ اپنے ان دوستوں کو جو کہ مقابلے میں حصہ لینے کے بعد باہر چلے جاتے تھے اور اپنے ساتھی کو بک اپ نہیں کرتے تھے قرار دیا لیکن ان کے انداز تقریر کو پسند کیا گیا اور انہیں اس بات پر اچھے لب و لہجے اور اچھے دلائل پر ان کو خصوصی ملا تھا مظہر بھائی نے بتایا کہ بچوں کو کتابی کیڑا نہیں بنانا چاہیے ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دینی چاہیے پھر انہوں بتایا کہ میٹرک پاس کر کے اپنے گھر کے نزدیک ولایت حسین اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور وہاں پر تاریخی ٹٹوریل گروپ سوسائٹی میں سیکرٹری جنرل بھی منتخب ہوئے ٹٹوریل گروپ میں اور اس وقت اعجاز مڈو ایڈوکیٹ صدر ہوتے تھے مظہر جاوید نے ایک واقعہ اس وقت کا سناتے ہوئے بتایا کہ ایک طالب علم ایوب دور میں پولیس کی فائرنگ سے شہید ہو گیا تھا غالبا اس کا نام جودت کامران تھا اور اج کل گھنٹہ گھر اور کچہری کے درمیان میں رحمہ سنٹر کے ساتھ اس کی ایک یادگار بھی تھی واقعہ کچھ یوں ہوا تھا کہ ان کی برسی کے حوالے سے طالب علم اس یادگار کے پاس جمع ہوئے اور اغا صاحب اپ یقین مانیں کہ اتنی بڑی تعداد تھی کہ بیان نہیں کی جاسکتی ہے انہوں نے ڈسپلن کا بھی ایسے مظاہرہ کیا تھا کہ تمام طالب علموں نے گھنٹہ گھر کے پاس ترتیب سے اپنے جوڑے جوتوں کے رکھے اور پیدل اس مقام تک پہنچے اس شہید کو خراج عقیدت پیش کر نے کیلئے مظہر جاوید نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد اس وقت موجود تھی اور اس کی رپورٹ بھی انہوں نے تیار کر کے اپنے مامو ممتاز طاہر سینیئر صحافی جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور اپنے دوسرے ماموں عزیز انجم صاحب کو دکھائی تھی مظہر صاحب نے بتایا کہ انہیں لکھنے لکھانے کا شوق بچپن ہی سے تھا اور اس میں ان کی نانی اماں اور مذکورہ مامو کا بڑا ہاتھ ہے مظہر جاوید نے بتایا کہ بچپن میں جب وہ صرف چھ سال کے تھے تو نوائے ملتان کا ایک ایڈیشن بچوں کا میگزین اتا تھا وہ اس کی اخبارات میں فولڈنگ کیا کرتے تھے اور پھر ان پیپرز کو باقاعدہ پوسٹ کرنے کے لیے ڈاکخانے لے جاتے تھے اور یہ اخبار مشرقی پاکستان تک جایا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جس وقت نوائے ملتان کا افتتاح ہوا تھا تو تقریب میں مخدوم شوکت حسین گیلانی مخدوم حامد رضا گیلانی مخدوم علمدار حسین گلانی رحمت حسین گیلانی اور بڑی بڑی شخصیات نے شرکت کی تھی سینیئر صحافی مظہر جاوید نے بتایا کہ انہوں نے 1973 میں باقاعدہ رپورٹنگ شروع کر دی تھی اور وہ نوائے ملتان میں خبریں دیا کرتے تھے ان کی پہلی خبر بھائی نیم ایک رپورٹ تھی جو کہ انہوں نے ایک مشاعرہ تقریب اٹینڈ کیا تھا اور اس کی رپورٹ تیار کرکے اپنے ماموں ممتاز طاہر اور عزیز انجم کو دکھائیں انہوں نے اس کو بڑا پسند کیا اس وقت ان کے ماموں عزیز انجم نے ان کو باقاعدہ مذہبی رپورٹنگ کے حوالے سے سکھانا شروع کیا اور بڑے ماموں ممتاز طاہر نے ان کو سیاسی رپورٹنگ سکھائئ مظہر جاوید نے بتایا کہ 74ء میں ان کے ماموں ممتاز طاہر نے سنگ میل ایک سال کے لیے ٹھیکے پر لے لیا تھا اے ایم ار روحانی صاحب سے اور اس کے لیے بڑی محنت بھی کی تھی اور اس کے بعد چھ ستمبر 1975 کو روزنامہ افتاب کا ڈکلیریشن حاصل کر کے اس کی اشاعت شروع کردی۔