24/05/2026
جشن بہاراں فٹبال ٹورنمنٹ2026بنوں
بذریعہ: ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بنوں اینڈ
ریجنل سپورٹس افس بنوں
زیرِ اہتمام: ڈسٹرکٹ فٹبال اینڈ
فٹسال ایسوسی ایشن (DFA) بنوں
مھمان خصوصی /
عرفان خان درانی ملک ابرار خان
امیر زاھد شاہ RSO یوسف خان TMO
بنوں کی سرزمین ایک بار پھر فٹبال کے جنون، رفتار اور مہارت کا مرکز بننے جا رہی ہے۔
یہ ٹورنامنٹ محض ایک مقابلہ نہیں، بلکہ ٹیلنٹ، ٹیم اسپرٹ اور چیمپئن بننے کے خوابوں کی ایک شاندار داستان ہے۔
⚽ ہر پاس میں کلاس — ہر گول میں وقار
⚽ میدان میں جذبہ، طاقت اور حکمتِ عملی کا شاندار مظاہرہ
⚽ یہاں صرف کھلاڑی نہیں، بلکہ اسٹارز جنم لیتے ہیں
🔔
✅ کل کا بھترین فائنل میچ ہوگا 25/05/2026
کرم فٹبال کلب بنوں بمقابلہ نیو افغان ڈی ائ خان
✨ وی آئی پی فٹبال ماحول/ایک صوبائ لیول کا چھوٹا ایونٹ صرف عوام کو پرسکون ماخول فراہم کرنا اور چند گھنٹے گراونڈ میں پری ٹینشن فٹبال دیھکنا ھے شکریہ
✨ معیاری اور بہترین انتظامات
✨ پروفیشنل ریفری پینل
✨ شاندار تقریب اتش بازی اور گرینڈ فائنل
🔥 جشنِ بہارہ فٹبال ٹورنامنٹ 2026 – بنوں 🔥
جہاں فٹبال بنتا ہے وقار… اور میدان بنتا ہے تاریخ! ⚽
منجانب:
ڈسٹرکٹ فٹبال اینڈ فٹسال ایسوسی ایشن بنوں
02/05/2026
Maaha Allah . Ye sab Allah ka fazal hy
15/04/2026
درخواست
محترم ذمہ داران،
میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کی کھلاڑیوں کے لباس کے حوالے سے اسلامی اقدار کو مدنظر رکھا جائے۔
ہم ایک اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں حیا اور پردہ بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔
اسلام میں خواتین کے لیے پردہ اور مناسب لباس اختیار کرنا نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں کھیلوں میں خواتین کی شرکت قابلِ تعریف ہے، مگر اس کے ساتھ اسلامی حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض کھلاڑی شارٹس (نیکر) کے ساتھ مکمل اسکن ٹائٹ لباس استعمال نہیں کرتیں اور نہ ہی حجاب پہنتی ہیں۔
یہ طرزِ لباس ہماری دینی اور معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے حیا اور پردے کی واضح ہدایات دی ہیں۔
اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی خواتین کے لباس کے متعلق رہنمائی موجود ہے۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے ایسا لباس متعارف کروایا جائے جو کھیل کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق بھی ہو۔
اسکن ٹائٹ (فل باڈی) لباس اور حجاب اس سلسلے میں ایک مناسب حل ہو سکتا ہے۔
اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی بلکہ ان کی عزت و وقار بھی برقرار رہے گا۔
دنیا کے کئی مسلم ممالک میں خواتین کھلاڑی حجاب کے ساتھ کامیابی سے کھیل رہی ہیں۔
یہ ہمارے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے۔
اسلام ہمیں اعتدال اور وقار کا درس دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پہچان اور مذہبی اقدار کو برقرار رکھیں۔
اگر اس حوالے سے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا۔
اس سے نوجوان نسل کو بھی ایک اچھا پیغام ملے گا۔
کھلاڑی ہماری قوم کی نمائندگی کرتی ہیں، اس لیے ان کا لباس بھی ہماری ثقافت اور دین کی عکاسی کرے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔
اور جلد از جلد اس پر مناسب اقدامات کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام