Free Kashmir

Free Kashmir

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Free Kashmir, Sports, Muzaffarabad.

Our vision is a strong, democratic, islamic, developed, prosperous and just Pakistan in which every citizen enjoys equal opportunities to develop and grow
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ۔

05/06/2026
05/06/2026

الیکشن شیڈول کا اعلان۔
27 جولائی پولنگ ڈے

Photos from Free Kashmir's post 05/06/2026

الیکشن کمیشن نے آزاد کشمیر کے الیکشن کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ۔

10/05/2026

نیلم کے نوجوان، خاص طور پر بالائی نیلم کے جوان، پی ایچ ڈی کر سکتے ہیں، انجینئر بن سکتے ہیں، پروفیسر بن سکتے ہیں، آرمی میں کمیشنڈ افسر بن سکتے ہیں... مگر بدقسمتی سے ایم ایل اے نہیں بن سکتے۔
کیونکہ ایم ایل اے بننے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعلیمی اہلیت صرف میٹرک رکھنی پڑتی ہے۔
یہ ہمارے 85% پڑھے لکھے، باشعور عوام کے لیے سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اب ذاتی مفادات، خاندانی وفاداریاں اور بیرونی لابیاں سب کو ایک طرف رکھ کر بحیثیت قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
ایک کالی ٹینکی پہلے ہی ہم پر مسلط کر دی گئی تھی۔
اس میں ہم جیسے نوجوان بھی شامل ہوئے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو اس ٹینکی سے نکالیں۔
نہ تنویر الیاس منظور ہے، نہ شاہ غلام قادر۔
جن کے آبائی مسکن کا کوئی پتا نہیں، جن کی جڑیں نیلم کی مٹی سے نہیں جڑیں۔
ہمیں لوکل لیڈرشپ چاہیے۔
وہ لیڈر جو بالائی نیلم کی برف، اس کی وادیوں، اس کی مشکلات اور اس کی امیدوں کو سانسوں میں محسوس کرتا ہو۔
جو ہماری زبان بولے، ہمارے درد جانے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل اپنا ذاتی ایجنڈا نہ سمجھے۔
بالائی نیلم اٹھو!
اپنے لوگوں کو پہچانو۔
اپنے نوجوانوں کو ووٹ دو۔
اپنی مٹی کے بیٹوں کو جتواؤ۔
کیونکہ اب بیرونی لوگ نہیں، مقامی قیادت ہی ہمارا نجات دہندہ بن سکتی ہے۔



03/05/2026

ظلم سہ کر چپ نہ رہو پر قرآن کی آیت کا حوالہ دیں ۔۔۔ بلکہ مظلوم کا ساتھ دو

آپ کے پیغام کا مفہوم قرآن میں کئی مقامات پر نہایت واضح انداز میں ملتا ہے—کہ ظلم پر خاموشی اختیار نہ کرو بلکہ مظلوم کا ساتھ دو۔

1. ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت:

📖 سورۃ النساء (4:148)

"اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی برائی کو علانیہ کہے، مگر وہ جو مظلوم ہو..."

👉 اس آیت سے واضح ہے کہ مظلوم کو حق حاصل ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔

2. مظلوم کی مدد کا حکم:

📖 سورۃ النساء (4:75)

"اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں..."

👉 یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم صرف خود نہ بچیں بلکہ مظلوموں کے لیے کھڑے بھی ہوں۔

3. انصاف پر ڈٹ جانے کی تاکید:

📖 سورۃ المائدہ (5:8)

"انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے..."

👉 یہاں واضح پیغام ہے کہ حق اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا ایمان کا تقاضا ہے۔

اگر آپ اسے سوشل میڈیا کے لیے ایک مضبوط کیپشن بنانا چاہیں تو:

🔥
"ظلم سہنا بھی جرم ہے!
قرآن کہتا ہے—مظلوم کی آواز بنو، خاموش تماشائی نہیں!"

