Cricket match live Update

Cricket match live Update

Share

Unofficial Fan Page. Not affiliated with PCB, ICC or any broadcaster.

06/08/2026

🎙️ "بابر نے مجھ سے کہا تھا، اس بار پاکستانی فینز کو مایوس نہیں کروں گا..." رمیز راجہ کا بڑا انکشاف! 🇵🇰

پاکستان کے سابق چیئرمین رمیز راجہ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی خوشی اس بات کی ہے کہ قومی ٹیم نے سیریز میں زبردست کم بیک کرتے ہوئے شکست سے بچا لیا اور سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔

رمیز راجہ کے مطابق، ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل ان کی بابر اعظم سے تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

🗣️ رمیز راجہ نے بتایا:

«"بابر نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھ پر کسی قسم کا پریشر نہیں ہے۔ میں نے ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اس بار پاکستان کرکٹ کے مداحوں کو مایوس نہیں کروں گا۔"»

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز میں بابر اعظم نے جس اعتماد اور حکمتِ عملی کے ساتھ کپتانی کی، وہ قابلِ تعریف تھی۔ ان کے مطابق بابر نے صرف ٹیم کو اچھی طرح لیڈ ہی نہیں کیا بلکہ دوسری اننگز میں خود وکٹ پر موجود رہ کر میچ بھی فنش کیا، جو ایک کپتان کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ 👏

انہوں نے عبداللہ شفیق کی بھی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی واپسی سے پاکستانی بیٹنگ لائن کو نئی مضبوطی ملی ہے، جبکہ اگر آئندہ سیریز میں کامران غلام کو بھی مستقل مواقع دیے جائیں تو مڈل آرڈر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

🎯 آخر میں رمیز راجہ نے امید ظاہر کی کہ اگر یہی اعتماد، منصوبہ بندی اور ٹیم ورک برقرار رہا تو پاکستان انگلینڈ کے آئندہ دورے میں بھی اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

💬 آپ رمیز راجہ کی رائے سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟ کیا واقعی بابر اعظم کی کپتانی اور عبداللہ شفیق کی واپسی نے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو نئی جان دے دی ہے؟

06/08/2026

🏏 کپتانی پر سوال ضرور اٹھے، مگر یہ ریکارڈ خاموشی سے تاریخ میں درج ہو گیا! 🇵🇰

کرکٹ میں کچھ ریکارڈ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت مزید بڑھا دیتے ہیں، اور بابر اعظم نے ایسا ہی ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔

🌍 بابر اعظم اب پاکستان کے سب سے کامیاب اوورسیز ٹیسٹ کپتان بن گئے ہیں۔

📊 بطور ٹیسٹ کپتان (اوورسیز):
🏏 میچز: 12
✅ فتوحات: 9
❌ شکستیں: 3

یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی کنڈیشنز، جہاں اکثر پاکستانی ٹیم مشکلات کا شکار رہی، وہاں بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم نے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔

خاص بات یہ ہے کہ کم از کم 12 اوورسیز ٹیسٹ میچز کی قیادت کرنے والے کپتانوں میں بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا بہترین Away Win Ratio اپنے نام کر لیا۔

📖 ریکارڈز ہمیشہ شور مچا کر نہیں بنتے، کچھ خاموشی سے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں... اور بابر اعظم کا یہ اعزاز بھی انہی میں سے ایک ہے۔

💬 آپ کے خیال میں کیا بابر اعظم کو ٹیسٹ کپتان کے طور پر اتنی پذیرائی ملی، جتنی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ملنی چاہیے تھی؟

06/08/2026

🏏 "میچ جیتنے سے پہلے، ہم نے پچ جیت لی تھی...
" بابر اعظم نے کامیابی کے پیچھے چھپی حکمتِ عملی سے پردہ اٹھا دیا! 🇵🇰

ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شاندار فتح کے بعد بابر اعظم نے بتایا کہ یہ کامیابی صرف میدان میں اچھی کارکردگی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ درست پلاننگ اور ٹیم کمبینیشن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

🗣️ بابر اعظم نے کہا:

«"جب ہم نے پچ دیکھی تو اندازہ ہو گیا کہ یہ پاکستان جیسی روایتی اسپن وکٹ نہیں ہے۔ اسی لیے کوچ اور میں نے ایک فاسٹ بولر اور دو اسپنرز کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم کمبینیشن کی وجہ سے محمد عباس کو آرام دیا، جبکہ ایک نوجوان بلے باز کو ڈیبیو کا موقع بھی دیا۔"»

