28/08/2026
؏امیر کے شہروں میں روشنیوں کا بسیرا ہے غریب کی جھونپڑی میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے
”لکیر سے نیچے لوگ“ سے مراد وہ افراد اور خاندان ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کی آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور علاج، مناسب طریقے سے پوری نہیں کر سکتے۔ غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔آج دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی خطِ افلاس سےنیچے زندگی کزار نے پر مجبور ہے اور وطنِ عزیز میں تو دن بدن غربت کے تناسب میں اضافہ ہورہا ہے جو بہت بڑا المیہ ہے۔ورلڈبینک کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباَ ایک چوتھائی آبادی (تقریباَ 25 فی صد) خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی ہر چار میں سے ایک پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
دوسری طرف طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے نام نہاد مذہبی رہنما اوردانش ور اس بدحالی اور پستی کو قدرت کی تقسیم کہہ کر اس پر قناعت اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ زمین میں اللہ تعالیٰ نےکوئی چو پایہ بھی ایسا نہیں پیدا کیا جس کے رزق کا سامان زمین میں نہ رکھا ہو اور یہ کہا جائے کہ انسان جو کہ اشرف مخلوق ہے، کے لیے وسائل کم ہیں اس وَجہ سے غربت ہے۔ کرۂ ارض تو وسائل سے مالا مال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنے وسائل رکھے ہیں کہ تمام انسان عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں، لیکن جب ان وسائل پر خاص طبقات کی اجارہ داریاں قائم ہوجاتی ہیں تو پھر انسانی معاشرے میں فساد پیدا ہوجاتا ہے ۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
” وہی ہے، جس نے زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ تم سب کا ہے“ ۔(البقرہ:29 )
یہ آیت انسانی معاشرے میں اجارہ داریوں کی نفی کر رہی ہے اور دولت کی منصفانہ سر کولیشن کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
اسی طرح ہمارے پیارے رسول حضرت محمدﷺ نے بھی فقر سے پناہ مانگی ہے ۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐدعا فرمایا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ. ۔ ” اے اللہ ! میں کفر اور فقر (غربت) سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ ۔(سنن ابوداؤد: 1544،سنن نسائی:5467)
اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
اليد العليا خير من اليد السفلى۔ ”اوپر والا ہاتھ(دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینےوالے)سےبہتر ہے “۔ (صحیح بخاری:1429، صحیح مسلم: 1033) اسلام یہ کبھی نہیں چاہتا کہ انسان پستی اور بدحالی کی زندگی گزاریں۔ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ دینِ اسلام جہاں بھی گیا اس نے انسانی معاشروں میں خوش حالی پیدا کی۔ ہندوستان میں آیا تو اس نے اسے سونے کی چڑیا بنا دیا ۔
غربت کی وَجہ سے لوگ مناسب خوراک، صاف پانی، علاج اور معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے بچے اکثر تعلیم ادھوری چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے غربت کا یہ سلسلہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ غربت معاشرے میں جرائم، بے چینی اور احساسِ محرومی کو بھی بڑھا تی ہے غربت انسان کو انسانی اوصاف سے عاری کر دیتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ غربت قدرتی ہے یا وسائل کی غلط تقسیم کی بدولت ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ اللہ پاک نے اپنی مخلوقات کے لیے بےشمار وسائل اس زمین میں رکھے ہیں، لیکن اس کی تقسیم کی ذمہ داری اپنے خلیفہ بنی نوع انسان کو دی ہے ۔اَب خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا اقتصادی نظام بنائے جو کل انسانیت کی احتیاجات کی تشفی کرنے والا ہو۔
اس لیے دینِ اسلام نے ایسی تعلیمات دی ہیں کہ غربت اور پس ماندگی کو جڑ سے ختم کر کے ایک خوش حال معاشرے کی بنیاد رکھی جائے ۔ وسائلِ معیشت کی تقسیم کا عادلانہ نظام بنایا جائے، جس سےہر ذی روح کو اس کا حق اس کی دہلیز پر ملے۔ ایک مضبوط، خوش حال اور انصاف پر مبنی معاشرہ وہی ہوتا ہے، جہاں ہر فرد کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے، تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
معاشرہ تبھی مہکے گا، انصاف جب ہوگا
لکیر سے نیچے کوئی بھی انسان نہ ہوگا۔
17/05/2026
چین نے بغیر جنگ کیے امریکہ کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ سپر پاور ہے ، چین نے 80 کروڑ آبادی کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھایا اور اپنے ملک سے extreme and absolute poverty کا خاتمہ کر دیا ۔
زرا سوچیے! اس ساری ترقی کے process کے پیچھے شخصیت ہے یا نظام ؟ اس لیے شخصیت سے نکل کر دنیا کے نظاموں کا مطالعہ کریں اپنے ملک کے colonial نظام کو پڑھیں جس نے پچھلے 77 سالوں سے امریکہ کا غلام رکھا ہوا ہے پھر خاص کر چین کے نظام کا مطالعہ کریں جس نظام نے چین کو 50 سالوں میں سپر پاور بنا دیا اور یہی ترقی یورپ اور امریکہ نے ڈھائ سو سال میں کی ۔
