25/09/2021
پیر و مرشد
اردو اور پشتو شاعری تمام اہل ذوق دوستوں کیلئے ۔۔۔
25/09/2021
ہر طرف یار کا تماشا ہے
اس کے دیدار کا تماشا ہے
عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط
جیت اور ہار کا تماشا ہے
خلوت انتظار میں اس کی
در و دیوار کا تماشا ہے
سینۂ داغ داغ میں میرے
صحن گل زار کا تماشا ہے
ہے شکار کمند عشق سراجؔ
اس گلے ہار کا تماشا ہے ۔۔
03/09/2021
کب میری شرط فرشتوں سے لگی تھی یارب
میں نے کب تجھ سے کہا تھا مجھے افضل کرنا.
اے فال گو! ترقیوں کے قصے مت سنا
نامے میں مرے اُس کی ملاقات ہے تو بول
نا نا یہ ساری عمر کی دوری نہیں قبول
ہاں چار پانچ دن کی کوئی بات ہے تو بول
فراز محمود فارز❤
تیرے فراق کے لمحـــے بسر نہیں ہوتے
اگر چـــہ وقت بہتــــــ تیز گام چلتا ہے
سید عبدالحمید عدمؔ
ہو تری خیر ، خارِ راہِ حبیب !
اے مرے صبر ! تیری عمر دراز
سیماب ظفر
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موج صبا ہو جیسے
لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا
یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے
موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے
ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے
ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے
زندگی بیت رہی ہے دانشؔ
ایک بے جرم سزا ہو جیسے
احسان دانش
کچھ تذکرہ عشق رہے حضرت ناصح
کانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار محبت
داغ دہلوی
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا
بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا
تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی
تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا
سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا
مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا
ہری چند اختر (1901-1958)
تنہا نہ پی شراب، ہمیں بھی پلا کے پی
اے پینے والے! ہم سے نگاہیں لڑا کے پی
رحمت کا آسرا ہے تو ہر غم پہ چھا کے پی
بے خوف ہو کے جام اٹھا، مسکرا کے پی
میخانہ تیرا، جام ترا، رِند بھی ترے
ساقی! مزا تو جب ہے، کہ سب کو پلا کے پی
ساغر اٹھا تو ہر غمِ دنیا کو بھول جا
پینے کا وقت آئے تو کچھ گُنگنا کے پی
شاید نہ کوئی اور جُھکے تیرے سامنے
زاہد ! زرا صُراحی کی گردن جھُکا کے پی
ساغر ہے صرف رندِ تُنک ظرف کے لیئے
اے مے پرست ! خم کبھی منہ سے لگا کے پی
پینے میں احتیاط کا پہلو بھی چاہیئے
مخلوق کو نہ اپنا تماشا دکھا کے پی
اے بادہ کش ! وہ آج نظر سے پلائیں گے
ساغر کو پھینک، آنکھوں سے آنکھیں ملا کے پی
آدابِ مے کشی کے تقاضے سمجھ نصیرؔ
ساغر اٹھا کے اور نگاہیں جما کے پی
پیر سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانی
اس کو ہوگی بڑی پشیمانی
اب جو ہم آزمائے جائیں گے
جون
Click here to claim your Sponsored Listing.