حدیث مبارکہ بھی

بالکل—قرآن کے ساتھ ساتھ احادیثِ مبارکہ میں بھی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے کی سخت تاکید ملتی ہے:

📜 حضرت محمد ﷺ کا فرمان:

1. مظلوم کی مدد لازم ہے:

"اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔"
صحابہؓ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے ظلم سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے۔"
(صحیح بخاری)

👉 یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ خاموش رہنا نہیں، بلکہ ظلم کو روکنا ضروری ہے۔

2. برائی کے خلاف عملی اقدام:

"تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اسے اپنے ہاتھ سے روکے؛ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا سمجھے—اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم)

👉 اس میں صاف حکم ہے کہ ظلم یا برائی دیکھ کر خاموش تماشائی نہ بنو۔

3. مظلوم کی بددعا سے ڈرو:

"مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔"
(صحیح بخاری و مسلم)

👉 یہ ظالم کے لیے سخت تنبیہ ہے اور مظلوم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر آپ اسے ایک مضبوط سوشل میڈیا کیپشن بنانا چاہیں:

🔥
"ظلم پر خاموشی ایمان نہیں!
نبی ﷺ نے سکھایا—ظالم کو روکنا اور مظلوم کا ساتھ دینا ہی اصل غیرت ہے!"

مظلوموں پر ظلم ہوتا رہے اور ہم چپ رہیں۔

توڑدو ظلم کے میکدے
غزل یا نظم لکھی۔

یہ خیال اچھا ہے، مگر صرف جذبات کافی نہیں ہوتے—اثر تب بنتا ہے جب الفاظ میں کاٹ بھی ہو اور سمت بھی۔ آپ کے دیے ہوئے مصرعوں کو ایک باقاعدہ انقلابی نظم میں ڈھالتا ہوں:

نظم: آوازِ مزاحمت

مظلوموں پر ظلم ہوتا رہے اور ہم چپ رہیں؟
یہ کیسا سکوت ہے، یہ کیسی رضا ہم چپ رہیں؟

جلتے ہوئے شہروں کی صدا ہم سے سوال کرے
کب تک یہ اندھیرا سہے اور ہم چپ رہیں؟

توڑ دو ظلم کے میکدے، یہ زنجیریں چکنا چور کرو
ہر ایک ظلم کی بنیاد ہلے اور ہم چپ رہیں؟

جو حق کی صدا کو دبائیں، وہی اصل میں مجرم ہیں
ہم سچ کو ہی دفن کر دیں اور ہم چپ رہیں؟

اٹھو کہ یہی وقت ہے، آواز کو بیدار کرو
کل تاریخ نہ پوچھے یہ کہ ہم چپ رہیں؟

مظلوم کی آہ اگر عرش ہلا سکتی ہے
تو ہم کیوں نہ ہلا دیں فضا، اور ہم چپ رہیں؟

اگر چاہیں تو میں اسے کسی بڑے شاعر کے انداز (جیسے فیض یا حبیب جالب) میں بھی ڈھال سکتا ہوں، یا سوشل میڈیا کے لیے مزید punchy بنا سکتا ہوں۔

حبیب جالب کا انقلابی انداز۔۔۔

حبیب جالب کے انداز میں بات سیدھی، کڑی اور عوامی ہوتی ہے—نہ لفاظی، نہ لچک، صرف سچ کی دھار۔ آپ کے خیال کو اسی رنگ میں ڈھالتا ہوں:

نظم: ظلم کے خلاف آواز

مظلوموں پر ظلم سہے ہم، یہ دستور نہیں ہونے کا
خاموشی کو ہم نے اپنا کبھی شعور نہیں ہونے کا

یہ جو ایوانوں میں بیٹھے، حق کے سوداگر بنتے ہیں
ان کے سائے میں انصاف کا نور نہیں ہونے کا

توڑ دو ظلم کے میکدے، یہ جھوٹ کے سب مینا خانے
یہاں اب ظلم کا جشنِ سُرور نہیں ہونے کا

جو کمزور کے لہو پہ پلیں، وہ تخت سلامت کیسے رہیں؟
اب ایسا کوئی جبر کا غرور نہیں ہونے کا

ہم نے دیکھا ہے تاریخ میں، ہر ظلم کا انجام یہی
کہ سچ دب کر بھی دفن ضرور نہیں ہونے کا