مظہر جاوید نے بتایا کہ روزنامہ افتاب کا پہلا ایڈیشن لاہور سے چھپ کر آ یا تھا جس بس پر ملتان پہنچا تو بس کی چھت ایڈیشن بنڈلز سے بھری ہوئی تھی ۔روزنامہ آ فتاب کی کتابت شمس ملک مرحوم اور باسم میواتی کرتے تھے اور اس اخبار میں لیڈ ایسے شاعرانہ انداز سے نکالی جاتی تھی اور اس کو ٹیبل بجاکر باقاعدہ گیت کے انداز میں پڑھا بھی جاتا تھا ۔جاسوسی ناول کے خالق مظہر کلیم سب ایڈیٹر فرائض سر انجام دیتے تھے ۔ابھی آ فتاب کو شاہع ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہی ہوا تھا کہ ٹریڈ یونین امروز نے تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتال کی کال دے دی اور جب احتجاج بڑھا چند روز تک جاری بھی رہا تو ایک دن صوبائی وزیر اعتزاز احسن جن سے ان کا پہلے ایک پریس کانفرنس میں تعارف بھی ہو چکا تھا وہ موقع پر ائے اور پل شوالہ پر جب ملازمین ہڑتال پہ تھے اور ان میں زیادہ تر روزنامہ امروز جو کہ اس وقت بہت بڑی اشاعت میں شائع ہوتا تھا اس کے ملازمین شامل تھے ایسے میں صوبائی وزیر نے مجھے پہچان لیا اور مجھ سے پوچھا کہ افتاب کو شائع ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو میں نے کہا کہ ابھی تو ایک ماہ ہوا ہے تو انہوں نے حیرانگی سے پوچھا تو تنخواہوں کا کیسے مسئلہ ہو سکتا ہے ابھی تو ایک ماہ مکمل ہوا ہے تو دو چار دن تنخواہ میں تاخیر بھی ہو جاتی ہے اس کے بعد مظہر جاوید نے بتایا کہ ہڑتال کے دنوں میں بھی روزنامہ افتاب نے اپنی اشاعت بند نہیں کی تھی ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈ یونین ایک اچھا اقدام ہے مگر اس کی طرف سے ہڑتال کے دوران اداروں کو بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ادارے بند ہونے سے کارکنان کو فرق پڑتا ہے انہوں نے بتایا 77 ءکی تحریک میں روزنامہ افتاب نے ہیڈ لائن چھاپی تھی" بھٹو کے ساتھی سارے سفید ہاتھی" جس پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا ہوا کچھ یوں تھا کہ بھٹو کے قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور جب بھی سابق ذولفقار علی بھٹو ملتان اتے تھے تو نواب صادق قریشی کے ہاں ہی قیام کرتے تھے تو ان کے مقابلے میں چاچا ملک عطا اللہ نے کاغذات جمع کرا دیئے ازاد حیثیت میں 'اس کا یہ عمل کچھ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کو اچھا نہیں لگا اور انہوں نے ملک عطا اللہ کو اغوا کرا لیا بلکہ ان پر پرچہ بھی کرا دیا تھا لیکن ان کے وکیل نے ان کے کاغذات جمع کرا دیے تھے وہ ہنگامہ اتنا بڑھ تھا پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت بھی سامنے آ گئی تھی ۔77ء کی تحریک میں انہوں نے بھرپور رپورٹنگ کی ۔