11/05/2026
# ہنستی ہوئی بلی
ریان سولہ سال کا تھا جب اُس کی زندگی کا سب سے خوفناک خواب شروع ہوا۔
اُس رات بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔ کمرے میں لگا پرانا پنکھا چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا جبکہ باہر چمکتی بجلی دیواروں پر عجیب سائے بنا رہی تھی۔ اُس کے والدین نیچے سو رہے تھے اور پورا گھر غیر معمولی حد تک خاموش تھا۔
بہت زیادہ خاموش۔
ریان نے کمبل اپنے اوپر کھینچا اور آخری بار موبائل دیکھا۔
2:47 AM
جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں، اُسے ایک عجیب آواز سنائی دی۔
*ٹھک… ٹھک… ٹھک…*
جیسے کسی کے ناخن کھڑکی پر رگڑ رہے ہوں۔
وہ ساکت ہوگیا۔
پہلے اُس نے نظر انداز کیا۔
پھر آواز دوبارہ آئی۔
*ٹھک… ٹھک… ٹھک…*
ریان نے آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف دیکھا۔
کچھ نہیں تھا۔
صرف اندھیرا… اور بارش۔
وہ گھبرا کر دوبارہ لیٹ گیا اور خود کو سونے پر مجبور کرنے لگا۔
لیکن اچانک اُسے اپنے کان کے قریب کسی کی سرگوشی سنائی دی۔
“باہر مت دیکھنا…”
ریان کی آنکھ فوراً کھل گئی۔
کمرہ خالی تھا۔
اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ پسینہ اُس کے چہرے پر بہنے لگا۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا—
اور اُس کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
وہ اپنے کمرے میں نہیں تھا۔
پنکھا غائب تھا۔
دیواریں غائب تھیں۔
وہ ایک گندے، سڑے ہوئے لکڑی کے کمرے میں بوسیدہ گدے پر لیٹا ہوا تھا۔
ریان فوراً کھڑا ہوگیا۔
کمرے میں سڑے گوشت اور گیلی مٹی کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ لکڑی کی دیواروں پر کالے نشانات بنے تھے، جیسے کسی نے جلتے ہاتھ دیواروں پر مارے ہوں۔ اُس کے اوپر چھت سے مردہ کوّے رسیوں سے لٹک رہے تھے۔
کونے میں ایک کمزور لالٹین ٹمٹما رہی تھی۔
پھر اُس نے ایک اور خوفناک چیز دیکھی۔
دروازے پر اندر کی طرف ہینڈل ہی نہیں تھا۔
اُس کی سانسیں تیز ہوگئیں۔
“یہ… یہ خواب ہے…”
وہ بھاگ کر دروازے تک گیا اور زور سے کھولا۔
جیسے ہی وہ باہر نکلا، برف جیسی ٹھنڈی ہوا اُس کے چہرے سے ٹکرائی۔
ایک جنگل۔
بے انتہا سیاہ جنگل۔
ہر طرف سوکھے لمبے درخت کھڑے تھے جن کی ٹیڑھی شاخیں ایسے لگ رہی تھیں جیسے کسی انسان کے ہاتھ اندھیرے میں پھیلے ہوں۔ زمین پر گھنی دھند تھی، اور کہیں دور کوئی رو رہا تھا۔
کوئی جانور نہیں۔
ایک عورت۔
ریان آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا۔
تبھی اُس نے اُسے دیکھا۔
کچھ فاصلے پر ایک ٹوٹے ہوئے پتھر پر ایک کالی بلی بیٹھی تھی۔
اُس کی آنکھیں سرخ آگ کی طرح چمک رہی تھیں۔
وہ سیدھا ریان کو دیکھ رہی تھی۔
اور… مسکرا رہی تھی۔
جانوروں کی طرح نہیں۔
انسانوں کی طرح۔
اُس کے چہرے پر آہستہ آہستہ ایک خوفناک مسکراہٹ پھیل گئی جبکہ اُس کے منہ سے ایک عجیب ہنسی نکلی۔
“ہہہہہہ…”
ریان کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
وہ ہنسی…
بالکل کسی چڑیل جیسی تھی۔
بلی نے اپنا سر ایک غیر فطری انداز میں ٹیڑھا کیا۔
“آخرکار… یہ جاگ گیا…”
ریان کا دل رکنے کے قریب تھا۔
آواز بلی کے منہ سے آئی تھی۔
“تم… تم کیا ہو؟!”