بابر نے پاکستانی بولرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی نے نئی اور پرانی دونوں گیند سے بہترین بولنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا، جبکہ علی عثمان نے شاندار لائن اور لینتھ کے ساتھ اہم وکٹیں حاصل کر کے میچ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا۔ 👏🔥

یہ بیان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں صرف بڑے نام نہیں، بلکہ صحیح فیصلے، حالات کو پڑھنے کی صلاحیت اور ٹیم کمبینیشن بھی جیت کی بنیاد بنتے ہیں۔

💬 آپ کے خیال میں اس فتح کا سب سے اہم فیصلہ کیا تھا؟ محمد عباس کو آرام دینا، دو اسپنرز کے ساتھ جانا، یا پھر نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کرنا؟

06/08/2026

🏆 بابر اعظم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بڑے کھلاڑی مشکل وقت میں ہی اپنی پہچان بناتے ہیں! 💚🔥

ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بابر اعظم کو پاکستان کی جانب سے پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا، جبکہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے آل راؤنڈر جسٹن گریوز نے اپنی شاندار کارکردگی کے باعث یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ 🥇

بابر اعظم نے سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچوں میں مجموعی طور پر 193 رنز اسکور کیے۔ خاص طور پر دوسرے ٹیسٹ میں ان کی 88 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز نے پاکستان کی واپسی کی بنیاد رکھی، جبکہ دوسری اننگز میں بھی وہ 24 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور ٹیم کو فتح کی منزل تک پہنچایا۔

دوسری جانب جسٹن گریوز نے بھی آل راؤنڈ کارکردگی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 111 رنز اسکور کیے اور 7 اہم وکٹیں حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کے لیے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔ 👏

💬 آپ کے خیال میں کیا بابر اعظم اس سیریز کے سب سے بہترین کھلاڑی تھے، یا کوئی اور اس اعزاز کا زیادہ حق دار تھا؟ اپنی رائے ضرور دیں۔

06/08/2026

🏏 1,104 دن...
اتنا طویل انتظار، اور پھر ایک فتح جس نے یہ خاموشی توڑ دی! 🇵🇰💚

بعض فتوحات صرف ایک میچ نہیں جتاتیں، بلکہ برسوں سے چلے آ رہے انتظار کا بھی خاتمہ کرتی ہیں۔

ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹیسٹ میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر پاکستان نے 1,104 دن بعد بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ جیتنے کا کارنامہ انجام دیا۔ یہ صرف ایک کامیابی نہیں، بلکہ اوورسیز ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے لیے ایک نئی امید بھی ہے۔

اس فتح کے کئی ہیرو رہے۔

🌟 عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز میں 160 رنز کی میچ وننگ اننگز کھیل کر پاکستان کی واپسی کی بنیاد رکھی۔

🎯 ساجد خان اور علی عثمان نے دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا، جبکہ بابر اعظم نے پہلی اننگز میں 88 رنز اور دوسری اننگز میں ناقابلِ شکست 24 رنز بنا کر بیٹنگ میں اہم کردار ادا کیا۔

👑 بطور کپتان، بابر اعظم کے لیے بھی یہ فتح خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مشکل کنڈیشنز، مختلف پچ اور سیریز میں ایک میچ پیچھے ہونے کے باوجود ٹیم نے شاندار کم بیک کیا اور سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔

📖 1,104 دن کا انتظار ختم ہو گیا، لیکن اب اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا پاکستان اس فتح کو ایک نئے دور کی شروعات بنا پاتا ہے، یا یہ صرف ایک یادگار لمحہ بن کر رہ جائے گا؟

💬 آپ کے خیال میں اس تاریخی جیت کا سب سے بڑا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ بابر اعظم کی کپتانی، عبداللہ شفیق کی اننگز یا بولرز کی شاندار کارکردگی؟

05/08/2026

🏆 جو میچ ایک وقت پر پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا ہوا دکھائی دے رہا تھا، وہی میچ آخرکار پاکستان نے اپنے نام کر لیا! 🇵🇰

ویسٹ انڈیز کو دوسری اننگز میں صرف 117 رنز پر سمیٹنے کے بعد پاکستان کو جیت کے لیے 75 رنز کا ہدف ملا، جسے قومی ٹیم نے صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر کے 8 وکٹوں سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

