CineTalk Critiques

CineTalk Critiques

Share

Welcome to CineTalk Critiques – your ultimate destination for all things drama and movies!

At CineTalk Critiques we believe that every film and drama tells a story that goes far beyond the screen.

11/30/2025

کی مقبول ترین سیریز میں سے ایک، 'سٹرینجر تھنگز' (Stranger Things) کا پانچواں اور آخری سیزن ایک طویل انتظار کے بعد سامنے آیا ہے، اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈفر برادرز (Duffer Brothers) نے اس اختتامی باب کو تیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ سیزن نہ صرف اس کہانی کو ایک شاندار انجام کی طرف لے جاتا ہے جس کا آغاز 2016 میں ہوا تھا، بلکہ یہ ہارر، ایڈونچر، سائنس فکشن اور نوجوانوں کے جذباتی سفر کا ایک بہترین امتزاج بھی پیش کرتا ہے۔ یہ سیزن ایک جذباتی رولر کوسٹر ہے جو پرانے مداحوں کو nostalgia کی گہرائیوں میں لے جائے گا اور نئے ناظرین کو بھی اپنے سحر میں مبتلا کر لے گا۔
​💥 سیزن کا خلاصہ اور خطرات: ہاکنز کی آخری جنگ
​یہ سیزن وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں سیزن 4 کا اختتام ہوا تھا: ہاکنز (Hawkins) مکمل افراتفری اور تباہی کی لپیٹ میں ہے۔ جسے عوام ایک خوفناک زلزلہ سمجھتے ہیں، وہ ہمارے مرکزی کرداروں کے لیے 'الٹا جہان' (The Upside Down) کا حقیقی دنیا میں دراندازی ہے۔ وِل بائرز (Will Byers) کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی ہے اور ویکنؔا (Vecna) نے ہاکنز کو چیر کر رکھ دیا ہے۔
​مرکزی موضوع: اس سیزن کا بنیادی مقصد واضح اور صاف ہے: ویکنؔا کو ڈھونڈ کر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا اور 'الٹا جہان' کے خطرے سے زمین کو پاک کرنا۔ تمام مرکزی کردار، جن میں الیون (Eleven)، مائیک (Mike)، ڈسٹن (Dustin)، لوکاس (Lucas)، وِل (Will)، اور پرانے گروہ کے دیگر افراد شامل ہیں، آخر کار ایک ہی جگہ، ہاکنز میں متحد ہوتے ہیں۔ یہ ان کی بقا کی جنگ اور بچپن سے لڑے جانے والے سب سے بڑے خطرے کا آخری مقابلہ ہے۔
​🎭 کرداروں کی گہرائی اور کارکردگی: جذباتی تعلق کی مضبوطی
​اس سیزن کی سب سے بڑی کامیابی کرداروں کی نشوونما (Character Development) ہے۔ چونکہ یہ اختتامی سیزن ہے، ہر کردار کو اپنی کہانی کا ایک معنی خیز انجام ملتا ہے۔
​الیون (Eleven): ملی بوبی براؤن (Millie Bobby Brown) نے ایک بار پھر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ الیون کو اپنی تمام طاقتوں کو یکجا کرنا پڑتا ہے، نہ صرف ویکنؔا سے لڑنے کے لیے، بلکہ ایک رہنما اور ایک بالغ فرد کے طور پر بھی۔ اس کا جذباتی سفر، خاص طور پر اس کے دوستوں اور ہاپر (Hopper) کے ساتھ اس کا رشتہ، سیریز کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
​وِل بائرز (Will Byers): وِل اس سیزن کے مرکز میں ہے۔ اس کا ویکنؔا کے ساتھ گہرا نفسیاتی تعلق اور اس کے 'الٹا جہان' کے بارے میں گہرا شعور کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ سیزن وِل کی جذباتی کشمکش اور مائیک کے لیے اس کے احساسات کو ایک خوبصورت، مگر تکلیف دہ، طریقے سے پیش کرتا ہے۔
​باقی گروہ: اسٹیو (Steve)، نینسی (Nancy) اور رابن (Robin) کی ٹیم بھی پچھلے سیزن سے زیادہ مضبوط اور مؤثر نظر آتی ہے۔ سیزن 4 میں ایڈی (Eddie) کے نقصان پر ڈسٹن کا غم اور اس کے گروہ کی ایک دوسرے کے لیے حمایت کے مناظر دل کو چھو لینے والے ہیں۔
​🖼️ سینماٹوگرافی اور ماحول: خوف اور نوستالجیا کا امتزاج
​ڈفر برادرز نے 1980 کی دہائی کے ماحول اور 'الٹا جہان' کے خوفناک انداز کو کمال مہارت سے ملا دیا ہے۔
​ہارر کے عناصر: اس سیزن میں ہارر کا پہلو اور بھی گہرا ہو گیا ہے۔ ویکنؔا اور اس کے مونسٹرز کا حملہ زیادہ ذاتی اور وحشیانہ ہے۔ 'الٹا جہان' کے منظرنامے، خاص طور پر ہاکنز میں اس کے پھیلنے کے مناظر، خوف اور سنسنی سے بھرے ہوئے ہیں۔
​نوستالجیا: سیریز کی بنیادی شناخت، یعنی 80 کی دہائی کا ثقافتی رنگ، میوزک اور فلمی حوالہ جات بھرپور طریقے سے شامل کیے گئے ہیں۔ ہر منظر میں پرانی یادوں کا ایک ہلکا سا ذائقہ ہے جو ناظرین کو کہانی سے جوڑے رکھتا ہے۔
​👎 ممکنہ کمزوریاں: کیا سب کچھ بہترین ہے؟
​اگرچہ سیزن کی مجموعی کارکردگی شاندار ہے، کچھ پہلو ہیں جو قدرے کمزور محسوس ہوتے ہیں:
​زیادہ کردار: چونکہ مرکزی کرداروں کی تعداد اب بہت زیادہ ہے، کچھ نئے کرداروں کو زیادہ گہرائی یا سکرین ٹائم نہیں مل پاتا، اور ان کا کردار صرف کہانی کو آگے بڑھانے تک محدود رہتا ہے۔
​قابلِ پیشن گوئی اختتام: بڑے خطرے کا اختتام کسی حد تک قابلِ پیشن گوئی ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا جذباتی اثر کم ہو۔
​📜 نتیجہ اور حتمی رائے:
​'سٹرینجر تھنگز' کا سیزن 5 ایک مہاکاوی اور جذباتی اختتام ہے۔ یہ وہ finale ہے جس کی سیریز حقدار تھی۔ یہ سیزن ہر اس چیز کو سمیٹ لیتا ہے جو 'سٹرینجر تھنگز' کو ایک لازوال سیریز بناتی ہے: گہری دوستی، دل دہلا دینے والا ہارر، اور سائنس فکشن کا سنسنی۔ ڈفر برادرز نے کرداروں کی قربانیوں، ان کے خوف اور ان کی آخری فتح کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ آپ کئی لمحات میں آنسو بہانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
​اگر آپ 'سٹرینجر تھنگز' کے مداح ہیں، تو یہ سیزن آپ کو بالکل مایوس نہیں کرے گا۔ یہ ایک الوداع ہے جو دل کو بھا جائے گا اور آپ کو بچپن کی دوستی کی طاقت پر یقین کرنے پر مجبور کر دے گا

