01/05/2026
ضلع خیبر میں انٹرنیٹ بندش آخر کب تک؟
صارفین کے پیسے ضائع، مگر ذمہ دار کون؟
طلباء و طالبات کی تعلیم اور روزگار شدید متاثر...
کیا یہ مسئلہ حل ہوگا یا مزید بڑھے گا؟
From Every where u can share any things at this page, and can also see posts about fresh situation.
01/05/2026
ضلع خیبر میں انٹرنیٹ بندش آخر کب تک؟
صارفین کے پیسے ضائع، مگر ذمہ دار کون؟
طلباء و طالبات کی تعلیم اور روزگار شدید متاثر...
کیا یہ مسئلہ حل ہوگا یا مزید بڑھے گا؟
فوری توجہ درکار — شین کمر میں بگڑتی صورتحال
علاقہ شین کمر میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ دن دہاڑے موٹر سائیکل ویلنگ، کھلے عام نشہ آور سرگرمیاں، غیر قانونی کام اور ہوائی فائرنگ عروج پر ہیں۔ کئی نوجوان حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ آئے روز جھگڑے، کراس فائرنگ اور ہوائی فائرنگ جیسے خطرناک واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ انتظامیہ او
ر سیکیورٹی ادارے آخر کب جاگیں گے؟
کیا کسی بڑے سانحے کا انتظار کیا جا رہا ہے؟
ہم واضح طور پر خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری طور پر اس علاقے میں سخت قانونی کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
ڈاکٹر عبدالوھاب افریدی صدر ڈاکٹر پریکٹیشنر ویلفیئر ایسوسیشن ملک دین خیل
19/03/2026
غریب تباہ دے
پشاور: عید کے قریب فریش نوٹ عام شہری کیلئے نایاب، مگر بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں آسانی سے دستیاب۔ سوال یہ ہے کہ بینکوں کا کوٹا کہاں جاتا ہے؟ اگر نوٹ نہیں ہیں تو مارکیٹ میں کون بیچ رہا ہے؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس ناانصافی اور مبینہ ملی بھگت کا فوری نوٹس لے کر شفاف تقسیم یقینی بنائی جائے۔
Capital City Police Peshawar
KPK Police News
Deputy Commissioner Peshawar
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
Commissioner Peshawar Division, Peshawar
Riaz Khan Mahsud
وادی تیراہ کے مظلوم اور مشکلات میں ڈوبے ہوئے عوام کا تمام سیاسی پارٹیوں کے نام ایک اہم پیغام۔۔
وفاق کا افغانستان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی سب سے بڑی وجہ KPK
والوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔۔
باڑہ ڈی ٹوور روڈ پر روزانہ صبح کے وقت ابابیل فورس کی موجودگی طلباء کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ سکول و مدرسے جانے والے بچوں کو گاڑیوں سے اتار کر ان کے بیگ اور بستے چیک کیے جاتے ہیں، جس سے طلباء ذہنی دباؤ اور وقت کے ضیاع کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ عمل عوامی نمائندوں (ایم پی اے و ایم این اے) کی ہدایت کے باوجود جاری ہے، جو تشویش ناک ہے۔
محترم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے درخواست ہے کہ فوری نوٹس لیں اور ابابیل فورس کو بلاوجہ عوام، خاص طور پر طلباء، کو تنگ کرنے سے روکیں۔
اہلیان باڑہ
06/11/2025
*زوال پذیر قوموں کے لیے تاریخ کا ابدی سبق*
(ابن خلدون کا پیغام)
سات سو سال قبل لکھی گئی ابنِ خلدون کی المُقدّمہ آج بھی زندہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔
ان کی تحریریں صرف ماضی کے عروج و زوال کا مطالعہ نہیں بلکہ ہر دور کی شکست خوردہ قوموں کے لیے آئینہ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قوموں کی تباہی جنگ سے نہیں بلکہ اخلاق، علم، اور شعور کے زوال سے شروع ہوتی ہے۔
