26/10/2025
Power Karate Club 🥋
یادگار لمحات 2020 کے ٹریننگ کیمپ اور ٹور تخت بھائی کندارات کے
جہاں ہمیں سر جہانگیر کی رہنمائی میں سیکھنے اور ٹیم کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کا موقع ملا۔
💪🔥
I want to upload new video and picture for our fans.....that they learn something and preferred hims
26/10/2025
Power Karate Club 🥋
یادگار لمحات 2020 کے ٹریننگ کیمپ اور ٹور تخت بھائی کندارات کے
جہاں ہمیں سر جہانگیر کی رہنمائی میں سیکھنے اور ٹیم کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کا موقع ملا۔
💪🔥
23/10/2025
Many say, “Boxing and MMA are great too.”
Yes, they teach you how to fight —
but Karate teaches you much more than that.
It doesn’t just train your body… it transforms your mind and your life.
It teaches discipline, respect, and self-control.
Most importantly — Karate helps you become a better version of yourself. 🥋🔥
Sir, Jehangir Khan
Sayed Kashifjalal
Said Nabi
Karate Kid: Legends
20/10/2025
🏅 Old is Gold!
Back in 2020, Under-21 Games
Every achievement reminds me that hard work and dedication never fade with time. 💪
Games
17/10/2025
2018 Memories All Pakistan Champion 🏆Quetta | Represented KPK Team under Sir Azam All Pakistan Chief And Sir Jehangir (KPK Chief Proud moment!
Said Nabi
Sayed Kashifjalal
Shehzadqamar Qamar
27/09/2025
This image features Mas Oyama, the founder of Kyokushin Karate, demonstrating a kick.
Mas Oyama (1923-1994) was a legendary Japanese-Korean martial artist known for establishing Kyokushin, a full-contact style of karate.
Kyokushin Karate emphasizes rigorous physical training and realistic full-contact sparring, focusing on combat effectiveness.
The name "Kyokushin" translates to "the way of the ultimate truth," reflecting the system's aim to foster self-discovery through martial arts training.
Oyama introduced the "knockdown" tournament concept in 1969 with the first All Japan Karate Tournament, allowing heavy contact, though punching to the head was initially prohibited in competition for safety reasons.
28/03/2025
رُستمِ زماں گاما پہلوان – اپنی زوجہ وزیر بیگم کے ساتھ
گاما پہلوان، جن کا اصل نام غلام محمد بخش تھا، 22 مئی 1878 کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے عظیم ترین پہلوانوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور عالمی سطح پر پہلوانی کی تاریخ کے ناقابلِ شکست چیمپئن مانے جاتے ہیں۔ ان کا لقب "رستمِ زماں" (دنیا کا چیمپئن) تھا، جو ان کی غیرمعمولی فتوحات اور ناقابلِ تسخیر ریکارڈ کا اعتراف تھا۔
ناقابلِ شکست کیریئر
گاما پہلوان کا پہلوانی کی دنیا میں ایسا دبدبہ تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک بھی کشتی نہیں ہاری۔ انہوں نے 5000 سے زائد دنگلوں میں فتح حاصل کی، جن میں برصغیر کے ساتھ ساتھ یورپ کے مشہور پہلوانوں کے خلاف بھی شاندار کامیابیاں شامل تھیں۔ 1910 میں انہوں نے لندن ورلڈ چیمپئن شپ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے ناقابلِ یقین داؤ پیچ اور غیرمعمولی طاقت سے عالمی سطح کے پہلوانوں کو شکست دی، اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
مشہور مقابلے
1. 1888 میں پہلی بڑی کامیابی – جب وہ صرف 10 سال کے تھے، تو ایک دنگل مقابلے میں 400 پہلوانوں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
2. 1910 میں یورپی پہلوانوں کو چیلنج – لندن میں گاما نے عالمی چیمپئن بینجامن رولر جیسے مضبوط پہلوانوں کو شکست دی اور پہلوانی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔
3. 1911 میں عالمی چیمپئن اسٹینسلاس زبِشکو کو شکست – زبِشکو کے ساتھ ان کی کشتی برصغیر کے پہلوانی حلقوں میں ایک یادگار مقابلہ بنی۔
ناقابلِ یقین فٹنس اور ورزش
گاما پہلوان کی غیرمعمولی طاقت اور برداشت کا راز ان کی سخت ٹریننگ تھی۔ روزانہ وہ:
5000 بیٹھکیں (squats) اور 3000 ڈنڈ (push-ups) لگاتے تھے۔
ان کی خوراک میں 2 گیلن دودھ، 1.5 کلو بادام، اور دیسی گھی سے بنی خوراک شامل تھی۔
وہ روزانہ بھاری پتھروں کو اٹھانے اور مٹی کے اکھاڑے میں کشتی لڑنے کی مشق کرتے تھے۔
قیامِ پاکستان اور آخری ایام
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد گاما پہلوان پاکستان منتقل ہو گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات اور مالی مشکلات کے باعث وہ مشکلات کا شکار ہو گئے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی مدد کی، لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ گمنامی میں چلے گئے۔
23 مئی 1960 کو لاہور میں 82 سال کی عمر میں گاما پہلوان کا انتقال ہو گیا۔
وراثت اور پہلوانی کی دنیا پر اثر
گاما پہلوان صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک عہد کا نام تھا۔ آج بھی ان کے داؤ پیچ، فٹنس اور محنت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ پہلوانی کی دنیا کے سب سے بڑے لیجنڈز میں شمار کیا جائے گا۔
رُستمِ زماں گاما پہلوان آج بھی ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو محنت، لگن، اور ناقابلِ شکست عزم کے ساتھ اپنی منزل حاصل کرنا چاہتا ہے۔