11/30/2025

السلام علیکم! 👋 ہماری پیاری 'میری زندگی ہے تو' فیملی!
ہم نے ابھی ابھی نیا ایپیسوڈ دیکھا ہے اور کچھ خیالات دل میں آ رہے ہیں جو آپ سب سے شیئر کرنا ضروری ہیں۔ یہ تنقید محبت بھری چٹکی ہے، تاکہ ہمارا شو اور بھی بہتر ​!)
​مزاحیہ سائیڈ: ہیرو جب کسی 'سیکریٹ' بات پر حیران ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ ڈر ہے کہیں ڈائریکٹر کو انہیں CGI سے چھوٹا نہ کرنا پڑے۔ 👍
​تعمیری مشورہ: جناب ہیرو، راز کو تھوڑا سا دل میں رکھیں! ہم سب جانتے ہیں کہ آپ جذباتی ہیں، مگر ہلکی سی سسکیاں کافی ہیں، پوری زلزلہ ریکٹر اسکیل نہیں۔
​ہیروئن کے بھائی نے اس پورے ایپیسوڈ میں کل تین الفاظ بولے ہیں اور باقی وقت وہ صرف دیوار کو گھور رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کو بتائے بغیر اپنے لیے پیزا آرڈر کرنے کی ترکیب سوچ رہا ہو۔ 🍕
​تعمیری مشورہ: اس کردار کو کچھ ڈائیلاگ دیں۔ تھوڑا چائے پر بحث کروا دیں، یا بجلی کے بل پر۔ ہمیں ان کے دماغ میں چلنے والی سازشوں کو سُننا ہے۔

