Ilm-e-Taweez

Ilm-e-Taweez

Share

Mission statement:

Our Philosophy
Human Resource Development

... Our Goal
Academic Excellence

Our Culture
Professionalism

Our Commitment
Total Satisfaction

10/12/2023

You are not too old to change your mind, walk under a sea of yellow leaves, learn something new, fall in love again, and forgive first

18/06/2019

قرآ نی اہم الفاظ کے لغوی اور اصطلاحی معانی و مفہوم۔

(329)​نفس: مادہ ''ن۔ف۔س'' ہے۔ اس لفظ کو انسانی شخصیت کے ظاہر اور باطنی پہلوؤں کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے۔ نیز وہ توانائی جس سے تمیز کی صلاحیت یعنی شعوراور احساس کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ ابن فارس نے کہا ہے کہ اس کے بنیادی معنی ہلکی اور نرم ہوا (سانس) کے نکالنے کے ہیں۔ عقل ، علم اور قلب کے معنوں میں بھی یہ لفظ آتا ہے۔ نفس کے لفظ کو قرآن کریم نے اس شے کے لئے استعمال کیا ہے جسے ہم انسانی ذات یا جسے اقبال کی اصطلاح میں خودی اور جسے انگریزی میں Self یا I-am-nessکہتے ہیں۔ قرآن میں ہے کہ
​تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (5/116)
​''(اے میرے رب!) جو کچھ میرے نفس (ذات کے اندر) میں ہے، تو اسے جانتا ہے، اور جو کچھ تیری ذات میں ہے، میں ​اسے نہیں جانتا۔ تو ہی غیب کا علم رکھتا ہے''۔
اگر یہ کہا جائے کہ دین کی اصل و بنیاد انسانی ذات کے اقرار و استور پر ہے، تو اس میں قطعاً مبالغہ نہیں ہوگا۔ دنیا میں اصولی طور پر، دو بنیادی تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایک تصور حیات یہ ہے کہ انسانی زندگی محض طبیعی زندگی ہے۔ انسان طبیعی قوانین کے مطابق زندہ رہتا ہے اور انہی قوانین کے تحت، اس کے جسم کی پرورش ہوتی ہے، اور انہی قوانین کے تحت وہ مر جاتاہے۔ قرآن کریم، اس تصور حیات کے بارے میں کہتا ہے کہ
​وَقَالُوْا مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُتَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ ج وَمَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ج اِنْ ​ھُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ (45/24)
​''یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے۔ ہم قوانین طبیعی کے مطابق مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور مرور ​زمانہ ہمیں ہلاک کر دیتا ہے۔ انہیں حقیقت کا کچھ علم نہیں ہوتا،یہ محض ظن و قیاس سے کام لیتے ہیں '' ۔
قرآن اس زندگی کو حیوانی سطح کی زندگی قرار دیتاہے کہ
​وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (47/12)
​''جو لوگ بلند سطح زندگی سے انکار کرتے ہیں، وہ حیوانوں کی طرح کھاتے پیتے اور سامان زیست سے فائدہ اٹھاتے ہیں (اور ​پھر مر جاتے ہیں)'' ۔
دوسرا تصور زندگی یہ ہے کہ انسانی زندگی صرف اس کے جسم کی زندگی نہیں، جسم کے علاوہ انسان میں ایک اور شے بھی ہے، جسے اس کی ذات یا نفس کہتے ہیں۔ یہ قوانینِ طبیعی کے ماتحت نہیں ہوتی، نہ ہی جسم کی موت سے اس کا خاتمہ ہو جاتاہے۔ اس سے انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ اگر ذات کی مناسب نشو و نما کی جائے، تو انسان کی موجودہ زندگی بھی خوشگوار اور سر سبز و شاداب ہوتی ہے اور مرنے کے بعد وہ زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ
​ ٰیاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ oارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًo فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ oوَادْخُلِیْ ​​جَنَّتِیْ ​ (89/27-30)
​''اے نشو و نما یافتہ مطمئن نفس (انسانی ذات) تیرا طریق زندگی خدا کے قوانین (اس کی مرضی) سے ہم آہنگ تھا، اس لئے ​تیری زندگی خوشگوار ہو گئی۔ تم ان لوگوں (خدا کی مرضی کے ہم آہنگ) کی جماعت میںداخل ہوگاؤ اور اس طرح جنتی معاشرہ ​میں شامل ہو جاؤ''۔
انسانی ذات کیا ہے یہ نہ بتایا جا سکتا ہے اور نہ سمجھا جا سکتا ہے، اس لئے کہ یہ کوئی مادی شے نہیں ہے۔ انسانی ذات کا مظاہرہ، اس کے اختیار و ارادہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسی غیر مادی شے ہے، جو اختیار و ارادہ کی استعداد کی حامل ہے۔ اختیار و اراد، مطلق اور کلی طور پر صرف اللہ کو حاصل ہے، اور انسان کا اختیار و ارادہ محدود شکل میں اللہ کا عطا کردہ ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کسی اور کو اختیار و ارادہ حاصل نہیں۔ اگر انسان قوانین خداوندی کا اتباع کرے، تو اس کی ذات میں بحد بشریت صفات خداوندی منعکس ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسی کو اس کی ذات کی نشو و نما کہتے ہیں۔ اس طرح اس میں زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے مرنے کے بعد جنت کی زندگی کہتے ہیں۔ لیکن جس ذات کی نشو و نما نہیں ہوتی وہ آگے بڑھنے سے رک جاتی ہے۔قرآن میں ہے کہ
​وَنَفْسٍ وَّمَاسَوّٰئھَا o فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰئھَاo قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰئھَا o وَقَدْخَابَ مَنْ دَسّٰئھَا ​​(91/7-10)
​''اور نفس (انسانی ذات) ، اور جس انداز سے اسے متوازن بنایا گیا ہے۔ پھر الہام سے اس میں صلاحیت رکھ دی کہ چاہے تو ​اپنے اندر انتشار پیدا کر لے، اور چاہے تو محفوظ رہے۔ وہ کامیاب ہوا، جس نے اسے (ذات کو) پروان چڑھایا، اور جس ​نے اسے ابھرنے نہ دیا، اس کی صلاحیتیں خوابیدہ کی خوابیدہ رہ گئیں'' ۔