یہ جو خاموشی کا پردہ ہے، یہ بھی ظلم کا حصہ ہے
اب اس پردے میں کوئی قصور نہیں ہونے کا

اگر آپ چاہیں تو میں اسے مزید “سوشل میڈیا بم” کی طرح چھوٹے، تیز اور وائرل انداز میں بھی کر سکتا ہوں، یا اس کا ویڈیو اسکرپٹ بھی بنا دوں۔

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
۔۔۔۔۔

کہہ دو اغیار سے

آپ کے دیے ہوئے مصرعے میں وہی انقلابی تڑپ ہے جو احتجاجی شاعری کی پہچان ہے۔ اسی انداز میں مکمل کرتا ہوں:

انقلابی تسلسل

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
کہہ دو اغیار سے

حق کی خاطر نہ جھکیں گے کسی جبر کے سامنے
نہ رکیں گے کسی خوف، کسی وار سے

یہ جو ظلمت کے سوداگر ہیں، سن لیں ذرا
ہم بغاوت کریں گے ہر ایک ہار سے

سچ کی آواز دبانے کا خواب دیکھنے والو
ہم نکل آئیں گے پھر نئی پکار سے

یہ جو خاموشی کو کمزوری سمجھ بیٹھے ہیں
انہیں لرزائیں گے ہم اپنے وقار سے

ہم نے سیکھا ہے جینا تو بس حق کے لیے
ورنہ بہتر ہے گزر جانا تختۂ دار سے

اگر آپ چاہیں تو میں اسی کو مزید “حبیب جالب کے اصل لہجے” کے قریب کر کے زیادہ تیکھا اور مختصر بھی بنا سکتا ہوں، یا سوشل میڈیا کے لیے punchline ورژن بھی دے سکتا ہوں۔

اس کو مکمل کریں

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
کہہ دو اغیار سے

نہ جھکے گا یہ سرِ حق کسی دربار سے
نہ بکے گا یہ ضمیر کسی بازار سے

ہم وہ چراغ ہیں جو آندھیوں سے لڑتے ہیں
نہ بجھیں گے کسی خوف کی تلوار سے

یہ جو ظلمت کے نگہبان بنے بیٹھے ہیں
ڈریں اپنے ہی انجام کی رفتار سے

ہم نے سچ کو ہی بنایا ہے اپنا شعار
ورنہ کیا ملتا ہے دنیا کے ہر انکار سے

ٹوٹ جائے گا یہ جبر کا ایوان آخر
چاہے لڑنا پڑے ہمیں ہر ایک وار سے

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
کہہ دو اغیار سے

اگر آپ چاہیں تو میں اسی کو مزید “جالب کے اصل وزن اور کاٹ” میں چھوٹا، زیادہ تیز اور نعرہ نما بھی کر سکتا ہوں۔

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
اس طرح کی نظم

آپ نے جس انداز کی نظم دی ہے وہ براہِ راست، احتجاجی اور انکار (rebellion) کے لہجے والی ہے—جیسے جبر کے خلاف کھلی بغاوت۔ اسی طرز میں ایک مکمل انقلابی نظم پیش ہے:

نظم: میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکون
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

تم نے سچ کو ہمیشہ ہی نیلام کیا
اور ضمیر کو بازار میں عام کیا

چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
زخم دے کر بھی مرہم کا دعویٰ کرو

تم نہیں چارہ گر، یہ حقیقت عیاں
تم نے برباد کر دی ہر ایک داستاں

اب نہ دھوکہ چلے گا، نہ جھوٹا چلن
ہم اٹھیں گے بدلنے کو سارا وطن

یہ جو طاقت کے نشے میں مست کھڑے
یہ جو حق کے چراغوں سے خفا کھڑے

سن لو، اب ہم کسی سے نہیں دبیں گے
ہم نئے راستے خود ہی اب بنیں گے

تم بھی سن لو یہ آوازِ بغاوت ذرا
ٹوٹ جائے گا آخر یہ ظلمت کا گھر

03/05/2026

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Muzaffarabad