​ ایک سین میں ہمیں ہیرو اور ہیروئن کی دو سال پرانی ملاقات کا فلیش بیک دکھایا گیا۔ پھر فوراً ہی ہیروئن کا وہی پرانا تین منٹ کا روایتی رونا۔ لگتا ہے رائٹر صاحب کو ایپیسوڈ کی لمبائی پوری کرنی تھی۔ 😅
​تعمیری مشورہ: فلیش بیک صرف تب دکھائیں جب ہمیں کہانی کے لیے ضروری ہو۔ بار بار وہی دوپٹہ اور وہی اداس گانا دکھا کر ہمارا 'یادداشت' کا امتحان نہ لیں۔ آگے بڑھو! (ہمیں پتا ہے آپ انہیں ایک دوسرے سے محبت ہے!)
​مسئلہ ہے، مگر کوئی حل نہیں: ہر ایپیسوڈ میں کوئی نیا بڑا 'مسئلہ' آ جاتا ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ چاچا کی بلی گم ہو گئی ہے اور اس کا الزام بھی ہیرو پر ہے۔ (نہیں، مذاق کر رہا ہوں، لیکن مسئلہ اسی لیول کا تھا۔) 😼
​ چھوٹی چھوٹی خوشیاں دکھائیں۔ ایک ایپیسوڈ ایسا بنائیں جہاں سب کچھ ٹھیک ہو، کوئی کسی پر شک نہ کرے، اور سب سکون سے چائے پییں۔ پھر اگلے ہفتے دھماکہ کر دیں۔ توازن زندگی کا نام ہے۔
​👗 میک اپ اور سیٹ: (رونا اور چمکنا ایک ساتھ!)
​ہیروئن کا میک اپ: اتنا رونا، آنسوؤں کی اتنی بارش، مگر مجال ہے جو کاجل اور فاؤنڈیشن ذرا بھی ہٹ جائے۔ وہ لگاتار روتے ہوئے بھی فوٹو شوٹ کے لیے تیار لگتی ہیں۔ (کیا ڈرامے کی کاسٹ کو واٹر پروف میک اپ کٹ ملتی ہے؟) 😭✨
​اصلیت تھوڑی شامل کریں۔ رونا دکھانے کے بعد کم از کم ایک رومال استعمال ہوتا دکھا دیں۔ وہ بھی ایک انسانی عمل ہے!
​کھانا کھاتے ہوئے ڈرامہ: ہر ڈرامے کی طرح، اس میں بھی دو کردار میز پر بیٹھ کر ڈرامائی گفتگو کرتے ہیں، اور کھانے کی پلیٹیں بھری کی بھری رہتی ہیں۔ ایک آدھ نوالہ تو اٹھا لیا کریں! ہم ناظرین بھوکے ہو رہے ہیں۔ 🍝
​ اگر ڈائیلاگ ضروری ہیں، تو کھانا بعد میں دکھا دیں۔ یا پھر ایک آدھ کردار کو سچے دل سے سموسہ کھاتے دکھائیں۔
​خلاصہ: شو اچھا ہے، ہم سب اس سے پیار کرتے ہیں۔ مگر تھوڑا سا ڈرامہ کم، تھوڑی سی رفتار تیز، اور تھوڑا سا واٹر پروف میک اپ کم کر دیں۔
​شکریہ! اگلی قسط کا بے صبری سے انتظار ہے۔ (امید ہے اگلے ایپیسوڈ میں کوئی تو پانی کا گلاس پی لے گا!)
​اگلا سوال: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسی ایپیسوڈ کے بارے میں ایک سنجیدہ اور تفصیل سے بھرا تبصرہ لکھوں، یا کسی اور ڈرامے پر اسی طرح کی مزاحیہ تنقید

02/16/2025

درسی کتابوں کے بعد مزید کوئی کتابیں تو ہم پڑھ نہیں سکتے، لہذا اچھے ڈرامے اور اچھی موویز تو ضرور ہی واچتے رہا کریں کہ شاید ایسے ہی ہمارے رگ و پے میں سمائی شدت پسندی میں اعتدال یا کچھ کمی آ جائے ۔

تو سکرین سے سیکھنے کے اسی سلسلے کی ایک اور شاندار اور شاہکار پیشکش ڈرامہ سیریل “تن من نیل و نیل”

ہم ٹی وی کا صرف گیارہ اقساط پر مبنی ایک ایسا بہترین ڈرامہ جو اپنے اختتام تک پہنچتے پہنچتے کئی بار ہمیں، ہمارے ہی ارد گرد پھیلے اُس اخلاقی و سماجی سرطان کا سامنا کراتا ہے جس کا شعور و لاشعور میں ہم خود بھی شکار ہیں،، اور پھر آخری قسط تو کیا ہی کہنے، گویا اس مختصر سی اختتامی قسط میں ہماری شدت پسندی و جہالت کے سمندر کو کوزے میں بند کرکے فِلما دیا گیا ہو ۔
Hats off to writer, Director and all the actors, such a wonderful package.

