07/10/2026
کبھی کبھی ریکارڈز صرف اس بات کی کہانی نہیں ہوتے کہ ایک کھلاڑی نے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کیا حاصل کر سکتا تھا۔
کرس گیل کا ODI کیریئر بھی شاید ایسی ہی ایک کہانی ہے۔
اپنے عروج کے دنوں میں گیل دنیا کے خطرناک ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن 2013 کے بعد ان کا ODI کیریئر مسلسل کھیلنے کے بجائے وقفوں، تنازعات اور بورڈ کے ساتھ مسائل کی نذر ہوتا رہا۔
چھ سالوں میں ویسٹ انڈیز نے 136 ODI کھیلے، مگر گیل صرف 44 اننگز میں میدان میں اترے۔
پھر بھی جب بھی وہ واپس آئے، دنیا کو یاد دلا دیا کہ یونیورس باس ابھی ختم نہیں ہوا۔
2015 ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف 215 رنز کی وہ اننگز صرف ایک ڈبل سنچری نہیں تھی، بلکہ اس بات کا ثبوت تھی کہ اگر گیل کو مسلسل موقع ملتا تو شاید تاریخ کچھ اور ہوتی۔
شاید آج ہم ان کے نام صرف موجودہ ریکارڈز نہیں، بلکہ کئی ایسے ریکارڈ پڑھ رہے ہوتے جو آنے والی نسلوں کے لیے ناقابلِ یقین ہوتے۔
کرس گیل نے جو کچھ حاصل کیا، وہ شاندار تھا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیا حاصل کر سکتے تھے؟ 👑🏏