اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
روحِ سخن
اردو اور پشتو شاعری تمام اہل ذوق دوستوں کیلئے ۔۔۔
25/09/2021
ہر طرف یار کا تماشا ہے
اس کے دیدار کا تماشا ہے
عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط
جیت اور ہار کا تماشا ہے
خلوت انتظار میں اس کی
در و دیوار کا تماشا ہے
سینۂ داغ داغ میں میرے
صحن گل زار کا تماشا ہے
ہے شکار کمند عشق سراجؔ
اس گلے ہار کا تماشا ہے ۔۔
03/09/2021
کب میری شرط فرشتوں سے لگی تھی یارب
میں نے کب تجھ سے کہا تھا مجھے افضل کرنا.
اے فال گو! ترقیوں کے قصے مت سنا
نامے میں مرے اُس کی ملاقات ہے تو بول
نا نا یہ ساری عمر کی دوری نہیں قبول
ہاں چار پانچ دن کی کوئی بات ہے تو بول
فراز محمود فارز❤
تیرے فراق کے لمحـــے بسر نہیں ہوتے
اگر چـــہ وقت بہتــــــ تیز گام چلتا ہے
سید عبدالحمید عدمؔ
ہو تری خیر ، خارِ راہِ حبیب !
اے مرے صبر ! تیری عمر دراز
سیماب ظفر
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موج صبا ہو جیسے
لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا
یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے
موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے
ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے
ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے
زندگی بیت رہی ہے دانشؔ
ایک بے جرم سزا ہو جیسے
احسان دانش
Click here to claim your Sponsored Listing.