*مغلوب قوم کی نفسیات*
*طاقتور کی تقلید، کمزور کی فطرت*
*ابنِ خلدون لکھتے ہیں:*
*“مغلوب ہمیشہ غالب کی مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے —*
*وہ اس کے لباس، زبان، رسم و رواج اور طرزِ زندگی میں فخر محسوس کرتا ہے۔”*
ان کے نزدیک شکست صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی، بلکہ دل و دماغ میں ہوتی ہے۔
جب کوئی قوم اپنی خودی اور شناخت کھو دیتی ہے، تو وہ طاقتور کی نقل میں سکون ڈھونڈتی ہے۔
یہی ذہنی غلامی دراصل زوال کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
*اخلاقی زوال*
*جب عیش و عشرت غیرت کو نگل جائے*
*ابنِ خلدون کے مطابق،*
“جب قومیں عیش و عشرت میں مبتلا ہوتی ہیں، ان کے دلوں سے غیرت، محنت اور جرات ختم ہو جاتی ہے۔”
آرام طلب معاشرے محنت سے بھاگتے ہیں، اور دوسروں کی کمائی پر جینا فخر سمجھتے ہیں۔
جب عیش، کردار کی جگہ لے لیتا ہے تو قوم کا اخلاقی ڈھانچہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
طاقت صرف اس قوم کو حاصل رہتی ہے جو سختی اور سادگی کو اپنا شعار بنائے۔
📚 *علم و دانش کی گمشدگی*
*جب مفاد، فکر پر غالب آ جائے*
*ابنِ خلدون نے تنبیہ کی:*
“جب ریاستیں کمزور ہوتی ہیں تو علم کا چراغ بجھنے لگتا ہے،
سچ کہنے والے دبائے جاتے ہیں، اور جھوٹے انعام پاتے ہیں۔”
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب درباری علما، خوشامدی دانشور، اور موقع پرست اہلِ قلم معاشرے پر چھا جاتے ہیں۔
قوم علم کے نام پر نقل، اور فکر کے نام پر شور مچاتی ہے۔
یہی وہ خاموش تباہی ہے جو کسی بھی تہذیب کی بنیاد ہلا دیتی ہے۔
*ریاستوں کا انجام*
*تین نسلوں کا قانونِ زوال*
ابنِ خلدون ریاستوں کے عروج و زوال کو تین نسلوں کے دائرے میں بیان کرتے ہیں:
“پہلی نسل محنت کرتی ہے، دوسری عیش کرتی ہے، تیسری بربادی کا سامان کرتی ہے۔”
پہلی نسل قربانی اور اتحاد کی علامت ہوتی ہے،
دوسری دولت اور آرام کی دلدادہ،
اور تیسری نسل میراث کی مستحق نہیں رہتی — کیونکہ اس نے نہ محنت دیکھی، نہ قربانی دی۔
یہی ہر سلطنت کا قدرتی انجام ہے۔
*زوال کی پہچان*
*جب سچ دب جائے اور گروہ پرستی غالب آ جائے*
ابنِ خلدون کے نزدیک زوال کی واضح علامت یہ ہے کہ:
“سچ بولنے والے تنہا کر دیے جاتے ہیں،
اہلِ دانش کی آواز دب جاتی ہے،
اور لوگ گروہوں، قبیلوں، اور فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔”
اس مرحلے پر معاشرہ اپنی اجتماعی شناخت کھو دیتا ہے۔
انسانیت کے بجائے فرقہ بندی اور مفاد پرستی قوم کی پہچان بن جاتی ہے۔
حق دب جاتا ہے، باطل کو پذیرائی ملتی ہے،
اور باطن کی روشنی بجھنے لگتی ہے۔
*آج کے لیے ابنِ خلدون کا پیغام*
*بقا علم، انصاف اور کردار میں ہے۔*
ابنِ خلدون کی تحریر آج کے معاشروں پر بھی صادق آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قوموں کی بقا طاقت یا دولت میں نہیں بلکہ کردار، علم، اور انصاف میں ہے۔
جب سچائی خوف کی نذر، علم مفاد کا غلام، اور ضمیر خاموش ہو جائے —
تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔
قومیں اسی وقت بچتی ہیں جب وہ اپنی فکری خودی، اخلاقی بلندی، اور اجتماعی شعور کو زندہ رکھیں۔
یہی ابنِ خلدون کا ابدی پیغام ہے —
تاریخ کے آئینے میں آنے والے کل کا انتباہ۔