Walks With Sami

Walks With Sami Exploring nature beauty, one trail at a time Mountains, and stories that echo
Walk. Hike. Ride.

Discover folklore Where every step tells a story , wild trails & mountain vibes

11/10/2026

دشتِ لیلیٰ

جہاز بانڈہ سے بینڈ بانڈہ تک — قدرت کے حسن، سکون اور دلکشی کا ایک اور سفرکٹورا جھیل کے حسین مناظر دیکھنے کے بعد اب واپسی ...
10/10/2026

جہاز بانڈہ سے بینڈ بانڈہ تک — قدرت کے حسن، سکون اور دلکشی کا ایک اور سفر
کٹورا جھیل کے حسین مناظر دیکھنے کے بعد اب واپسی کا وقت تھا۔ دوپہر تقریباً ایک بجے ہم کٹورا جھیل سے واپس جہاز بانڈہ پہنچے۔ پہاڑوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے واپسی کا یہ سفر بھی اپنی جگہ ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے میں ہم جہاز بانڈہ واپس پہنچ گئے، لیکن ابھی اس جنت نظیر وادی کے کئی دلکش مناظر دیکھنا باقی تھے۔
اس بار ہمارا رخ جہاز بانڈہ کے ایک اور خوبصورت حصے بینڈ بانڈہ کی طرف تھا، جہاں قدرت نے سبزہ زاروں، رنگ برنگے جنگلی پھولوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان حسن و دلکشی کے ایسے رنگ بکھیر رکھے ہیں کہ انسان کچھ دیر کے لیے اپنے گرد و پیش کی دنیا بھول جاتا ہے۔
بینڈ بانڈہ پہنچ کر میں نے اپنے دوست اور ہم سفر محمد نبیل بھائی سے رابطہ کیا، جو اسی ہوٹل میں مقیم تھے جہاں ہم نے گزشتہ رات قیام کیا تھا۔ ان سے ملاقات کے بعد ہم نے مل کر جہاز بانڈہ کے باقی ماندہ حسین مقامات کی سیر کا آغاز کیا۔
جہاز بانڈہ، اپر دیر کے ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں قدرت کی فیاضی قدم قدم پر محسوس ہوتی ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 10,170 فٹ کی بلندی پر واقع یہ خوبصورت چراگاہ بلند پہاڑوں، وسیع سبز میدانوں، گھنے جنگلات اور دل موہ لینے والے قدرتی مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ مقامی کوہستانی لوگ اسے اپنی زبان میں جہاز بونال کہتے ہیں۔
یہاں کی خوبصورتی کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ جہاز بانڈہ سے کئی خوبصورت چراگاہوں، جھیلوں اور پہاڑی راستوں کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ کنڈ بانڈہ، بینڈ بانڈہ اور کٹورا جھیل ان میں نمایاں مقامات ہیں، جبکہ ایک راستہ سوات کی طرف بھی جاتا ہے۔ اسی طرح دانو پشتکیر آبشار کے قریب سے گزرنے والا راستہ شار بانڈہ کی طرف لے جاتا ہے، جہاں سے بابو جھیل، باؤنا جھیل، گبین جھیل اور شار جھیل جیسے خوبصورت مقامات کی راہ نکلتی ہے۔
بینڈ بانڈہ کی سیر کے دوران کہیں سرسبز میدان نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، کہیں رنگ برنگے پھول اس منظر میں مزید دلکشی بھر دیتے ہیں اور کہیں بلند پہاڑوں کی خاموشی دل کو ایک عجیب سا سکون عطا کرتی ہے۔ یہاں آ کر احساس ہوتا ہے کہ فطرت کی اصل خوبصورتی صرف دیکھنے میں نہیں، بلکہ اسے محسوس کرنے اور اس کے درمیان کچھ وقت گزارنے میں بھی ہے۔
ہم نے ان حسین مناظر کو جی بھر کر دیکھا، قدرت کے اس انمول تحفے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور شام تک جہاز بانڈہ کے مختلف حصوں کی سیر کرتے رہے۔ آہستہ آہستہ دن ڈھلنے لگا، پہاڑوں پر شام کے سائے گہرے ہونے لگے اور ہماری واپسی کا وقت آ پہنچا۔ رات کے کھانے کے بعد ہم نے اس خوبصورت دن کو یادوں میں سمیٹا اور اگلے سفر کی تیاری کے ساتھ آرام کرنے چلے گئے۔
جہاز بانڈہ کا یہ سفر محض چند خوبصورت مقامات کی سیر نہیں، بلکہ قدرت کے قریب رہ کر زندگی کے ان لمحوں کو محسوس کرنے کا نام ہے جو روزمرہ کی مصروفیات میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہاں کے سبزہ زار، بلند پہاڑ، رنگین پھول اور پُرسکون فضا مدتوں دل و دماغ میں تازہ رہتے ہیں۔
لیکن سفر ابھی جاری ہے، کیونکہ جہاز بانڈہ کے بعد ہماری اگلی منزل ایک اور خوبصورت چراگاہ کنڈ بانڈہ ہے، جہاں کے حسین مناظر آپ کے ساتھ اگلی قسط میں ضرور شیئر کریں گے۔
آپ کو جہاز بانڈہ اور بینڈ بانڈہ کے ان حسین مناظر میں سب سے زیادہ کیا اچھا لگا؟ اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