14/01/2019

voracious
və rā´ shəs

indiscriminate
in´ dis krim´ ə nit

eminent
em´ ə nənt

steeped
stēpt

replete
ri´ plēt´

READING WISELY
The youngster who reads voraciously, though indiscriminately, does not necessarily gain in
wisdom over the teenager who is more selective in his reading choices. A young man who has
read the life story of every eminent athlete of the twentieth century, or a coed who has steeped
herself in every social-protest novel she can get her hands on, may very well be learning all
there is to know in a very limited area. But books are replete with so many wonders that it is
often discouraging to see bright young people limit their own experiences.
Sample Sentences On the basis of the above paragraph, try to use your new words in the
following sentences. Occasionally it may be necessary to change the ending of a word; e.g.,
indiscriminate to indiscriminately.
1.The football game was ________________ with excitement and great plays.
2.The ________________ author received the Nobel Prize for literature.
3.My cousin is so ________________ in schoolwork that his friends call him a
bookworm.
4.After skiing, I find that I have a ________________ appetite.
5.Modern warfare often results in the ________________ killing of combatants and
innocent civilians alike.
Definitions Now that you have seen and used the new words in sentences, and have the
definitions “on the tip of your tongue,” try to pair the words with their meanings.
6.voracious ----- a. of high reputation, outstanding
7.indiscriminate ----- b. completely filled or supplied with
8.eminent ----- c. choosing at random without careful selection
9.steeped ------ d. desiring or consuming great quantities
10.replete ------- e. soaked, drenched, saturated

TODAY’S IDIOM
to eat humble pie—to admit your error and apologize
After his candidate had lost the election, the boastful campaign manager had to eat
humble pie.

Photos 24/06/2017
Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Rahimyar Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Makhdom Alahi Road, Nehar Kirana
Rahimyar Khan
64200