اس فتح کی بنیاد صرف آخری اننگز میں نہیں، بلکہ پورے میچ میں مختلف کھلاڑیوں کی بروقت ذمہ داری نے رکھی۔

🌟 عبداللہ شفیق اس میچ کے سب سے بڑے ہیرو رہے۔ پہلی اننگز میں ان کی 160 رنز کی یادگار اننگز نے پاکستان کو میچ میں واپس لانے کا کام کیا، جبکہ دوسری اننگز میں بھی وہ 24 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور فتح تک ٹیم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

👏 بابر اعظم نے بھی دونوں اننگز میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کی۔ پہلی اننگز میں 88 رنز اور دوسری اننگز میں 24 رنز* بنا کر ثابت کیا کہ مشکل حالات میں تجربہ کار کھلاڑی ہی فرق پیدا کرتے ہیں۔

🎯 لیکن اگر اس میچ کے ٹرننگ پوائنٹ کی بات کی جائے تو وہ پاکستانی بولرز کا شاندار اسپیل تھا۔ دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کو صرف 117 رنز پر ڈھیر کرنا ہی اصل فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ ساجد خان نے اپنی آف اسپن سے میچ کا رخ بدل دیا، جبکہ علی عثمان نے مسلسل درست لائن اور لینتھ سے دباؤ برقرار رکھا۔ دونوں نے مل کر ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کو سنبھلنے ہی نہیں دیا۔

ہاں، اس فتح کے باوجود ایک سوال ضرور باقی ہے۔

پاکستان نے پہلی اننگز میں 281/2 سے صرف 387 تک پہنچ کر ایک سنہری موقع ضائع کیا۔ اگر مڈل آرڈر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا تو شاید یہ میچ مزید آسان ہو سکتا تھا۔ یہ کمزوری اب بھی موجود ہے، جس پر کام کرنا ضروری ہوگا۔

💚 لیکن جہاں تنقید بنتی ہے، وہاں تعریف بھی ہونی چاہیے۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستان نے زبردست واپسی کرتے ہوئے دوسرا ٹیسٹ جیت لیا اور دو میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ یہ کم بیک ٹیم کے حوصلے اور کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

💬 آپ کے نزدیک اس میچ کا اصل ہیرو کون رہا؟ عبداللہ شفیق، ساجد خان یا پھر پوری بولنگ یونٹ؟

05/08/2026

😶 پاکستان کے خلاف کچھ بولرز صرف وکٹیں نہیں لیتے... وہ ڈر بھی بٹھا دیتے ہیں، اور جومیل واریکن اب انہی میں شامل ہو چکے ہیں۔

پورٹ آف اسپین میں جاری اس ٹیسٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جومیل واریکن پاکستان کے لیے محض ایک اسپنر نہیں، بلکہ ایک مسلسل دردِ سر بن چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس گراؤنڈ پر اپنا 25واں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں، اور اپنے کیریئر میں تین بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اور ایک بار میچ میں دس وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں... حیرت انگیز طور پر یہ چاروں بڑی کامیابیاں صرف پاکستان کے خلاف آئی ہیں۔

پہلی اننگز میں بھی منظر کچھ مختلف نہیں تھا۔

پاکستان 281/2 پر مضبوطی سے کھڑا تھا، عبداللہ شفیق شاندار بیٹنگ کر رہے تھے، بابر اعظم سیٹ تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسکور آسانی سے 450 کے قریب پہنچ جائے گا۔ لیکن جیسے ہی واریکن نے اپنی لائن اور لینتھ پکڑی، پوری پاکستانی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ انہوں نے 46 اوورز میں 6 وکٹیں لے کر میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

اب صورتحال مزید دلچسپ ہو چکی ہے۔

ویسٹ انڈیز دن کے اختتام پر 103/6 پر ہے اور اسے 60 رنز کی برتری حاصل ہے۔ اگر آخری چار وکٹیں مزید قیمتی رنز جوڑ گئیں تو پاکستان کو چوتھی اننگز میں ایک ایسا ہدف مل سکتا ہے جہاں صرف رنز نہیں، جومیل واریکن بھی سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شائقین کی نظریں صرف ہدف پر نہیں، بلکہ اس اسپنر پر بھی ہیں، جس نے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو بار بار مشکلات میں ڈالا ہے۔

🔥 اب سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کتنے رنز کا ہدف حاصل کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی بیٹرز اس بار واریکن کے جال سے بچ پائیں گے؟