09/10/2026

صبح لدو میں اللہ کا نام لے کر اپنے دن کا آغاز کیا۔ ناشتہ تیار کیا، بائیک ریڈی کی اور پھر دشتِ جنت کی طرف اپنے سفر پر نکل پڑے۔
جہاں سے دشتِ جنت کا راستہ مڑتا ہے، وہاں سڑک کنارے ایک مقامی گھر میں اپنا کچھ ضروری سامان رکھ دیا، تاکہ آگے کا مشکل سفر قدرے آسان ہو جائے۔
سامان ہلکا کیا اور پھر خوبصورت پہاڑی راستوں، سبز وادی اور قدرت کے حسین نظاروں کے درمیان دشتِ جنت کی طرف سفر جاری رکھا۔
منزل خوبصورت ہو تو راستے کی ہر مشکل بھی یادگار بن جاتی ہے۔

09/10/2026

کٹورا جھیل جاز بانڈہ

08/10/2026

دشتِ جنت کی طرف ایک خوبصورت سفر
صبح لدو میں اللہ کا نام لے کر اپنے دن کا آغاز کیا۔ ناشتہ تیار کیا، بائیک ریڈی کی اور پھر دشتِ جنت کی طرف اپنے سفر پر نکل پڑے۔
جہاں سے دشتِ جنت کا راستہ مڑتا ہے، وہاں سڑک کنارے ایک مقامی گھر میں اپنا کچھ ضروری سامان رکھ دیا، تاکہ آگے کا مشکل سفر قدرے آسان ہو جائے۔
سامان ہلکا کیا اور پھر خوبصورت پہاڑی راستوں، سبز وادی اور قدرت کے حسین نظاروں کے درمیان دشتِ جنت کی طرف سفر جاری رکھا۔
منزل خوبصورت ہو تو راستے کی ہر مشکل بھی یادگار بن جاتی ہے۔

08/10/2026

قسط نمبر 64
کنڈول جھیل کے خوبصورت مناظر کو دل میں بسائے اب واپسی کا وقت تھا۔ جھیل پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ہلکا پھلکا کھانا کھایا، چائے پی اور پھر لدو کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا، جہاں ہماری بائیکس اور باقی سامان موجود تھا۔
واپسی کا راستہ نسبتاً آسان تھا۔ چونکہ زیادہ تر راستہ اترائی کا ہے، اس لیے تقریباً 45 سے 50 منٹ میں ہم واپس لدو پہنچ گئے۔
ویسے کنڈول جھیل کا ٹریک مجموعی طور پر کافی آسان اور خوبصورت ہے، بہت زیادہ سخت نہیں۔ راستے میں قدرت کے حسین مناظر سفر کو مزید یادگار بنا دیتے ہیں۔
لدو پہنچ کر مقامی لوگوں کے پاس رکھا ہوا اپنا سامان واپس لیا اور پھر رات گزارنے کے لیے اپنا کیمپ لگایا۔ ٹینٹ تیار کیا، اپنے لیے کھانا بنایا، کھانا کھایا، نماز ادا کی اور اللہ کا نام لے کر ایک اور خوبصورت رات پہاڑوں میں گزارنے کے لیے سو گئے۔
یوں کنڈول جھیل کا یہ یادگار سفر بھی خوبصورت یادوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
سفر جاری ہے…

