Emroz tv

Emroz tv

Share

Digital Creator
www.hindara.tv

Photos from Emroz tv's post 30/05/2026

پاکستان نیوی فٹبال ٹیم کی تاریخی کامیابی؛ کوچ محمد ارشد کی حکمتِ عملی نے ٹائٹل کا خواب حقیقت بنا دیا

غنی الرحمن

پاکستان نیوی کی شاندار فتح؛ کامیابی کے پس منظر میں کوچ محمد ارشد کی دانشمندانہ حکمتِ عملی
پاکستان میں فٹبال کا کھیل گزشتہ چند برسوں کے دوران نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور مختلف ادارہ جاتی ٹیمیں اس کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان نیوی کی فٹبال ٹیم نے گورنر پنجاب نائٹ فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کرکے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وہ ملک کی بہترین فٹبال ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹورنامنٹ میں ملک کے مختلف علاقوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والی مضبوط ٹیموں نے حصہ لیا اور شائقین کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ ہر ٹیم نے کامیابی کے لیے بھرپور محنت کی، تاہم پاکستان نیوی کی ٹیم نے ابتدا ہی سے منظم کھیل، بہترین فٹنس، شاندار دفاع اور جارحانہ حکمت عملی کے ذریعے اپنی برتری ثابت کی۔
فائنل مقابلے میں پاکستان نیوی کے کھلاڑیوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو شکست دی اور ٹرافی اپنے نام کر لی۔ میدان میں کھلاڑیوں کی باہمی ہم آہنگی، درست پاسنگ، تیز رفتار حملے اور دفاعی نظم و ضبط دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی وہ عوامل تھے جنہوں نے پاکستان نیوی کو دیگر ٹیموں پر سبقت دلائی۔
اگرچہ اس کامیابی کا سہرا کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کو جاتا ہے، لیکن اس فتح کے پس منظر میں پاکستان نیوی کے ہیڈ کوچ محمد ارشد کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ محمد ارشد پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان رہ چکے ہیں اور اپنے دور کے بہترین، تجربہ کار اور منجھے ہوئے فٹبالرز میں شمار ہوتے تھے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے محمد ارشد نے بطور کوچ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے ٹورنامنٹ سے قبل کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی تیاری پر خصوصی توجہ دی۔ ہر حریف ٹیم کی طاقت اور کمزوری کا جائزہ لیا گیا اور اسی کے مطابق حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ میدان کے اندر کھلاڑیوں کی پوزیشننگ، گیند پر کنٹرول، دفاعی لائن کی مضبوطی اور جارحانہ حملوں کی منصوبہ بندی محمد ارشد کی پیشہ ورانہ سوچ کی عکاس تھی۔
کسی بھی ٹیم کی کامیابی صرف میدان میں دوڑنے والے گیارہ کھلاڑیوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کوچ کی رہنمائی، تربیت اور اعتماد سازی بھی شامل ہوتی ہے۔ محمد ارشد نے اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند رکھا اور ہر مرحلے پر انہیں کامیابی کے لیے تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نیوی کی ٹیم پورے ٹورنامنٹ کے دوران ایک منظم یونٹ کے طور پر نظر آئی۔
پاکستان نیوی کی فٹبال ٹیم کی یہ کامیابی ادارہ جاتی کھیلوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف کھلاڑیوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور قومی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے مواقع بھی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی ٹیموں، اکیڈمیوں اور تجربہ کار کوچز کو مزید مواقع فراہم کیے جائیں تو ملک میں بے شمار نوجوان ٹیلنٹ سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان نیوی کی حالیہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ درست منصوبہ بندی، مضبوط قیادت اور محنتی کھلاڑی مل کر کسی بھی ہدف کو حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان نیوی کی یہ فتح نہ صرف ایک ٹورنامنٹ جیتنے کی کہانی ہے بلکہ یہ نظم و ضبط، بہترین کوچنگ، ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا ایسا سفر ہے جو ملک کے نوجوان فٹبالرز کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ اس کامیابی میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کوچ محمد ارشد کی فنی مہارت، دور اندیشی اور قائدانہ صلاحیتوں کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

30/05/2026

جاپان میں جاری انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے شاندار آغاز کرتے ہوئے اپنے پہلے میچ میں چین کو 0-3 سے شکست دے دی، قومی ٹیم اپنا دوسرا میچ کل ملائشیا کے خلاف کھیلے گی۔۔۔

30/05/2026

کباڑ سے کاروبار تک: لوہے، پلاسٹک اور گتے کی دنیا کی حیرت انگیز قصہ

وہ پیشہ جسے کبھی حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا، آج اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکا ہے