05/08/2026

🏏 چند گھنٹے پہلے لگ رہا تھا پاکستان نے میچ ویسٹ انڈیز کو واپس دے دیا ہے... لیکن بولرز نے ایک ہی سیشن میں پوری کہانی بدل دی! 🔥

تیسرے روز کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 103/6 رنز بنائے ہیں اور اسے مجموعی طور پر صرف 60 رنز کی برتری حاصل ہے۔

پاکستانی بیٹنگ پر تنقید اپنی جگہ بالکل درست تھی۔ 281/2 سے 387 آل آؤٹ ہونا ایک بڑا موقع ضائع کرنے کے مترادف تھا اور اس کولیپس نے میچ کو دوبارہ ویسٹ انڈیز کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔

لیکن جب باری بولرز کی آئی تو انہوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ٹیم ابھی بھی مقابلے سے باہر نہیں ہوئی۔ 👏

🌟 ساجد خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی کلاس دکھاتے ہوئے 12 اوورز میں 32 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر دونوں کو جھٹکے دیے اور ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

دوسری جانب علی عثمان نے بھی شاندار نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کی۔ 16.5 اوورز میں صرف 29 رنز دے کر 2 وکٹیں لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ایک اینڈ سے مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ خاص طور پر کپتان روسٹن چیز کی وکٹ پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہوئی۔

پاکستانی بولرز کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے ویسٹ انڈیز کو کوئی بڑی شراکت قائم کرنے کا موقع نہیں دیا۔ ہر بار جب لگتا تھا کہ میزبان ٹیم سنبھل رہی ہے، کوئی نہ کوئی پاکستانی بولر آ کر میچ کا رخ دوبارہ بدل دیتا تھا۔

اب میچ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

اگر پاکستان چوتھے روز کے آغاز میں باقی 4 وکٹیں جلد حاصل کر لیتا ہے تو ویسٹ انڈیز کا ہدف زیادہ بڑا نہیں ہوگا، اور پھر تمام نظریں پاکستانی بیٹنگ پر ہوں گی کہ کیا وہ اس بار دباؤ میں خود کو ثابت کر سکتی ہے یا نہیں۔

🎯 اب تک اس ٹیسٹ کی سب سے بڑی بات یہی رہی ہے کہ ایک سیشن میں پاکستان بیٹنگ سے میچ ہاتھ سے نکال دیتا ہے، تو اگلے ہی سیشن میں بولرز شاندار کم بیک کرا دیتے ہیں۔

💬 آپ کے خیال میں پاکستان کو جیت کے لیے ویسٹ انڈیز کو کتنے رنز پر آل آؤٹ کرنا ہوگا؟ کیا 100 سے کم کا ہدف بہترین ہوگا؟

04/08/2026

🏏 281/2 پر موجود ٹیم آخر صرف 387 پر کیسے آل آؤٹ ہو گئی؟ 🤯

ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 387 رنز بنا کر 43 رنز کی برتری تو حاصل کر لی، مگر اگر کوئی صرف اسکور دیکھے تو شاید اسے اندازہ ہی نہ ہو کہ پاکستان نے اس اننگز میں کتنا بڑا موقع ضائع کیا ہے۔

👏 سب سے پہلے بات ان کھلاڑیوں کی، جنہوں نے واقعی ذمہ داری نبھائی۔

عبداللہ شفیق نے 160 رنز* کی ایسی اننگز کھیلی جس پر جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ 323 گیندوں تک ایک اینڈ سنبھالے رکھا، دباؤ برداشت کیا، شراکتیں بنائیں اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہے۔ یہی ایک حقیقی ٹیسٹ اوپنر کی پہچان ہوتی ہے۔

بابر اعظم نے 88 رنز بنا کر ثابت کیا کہ وہ دوبارہ اپنی ردھم میں آ رہے ہیں، جبکہ اویس ظفر کی 55 رنز کی اننگز نے پاکستان کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔ بعد میں ساجد خان کے 30 قیمتی رنز بھی شاید اس اننگز کے سب سے انڈر ریٹڈ لمحات میں سے ایک تھے، کیونکہ انہی رنز نے پاکستان کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن اب بات اس پہلو کی، جس نے پوری اننگز کا مزہ خراب کر دیا... 👇

📉 281/2 سے صرف 20 رنز کے اندر 4 وکٹیں گر گئیں۔

یہیں سے میچ پاکستان کے مکمل کنٹرول سے نکلنا شروع ہوا۔ محمد رضوان، سلمان آغا اور باقی مڈل آرڈر سے امید تھی کہ وہ عبداللہ شفیق کا ساتھ دیں گے، مگر ایک بار پھر وہ دباؤ میں بکھر گئے۔ نہ ذمہ داری دکھائی، نہ لمبی شراکت بنائی اور نہ ہی اس موقع کی اہمیت کو سمجھا۔

پھر جب ساجد خان نے اننگز کو سہارا دیا تو لگا کہ پاکستان 430 یا شاید 450 تک پہنچ جائے گا، لیکن...