تو جناب انٹرنیٹ میسر ہے تو پہلی فرصت میں سب ڈرامے چھوڑ کر “تن من نیل و نیل” دیکھئے، آخری قسط میں جب آپکو یہ نظم / سونگ سننے کو ملے گی تو آکر بتائیے گا کیسا لگا ؟؟

ہم خود ہی اپنے قاتل ہیں ہم خود ہی اپنے دشمن
ہمُ خودہی آگ کے شعلے ہیں اور زد میں اپنا آنگن

ہم روندیں اپنےگلشن ۔ ہم مسلیں اپنے پھول
ہم خود ہی اپنے مجرم ہیں اور خود ہی اپنی بھول

کون گرے گا پہلے ۔۔۔ یہ سوچ رہی ہے چیل
اساں نیل کرایاں نیلکاں - ساڈا تن من نیل ونیل

اپنی بازی کھیل کے ہم خود کو دیتے ہیں مات
اپنے گھر کو آگ لگا کے تاپیں اپنے ہاتھ

اپنی اپنی گردن ہے ۔۔۔۔ اور اپنا اپنا پھندا
اپنے خون کے چھینٹوں سے کر بیٹھے دامن گندا

پھر اپنے تابوت میں اپنے ہاتھوں ٹھوکیں کیل

اساں نیل کرایاں نیلکاں - ساڈا تن من نیل و نیل

02/11/2025

"نائٹ ایجنٹ" سیزن 2 ایک دھماکے دار واپسی کرتا ہے، جو پہلے سیزن کی کشش کو برقرار رکھتا ہے اور کہانی کو مزید پیچیدہ موڑ دیتا ہے۔ اس سیزن میں، پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں، خطرہ ہر گوشے میں منڈلاتا ہے، اور کرداروں کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کے درمیان کی لائن مزید دھندلی ہو جاتی ہے۔ کہانی کی رفتار تیز ہے، ہر ایپی سوڈ نئے راز اور انکشافات لے کر آتا ہے جو ناظرین کو اپنی نشستوں سے باندھے رکھتے ہیں۔
اس سیزن میں کرداروں کی نشوونما پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ مرکزی کردار مزید پختہ اور تجربہ کار نظر آتا ہے، لیکن اس پر پڑنے والے دباؤ اور ذمہ داریوں کا احساس بھی واضح ہے۔ معاون کردار بھی اپنی الگ الگ کہانیاں اور چیلنجز لے کر آتے ہیں، جو کہانی کو مزید دلچسپ بناتے ہیں۔ اداکاری بھی معیاری ہے، ہر اداکار اپنے کردار کو بخوبی نبھاتا ہے۔
"نائٹ ایجنٹ" سیزن 2 سیاسی سازشوں، جاسوسی، اور ذاتی رشتوں کا ایک مؤثر ملاپ ہے۔ یہ سیزن نہ صرف سنسنی اور سسپنس سے بھرپور ہے، بلکہ یہ اخلاقی سوالات بھی اٹھاتا ہے کہ ملک اور قوم کی حفاظت کے لیے کتنی قربانیاں دی جانی چاہئیں، اور ایک ایجنٹ کی ذاتی زندگی پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر، "نائٹ ایجنٹ" سیزن 2 ایک کامیاب سیکوئل ہے جو اپنے ناظرین کو آخر تک متوجہ رکھتا ہے۔ اگر آپ جاسوسی تھرلر کے شائقین ہیں، تو یہ سیزن آپ کے لیے ضرور دیکھنے لائق ہے۔