رپورٹ: غنی الرحمن
شہروں کی گلیوں میں ریڑھیوں پر پرانا لوہا، پلاسٹک کی بوتلیں، گتے کے ڈبے اور دیگر ناکارہ اشیاء جمع کرنے والے افراد کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ اکثر لوگ انہیں محض "کباڑی" سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہی کباڑ دنیا کی قدیم ترین معاشی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جس نے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کیا اور جدید دور میں ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر لی۔
انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کباڑ جمع کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کا تصور صدیوں پرانا ہے۔ قدیم یونان، روم اور چین میں لوگ استعمال شدہ دھاتوں کو جمع کرکے دوبارہ پگھلاتے اور نئے اوزار، ہتھیار اور گھریلو سامان تیار کرتے تھے۔ اس زمانے میں دھاتوں کی پیداوار محدود اور مہنگی تھی، اس لیے پرانے لوہے اور کانسی کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کیا جاتا تھا۔

تاریخی ماہرین کے مطابق منظم انداز میں کباڑ جمع کرنے کا کاروبار اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد فروغ پانے لگا۔ فیکٹریوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ خام مال کی ضرورت بھی بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں استعمال شدہ لوہے اور دیگر دھاتوں کو اکٹھا کرکے دوبارہ صنعتوں میں استعمال کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں سب سے پہلے ایسے افراد سامنے آئے جو گھروں، بازاروں اور فیکٹریوں سے ناکارہ اشیاء خرید کر انہیں صنعتوں تک پہنچاتے تھے۔

پلاسٹک کا کباڑ نسبتاً جدید دور کی پیداوار ہے۔ چونکہ پلاسٹک کی ایجاد بیسویں صدی کے آغاز میں ہوئی، اس لیے اس کی ری سائیکلنگ کا باقاعدہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوا۔ دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال میں بے پناہ اضافے نے حکومتوں اور صنعتوں کو مجبور کیا کہ اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے طریقے اختیار کیے جائیں۔ آج پلاسٹک ری سائیکلنگ ایک الگ صنعت بن چکی ہے جس سے اربوں ڈالر کا کاروبار وابستہ ہے۔
گتے اور کاغذ کے کباڑ کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔ اخبارات، کتابوں، پیکنگ میٹریل اور دفتری کاغذات کے بڑھتے استعمال نے پرانے کاغذ کی مانگ پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں پرانے گتے اور کاغذ کو جمع کرکے دوبارہ کاغذ سازی کی صنعت کا حصہ بنایا جانے لگا۔
برصغیر میں کباڑ کا کاروبار برطانوی دور حکومت میں زیادہ منظم ہوا، جب ریلوے، فیکٹریوں اور تعمیراتی منصوبوں میں بڑی مقدار میں دھات استعمال ہونے لگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پیشہ شہروں سے دیہات تک پھیل گیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی کباڑی مارکیٹیں قائم ہوتی رہیں اور آج ملک کے تقریباً ہر شہر میں کباڑ کی خرید و فروخت ایک اہم معاشی سرگرمی بن چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کاروبار کا کوئی ایک بانی یا موجد نہیں۔ یہ انسانی ضرورت کے تحت مختلف ادوار میں خود بخود پروان چڑھنے والا پیشہ ہے۔ جب انسان نے محسوس کیا کہ استعمال شدہ اشیاء کو دوبارہ کارآمد بنایا جا سکتا ہے تو کباڑ جمع کرنے اور فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آج دنیا بھر میں ری سائیکلنگ کی صنعت ماحولیاتی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ لوہے کا پرانا ٹکڑا ہو، پلاسٹک کی خالی بوتل یا گتے کا ڈبہ، یہ سب بظاہر بے کار نظر آنے والی اشیاء دراصل معیشت کا اہم سرمایہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں کباڑ کو "ویسٹ" نہیں بلکہ "ری سورس" یعنی قابلِ استعمال وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی ہزاروں خاندان اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ گلی محلوں میں کباڑ جمع کرنے والے افراد سے لے کر بڑی ری سائیکلنگ فیکٹریوں تک ایک مکمل معاشی زنجیر موجود ہے جو نہ صرف روزگار پیدا کرتی ہے بلکہ ماحول کو صاف رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کباڑ صرف پرانی اشیاء کا ڈھیر نہیں بلکہ محنت، روزگار، ماحولیات اور معیشت کو جوڑنے والی ایک ایسی صنعت ہے جس نے صدیوں کا سفر طے کرکے آج جدید دنیا میں ایک نئی اہمیت حاصل کر لی ہے۔
جسے لوگ بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، وہی کسی دوسرے کے لیے روزگار، صنعت اور ترقی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی کباڑ کی دنیا کا سب سے بڑا سبق ہے۔