اس تحریک کے حوالے سے بی بی سی سے کہ اس وقت کے نمائندے مارک ٹیلی بھی ملتان پہنچ گئے تھے اس زمانے میں نوائے وقت اور افتاب نے 77ء کی تحریک کو بھرپور رپورٹنگ کی جبکہ امروز اخبار جو کہ سرکاری اخبار ہے اس نے اس کو ناکام لکھتا رہا اس دوران خواتین کا بھی ایک بہت بڑا اجتماع ہوا تھا اور اس میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین نے قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی تھیں اور احتجاج کیا تھا مظہر جاوید نے بتایا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش ایا کہ وہ نئے نئے رپورٹنگ کے میدان میں آ ئے تھے انہوں نے کرائمز رپورٹنگ شروع کی ہی تھی تو ایک دن سینیئر صحافی خان ظفر اللہ خان نے جو کہ سنگ میل میں کام کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اپ ریڈ لائٹ ایریا کے حوالے سے کیوں نہیں سٹوری دیتے ہیں میں نے اس کا ذکر دفتر میں کیا تو اس وقت ہمارے ایک نمائندے غلام علی بھی موجود تھے انہوں نے جن کا تعلق غالبا مظفرگڑھ سے تھا نے بھی کہہ دیا کہ اس کی سرپرستی ایک ایس ایچ او کرتے ہیں خیر وہ سٹوری بنائی اور وہ نمایاں طور پر شائع بھی ہو گئی ہوا کچھ یوں کہ اس سٹوری کے شائع ہونے کے بعد وہ چوک کچہری پر کھڑے تھے کہ وہ ایس ایچ او جس کے خلاف میں نے سٹوری چھاپی تھی اس نے سکوٹر میں مجھے لفٹ دیتے ہوئے بٹھا لیا اور راستے میں کہا کہ اپ روزنامہ روز امروز میں کام کرتے ہیں تو میں نے جواب نہیں دیا لیکن وہ یہی سمجھا تھا تو راستے میں بات چیت ہوتے ہوئے میں نے پوچھا کہاں جا رہے ہیں اپ !!تو اس نے کہا کہ کوئی مظہر جاوید نامی صحافی ہے اس نے میرے خلاف خبر چھاپی ہے میں اس کو گرفتار کرنے جا رہا ہوں اور سکوٹر کے فرنٹ پر رکھی ہتھکڑی کی طرف اشارہ بھی کیا اب میں دبک کر اور خاموش بیٹھا رہا اور محمد احمد خان ایس ایچ او نے مجھے روزنامہ امروز ڈیرہ اڈے ا کے دفتر پر اتار دیا میں محترم مسعود اشعر صاحب سینیئر صحافی کے دفتر میں چلا گیا اور سارا واقعہ ان کو بتا دیا انہوں نے میرے افس میں فون کرکے آ گا ہ کر دیا اور محمد احمد خان جو کہ مجھے چھوڑ کر مجھے ہی گرفتار کرنے کے لیے میرے افس میں پہنچ چکا گیا تھا پھر وہ وہاں طویل انتظار کے بعد چلا گیا اور میں ملتان کا پہلا صحافی بنا جس کے خلاف مقدمہ 500 اور 501 کے تحت درج کیا گیا تھا اس کے بعد ایس پی کی ایک پریس کانفرنس کے دوران جب تمام صحافی موجود تھے تو انہوں نے احتجاج شروع کر دیا کہ ہمارے ایک صحافی کے خلاف غلط پرچہ درج کیا گیا ہے تو ایس پی نے فورا اس ایس ایچ او کو وائرلس پر طلب کر لیا اور اس وقت جب پریس کانفرنس کے دوران ہی محترم فخر الدین بلے صاحب بھی موجود تھے تو انہوں نے معاملے کو تھوڑا سا ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن ایس پی صاحب کا موقف تھا کہ انسپکٹر نے ان کی اجازت کے بغیر کسی بھی صحافی کا کے خلاف پرچہ کیوں درج کیا ہے خیر بات یہاں ا کر ختم ہوئی کہ محترم فخر الدین بلے صاحب کے افس میں ایس ایچ او اور مظہر جاوید صاحب کو بلا کر معاملے کو ختم کر دیا جائے گا اس کا بھی ایک دلچسپ پہلو تھا کہ جس وقت محمد احمد خان ایس ایچ او فخر الدین بلے کے دفتر میں پہنچ گئے تو میں پہلے سے ہی جا کر دفتر بیٹھ گیا تھا تو ایس ایچ او نے کہا کہ اپ ان کو کیوں نہیں بلاتے مظہرجاوید کو جس نے میرے خلاف خبر لگائی ہے تو فخر الدین بلے صاحب بولے یہی تو مظہر جاوید ہے وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا اور کہا کہ یہ تو امروز میں کام کرتے ہیں اور مظہر جاوید تو سنگ میل کے رپورٹر ہیں تصدیق ہونے کے بعد کہا دیکھو میں جسے گرفتار کرنے جارہا ہوں اور اسی ملزم کو ہی لفٹ بھی دے رہا تھا ۔