07/10/2026

سوئٹزرلینڈ سے بھی خوبصورت میدان بانڈہ اپر سوات گبرال

06/10/2026

آخرکار وہ جھیل مل ہی گئی، جہاں بارات ڈوبنے اور جمعے کی رات چراغ نمودار ہونے کی کہانیاں مشہور ہیں!
قسط نمبر 63
میں ہم کنڈول جھیل کے آدھے راستے سے دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں سے راستہ قدرے ہموار اور آسان ہو جاتا ہے، جبکہ دونوں طرف کھلے میدانوں میں کھلے خوبصورت جنگلی پھول سفر کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔
کچھ راستہ طے کرنے کے بعد آخرکار ہم کنڈول جھیل پہنچ جاتے ہیں۔ جھیل کے قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے بھی موجود ہے، جہاں چائے، روٹی اور کھانے پینے کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ یہاں کیفے کے مالک سے ملاقات ہوئی اور جھیل کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں بھی سننے کو ملیں۔
سوات اور دیر بالا کی جھیلوں کے بارے میں مقامی لوگوں میں کئی پرانی اور دلچسپ کہانیاں مشہور ہیں۔ کنڈول جھیل کے بارے میں بھی ایک روایت سننے کو ملتی ہے کہ کبھی یہاں سے ایک بارات گزر رہی تھی، رات کے وقت آگ جلائی گئی اور بارات جھیل میں ڈوب گئی۔
ایک اور مشہور روایت یہ ہے کہ جمعے کی رات جھیل کے درمیان ایک چراغ نمودار ہوتا ہے، اور جو شخص اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ جھیل میں ڈوب جاتا ہے۔
یہ سب مقامی روایات اور مشہور قصے ہیں، جن کی کوئی تصدیق شدہ حقیقت نہیں، لیکن پہاڑوں کے سفر میں ایسی کہانیاں سفر کا رنگ ضرور دوبالا کر دیتی ہیں۔
اگلی قسط میں آپ کو کنڈول جھیل کے اصل اور خوبصورت مناظر تفصیل سے دکھائیں گے۔
سفر جاری ہے…

06/10/2026

کیا آپ نے سوات کا سب سے لمبا گلیشیر دیکھا ہے؟

05/10/2026

لدو سے کنڈول جھیل کی طرف
, سفر نمبر 62
کنڈول جھیل کی طرف ہمارے پیدل سفر کا آغاز لدو سے ہوتا ہے۔ لدو اس علاقے کا ایک اہم گیٹ وے ہے، جہاں سے کنڈول جھیل، سپین خوڑ جھیل، سپین خوڑ آبشار، گبر شنگ اور دیسان میڈوز کی طرف جایا جا سکتا ہے۔
یہاں کیمپنگ اور رات کے قیام کے ساتھ کھانے پینے کی بنیادی چیزیں بھی مل جاتی ہیں۔ ہم نے لدو میں اپنی بائیکس پارک کیں، اضافی سامان مقامی لوگوں کے پاس چھوڑا اور صرف ضروری چیزیں ساتھ لے کر پیدل سفر شروع کیا۔
کنڈول کی طرف سے آنے والے دودھ جیسے سفید پانی کے نالے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے راستے میں ایک کے بعد ایک خوبصورت منظر آتا رہا۔
میرے ہم سفر محمد نبیل اس جھیل کا تقریباً سات سال پہلے بھی سفر کر چکے تھے، جبکہ میرے لیے یہ پہلا تجربہ تھا۔ میرے لیے یہ سفر واقعی بہت خوشگوار اور یادگار تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے کی ہائیک کے بعد آدھے راستے میں کچھ دیر آرام کیا، ساتھ لایا ہوا کھانا کھایا اور آج کے سفر کو یہیں ختم کیا۔
اگلی قسط میں آپ کو کنڈول جھیل کے خوبصورت مناظر دکھائیں گے۔

Address

Uc Jabar Lar Jam Dir Upper
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Walks With Sami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share