❌ 370/6 سے صرف 17 رنز کے اندر آخری چاروں وکٹیں بھی گر گئیں۔

یہ صرف بیٹنگ نہیں، بلکہ ذہنی کمزوری، ناقص شاٹ سلیکشن اور میچ کو ختم کرنے کی صلاحیت کی کمی کی واضح مثال تھی۔

🎯 دوسری طرف ویسٹ انڈیز کے جومیل واریکن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے دباؤ بنایا، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اپنی کئی وکٹیں خود تحفے میں دیں۔

43 رنز کی برتری بری نہیں، لیکن 281/2 سے صرف 43 رنز کی لیڈ لینا یقیناً ناقص کارکردگی ہے۔ ایسی پوزیشن سے کم از کم 100 رنز یا اس سے زیادہ کی برتری بننی چاہیے تھی، مگر پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ہی محنت پر پانی پھیر دیا اور ویسٹ انڈیز کو میچ میں واپس آنے کا موقع دے دیا۔

💬 کڑوا سچ یہی ہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ اچھی پوزیشن کو میچ جتوانے والی پوزیشن میں تبدیل نہ کر پانا ہے۔ جب تک یہ عادت نہیں بدلے گی، ایسے سنہری مواقع بار بار ضائع ہوتے رہیں گے۔

آپ کے خیال میں اس بیٹنگ کولیپس کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ مڈل آرڈر، ناقص ذہنی اپروچ یا شاٹ سلیکشن؟

04/08/2026

🏏 عبداللہ شفیق نے تو محاذ سنبھال لیا...
مگر کیا پاکستان ایک بار پھر اپنی ہی محنت ضائع کر رہا ہے؟

ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں پاکستان نے تیسرے روز کے پہلے سیشن تک 90 اوورز میں 311/6 رنز بنا لیے ہیں اور اب بھی پہلی اننگز میں 33 رنز کے خسارے میں ہے۔

ابتدا میں اویس ظفر اور عبداللہ شفیق نے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی، جبکہ اس کے بعد بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کی شاندار شراکت نے پاکستان کو میچ میں مضبوط پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ قومی ٹیم نہ صرف خسارہ ختم کرے گی بلکہ پہلی اننگز میں خاطر خواہ برتری بھی حاصل کر لے گی۔

👏 بابر اعظم کی 88 رنز کی اننگز ان کی فارم میں واپسی کا واضح اشارہ تھی، جبکہ عبداللہ شفیق نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں لمبی اننگز کیسے کھیلی جاتی ہے۔ وہ 126 رنز بنا کر اب بھی کریز پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

لیکن بابر اعظم کے رن آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی اننگز کی رفتار یکسر بدل گئی۔ اویس ظفر، آغا سلمان اور محمد رضوان مختصر وقفے میں پویلین لوٹ گئے اور وہ مضبوط پوزیشن، جو بڑی برتری میں تبدیل ہو سکتی تھی، اچانک دباؤ میں آ گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں مڈل آرڈر سے ذمہ داری کی توقع تھی، مگر ایک بار پھر وہ اعتماد پر پورا نہ اتر سکا۔

اب بھی پاکستان کے پاس موقع موجود ہے۔ اگر نچلا آرڈر عبداللہ شفیق کا ساتھ دے کر چند اہم رنز جوڑ دیتا ہے تو یہ معمولی سا 33 رنز کا خسارہ ایک قیمتی برتری میں بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر باقی وکٹیں جلد گر گئیں تو اتنی محنت سے بنائی گئی اننگز ادھوری محسوس ہوگی۔

💬 اب سوال یہ ہے... کیا پاکستان اس اچھی پوزیشن کو برتری میں بدل پائے گا، یا ایک بار پھر سنہرا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا؟

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Sahiwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Sahiwal
57000