خیر یہ معاملہ ختم ہوگیا اور مجھے پتہ چلا کہ جس نمائندے غلام علی نے خبر میں ایس ایچ او کا نام لکھوایا تھا اس کی ایس ایچ او سے پرانی رنجش چلی آ رہی تھی ۔اس دن کے بعد میں نے تہیہ کر لیا کہ کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شائع نہیں کروں گا۔مظہر جاوید نے بتایا کہ انہوں نے کچھ عرصہ وفاق لاہور اور جسارت کراچی میں بھی کام کیا ہے بلکہ جسارت کراچی میں تو کافی عرصے تک کام کیا ہے اس کے علاوہ عبدالقادر حسن سینٹر صحافی ہی کا ایک میگزین افریشیا ہوتا تھا اس میں بھی میں کالم لکھا کرتا تھا مظہر جاوید نے خبریں میں انٹری کے حوالے سے بتایا کہ محترم ضیا شاہد صاحب سے ان کا تعارف ان کے ماموں ممتاز طاہر صاحب جو کہ اے پی این ایس کے طویل مدت تک نائب صدر رہ چکے تھے انہوں نے ایک کنوینشن لاہور بلوایا تھا تو اس کے لیے مجھے انہوں نے سٹیج سیکرٹری کا کہا جب میں لاہور پہنچا تو محترم ضیا شاہد صاحب نے پہلے ہی سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی اور اس طرح اس فنکشن میں جو کہ ایک بہت بڑا فنکشن تھا اس میں' میں نے محترم ضیا شاہ صاحب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھاتے ہوئے دیکھا اور ان کے انداز سے اس قدر متاثر ہوا کہ میں ان کا فین ہو گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ضیاء شاہد صاحب کے گھر ماڈل ٹاؤن میں بڑے بڑے صحافیوں کے ساتھ ناشتہ بھی کر چکے ہیں پھر ملتان میں روزنامہ خبریں کے بیورو افس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ملتان میں روزنامہ خبریں کا افس اٹو پلازہ ڈیرا اڈا میں تھا اور افس میں پرویز اعوان بھی کام کرتے تھے ان دنوں اسلم اکرام صاحب نے مجھے ضیا شاہد صاحب سے ملوایا ضیا صاحب چونکہ مجھے میرے مامو ممتاز طاہر کے حوالے سے پہلے ہی جان چکے تھے تو انہوں نے رضامندی ظاہر کر دی اور ملتان اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے جوائن کرنے کو کہا ان دنوں میری پریس کلب کے الیکشن میں مصروفیت بہت زیادہ تھی تو میں نے ایک سینیئر صحافی ایڈوکیٹ حامد سعید ملک صاحب کا تعارف کرایا کہ ان کو اپ بےبیورو چیف بنا دیں جبکہ لاہور انتظامیہ کا موقف یہی تھا کہ بیورو چیف میں بنوں مظہر جاوید نے بتایا کہ امتیاز فوٹوگرافر کے والد کا نشتر میں ایک بک سٹال ہوتا تھا وہی ہمارے پہلے نیوز ایجنٹ بنے اور ملتان میں بغیر ایجنسی کے پہلے دن پانچ ہزار رنگین اخبار پہنچا تھا تو ہم نے اس کو مارکیٹ میں فروخت کر دیا اور اس کی امدن کو لاہور ہیڈ افس میں بھجوا دیا ہیڈ افس نے اس میں سے ایجنسی کا جو کمیشن تھا وہ ملتان افس کے لیے بھجوا دیا کہ اس کو افس کے اخراجات کے لیے استعمال کر لیں روزنامہ خبریں ملتان کا بیورو آ فس اٹو پلازہ سے بلقیس پلازہ بامن جی چوک پر ایک پلازے میں شفٹ ہو گیا تھا۔