18/05/2026
ضروری اعلان برائے ایم فل / پی ایچ ڈی ایچ ای سی داخلہ 2026۔
ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے اہم اطلاع! Higher Education Commission (HEC) نے Higher Education Aptitude Test (HAT) 2026 کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس ٹیسٹ کو ملک بھر کی جامعات میں MPhil اور PhD پروگرامز میں داخلے کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
اب تمام جامعات میں علیحدہ ڈیپارٹمنٹل ٹیسٹ کی بجائے GAT/HAT اسکور کو ہی داخلہ کے لیے قبول کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام امیدواروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مطلوبہ تاریخیں نوٹ کریں اور بروقت رجسٹریشن مکمل کریں۔
یہ ٹیسٹ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کا ایک اہم مرحلہ ہے، اس لیے امیدواروں کو چاہیے کہ وہ ابھی سے اپنی تیاری شروع کریں تاکہ بہتر اسکور حاصل کر سکیں اور اپنے تعلیمی خوابوں کی تکمیل کی جانب ایک مضبوط قدم بڑھا سکیں۔
اپنی محنت اور لگن کے ساتھ 2026 کے اس اہم تعلیمی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
09/05/2026
1. مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ)
یہ حج کا نقطہ آغاز اور اختتام ہے۔ تصویر میں کعبہ شریف کو دکھایا گیا ہے جہاں سے حاجی اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں اور طوافِ زیارت کے لیے واپس آتے ہیں۔
2. منیٰ (خیموں کا شہر)
فاصلہ: مسجدِ حرام سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: حاجی 8 ذوالحجہ کو یہاں قیام کرتے ہیں اور پھر 10 سے 12 ذوالحجہ تک یہاں واپس آکر قیام کرتے ہیں۔ اس کی اپنی لمبائی تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر ہے۔
3. عرفات (حج کا رکنِ اعظم)
فاصلہ: منیٰ سے عرفات کا فاصلہ تقریباً 10 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کو تمام حاجی یہاں جمع ہوتے ہیں۔ "وقوفِ عرفات" حج کا سب سے اہم ستون ہے، جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔
4. مزدلفہ
فاصلہ: عرفات سے واپسی پر مزدلفہ کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کی رات حاجی یہاں کھلے آسمان تلے قیام کرتے ہیں، نمازیں جمع کرتے ہیں اور رمی (جمرات) کے لیے کنکریاں چنتے ہیں۔
5. جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا)
فاصلہ: مزدلفہ سے جمرات کا فاصلہ تقریباً 6 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: یہاں تین بڑے ستون (جمرہ عقبہ، جمرہ وسطیٰ، اور جمرہ اولیٰ) ہیں جہاں حاجی سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے کنکریاں مارتے ہیں۔
6. واپسی (مسجدِ حرام)
فاصلہ: جمرات سے دوبارہ مسجدِ حرام کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: قربانی اور سر منڈوانے کے بعد حاجی طوافِ زیارت کے لیے دوبارہ کعبہ شریف جاتے ہیں۔
خلاصہ:
یہ نقشہ ایک دائرہ نما سفر کو ظاہر کرتا ہے جو مکہ سے شروع ہو کر منیٰ، عرفات، اور مزدلفہ سے ہوتا ہوا واپس مکہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس تصویر کا مقصد حاجیوں کو یہ بتانا ہے کہ انہیں کس ترتیب سے سفر کرنا ہے اور ان مقامات کے درمیان کتنا پیدل یا سواری کا سفر درکار ہوگا۔
23/04/2026
آج کتابوں کا عالمی دن ہے۔ کتابوں کے شائقین کو یہ دن مبارک۔
اپنی پسندیدہ کتابوں کے نام بتائیے۔
15/04/2026
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
06/04/2026
جب شاہی خاندانِ بہاولپور کی ایک معزز ہستی کی تدفین شاہی قبرستان، قلعہ ڈیراور میں ہونے جا رہی ہے، تو اس موقع پر نہایت ادب، درد اور خلوص کے ساتھ ایک اہم حقیقت کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شاہی قبرستان کی حالت نہایت خستہ اور تشویشناک ہو چکی ہے۔ اس تاریخی اور عظیم ورثے کی نہ تو مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت کا کوئی مؤثر انتظام نظر آتا ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، صفائی کی ناقص صورتحال، اور لاپرواہی کے واضح آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس مقدس مقام کو اس کے شایانِ شان اہمیت نہیں دی جا رہی۔
یہ مقام صرف قبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاستِ بہاولپور کی تاریخ، عظمت اور شناخت کی علامت ہے، جسے اس بے توجہی کے حال پر چھوڑ دینا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس کی حفاظت، مرمت اور باقاعدہ دیکھ بھال کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قومی ورثے کا وقار بحال رہ سکے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستِ بہاولپور کے نوابین اور شاہی خاندان کے افراد آسودۂ خاک ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قلعہ ڈیراور کا شاہی قبرستان اس وقت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ:
قبرستان کی حالت انتہائی خراب ہے
صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام نہیں
کئی جگہوں پر مٹی بکھری ہوئی ہے
تاریخی آثار اور سامان کی چوری تک ہو چکی ہے
اور مجموعی طور پر یہ مقام لاوارث سا محسوس ہوتا ہے
