Gharana Life Coaching

Gharana Life Coaching

Share

Dr. Waqas A. Khan is a globally recognized Life Coach and Relationship Expert in Pakistan, helping individuals achieve personal and professional goals.

WhatsApp: +92-300-9119779 | +44-7507-165949
​www.waqaskhan.pk

07/06/2026

ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کی بات سنی جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ ساس کو احترام چاہیے ہوتا ہے، جبکہ بہو محبت اور سمجھ چاہتی ہے۔ جب دونوں صرف اپنی بات منوانے کے بجائے ایک دوسرے کے احساسات سمجھنے لگیں تو رشتہ بہتر ہونے لگتا ہے۔

06/06/2026

Empowering the individual means empowering the nation. And empowerment is best served through rapid economic growth with rapid social change.

06/06/2026

Coaching helps you to take responsibility for your life, let go of what others think and become your true self.
It's about you creating the life that you want - and deserve.

05/06/2026

Life coaching isn't about "fixing" yourself and trying to undo who you are. It's about tapping into your soul purpose and providing you with the tools, support, and accountability to help you achieve your biggest goals in life."

05/06/2026

بیوی تب آپ پر اعتبار کرتی ہے اور بغیر ہچکچائے اپنے دل کی بات آپ سے کرتی ہے جب آپ اس کی بات گھر والوں یا کسی تیسرے کے سامنے بیان نہ کریں۔

04/06/2026

WOMEN DON'T NEED TO FIND A VOICE, THEY HAVE A VOICE, AND THEY NEED TO FEEL EMPOWERED TO USE IT, AND PEOPLE NEED TO BE ENCOURAGED TO LISTEN.

04/06/2026

بیٹیاں جب سسرال میں خوشحال ہوں تو وہ خود ہی میکے جانا کم کر دیتی ہیں کیونکہ شوہر کے بغیر دل نہیں لگتا، اگر شوہر اچھا ہو تو بیوی برے سسرال میں بھی گزارا کر لیتی ہے

