“دل کا سکون اللّٰه کی یاد میں ہے”
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا نوجوان اور کیا بوڑھا ہر ہر شخص سکون کا متلاشی ہے۔ راحت و آرام کی تگ و دو میں ہے۔
یہاں تک کہ دولت، شہرت، عیش و عشرت اور ہر قسم کا آرام ہونے کے باوجود دل کو سکون نہیں ہے، روح کو چین نہیں ہے۔ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہے۔ دل ہے کہ اداس ہے، دماغ ہے کہ پریشان ہے۔ سکون کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ ہر شخص پریشان ہی نظر آئے گا۔ ہر شخص حالات کی شکایت کرتا پھرے گا ۔ کسی کو سکون اور راحت حاصل نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنی آدم جیسے ہی ہوش و حواس کے دور میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے اردگرد کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر ماحول اس کی فطری خواہشوں کے برخلاف نکلتا ہے تو وہ زند گی بھر کے لیے اپنی پسند کی زندگی حاصل کرنے کی ایسی جدوجہد کا آغاز کردیتا ہے جس کی منزل کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا ہے۔
یہ جدوجہد اسے عمر بھر کے لیے اتنا مصروف کردیتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ گنوا کر اکثر اپنی خواہشات پوری کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اسے ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس سارے عمل میں انسان دنیاوی چیزوں، اور عارضی مقام حاصل کرنے کے لیے اتنا بھاگتا ہے کہ اس کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہوتا وہ یہ جان سکے کہ وہ سب کچھ تو پارہا ہے لیکن اپنا ’’قلبی سکون‘‘ کھو رہا ہے۔
تو اس دنیا کے بنانے والے خداوند قدوس نے فرمایا کہ اے میرے بندو! تم اپنا سکونِ قلب کہاں تلاش کر رہے ہو۔ دنیا کی زیب و زینت میں ڈھونڈ رہو۔ مال و دولت میں تلاش میں کررہے ہو۔ سن لو یہ یہاں پر تمہیں حقیقی اور لازوال اطمنانِ قلبی، و سکونِ دل ملنے والا نہیں۔۔۔
حقیقی سکون تو میری یاد میں ہے۔ میری منتخب کردہ راہ میں ہے۔
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
ترجمہ : ’’ جان لو کہ ﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ‘‘
﴿٢٨ -سورة الرعد﴾
لہذا اگر قلبی سکون کہیں کھو جائے تو اس کے لیے غیر لوگوں کی طرف نہ بھاگو اور نہ ہی ایسے راستوں پر چلو جو عارضی ہوں، بلکہ اپنے حقیقی خالق کی طر ف آؤ۔ اُس خالق کی طرف جس نے انسان کے ایک ایک اعضاء کو خود محبت اور پیار سے بنایا۔ جس نے ہمارے دل کا ایک ایک تار خود تیار ہے۔ وہ واقف ہے کہ خرابی کہاں ہے۔
اللہ پاک نے جب دل بنایا تو اس میں جذبات کو شامل کردیا اور انہی جذبات کی وجہ سے ہی تو ہم اپنی زندگی بہتر طریقے سے جی پاتے ہیں۔ مگر جب اس نے اس دل میں سب شامل کیا تو اس کا سکون کہیں چھپا کر رکھ دیا تاکہ انسان کو اس سکون کی تلاش
میں ہو۔
ذرا غور کیجئے ہمارے پروردگار نے ہمیں کتنے شرف و اعزاز سے نوازا ہے‘ اگر ہم اپنے رب کا یاد کرتے ہیں تو ہمارا پروردگار بھی ہم جیسے حقیروں کو یاد کرتا ہے۔
ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اُسے ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اُس (جماعت)سے بہتر ہے، اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے۔ تو میں ایک ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے۔ تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلانے کے برابر اُس کے قریب آتا ہوں ، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے۔ تو میں دوڑ کر اُس کے پاس آتا ہوں۔‘‘
[رواہ البخاري والمسلم]
آپ دنیا کا جائزہ لیجیے! خدائے پاک کی ذات کو یاد کرنے والے کتنے لوگ چین و آرام کی زندگی پاتے ہیں، ان کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی ہیں۔ ہر وقت اللہ تعالی کے ذکر اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ سکون و اطمینان اللہ کے گھر اور وہاں پر ہوتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی جاتی ہے۔ جہاں خدا کے منشا کے مطابق زندگی گزاری جاتی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوء حسنہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاک سیرت زندگی کا حصہ ہوں۔ تاکہ دل کو سکون اور اطمنان میسر ہو سکے۔
۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے منور فرمائے۔ آمین
محمد انظر قاسمی پورنوی
Prince salman khan
salman
اے اللہ پاک!
بیشک تو ہی ہمارا رب ہے اے اللہ ھم سب کی زندگیوں میں عاجزی, خوشی, برکت, صحت اور اچھے صفات عطاء فرما اور برے اعمال, برے وقت, بری گھڑی اور برے انجام سے حفاظت فرما۔
آمین یا رب العالمین
السلام علیکم
صبح بخیر
ډیر بې حده ګناهګار یم
سبحان اللہ
رمضان المبارک اہمیت اور فضیلت
خدا ناراض کر بیٹھا ہے
بہت مصروف رہتے تھے
ہواؤں پر حکومت تھی
تکبر تھا کہ طاقت تھی
بلا کی بادشاہی تھی
کوئی بم لے کے بیٹھا تھا
کسی کے ہاتھ حکمت تھی
کوئی تسخیر کرتا تھا
کوئی تدبیر کرتا تھا
کوئی ماضی دکھاتا تھا
کسی کے ہاتھ فیوچر تھا
سب ہی مصروف تھے ایسے
کہ ایک ہستی بھلا بیٹھے
بہت پرواز کر بیٹھے
خدا ناراض کر بیٹھے
اب اس نے منہ جو پھیرا ہے
فقط وحشت کا ڈیرہ ہے
کہ دنیا کی ہر ایک بستی
بھیانک موت چہرہ ہے
خدا منہ پھیر بیٹھا ہے
اب اس کا گھر بھی خالی ہے
قہر دنیا پہ طاری ہے
ابھی بھی وقت ہے لوگو
خدا سے گڑگڑا کر تم
اسے راضی کرو بھائی
وہ جلدی مان جاتا ہے
وہ اب بھی تم کو چاہتا ہے
کہیں پھر دیر ہو جاۓ
زمین ساری پلٹ جاۓ
ابھی بھی وقت ہے لوگو
وہ جلدی مان جاتا ہے
وہ جلدی مان جاتا ہے!!!
د پبجی گیم نقصانات
دنیا د څلورو کسانو ده!
دا ویډیو به مو د دنیا په اړه سترګې خلاصې کړي!
د ثواب لپاره ویډیو شیر کړئ
08/05/2020
اللہ جل جلالہ کے محبوب بندے !!!
دنیا کا سب سے میٹھا ترین نام اللہ ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Bannu