02/11/2025

اوئے ہوئے، کیا بتائیں آپ کو! "دی ریکروٹ" سیزن 2 دیکھ کے تو ہنسی کے مارے پیٹ ہی دکھ گیا۔ ایسا لگا جیسے کوئی کامیڈی شو دیکھ رہا ہوں، جاسوسی فلم نہیں۔ وہ جو ہیرو صاحب ہیں نا، ایسے لگ رہے تھے جیسے پہلی دفعہ انٹرنیشنل لیول کا کوئی مشن کر رہے ہیں۔ ہر بات پہ ان کی گھبراہٹ اور پھر وہ غلطیاں۔۔۔ ہائے اللہ! لگ رہا تھا جیسے کوئی بچہ بسکٹ کا پیکٹ کھول رہا ہے اور آدھا بسکٹ نیچے گر رہا ہے۔ 😂
اور وہ ولن صاحب؟ ارے بھئی، اتنے سیریس بنے ہوئے تھے جیسے کوئی فلسفی بیٹھے ہوں۔ لیکن ان کی باتیں سن کے لگتا تھا جیسے کوئی "ٹک ٹاک" کی ویڈیو دیکھ رہا ہوں۔ 😂 مطلب، اتنی "اوور دی ٹاپ" ایکٹنگ کہ ہنسی روکے نہیں رکتی۔
کہیں کہیں تو لگا جیسے بالی ووڈ کی کوئی "بی گریڈ" فلم دیکھ رہا ہوں۔ مطلب، سین اتنے "کرنج" تھے کہ دل چاہا ٹی وی بند کر دوں۔ لیکن پھر سوچا، چلو تھوڑا اور ہنس لیتے ہیں۔ 😂
مجموعی طور پر، "دی ریکروٹ" سیزن 2 جاسوسی کم، اور کامیڈی زیادہ لگا۔ اگر آپ "سیریس" جاسوسی فلموں کے شوقین ہیں، تو شاید یہ آپ کے لیے نہ ہو۔ لیکن اگر ہلکا پھلکا انٹرٹینمنٹ اور ہنسی مذاق چاہتے ہیں، تو ایک بار دیکھ لیں۔ شاید آپ کو بھی میری طرح پیٹ دکھ جائے ہنسی کے مارے۔ 😂