04/06/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری شادی کو بارہ سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ شادی کے وقت میرے شوہر کے پاس ایک پلاٹ اور کچھ رقم تھی، مگر وہ اس وقت کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ شادی کے چند ہی دن بعد ہمارے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے۔ معمولی بات پر شدید غصہ آ جاتا، گالیاں دیتے اور ناراض ہو کر بات چیت بند کر دیتے تھے۔
شادی کے ایک سال بعد میرے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ جو رقم موجود تھی وہ آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ خود اعتمادی کی کمی کے باعث وہ کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔ ڈیڑھ سال بعد انہی کے کہنے پر میں نے نوکری شروع کی تاکہ گھر کا نظام چل سکے، مگر ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ شروع میں میں نے جواب دیا، بحث بھی کی، مگر پھر خاموش ہو گئی۔ یہ سوچ کر صبر کرتی رہی کہ شاید وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔
ان برسوں میں انہوں نے دو تین جگہ نوکری کرنے کی کوشش کی، مگر کہیں زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔ ہر بار یہی کہتے کہ وہ کسی کے ماتحت کام نہیں کر سکتے۔ بعد میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا، مگر وہ بھی نہ چل سکا اور ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی۔ میں نے اس دوران نوکری کے ساتھ ٹیوشنز بھی پڑھائیں، مگر اس کے باوجود مجھے صرف طعنے اور ذہنی اذیت ہی ملی۔ میرے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں۔ میری شادی میرے بڑے بھائی نے کروائی تھی۔ میں نے کئی بار گھر والوں سے مدد مانگی، انہوں نے سمجھانے کی کوشش بھی کی، مگر شوہر کسی بات پر آمادہ نہ ہوئے۔ پچھلے تین سال سے ان کا کوئی کام نہیں ہے۔ گھر کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم میری کم تنخواہ والی نوکری سے چل رہی ہے، جس کی وجہ سے قرض بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کبھی میری یا بچوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ مجھے اور میرے والدین و بہن بھائیوں کو برا بھلا کہنا، حتیٰ کہ بچوں کے سامنے گالیاں دینا بھی معمول بن چکا ہے۔ اب میرے گھر والے بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ شخص کبھی نہیں بدلے گا، اور مجھے بھی یہی محسوس ہونے لگا ہے۔ لیکن جب بھی میں الگ ہونے کی بات کرتی ہوں تو وہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ یہاں تک کہتا ہے کہ اگر میں گئی تو مجھے، میرے بھائی کو اور بچوں کو قتل کر دے گا۔
میں شدید ذہنی دباؤ میں ہوں۔ میں نے ہر ممکن طریقہ آزما لیا، مگر ان کے رویے میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔ اب بچے بھی سمجھ دار ہو رہے ہیں۔ میری بیٹی تک کہنے لگی ہے کہ “ابو سے کہیں کوئی نوکری کریں۔” میں اب بھی کام کر رہی ہوں، مگر آمدن اتنی نہیں کہ تمام اخراجات پورے ہو سکیں، اور وہ آج بھی خود کو بدلنے پر تیار نہیں۔ اکثر مجھے لگتا ہے کہ شاید میں نے شروع میں ہی سخت فیصلہ نہ کر کے غلطی کی۔ اگر میں پہلے قدم اٹھا لیتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔
میرے بھائی آج بھی کہتے ہیں کہ اگر میں آنا چاہوں تو ان کا دروازہ میرے لیے کھلا ہے۔ میں واقعی جانا چاہتی ہوں، مگر خوف اور الجھن میں مبتلا ہوں۔ ایک طرف اس کی دھمکیاں ہیں، دوسری طرف یہ نوکری، جو کم تنخواہ کے باوجود میرا واحد سہارا ہے۔ میرا حوصلہ اب جواب دے رہا ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ نے بارہ سال جس طرح گزارے، وہ کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتے۔ بچوں اور گھر کو سنبھالتے ہوئے اس ماحول میں زندہ رہنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔ جس انسان میں سرے سے ہی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت نہ ہو وہ کبھی نہیں بدلتے ایسے میں عورت کا کردار ہمیشہ قربانی دینے والی کا ہی رہ جاتا ہے۔ ایک بات تو واضح ہے، آپ کے شوہر کا اصل مسئلہ بےروزگای نہیں ، دنیا میں بہت سے مرد مالی مسائل کا شکار ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنی بیوی اور بچوں کے لیے اتنے بے حس نہیں ہوتے۔
سب سے پہلی اور اہم بات، شوہر کی طرف سے جان سے مارنے اور تشدد کی دھمکیوں کو کسی صورت نظر انداز نہ کریں۔ یہ محض غصے میں کہے الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ ایک سنجیدہ خطرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ فوری طور پر دھمکیوں کا ریکارڈ رکھیں، پیغامات یا آڈیوز محفوظ کریں، اور مقامی پولیس کو اعتماد میں لینا بھی ایک احتیاطی قدم ہو سکتا ہے۔ اگر کبھی خطرہ فوری محسوس ہو تو خواتین ہیلپ لائن 1091 سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔
مسئلے کی جڑ آپ نہیں، بلکہ آپ کے شوہر کا وہ رویہ ہے جو برسوں سے بدلنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے خطرہ بھی بن چکا پے۔ اپنے دل کو یہ بات آہستہ آہستہ سمجھائیں کہ اب آپ کی پہلی ذمہ داری اپنی اور بچوں کی حفاظت ہے۔
آپ کی نوکری اس وقت آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس آمدن کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں، اگر ممکن ہے تو اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنی سروسز آن لائن بیچیں۔ کوئی ایسا ہنر سیکھیں جو وقت کے ساتھ اضافی سہارا بن سکے۔ ضرورت پڑنے پر حکومتی یا فلاحی اداروں سے مدد لینے میں بھی کوئی شرم نہیں۔
دینی اعتبار سے بھی یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ صبر کا مطلب ظلم برداشت کرتے رہنا نہیں۔ اپنی اور بچوں کی حفاظت کرنا، ان کے لیے بہتر ماحول کا انتخاب کرنا بھی عبادت ہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ سے دعا مانگیں، مگر ساتھ ساتھ عملی قدم بھی اٹھائیں۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر میں نے ایک بات بارہا دیکھی ہے: جب کسی رشتے میں،معاشی ذمہ داری کا احساس، عزت، اور بچوں کی فکر ختم ہو جائے، تو وہ رشتہ صرف نام کا رہ جاتا ہے۔ اگر شوہر کسی تیسرے معتبر شخص کی موجودگی میں واقعی اصلاح پر آمادہ ہوں اور عملی وعدے کریں، تو ایک آخری موقع دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کریں، تو علیحدگی ایک تلخ مگر ضروری فیصلہ بن جاتی ہے۔
ہر نماز کے بعد 100 مرتبہ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ یہ اسم دل کو مضبوط کرتا ہے اور فیصلوں میں وضاحت پیدا کرتا ہے۔ سونے سے پہلے سورۂ اخلاص، سورۂ الفلق اور سورۂ الناس تین تین مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر اور بچوں پر دم کریں۔ جب دل بہت بوجھل ہو تو 11 مرتبہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ پڑھیں۔ یہ دل کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور انسان کو اندر سے صاف کرتا ہے۔ سورہ غافر کی آیت نمبر 44 وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ۔ کا کثرت سے ورد کیا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ استغفار اور حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔ کا ورد بھی جاری رکھیں۔
میں ایک مثال آپ سے شیئر کرنا چاہوں گی۔ لاہور کی میری ایک کلائنٹ خاتون نے کئی سال تشدد برداشت کیا۔ اور ان کی آکھیں ان کی بیٹٰ نے یہ کہہ کر کھولیں کہ ار آُ نہ رہیں تو ہم بھی مر جائیں گے۔
خاتون کہتی ہیں ، وہ لمحہ میرے لیے بیداری کا سبب بنا۔ آج وہ خاتون ایک باعزت زندگی گزار رہی ہیں، اور ان کے بچے بھی اپنے قدموں پر کھڑے ہیں۔ آپ نے بھی بہت برداشت کر لیا ہے۔ اب وقت ہے کہ آگے کی طرف دیکھا جائے۔ ڈر فطری ہے، مگر اسی ڈر کے باوجود اٹھایا گیا قدم اصل ہمت کہلاتا ہے۔
اللہ آپ کو درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے، آپ کے قدم مضبوط کرے، اور آپ کے بچوں کو آپ کے لیے سکون اور سہارا بنائے۔ آمین۔