یہ صرف ایک قبرستان نہیں، بلکہ بہاولپور کی تاریخ، شان، وقار اور شاہی ورثے کی ایک عظیم نشانی ہے۔
🙏 مؤدبانہ اپیل
نواب خاندانِ بہاولپور، اہلِ علاقہ، مقامی انتظامیہ، محکمہ آثارِ قدیمہ اور متعلقہ ذمہ داران سے نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ:
✅ شاہی قبرستان قلعہ ڈیراور پر فوری توجہ دی جائے
✅ کسی ذمہ دار شخص کی مستقل ڈیوٹی لگائی جائے
✅ سیکیورٹی اور نگرانی کا مناسب انتظام کیا جائے
✅ صفائی، مرمت اور باقاعدہ دیکھ بھال شروع کی جائے
✅ اس تاریخی اور شاہی ورثے کو مزید تباہ ہونے سے بچایا جائے
جو لوگ اس دھرتی کے تاج تھے، جو بہاولپور کی شان، وقار اور تاریخ کا روشن باب ہیں، کم از کم ان کی آخری آرام گاہ کو تو عزت، تحفظ اور دیکھ بھال ملنی چاہیے۔
آج جب ایک اور معزز ہستی کو اسی شاہی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جا رہا ہے، تو یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر آواز اٹھائیں کہ:
قلعہ ڈیراور کے شاہی قبرستان کی فوری بحالی، حفاظت اور مستقل نگرانی کی جائے۔
برائے مہربانی اس پیغام کو متعلقہ نواب خاندان، ضلعی انتظامیہ بہاولپور، محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب اور بااثر شخصیات تک ضرور پہنچائیں۔
اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرمائے، اور ہمیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ٹیگ برائے توجہ:
#بہاولپور
05/04/2026
Lights, camera, celebrate friendship! 🎥🇵🇰🇨🇳
To mark 75 years of Pakistan–China diplomatic relations, HEC in collaboration with the Embassy of China invites students to showcase their creativity through a National Short Video Contest.
Bring stories of friendship, culture, and shared futures to life in just 3 minutes.
📌 Open to undergraduate & master’s students
⏳ Deadline: June 30, 2026
31/03/2026
پنجاب بھر کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے بڑی خوشی کی خبر!
وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کے اعلان کے مطابق یکم اپریل سے تعلیمی اداروں میں ہفتے کے 5️⃣ دن باقاعدہ کلاسز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کا بھرپور دوبارہ آغاز کیا جا رہا ہے۔
اب پھر سے سکولوں میں رونقیں لوٹ آئیں گی، علم کے چراغ روشن ہوں گے اور طلبہ اپنی منزل کی طرف مزید جوش و جذبے کے ساتھ بڑھیں گے۔
آئیں! نئی امید، نئی توانائی اور نئے عزم کے ساتھ اس تعلیمی سفر کا آغاز کریں۔
29/03/2026
ہم سب ایک ہیں
🤝🇵🇰🤝🇹🇷🤝🇸🇦🤝🇪🇬
📍ISLAMABAD 🤲🏼
20/03/2026
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، مرکزی جامع مسجد بغداد کیمپس میں نماز عیدالفطر صبح 7 بجکر 30 منٹ پر ادا کی جائے گی ۔
20/03/2026
جب ربِّ کریم کسی بندے کو عزت اور مقام عطا فرمانا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے وہ عزت نہیں چھین سکتی۔
آج ہمیں دلی خوشی اور فخر کے ساتھ محترم ڈاکٹر طارق محمود شیخ صاحب کو The Islamia University of Bahawalpur کا مستقل خزانہ دار (Treasurer) مقرر ہونے پر تہہِ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ تقرری نہ صرف ایک باصلاحیت اور ایماندار افسر پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ اس عظیم درسگاہ کے بہتر مستقبل کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہے۔
ہم دل کی گہرائیوں سے گورنر پنجاب / چانسلر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے طویل عرصہ بعد اس تاریخی ادارے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک نہایت قابل، سلجھے ہوئے اور پروفیشنل انسان کو اس اہم ذمہ داری کے لیے منتخب کیا۔ یقیناً اس عمل میں Prof. Dr. Engr. Kamran، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے ادارے کے استحکام کے لیے بہترین فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر طارق محمود شیخ صاحب اس یونیورسٹی کی رگ رگ سے واقف ہیں۔ آپ طویل عرصہ سے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور اکاؤنٹ آفس کے نشیب و فراز، پیچیدہ معاملات اور مشکل گتھیوں کو سلجھانے کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔ آپ ہمارے وسیب اور پیارے شہر بہاولپور کی دھرتی کے سپوت ہیں، اور یہی تعلق آپ کو اس ادارے کے مسائل کو دل سے سمجھنے کی قوت دیتا ہے۔
ہمیں پُر امید توقع ہے کہ ڈاکٹر طارق صاحب اپنی دیانتداری، وسیع تجربے اور شب و روز محنت کے ذریعے اکاؤنٹ آفس کے وہ معاملات جو اس وقت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، انہیں بہتر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ ان شاءاللہ ان کی قیادت میں دوبارہ وہ وقت آئے گا جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، پارٹ ٹائم بلز، میڈیکل بلز اور دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنے گی، اور ادارہ مالی نظم و ضبط کی ایک بہترین مثال بنے گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر طارق محمود شیخ صاحب کو اس بڑی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس ادارے کو دوبارہ اپنے عروج کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