02/11/2025

سادگی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی سال قبل کی بات ہے میں اردو بازار لاہور میں اک نئے بنے پلازہ کی فرنٹ سائیڈ پر واقع ایک معروف پبلشرز کے شوروم پر ایک دوست کے ساتھ بیٹھا تھا، اردگرد سبھی کتب خانے ہی تھے۔ دوپہر نہیں ہوئی تھی ابھی، کافی دکھانیں ابھی بند ہی تھیں۔ شوروم کے مالک کے فرزند ہمارے دوست بھی براجمان تھے۔ یہ پلازہ بھاٹی چوک سے اردو بازار کو جانے والی بڑی گلی میں واقع ہے۔
یہ جاتی سردیوں کا موسم تھا اور ہم لوگ شوروم کے اندر آتی دھوپ سے لطف اندوز ہوتے کینوں چھیلتے کھاتے کچھ کتابوں کے سرورق ڈسکس کررہے تھے کہ ایک پرانے ماڈل کی لیکن لش پش بہترین کنڈیشن کی پجارو سامنے آکر رُکی ۔۔ لٹھے کے کلف لگے سوٹ میں ایک دیسی وضع قطع والے عُمر رسیدہ صاحب فرنٹ سیٹ سے نیچے اترے، کالے رنگ کے چشمے پہن رکھے تھے ان کے پیچھے گاڑی کا ڈرائیور بھی آرہا تھا۔ وہ چند سیڑھیاں اوپر چڑھ کر کتب خانوں کی طرف آئے ، ساتھ والے کچھ شورومز پر دھیان مارتے کچھ دیر رُکتے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے پھر واپس آتے دکھائی دئیے۔ جس شوروم میں ہم بیٹھے تھے اس میں آئے اور ہمیں متوجہ پاکر سلام کرتے ہوئے شوروم میں داخل ہوئے۔ اپنا تعارف کرایا۔ ہم نے احترام سے ویلکم کہہ کر صوفے پر جگہ دی۔ نام کچھ ٹھیک سے نہیں یاد رہا لیکن ساتھ کچھ ملک اور ٹوانہ ٹائپ کا نام تھا۔۔۔ شوروم کے مالک ہمارے دوست نے انھیں چائے کا پوچھا تو کہتے نہ یارا چائے تو بس سویرے ناشتے میں اکو واری پیتا ہوں، تو دوست نے ملازم سے مسمی کا جوس لانے کو کہہ دیا۔
مختصرا‘‘ وہ سرگودھا سائیڈ کے کسی گاوں کے بڑے چوہدری /زمیندار ہیں، کافی زمیندارا ہے، کچھ عرصہ قبل لاہور میں جوہرٹاؤن میں نیا گھر بنوایا ہے اور فیملی کی رہائش یہاں شہر میں منتقل کردی ہے، بچے پہلے ہی لاہور میں کالجز میں پڑھتے ہاسٹل میں رہ چکے اور اب مستقل یہیں لاہور میں رہائش کے تمنائی تھے تو اپنا کوٹھی نما گھر بنایا ہے۔ فرمانے لگے بڑے چاؤ سے گھر بنوایا ہے، چاہتے ہیں کہ کسی چیز کی کمی نہ رہے، اب بڑے لوگوں کی طرح شہر میں رہنا ہے تو سارے ادب و آداب ٹھاٹ بھی پورے کرنا چاہییئں۔ کہنے لگے، ’’ پُتری میں نے گھر میں اک بیٹھک وڈی ساری بنائی ہے اس میں دیوار کے ساتھ لکڑی کا اعلیٰ کام کراکے کتابوں کے لیےلمبے لمبے الماری جیسے خانے بنوائے ہیں وہ جسے شیلفیں کہتے ہیں، تو اب ان میں کتابیں بھرنی ہیں، ظاہر ہے ہمارے مہمان بھی بڑے لوگ ہوتے ہیں تو انھیں بھی پتہ چلنا چاہیے کہ ہمارے بچے بھی پڑھے لکھے ہیں اور ہم سب باذوق ہیں ۔۔اب کمرے میں اک بڑی ٹیبل ہے اس پر کمپیوٹر سجا ہو پیچھے الماریوں میں کتابیں نظر آرہی ہوں تو دیکھنے والے متاثر تو ہونگے ناں۔
میں ادھر اُدھر سے یہ کتابوں والی دکانیں جھانکتا آرہا ہوں ابھی یہ تمہاری دکان میں سیٹ کی ہوئی کتابیں ترتیب میں اچھی لگی ہیں اس لیے اندر آگیا ہوں‘۔
ہمارے دوست نے انھیں ’ جی چوہدری جی، جی آئیاں نوں‘ کہا، حُکم فرائیے کیا خدمت کرسکتے ہیں۔؟‘‘
کہنے لگے یار اب کرنا یہ ہے کہ میرے ساتھ زرا تعاون کرو، زرا میری بات کو غور سے سُن کر سمجھو۔۔ ابھی میرا کوئی تجربہ نہیں ہے کتابوں بارے ، تو جیسے یہ تم نے سجاوٹ کی ہوئی ہے بس ایسے ہی کتابیں دو جو بڑے ادیبوں کی ہوں، کچھ بڑے شاعروں کی ہوں جیس مرزا غالب کی اقبال اور ’فیض محمد ‘کی۔۔ کچھ تاریخی کتابوں کی لائن ہو۔۔کچھ موٹی سی انگریزی والی بھی۔۔کوئی بوہتا پڑھیا لکھیا مہمان بھی تو آسکتا ہے نا۔‘‘
دوست نے کہا جی جناب جیسے آپ سب حاضر کردیں گے۔ یہ سب بڑے ادیبوں اور شاعروں کی ہی کتب ہیں، ان میں ناول، شاعری سب شامل ہیں۔ کتنی کتب درکار ہیں۔
چوہدری صاحب کہنے لگے یار زرا سوکھی سوکھی زبان بولو ہم زرا جٹ لوگ ہیں اردو بھی زرا حساب کتاب سے ہی سمجھتے ہیں ۔۔ :)
اور میرے ساتھ پہلے طے کرلو کہ ہم نے کتابیں وا وا ساری لینی ہیں تو کافی رعایت کرو گے تو لیں گے ہاں۔۔ پہلے بات کرلو تو اچھا ہے۔۔
دوست شوروم کے مالک نے کہا چوہدری جی آپ جیسے کہیں گے ویسے ہی رعایت مل جاے گی ہم تو اُپ جیسے کتابوں کے قدردانوں کا بہت احترام کرتے ہیں، بے فکر رہیے آپ کی سوچ سے بھی زیادہ رعایت ہوجائے گی آپ کتب پسند کیجیے۔
چوہدری صاحب کا چہرہ ہشاش بشاش ہوگیا، ’ او خیر میرے پُتری کی۔۔جیوندا رؤ‘‘
اچھا تو پُتری کرنا یہ ہے کہ ۔۔۔ تمہارے پاس کوئی فُٹا بڑا سارا یا انچی ٹیپ ہے تو دو زرا۔۔
دوست نے ایک سٹیل کا بارہ انچی پیمانہ (سکیل) دیا تو کہنے لگے نہیں یار کوئی بڑا سارا دو نا۔ دوست نے انچی ٹیپ نکال کر دی تو کہنے لگے ہاں یہ ٹھیک ہے۔ وہ لیکر شوروم کی الماریوں میں دھری کتب کو اوپر سے ناپنے لگے۔۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کرکیا رہے ہیں۔
پھر کچھ کاغذ پر لکھتے رہے ۔۔ پھر شوروم کے مالک سے کہنے لگے یار یہ دیکھو یہ میری الماری یا وہ کیا کہتے بُک شیلف، (یہ وہ بڑھئی کاریگر بار بار کہتا تھا اس لیے مجھے بھی یاد ہوگیا ہے) تو سجے پاسے تین تین فٹ کے چار خانے ہیں اور کھبے پاسے بھی اسی طرح تین فُتی چوڑائی کے چار خانے ، کرسی کے پیچھے اوپر والی طرف الماری کے سنٹر میں چار چار فٹ کے دو خانے ہیں تو میرا پُتر یہ جو بڑی والی کتابوں کی لائنیں ہے نا جس پر اُردو ادب لکھا ہوا ہے، یہاں سے تین تین فٹ کی دو لائینیں کتابوں کی، اسی طرح وہ جو کلاسک شاعری ، پھر وہ جو موٹی موٹی سی تاریخی کتابیں ہیں اور جو وہ پیچھے والے خانے میں انگریزی کی کتابیں ہیں ناں سیدھی سیدھی لائنوں میں ، ان میں سے تین تین فُٹ کی ٹوٹل آٹھ لائینیں نکال کر باندھ کر رکھتے جاو۔۔ پھر جو کرسی کے پیچھے درمان والی دو الماریاں یا خانے ہیں نا ، میرا دل ہے کہ اس میں اسلامی ٹائپ کی کتابوں کے سیٹ ہون وہ جیسے تم نے اوپر نہیں رکھی ہوئی جن پر ایک ہی پھیلا ہوا نام کئی کتابوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے اور وہ پورا سیٹ ہوتا ہے ۔۔ جیسے وہ لکھا ہوا ہے نا تفسیر ابن کثیر اور ساتھ اسی طرح کی دوسری ۔۔ تو یہ جتنے بھی سیٹ چار چار فُٹ کی دو لائنوں میں آتے ہیں وہ ناپ کر باہر نکالو۔ بس یہ دھیان رہے کہ تین فُٹی لائین ہو یا چار فُٹی ۔۔ تھوڑی سی اک ادھ انچ گھٹ ہوجائے خیر ہے لین اس سے بڑھے نہ، تاکہ شیلف میں یہ لائن پھنسے نہ بلکی کھلی ڈھلی رکھی جائیں۔۔سمجھ گیا نا یار؟۔
چل شاباشے اب اپنے بندے ساتھ لگا اور شروع ہوجا میرے پاس وقت کم ہے اور اج شام کو ہم نے گھر میں اک دعوت رکھی ہوئی میں نے اور بڑے کام نبٹانے ہیں جاکر۔۔ بس کتابوں کی لائینیں نکال کر اسی طرح لمبا سا فیتا یا کوئی مضبوط کپڑا باندھنا کہ اسی طرح لائنوں میں بندھی رہیں، گاڑی میں پڑی کُھل نہ جائیں ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روز پہلی بار پتہ چلا کہ ماشاءاللہ سے ایسے بھی ہیں مہرباں۔