12/05/2026
(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)
ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith
دنیا کا سسٹم مسابقت/compitition پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا۔ یہی سرمایہ داری نظام capitalism کا حسن ہے۔ آزاد منڈیindipendent trade میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
کارل مارکس نے کہا! Karl marks
مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف machine کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیجGap between rich and poor بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصالexploitation کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔
ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):Adam smith
دیکھو، یہ تگ و دوHardworking ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز Secret of success پوشیدہ ہے۔
کارل مارکس (تلخ لہجے میں):
یہی تو تمہارا دھوکہFraud ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہreward کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمہاری مسابقت rivalry دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکزcentured ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلابrevolution فرض ہو جاتا ہے۔
ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):
رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت،class discrimination یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔Patiencs pays off
کارل مارکس (غصہ ہو کر):
انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔Reject
(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)
سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روحSoul کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔
کارل مارکس (حیران ہو کر):
عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):
یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (Default Version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصافJustice and fairness قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیتMaterialism کو۔ یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔
ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):
شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہےLife is a war۔ یہاں طاقتور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے،Power and respect is with money شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصلReality ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی۔
شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہےUnfair distribution۔ طاقتور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقتCompitition تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں .... لیکن اس کے لیے اساسbase foundation محنت ہونی چاہیے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!
کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا ... میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!
شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور
مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!
✍️ سفیان خان
(نشرِ مکرر 2025)
26/04/2026
دل کو چھو لینے والے لفظ
"تقسیم تو قسمت میں لکھی نہ تھی ہمارے اپنے سیاسی بھولوں نے ہی وطن کو کاٹ دیا۔"
"مسلمانوں کے دل کے ڈر کو صرف کاغذ کے وعدوں اور وفاقی نظام سے دور کر سکتے تھے، کاٹنے کی ضرورت کیوں پڑی؟"
"کریئر انڈیا تو کانگریس کی سب سے بڑی چوک تھی ہم جیلوں میں بند، مسلم لیگ میدان سنبھال گئی۔"
"نہرو صاحب کے 1937 اور 1946 کے چند جملے اتحاد کی ساری امیدوں پر پانی پھیر گئے۔"
"دہلی کے خون آلود گلیوں میں گاندھی جی کا روزہ انسانیت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر دیا!"
کیوں خاص ہیں یہ لفظ؟
یہ الفاظ مولانا آزاد کے دل کا درد جھلکاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مذہب نے نہیں، ہماری اپنی سیاسی غفلت نے ہمیں الگ کیا۔ نہرو، گاندھی، جناح سب پر کھل کر بات کی، اور متحدہ ہندوستان کا خواب دکھایا جو آج بھی ہر پاکستانی اور بھارتی کے دل میں زندہ ہے۔
یہ لفظ صرف تاریخ نہیں، ایک انسان کا اپنے وطن سے محبت بھرا درد ہیں۔
26/04/2026
شاہ ولی اللہ دہلویؒ
شاہ ولی اللہ دہلویؒ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مصلح تھے جنہوں نے امتِ مسلمہ کو علم، عدل اور اتحاد کا راستہ دکھایا۔
ان کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہی اصل کامیابی ہے، نہ کہ صرف رسم و رواج تک محدود رہنا۔
آج کے دور میں جب ہم انتشار اور مسائل کا شکار ہیں، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم، اتحاد اور اصلاح ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔
آئیں ہم بھی ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیں۔ ❤️
#اتحاد #اصلاح
26/04/2026
مولانا ابو الکلام آزاد۔ ۔