بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گوادر، خضدار اور دیگر علاقوں میں شراب خانوں کے لائسنس کے اجرا کے معاملے پر تفصیلی اور گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جس میں مختلف ارکان نے اپنے تحفظات اور نکات پیش کیے۔
رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے کہا کہ “جلاوان وائن” کے نام سے ایک لائسنس جاری کیا گیا ہے جو خضدار سے منتقل کیا جا رہا ہے، اور اس عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھائے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ گوادر میں چار شراب خانے موجود ہیں جو نوجوان نسل پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت تمام معاملات کو قانونی طریقہ کار کے مطابق دیکھ رہی ہے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت لائسنسنگ کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انڈر ایج افراد کو کسی صورت شراب یا ممنوعہ اشیاء کی فروخت قانون کے خلاف ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت گوادر سمیت تمام علاقوں میں شکایات کا جائزہ لے گی اور جہاں بھی خلاف ورزی ثابت ہوئی وہاں کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ اراکین اور دیگر فریقین سے مشاورت کرے گی تاکہ پالیسی کو مزید واضح اور مؤثر بنایا جا سکے۔
Quetta 360
any News about Quetta Pakistan
ایرانی پاسدارانِ انقلاب Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے جنگی بحری جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بیان کے مطابق Islamic Revolutionary Guard Corps نے کہا کہ جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آ رہے ہیں اور ایران ان کے خلاف بھرپور اور سخت ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی تجارت و توانائی کی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے اور آئندہ چند دن اس حوالے سے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
کوئٹہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر رکن بلوچستان اسمبلی عثمان بادینی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سب امن چاہتے ہیں تاکہ عوام کا پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر اعتماد بحال رہے، تاہم حالیہ واقعات اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔
عثمان بادینی کے مطابق چند روز قبل بھی کوئٹہ شہر میں فائرنگ اور لاشیں ملنے کے واقعات پیش آئے، جبکہ حالیہ واقعے میں ایک نوجوان، جو خون عطیہ کرنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا، مبینہ طور پر سادہ لباس اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ سادہ لباس میں اہلکاروں کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے شہری شدید خوف کا شکار ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کون قانون نافذ کرنے والا ہے اور کون جرائم پیشہ۔
رکن اسمبلی نے متاثرہ خاندان کے درد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق نوجوان کا والد ایک محنت کش ڈرائیور ہے، جس کی فریاد پورے معاشرے کے لیے ہے کہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جائے تاکہ کسی اور کا بچہ اس طرح جان نہ گنوائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
میر سرفراز بگٹی نے حالیہ واقعے میں ایک معصوم شہری کی ہلاکت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور جہاں بھی غلطی سامنے آئی، اسے ہرگز چھپایا نہیں جائے گا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ ایک “انوسنٹ کلنگ” تھی، جس پر کوئی دو رائے نہیں۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اگرچہ جان واپس نہیں لائی جا سکتی، تاہم حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ متاثرہ خاندان کو مکمل معاوضہ دیا جائے گا، بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت اٹھائے گی جبکہ خاندان کے بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی روایات کے مطابق متاثرہ خاندان سے معذرت اور صلح کا عمل بھی کیا جائے گا، جبکہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ بھی جانچا جائے گا کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
ہیش ٹیگز:
13/04/2026
ہیٹی میں بھگدڑ، 25 افراد جاں بحق — تین روزہ سوگ کا اعلان
ہیٹی میں ایک تاریخی مقام Citadelle Laferrière پر پیش آنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک بڑی تقریب کے دوران شدید رش کے باعث پیش آیا، جہاں لوگ کچلے جانے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پہلے زیادہ بتائی جا رہی تھی جسے بعد میں کم کر کے 25 کر دیا گیا۔
وزیرِاعظم Alix Didier Fils-Aimé نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان میں افسران کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
خبر:
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرانے اور لائیو لوکیشن حاضری کا سسٹم نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام جاری منصوبے جون سے قبل مکمل کیے جائیں اور ضلعی افسران فیلڈ میں رہ کر اعلیٰ معیار کے مطابق کام کی نگرانی کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ 10 دن سے زائد فیلڈ سے غیر حاضر رہنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، بروقت تکمیل اور عوامی وسائل کا مؤثر استعمال حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ فیلڈ میں افسران کی موجودگی عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غفلت اور تاخیر کے مرتکب افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مؤثر مانیٹرنگ اور سخت نگرانی کے نظام کو صوبے کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔
12/04/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی فوری سمندری ناکہ بندی کا اعلان
12/04/2026
*وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ہزار گنجی فائرنگ واقعے پر نوٹس، محکمہ داخلہ اور آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی*
میر ضیاء اللہ لانگو نے کوئٹہ میں سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہزارگنجی واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
اس موقع پر وزیرداخلہ نے زخمیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمیوں کے علاج معالجے کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گی۔
میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر زخمیوں کو کراچی منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ وزیرداخلہ نے لواحقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نہتے و بے گناہ افراد کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔
امریکہ-ایران مذاکرات جاری، ختم نہیں ہوئے: پاکستان کا واضح مؤقف
خبر:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں اور امریکہ اپنی پیشکش دے کر واپس آ چکا ہے۔
تاہم دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے اور مختلف مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق:
امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں
خاص طور پر جوہری پروگرام کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے
امریکہ نے اپنی حتمی پیشکش ایران کے سامنے رکھ دی ہے
ایران کی جانب سے تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مکمل ناکامی نہیں بلکہ ایک وقفہ (Pause) ہو سکتی ہے، جس کے دوران پسِ پردہ رابطے جاری رہتے ہیں۔
یہ پیشرفت خطے میں جاری نازک سیز فائر اور سفارتی کوششوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہو گئے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو کمی رہ گئی، اس کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ دیگر معاملات تھے۔
جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں بہترین کوششیں کیں، تاہم حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران سے واضح یقین دہانی درکار ہے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہی ڈونلڈ ٹرمپ کی بنیادی ترجیح بھی ہے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے اپنی شرائط واضح کیں، مگر ایران نے امریکی شرائط کو قبول کرنے کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے اب تک ایسا واضح عزم سامنے نہیں آیا کہ وہ آئندہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور افزودگی کی تنصیبات کو کافی حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے، تاہم اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ آیا ایران مستقبل میں اس حوالے سے کوئی واضح اور قابلِ اعتماد یقین دہانی دیتا ہے یا نہیں۔
آخر میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اس مرحلے پر مزید بات کرنا مناسب نہیں، کیونکہ دونوں ممالک اس مقام تک نہیں پہنچ سکے جہاں کسی معاہدے کی امید ہو۔
11/04/2026
بریکنگ نیوز
کوئٹہ سریاب روڈ پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں جتوئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان جانبحق۔
جانبحق افراد میں ریاض عمرانی جتوئی اور نصیر احمد ولد عبدلفتح جتوئی میرانزئی (سکنہ سنی کچھی) شامل ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Quetta
87300