بشکریہ
طارق عزیز صاحب کی فیس بک وال سے کاپی کیا ہے گیا ایک آرٹیکل (ویسے اس طرح کی نمائشی کتابوں کے ریک میں نے بھی دیکھے ہیں)

02/02/2025

چوبیس جنوری کو ریلیز ہوئی کورین ویب سیریز Trauma code کی کہانی ایک گینگسٹر کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ یہ گینگسٹر جانیں لیتا نہیں بلکہ حادثات میں زخمی ہوئے لوگوں کی جانیں بچاتا ہے۔ کہانی شروع ہوتی ہے کوریا کے شہر پر ہوائی حملہ ہونے سے ،ہوائی حملہ پکچرائز بھی بہت خوبصورتی سے گیا ہے زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ٹراما سینٹر میں صرف ایک ڈاکٹر ہے جو تین دن مسلسل کام کر کے بیہوش ہو جاتا ہے۔ ٹراما سینٹر اور ایمرجنسی میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ہارٹ اٹیک یا کسی بھی بیماری کی شدت کی حالت میں مریض لائے جاتے ہیں جب کہ ٹراما سینٹر میں صرف گن شاٹ ، یا مختلف حادثات میں زخمی ہوئے مریض ہی لائے جاتے ہیں۔ پورا ہسپتال اسٹاف ٹراما سینٹر کو اہمیت نہیں دے رہا ۔ ایسے حالات میں ہیلتھ منسٹر ڈاکٹر بیک کو درخواست کر کے ٹراما سینٹر کے ہیڈ کے طور پر تعینات کرتی ہے۔ اب ڈاکٹر بیک کیلیے میں نے گینگسٹر کا لفظ کیوں استعمال کیا یہ جاننے کے لیے آپ کو سیریز دیکھنی پڑے گی ۔ بہرحال یہ بندہ ہے بہت کمال کا ہے آپ اس کے فین ہو جائیں گے۔ سیریز ویسے آپ کو پہلے لمحے سے انگیج کر لے گی جیسے ڈاکٹر کو ایک منٹ کا بھی فری وقت نہیں ملتا ایسے ہی آپ بھی سیریز دیکھنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ لو ، محبت رومانس یا جنون ہے تو اس سیریز میں صرف اپنے مریضوں سے۔ مزکورہ آٹھ اقساط پر مشتمل مکمل کورین ویب سیریز اپنے منفرد موضوع ، دلچسپ جاندار کانٹینٹ اور بہترین اداکاری اور پکچرائزیش کی وجہ سے مجھے اب تک دیکھی گئی تمام کورین سیریز میں سب سے زیادہ پسند آئی ۔سیریز کی ریٹنگ 8.5 ہے ۔ فیملی سیریز ہے لیکن کچھ زخموں کے سین ایسے ہیں کہ چھوٹے بچوں کیلیے نا دیکھنا ہی بہتر ہے۔پیسوں کے لالچی ڈاکٹرز کیلیے highly recommend ہے۔ شاید جان جائیں کہ انسانی جانیں بے لوث بچانے والے بھی بھوک سے کم از کم نہیں مرتے۔

