18/03/2026
بابر اعظم پشاور زلمی کی نئی کٹ میں پی ایس ایل 2026 کے لیے پشاور زلمی کی شاندار نئی جرسی سامنے آ گئی ہے کپتان بابر اعظم اس نئی کٹ میں پہلے سے بھی زیادہ اسٹائلش اور پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔
کرکٹ لورز کے لیے بہترین تحفہ!پی ایس ایل (PSL) 2026 کے لیے ایک ایسا چینل جہاں ملیں گی تمام خبریں اور اپڈیٹس — صرف اردو میں۔ جلدی فالو کریں، کہیں کوئی اپڈیٹ مس نہ ہو جائے!
25/12/2025
What's your fav cricket jersey number? Drop it now and show why it SLAPS on the pitch!
25/12/2025
ایک نہیں، بلکہ دو ورلڈ کپ بطور کوچ / مینیجر جیتنے والا!
“15 ہزار کے قریب رنز، اور 1500 سے زیادہ وکٹیں”
ہوشیارپور میں پیدا ہوئے انتخاب عالم، صرف سترہ برس کی عمر میں 1959 میں پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں اُترے۔ اور پہلی ہی گیند پر آسٹریلیا کے اوپنر کولن میکڈونلڈ کو آؤٹ کر کے یہ احساس دلا دیا کہ کچھ اسپیشل ہے اس لڑکے میں۔
اٹھارہ برس پر پھیلا ہوا ٹیسٹ کیریئر…
47 ٹیسٹ میچز، 125 وکٹیں، پانچ مرتبہ ایک اننگز میں پانچ شکار، اور دو بار میچ میں دس وکٹیں۔
یہ نمبرز اُس بولر کے ہیں جس نے لمبے اسپیل بھی کیے، نئی گیند بھی سنبھالی، اور پرانی گیند سے بھی اپنا کام کیا۔
مگر انتخاب عالم کو صرف بولر کہنا ناانصافی ہوگی۔
1493 ٹیسٹ رنز، ایک شاندار سنچری، آٹھ نصف سنچریاں اور وہ بھی زیادہ تر نچلے نمبروں پر کھیلتے ہوئے۔
1967 کا اوول ٹیسٹ آج بھی تاریخ کا حصہ ہے، جب پاکستان آٹھ وکٹوں پر 65 رنز پر پھنسا ہوا تھا۔
نویں وکٹ پر آصف اقبال کے ساتھ انتخاب عالم نے 190 رنز جوڑے، اُس وقت کا ورلڈ ریکارڈ۔
یہ شراکت اسکور سے زیادہ حوصلے کی کہانی تھی۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا قد اور بھی بلند نظر آتا ہے۔
تقریباً پانچ سو میچز، پندرہ ہزار کے قریب رنز، اور پندرہ سو سے زیادہ وکٹیں
پچاسی مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں، تیرہ مرتبہ میچ میں دس شکار۔
یہ وہ نمبرز ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ انتخاب عالم کسی ایک موسم یا ایک سیریز کے کھلاڑی نہیں تھے؛ وہ مستقل مزاجی کا نام تھے۔
1973 میں نیوزی لینڈ کے خلاف بطور کپتان گیارہ وکٹیں 130 رنز کے عوض،
اور پاکستان کی پہلی اوورسیز ٹیسٹ سیریز فتح۔
یہ محض ایک جیت نہیں تھی، یہ اعلان تھا کہ پاکستان اب گھر سے باہر بھی جیتنا سیکھ چکا ہے۔
انتخاب عالم پاکستان کے پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ہزار رنز بھی بنائے اور ایک سو وکٹیں بھی حاصل کیں۔ یہ توازن آج بھی نایاب ہے۔
اور پھر کرکٹ کے بعد کا انتخاب عالم…
وہاں کہانی اور گہری ہو جاتی ہے۔
1992 - پاکستان ورلڈ کپ جیتتا ہے، عمران خان کپ اٹھاتے ہیں، مگر ٹیم مینجمنٹ میں انتخاب عالم موجود ہیں۔
2009 - پاکستان دوبارہ ورلڈ چیمپئن بنتا ہے، یونس خان کپ تھامتے ہیں، اور پس منظر میں ایک بار پھر انتخاب عالم۔
دو ورلڈ کپ۔
دو مختلف نسلیں۔
اور دونوں میں ایک ہی خاص موجودگی۔
یہ اتفاق نہیں، یہ تسلسل ہے۔
ہم نے شاید انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے لیکن سچ یہی ہے کہ انتخاب عالم کے بغیر پاکستان کرکٹ کی تاریخ ادھوری ہے!