#ماحولیات #روزگار #پاکستان

29/05/2026

صوبائی دارالحکومت پشاور میں صوابی، پشاور، چارسدہ اور مردان کےمابین میں کھیلے جانیوالے کبڈی مقابلوں نے ثابت کردیا کہ خیبرپختونخوا کی دھرتی آج بھی طاقت، جذبے اور روایتی کھیلوں کے ٹیلنٹ سے مالا مال ہے۔
جہاں ایک طرف ایونٹ کے انتظامات اور دیگر پہلوؤں پر بحث جاری رہی، وہیں دوسری جانب میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی، برق رفتار ریڈز، زبردست ٹیکلز اور جیت کے جنون سے شائقین کے دل جیت لیے۔ 🔥💪
ہر میچ میں جوش، ولولہ اور سنسنی اپنے عروج پر رہی، جبکہ نوجوان کھلاڑیوں نے یہ پیغام دیا کہ اگر انہیں بہتر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو یہی ٹیلنٹ مستقبل میں پاکستان کا نام روشن کرسکتا ہے۔
یہ ویڈیو صرف مقابلوں کی جھلک نہیں، بلکہ ان کھلاڑیوں کی محنت، جذبے اور اصل کھیل کی روح کی داستان ہے، جسے دیکھ کر آپ بھی کہیں گے… “کبڈی ابھی زندہ ہے!” 👏🏽🏆
ویڈیو مکمل دیکھیں اور بتائیں، آپ کے خیال میں سب سے بہترین پرفارمنس کس ٹیم یا کھلاڑی نے دی؟ 👀🔥

29/05/2026

نیشنل جونیئر ٹیبل ٹینس چمپئن شپ پشاور

29/05/2026

ڈبلیو این بی اے میں امریکی باسکٹ بال کھلاڑی ہیلی وان لیتھ کو ایک بار پھر ٹیم سے فارغ کر دیا گیا۔ اس مرتبہ کنیکٹی کٹ سن نے انہیں رواں سیزن کے دوران ویو کر دیا ہے، جو اس سیزن میں دوسری بار ہے جب وہ کسی ٹیم سے ریلیز ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہیلی وان لیتھ نے کنیکٹی کٹ سن کی جانب سے صرف نو میچز کھیلے، جن میں انہوں نے اوسطاً 8.1 پوائنٹس اور 2.2 اسسٹ فی میچ ریکارڈ کیے۔ شاندار شوٹنگ پرفارمنس کے باوجود ٹیم انتظامیہ نے فرانسیسی گارڈ لیلا لاکان کو اسکواڈ میں شامل کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ شکاگو اسکائی نے بھی مئی کے آغاز میں ہیلی وان لیتھ کو اسکواڈ سے الگ کیا تھا، جس کے بعد کنیکٹی کٹ سن نے انہیں ویور کلیم کے ذریعے ٹیم میں شامل کیا تھا۔
ہیلی وان لیتھ کو 2025 ڈبلیو این بی اے ڈرافٹ میں شکاگو اسکائی نے 11ویں مجموعی انتخاب کے طور پر منتخب کیا تھا، جبکہ وہ کالج باسکٹ بال میں اپنی شاندار کارکردگی کے باعث خاصی شہرت رکھتی ہیں۔

29/05/2026

قبائلی ضلع خیبر کی بیٹی صدف آفریدی نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ کی تشہیری مہم کا چہرہ بن گئیں،

پشاور میں منعقد ہونے والی نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 کی تشہیری مہم کیلئے قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت خاتون سکواش کھلاڑی صدف آفریدی کو آفیشل پوسٹر اور بینرز کیلئے منتخب کر لیا گیا، جس کے بعد شہر بھر میں ان کی تصاویر پر مشتمل فلیکسز اور بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔
چیمپئن شپ کی آفیشل سوشل میڈیا مہم میں بھی صدف آفریدی کی تصاویر نمایاں طور پر شیئر کی جا رہی ہیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ صدف آفریدی کی اس کامیابی کو نہ صرف خیبر بلکہ پورےخیبرپختونخوا کیلئے اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

کھیلوں کے حلقوں کے مطابق کسی قبائلی ضلع سے تعلق رکھنے والی خاتون کھلاڑی کا قومی سطح کی بڑی سکواش چیمپئن شپ کی تشہیری مہم کا حصہ بننا خواتین کھلاڑیوں کیلئے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیغام ہے۔ صدف آفریدی نے اپنی محنت، لگن اور بہترین کارکردگی کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا، جس پر نوجوان کھلاڑیوں خصوصاً لڑکیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سپورٹس شخصیات نے امید ظاہر کی ہے کہ صدف آفریدی مستقبل میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گی۔
🏆🎾 National Junior Squash Championship 2026 🎾🏆

29/05/2026

نیشنل جونیئر اتھلیٹکس چمپئن شپ ،پشاور

29/05/2026

ملک ہدایت الحق کی سابق صوبائی وزیرِ صحت سید ظاہر علی شاہ سے ملاقات، عیدالاضحیٰ کی مبارکباد

پشاور: پاکستان منی فٹبال فیڈریشن کے صدر ملک ہدایت الحق نے سابق صوبائی وزیرِ صحت سید ظاہر علی شاہ کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں عیدالاضحیٰ کی دلی مبارکباد پیش کی۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور، کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور صوبے میں فٹبال کی ترقی سے متعلق تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملکی سلامتی، امن و استحکام اور عوامی خوشحالی کیلئے خصوصی دعا بھی کی۔
ملک ہدایت الحق نے کہا کہ عیدالاضحیٰ ایثار، قربانی اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے، جبکہ سید ظاہر علی شاہ نے اس موقع پر مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جہاں عید کی خوشیوں اور قومی یکجہتی کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Peshawar Press Club Near Railway Station Cantt Saddar Peshawar
Peshawar
25000