پیر و مرشد

پیر و مرشد

Share

اردو اور پشتو شاعری تمام اہل ذوق دوستوں کیلئے ۔۔۔

25/09/2021
06/09/2021

ہر طرف یار کا تماشا ہے
اس کے دیدار کا تماشا ہے

عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط
جیت اور ہار کا تماشا ہے

خلوت انتظار میں اس کی
در و دیوار کا تماشا ہے

سینۂ داغ داغ میں میرے
صحن گل زار کا تماشا ہے

ہے شکار کمند عشق سراجؔ
اس گلے ہار کا تماشا ہے ۔۔

03/09/2021

‏کب میری شرط فرشتوں سے لگی تھی یارب
میں نے کب تجھ سے کہا تھا مجھے افضل کرنا.

03/09/2021

اے فال گو! ترقیوں کے قصے مت سنا
نامے میں مرے اُس کی ملاقات ہے تو بول

نا نا یہ ساری عمر کی دوری نہیں قبول
ہاں چار پانچ دن کی کوئی بات ہے تو بول

فراز محمود فارز❤

03/09/2021

تیرے فراق کے لمحـــے بسر نہیں ہوتے
اگر چـــہ وقت بہتــــــ تیز گام چلتا ہے
سید عبدالحمید عدمؔ

02/09/2021

‏ہو تری خیر ، خارِ راہِ حبیب !
اے مرے صبر ! تیری عمر دراز

سیماب ظفر

29/08/2021

یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موج صبا ہو جیسے

لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

عشق کو شرک کی حد تک نہ بڑھا
یوں نہ مل ہم سے خدا ہو جیسے

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے

زندگی بیت رہی ہے دانشؔ
ایک بے جرم سزا ہو جیسے

احسان دانش

29/08/2021

‏کچھ تذکرہ عشق رہے حضرت ناصح
‏کانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار محبت

داغ دہلوی

08/08/2021

ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا

رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا

بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا

تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی
تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا

سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا

مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا

بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا

ہری چند اختر (1901-1958)

08/08/2021

تنہا نہ پی شراب، ہمیں بھی پلا کے پی
اے پینے والے! ہم سے نگاہیں لڑا کے پی

رحمت کا آسرا ہے تو ہر غم پہ چھا کے پی
بے خوف ہو کے جام اٹھا، مسکرا کے پی

میخانہ تیرا، جام ترا، رِند بھی ترے
ساقی! مزا تو جب ہے، کہ سب کو پلا کے پی

ساغر اٹھا تو ہر غمِ دنیا کو بھول جا
پینے کا وقت آئے تو کچھ گُنگنا کے پی

شاید نہ کوئی اور جُھکے تیرے سامنے
زاہد ! زرا صُراحی کی گردن جھُکا کے پی

ساغر ہے صرف رندِ تُنک ظرف کے لیئے
اے مے پرست ! خم کبھی منہ سے لگا کے پی

پینے میں احتیاط کا پہلو بھی چاہیئے
مخلوق کو نہ اپنا تماشا دکھا کے پی

اے بادہ کش ! وہ آج نظر سے پلائیں گے
ساغر کو پھینک، آنکھوں سے آنکھیں ملا کے پی

آدابِ مے کشی کے تقاضے سمجھ نصیرؔ
ساغر اٹھا کے اور نگاہیں جما کے پی

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانی

06/08/2021

‏اس کو ہوگی بڑی پشیمانی
اب جو ہم آزمائے جائیں گے
جون

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Nawagai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Nawagai