Photos from CineTalk Critiques's post 02/01/2025

ہیروز آن کال ایک نیا کورین ڈرامہ ہے جو نہ صرف اپنے منفرد کہانی کے لیے بلکہ متاثر کن کرداروں اور معیاری پروڈکشن کے لیے بھی دیکھنے والوں کا دل جیت رہا ہے۔ اس ڈرامے نے طب کے میدان میں موجود جدید اور روایتی پہلوؤں کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ناظرین کے لیے ایک منفرد تجربہ ثابت ہوا ہے۔

کہانی اور پلاٹ
ڈرامہ کی کہانی پیچیدہ اور گہرائی سے بھری ہوئی ہے۔ ہیروز آن کال میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف پس منظر کے ڈاکٹر ایک مشترکہ مقصد کے لیے کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ہر کردار کی اپنی کہانی اور ذاتی مشکلات ہیں، جو نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر بلکہ ان کے ذاتی تعلقات پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ پلاٹ کی رفتار معتدل ہے جس میں ڈرامائی موڑ اور جذباتی لمحات بھرپور انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

کردار اور اداکاری
ڈرامے کے مرکزی کرداروں کی اداکاری لاجواب ہے۔ ہر اداکار نے اپنے کردار میں جان ڈال دی ہے اور ناظرین کو اُن کی جدوجہد اور کامیابیوں کا احساس دلایا ہے۔ کرداروں کی پیچیدگی اور ان کے درمیان تعلقات کی نفاست، کہانی کو حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔ خاص طور پر مرکزی کردار کے درمیان ہونے والی کیمسٹری نے ڈرامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

ڈرامے کی ہدایت میں نئے زاویے اور منفرد انداز کو اپنایا گیا ہے۔ ہدایتکار نے کہانی کو متوازن انداز میں پیش کیا ہے جس سے نہ صرف جذباتی لمحات ابھرتے ہیں بلکہ ہلکے پھلکے مزاحیہ عناصر بھی شامل ہیں۔ پروڈکشن ویلیو، سیٹ ڈیزائن، اور سینماٹوگرافی بھی شائقین کو ایک بہتر بصری تجربہ فراہم کرتے ہیں، جو کورین ڈراموں کی معیاری روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔

سماجی پیغام اور اثر
ہیروز آن کال نہ صرف ایک تفریحی ڈرامہ ہے بلکہ یہ سماجی اور اخلاقی پیغامات بھی اجاگر کرتا ہے۔ ڈرامے میں صحت، دوستی، اور انسانی رشتوں کی قدر کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ ڈرامہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی انسانیت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنا کتنا ضروری ہے۔

مجموعی تاثر
مجموعی طور پر،ہیروز آن کال ایک متوازن اور متاثر کن ڈرامہ ہے جو کہانی، کردار، اور پروڈکشن کے حوالے سے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہے۔ اگر آپ کورین ڈراموں کے شوقین ہیں یا کچھ نیا اور متاثر کن دیکھنے کے موڈ میں ہیں، تو یہ ڈرامہ آپ کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔

ہیروز آن کال نہ صرف ایک تفریحی پیشکش ہے بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو زندگی کی پیچیدگیوں اور انسانیت کے جذبات کو عیاں کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ ایک یادگار سفر پر لے جائے گا۔
#ڈاکٹرزآنکال
#کوریائیڈرامہ
#میڈیکلڈراما
#نیٹفلکس
#ڈرامہ












12/05/2022
11/22/2022


Send a message to learn more

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in California City?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

California City, CA