02/10/2026
ہنگو جیل میں پیش آنے والے واقعے پر اہم پیش رفت
نجیب الرحمن المعروف مجبور پختون کے ساتھ ہنگو جیل میں پیش آنے والے واقعے کے معاملے پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ ایکشن لیا گیا ہے۔
اس کارروائی کے تحت:
1. حمید اللہ: نوکری سے برخاست
2. تسنیم نواز: 3 درجے تنزلی (ریورس)
3. یوسف اقبال: 3 درجے تنزلی (ریورس)
اس پورے معاملے کی انکوائری کوہاٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے بطور انکوائری آفیسر کی۔ انہوں نے معاملے کی تفصیلی، شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کی اور حقائق کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کیا، جس پر ہم ان کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
میں اس پیش رفت پر پورے پختون قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس معاملے میں ہماری آواز بن کر ساتھ دیا اور ہر سطح پر آواز اٹھائی۔ الحمدللہ، آج اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
میں خصوصی طور پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، وزیرِ جیل خانہ جات، ڈی جی جیل خانہ جات کوہاٹ اور دیگر متعلقہ حکام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے معاملے کا نوٹس لیا اور کارروائی کو آگے بڑھایا۔
اسی طرح اورکزئی جیل کے سپرنٹنڈنٹ ابرار داوڑ صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس پورے معاملے میں اپنا کردار ادا کیا۔
میں ان تمام مشران، مذہبی و سماجی تنظیموں، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے لیے آواز اٹھائی، ہمارا ساتھ دیا اور اس معاملے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
آج الحمدللہ پختون روایات کے مطابق جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں باہمی مشاورت اور روایتی طریقۂ کار کے تحت فیصلہ کیا گیا۔ ہم نے جرگے کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور امید رکھتے ہیں کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متعلقہ ادارے مزید مؤثر اقدامات کریں گے۔
یہ معاملہ کسی ذاتی دشمنی یا کسی فرد کے خلاف نہیں تھا بلکہ ہمارا مقصد صرف انصاف، شفافیت، انسانی وقار اور جیل میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانا تھا۔
ایک بار پھر ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور ہماری آواز کو مضبوط کیا۔
الحمدللہ، پختون روایات کے مطابق جرگہ ہوا، فیصلہ سامنے آیا اور ہم نے اس فیصلے کو تسلیم کیا۔
مجبور پحتون