بلی آہستہ آہستہ کھڑی ہوئی۔
اُس کی ہڈیاں زور زور سے ٹوٹنے جیسی آوازیں نکالنے لگیں۔ اُس کے پاؤں لمبے ہونے لگے۔ جسم مڑنے لگا۔ کھال خون کے ساتھ جسم سے الگ ہونے لگی۔
چند لمحوں میں بلی ایک لمبی بوڑھی عورت میں بدل گئی۔
کالے پھٹے کپڑے۔
بہت زیادہ لمبا منہ۔
سرخ آنکھیں۔
اور انگلیاں…
چاقو کی طرح لمبی۔
ریان چیختا ہوا جنگل کی طرف بھاگا۔
شاخیں اُس کے چہرے کو نوچ رہی تھیں جبکہ کیچڑ اُس کے قدم روک رہا تھا۔ پیچھے سے اُسے اُس چڑیل کی ہنسی سنائی دے رہی تھی۔
وہ بھاگ نہیں رہی تھی۔
صرف ہنس رہی تھی۔
ایسے… جیسے اُسے یقین ہو کہ ریان کبھی نہیں بچ سکے گا۔
“ہہہہہہ…”
پھر اچانک—
خاموشی۔
ریان رک گیا۔
پورا جنگل ساکت تھا۔
نہ ہوا۔
نہ آواز۔
کچھ بھی نہیں۔
اُس نے آہستہ آہستہ اردگرد دیکھا۔
درخت بدل چکے تھے۔
ہر درخت کے تنے پر انسانی چہرے بنے ہوئے تھے۔
مردہ چہرے۔
جن کی آنکھیں سلی ہوئی تھیں۔
اور ہونٹ ہل رہے تھے۔
ریان خوف سے پیچھے ہٹا جب ایک چہرے نے سرگوشی کی:
“وہ پہلے آنکھیں نکالتی ہے…”
دوسرے نے کہا:
“اُسے خود کو چھونے مت دینا…”
پھر اچانک تمام چہرے ایک ساتھ چیخے:
“بھاگوووو!!!”
کسی برف جیسے ٹھنڈے ہاتھ نے ریان کے کندھے کو چھوا۔
وہ آہستہ آہستہ مُڑا۔
چڑیل اُس کے بالکل پیچھے کھڑی تھی۔
بہت قریب۔
اُس کی مسکراہٹ انسانوں سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔
اور اُس کے ہاتھ میں…
خون سے بھری انسانی آنکھیں تھیں۔
“تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں…” اُس نے سرگوشی کی۔
ریان چیخنا چاہتا تھا…
لیکن آواز نہ نکلی۔
چڑیل نے اپنا منہ غیر فطری حد تک کھولا—
اور اندھیرا سب کچھ نگل گیا۔
اگلی صبح قریبی گاؤں کے لوگوں نے ریان کو جنگل کے قریب بے ہوش پایا۔
زندہ۔
لیکن اُس کی دونوں آنکھیں غائب تھیں۔
ڈاکٹروں نے کہا کوئی جانور ایسا نہیں کرسکتا۔
ریان پھر کبھی نہ بول سکا۔
آج بھی وہ ایک پاگل خانے کے اندھیرے کمرے میں خاموش بیٹھا رہتا ہے۔
لیکن ہر رات ٹھیک 2:47 پر…
وہ اچانک چڑیل کی طرح ہنسنا شروع کردیتا ہے۔
اور نرسوں کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی کمرے کے اندھیرے کونے میں ایک کالی بلی نظر آتی ہے…
سرخ آنکھوں کے ساتھ…
خاموشی سے اُسے دیکھتی ہوئی۔
23/03/2025