ڈاکٹر وقاص اے خان
پی ایچ ڈی ہیرو شیما یونیورسٹی جاپان
فیلو: جاپان سوسائٹی فار پروموشن آف سائنس
فیلو: انٹر نیشنل اکیڈمی فار لیڈرشپ جرمنی
فیلو : انٹرنیشنل سنٹر فار جرنلسٹس امریکہ
لائف کوچ- پرابلم سالور- ریلیشنشپ کونسلر- وکیل

آپ اپنا مسلئہ ایک ہی میسج میں ہمارے ہیلپ لائن نمبر وٹس ایپ 03009119779 تفصیل سے لکھیں۔ کوئی پہلو خفیہ نہ رکھیں۔ میسج آپ اردو، رومن اردو یا انگلش میں لکھ سکتے/سکتی ہیں۔

1000 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے آپ تحریری حل 30 منٹ سے 2 گھنٹے میں On Priority 1۔ حاصل کر سکتے ہیں)
آپ Urgent Paid Answer کے لیے 03009119779 پر وٹس ایپ کرکے اپنا سوال بھیجیں۔

2۔ 5000 روپے (میرے ساتھ لائیو (آڈیو/ویڈیو) کونسلنگ سیشن جو کہ 45 منٹ کے دورانیے پر محیط ہو گا۔ زندگی میں کبھی بھی اپنے دکھ اور مصیبتیں کھول کر مجھے سنانا چاہیں اور ان کا حل جاننا چاہیں تو میرا لائیو سیشن بک کریں
نوٹ: زکوٰۃ اور صدقات کے حقدار افراد کے مسائل کا حل مفت کیا جاتا ہے۔

04/06/2026

محبت وہاں باقی رہتی ہے جہاں عزت موجود ہو۔ جہاں عزت نہ ہو وہاں محبت بھی آہستہ آہستہ مر جاتی ہے۔ عزت ہی ہر تعلق کی بنیاد ہے۔

03/06/2026

رشتوں کی رسی تب کمزور نہیں بلکہ ٹوٹنے لگتی ہے، جب انسان غلط فہمی میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب بھی خود ہی گھڑ لیتا ہے، اور پھر ان خود ساختہ جوابوں کی آگ میں اعتماد، محبت اور مان سب جلنے لگتا ہے۔

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Glasgow?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


90 Broad St 0/2 195 Deanston Drive Shawlands
Glasgow
G413JT

Opening Hours

Monday 6am - 11pm
Tuesday 6am - 11pm
Wednesday 6am - 11pm
Thursday 6am - 11pm
Friday 6am - 11pm
Saturday 6am - 11pm
Sunday 6am - 11pm