21/12/2025
وہ مکمل کرکٹر جسے اس کا حق نہیں ملا!
ایک ایسا نام جو 90 کے ستاروں کی چمک میں چھپ گیا،
مگر جسے پہچاننے والے آج بھی فراموش نہیں کر سکتے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں تقریباً 18 ہزار رنز،
49 سنچریاں،
49.4 کی اوسط
اور ساتھ ہی 367 وکٹیں - وہ بھی صرف 22.8 کی اوسط سے!
یہ اعداد و شمار صرف ایک بیٹسمین کے نہیں، یہ ایک مکمل آل راونڈر کی پہچان ہیں۔ مگر افسوس، بین الاقوامی کرکٹ میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جہاں وہ اپنی صلاحیت کے مطابق پہنچ سکتے تھے۔
25 ٹیسٹ میچز صرف 8 نصف سنچریاں۔
66 ون ڈے میچز، ایک سنچری۔
کاغذ پر دیکھیں تو یہ نمبرز خاموش ہیں،
مگر کرکٹ یاد رکھنے والوں کو ہوبارٹ کی وہ رات آج بھی یاد ہے جب اسٹیو واہ کے آخری اوور میں
16 رنز نکلے، اور آخری گیند پر ناقابل فراموش چھکا لگا۔
میچ برابر ہوا، مگر آصف مجتبیٰ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں امر ہو گئے۔
نومبر 1986۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو۔
سلیم ملک انجری کا شکار تھے۔ سلیکٹرز کے پاس تجربہ کار وسیم راجہ موجود تھے، مگر انتخاب آصف مجتبیٰ پر ہوا۔
انیس برس کا ایک لڑکا، دنیا کی سب سے خوفناک بولنگ کے سامنے۔ چار اننگز صرف 32 رنز
یہ ناکامی تھی؟ ہاں، نمبرز میں۔
ون ڈے کی شروعات؟ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو صفر۔
مگر یہ وہ عمر تھی جہاں کچھ سیکھتے ہیں اور کچھ ٹوٹ جاتے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف ایک اور ناکامی، اور پھر پانچ سال تک دروازہ بند۔
1992 انگلینڈ کا دورہ۔
لارڈز۔
59 قیمتی رنز نے پاکستان کو دو وکٹوں سے وہ میچ جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اولڈ ٹریفورڈ 57 اور 40۔
1993 ویسٹ انڈیز۔ 59 اور 41۔
اسی سال زمبابوے کے خلاف سیریز - تین نصف سنچریاں۔
مگر قسمت کا سب سے ظالم جملہ یہی رہا:
“ففٹی کو ہنڈرڈ میں نہیں بدل پاتا۔”
اسی دوران انضمام الحق نمودار ہوئے، اور مڈل آرڈر کی جگہ مزید تنگ ہو گئی۔ 1994 سے 1997 تک، آصف مجتبیٰ آتے جاتے رہے ٹیم میں بھی، اور قسمت میں بھی۔
اپنا آخری ٹیسٹ انہوں نے اپریل 1997 میں سری لنکا کے خلاف کھیلا۔
ون ڈے کرکٹ میں مگر کچھ لمحے ایسے تھے جو کبھی دھندلا نہیں سکتے۔
1993 میں سری لنکا کے خلاف سعید انور کے ساتھ 171 رنز کی شراکت،
اور آصف مجتبیٰ کا کیریئر بیسٹ 113
مگر اصل کہانیاں آسٹریلیا کے خلاف لکھی گئیں۔
جنوری 1987 پرتھ۔ 56 گیندوں پر 60 ناٹ آؤٹ۔
پاکستان ایک وکٹ سے جیت گیا۔
دسمبر 1992 ہوبارٹ۔
56 ناٹ آؤٹ۔ آخری گیند۔ چھکا۔ میچ ٹائی۔
کراچی کی گلیوں سے اٹھ کر وہ ایک ایسے کرکٹر بنے
جو کبھی ٹیم کے لیے رنز، کبھی بولنگ سے موڑ اور کبھی فیلڈنگ میں وہ لمحہ دے ڈالتے جو میچ کا رخ بدل دے۔
اور پھر بھی سوال رہ جاتا ہے: اتنی صلاحیتوں والا کھلاڑی اتنے کم مواقع کیوں پاتا ہے؟
22/09/2025
ICC WOMENS ODI WORLD CUP 2025
PAKISTAN WOMEN'S CRICKET FIXTURES MATCHES...