مظہرجاوید نے اپنے صحافتی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے روزنامہ خبریں کہ چینل فائیو کے لیے بھی تھوڑا عرصہ کام کیا تھا لیکن انہوں نے پھر روزنامہ خبریں کے لیے اپنی خدمات پیش کر دیں حالانکہ انتظامیہ چاہتی تھی کہ میں چینل فائیو کے لیے کام کرو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے روزنامہ خبریں ملتان سے شائع ہونے کے بعد اس میں مختلف عہدوں پر بھی کام کیا اور اسی افس میں روزنامہ نیا اخبار میں بھی اپنی خدمات پیش کی اور روزنامہ نیا اخبار میں بطور جوائنٹ ایڈیٹر بھی کام کیا اس کے علاوہ روزنامہ خبریں ملتان کے چیف رپورٹر بھی رہ چکے ہیں اور اب گزشتہ کئی برس سے روزنامہ افتاب جو کہ ان کے ماموں ممتاز طاہر صاحب نے شروع کیا تھا اور اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو اسی اخبار میں بطور جوائنٹ ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔مظہر جاوید نے ملتان پریس کلب کے لیے بھی بڑی خدمات سر انجام دی ہیں اور وہ کئی بار سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی کامیاب ہو چکے ہیں اور ان دنوں بھی ایگزیکٹو باڈی کے ممبر ہیں انہوں نے بتایا کہ پریس کلب کے قیام کے وقت بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ وہ سنگ میل میں جونیئر رپورٹر کے طور پر کام کر رہے تھے کہ پریس کلب کے قیام کے حوالے سے نواں شہر میں بڑے نامور صحافی حضرات نے یہ خبر تیار کی اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خبر کو ری رائٹ انہوں نے کیا اور پریس کلب کے قیام کے حوالے سے ان کا نام اس حوالے سے شامل ہو گیا ہے کہ اس کی خبر کو ری رائٹ ان کے ہاتھوں نے کیا تھا اور وہ اخبار میں شائع ہوئی تھی مظہر جاوید ملتان پریس کلب کی تقریبات کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور اپنے اس دور میں انہوں نے بڑے بڑے پروگرام ارگنائز کیےہیں۔مظہر جاوید طویل عرصے سے ریڈیو پی ٹی وی اور دیگر چینلز پر تجزیہ نگار کی حیثیت سے بھی دکھائی دیتے ہیں اور اج بھی فیلڈ میں کوئی بھی واقعہ ہو جائے یا کوئی بھی بڑی شخصیت ملتان میں ائے تو قلم کاغذ کے ساتھ موقع پر رپورٹنگ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔مظہر جاوید صاحب بات چیت کے دوران اس قدر گم ہوگئے تھے کہ وقت کا احساس ہی نہیں رہا اور وہ تو ہماری بھتیجی نے بتایا کہ ابو بچے سکول انتظار کر رہے ہیں ان کو نہیں لاناہے اور پھر اوہ ہو اوہ کرتے اٹھے اور کہا کہ یار آ غا تونے یہ کیسا شاندار سلسلہ شروع کیا ہے کہ تیرے ساتھ ملا قات میں وقت کے گزرنے کا احساس نہیں رہتا ہے اور جب اس کالم کو شائع کرتا ہے تو پڑھنے والا ایک بار بس پڑھنا شروع کردے تو اس کے اختتام تک ماضی کی یادوں میں گم رہتا ہے ۔ڈھیرو دعائیں دیں اور کہا اسی طرح "ملتان کے سلطانوں"کے بارےمیں لکھ کر ملاقاتیں کراتے رہیں ۔مظہر صاحب نے اپنے نواسوں کو سکول سے لانے کے لیے موثر سائیکل اسٹارٹ کی اور ہم نے اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کرکے گھر کی طرف موڑ لی ۔