Elai, Buner

Elai, Buner

Share

Elai, My homeland, situated in in the heart of Buner, KPk, Pakistan

12/07/2025

گاؤں ایلے محلہ چم میں سردار خان ولد اعظم علی خان (مرحوم) وفات پاگئے ہیں ۔ (مرحوم سردار خان،) حاجی خورشید خان ، چیئرمین حاجی شیر خان ،حاجی عبد ارشید خان ، حاجی بخت بہادر خان اور بخت زادہ خان کا بتھیجا اور ڈاکٹر ملک اکبر کے بھائی تھے۔
جنازہ : 11 بجے بروز ہفتہ 12 جولائی 2025
جنازگاہ چم ایلے ۔

14/12/2024
05/11/2024

استاد "گائیڈ" یعنی رہنما ہوتا ہے. (قسط نمبر 2)

شاگردوں سے

استاد آپ کی رہنمائی کرتے ہیں ، وہ آپ کو نامعلوم چیزوں ، اشخاص ، حقیقتوں اور مختلف قسم کے پیمانوں کی پہچان کرانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ درست منزل کی طرف درست سمت میں آگے بڑھیں تو اس کے لیے سب سے پہلے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرنی ہیں کہ آپ کو پڑھانے والوں میں کون واقعی استاد یعنی رہنما ہے۔
جب آپ پہچان لیتے ہیں کہ کون واقعی رہنما ہے تو پھر ان پر ، ان کی رہنمائی پر اعتماد اہم چیز ہے اس لیے کہ جب تک آپ کو اعتماد نہیں ہوگا آپ رہنمائی سے فائیدہ نہیں اٹھا سکتے۔
اس کے بعد ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ میں طلب ہونی چاہیے ، استاد کے پاس کوئی مقناطیس نہیں ہوتا کہ جسے وہ آپ کے ذہن میں لگا دے اور اس کے بعد ہر قسم کی معلومات خود بخود آپ کے ذہن میں آکر محفوظ ہوتی رہیں۔ یاد رکھیں کچھ سیکھنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز آپ کی وہ طلب ہے جو آپ کو محنت پر ابھارتی ہے اور آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ استاد کی لیاقت اور صلاحیت ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی گائیڈ کتنا بھی "ایکوریٹ" ہو ، چاہے وہ گوگل میپ نیوی گیٹر ہی کیوں نہ ہو ، جب تک آپ اس کی ہدایات پر چلیں گے نہیں آپ کبھی بھی راہ نہیں پا سکتے۔
یاد رکھیں منزل تک پہنچنے کے لیے آپ میں مستقل مزاجی کا ہونا انتہائی ضروری ہے، حالات کیسے بھی ہوں آپ کو سفر جاری رکھنا ہے اور کبھی بھی کسی بھی مقام پر سست نہیں پڑنا۔ چلتے رہنا ہے۔
یاد رکھیں تعلیم کا اصل مقصد اپنی شخصیت کی تعمیر ہے، فی زمانہ یہ مقصد لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہترین اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی اکثر لوگوں کی شخصیت بالکل صفر ہوتی ہے۔ آپ کی شخصیت کا وقار سب سے اہم ہے۔
یاد رکھیں ، آپ کی شخصیت کو سنوارنے میں آپ کے اساتذہ مدد فراہم کرتے ہیں لیکن آپ کی شخصیت کے بگاڑ کے سب سے بڑے ذمہ دار آپ خود ہوتے ہیں۔
خود کو پہچانیں ، وقت کی قدر کریں ، علم کی طلب پیدا کریں ، مستقل مزاجی سیکھیں اور شخصیت کی تعمیر کریں۔ انسانیت آپ پر فخر کرے گی۔

افضل خان بونیری

04/11/2024

استاد "گائیڈ" یعنی "رہنما" ہوتا ہے۔ (قسط نمبر 1)
استاد سے
اگر آپ استاد ہیں، چاہے آپ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پڑھا رہے ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو خود "راستہ" معلوم ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو خود ہی منزل کا پتہ معلوم نہیں تو آپ کیسے دوسروں کو گائیڈ کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر تذبذب بھی ہوتا ہے لیکن آپ نے صدق نیت سے جو راستہ آپ کو دل سے درست لگ رہا ہے اسی کی طرف بڑھنا ہے اور طلبہ کو ساتھ لے جانا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو طلبہ میں ہر معیار کے لوگ ملتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو آپ صرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ "راہ" پا لیتے ہیں ، کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں اشارے کے ساتھ ساتھ سمجھانا بھی پڑتا ہے۔ ایسے بھی ہوں گے جن کے ساتھ آپ کو چل کر جانا پڑتا ہے ورنہ وہ نہیں پہنچ پائیں گے۔ جبکہ ایسے بھی اسٹوڈنٹس ہوں گے جن کے ساتھ چلتے ہوئے بھی انہیں بار بار راستے کی طرف متوجہ کرنا پڑتا ہے۔
آپ کو پڑھائی کا معیار سب سے کمزور طلبہ کے مطابق رکھنا ہوگا اس لیے کہ زیادہ صلاحیت والے تو بہر صورت سمجھ جائیں گے لیکن اگر آپ صرف انہی کے معیار سے چلیں گے تو اوسط درجے والے اور کمزور طلبہ کبھی بھی "راہ" نہیں پا سکتے۔

یاد رکھیں، آپ ایک ایسے "گائیڈ" ہیں جس کی ذمہ داری دوہری ہے، آپ راستہ بھی دکھائیں گے اور بے طلبوں میں طلب پیدا کرنے کی بھی اپنی صلاحیت کے بقدر کوشش کریں گے۔
یاد رکھیں آپ حکمران نہیں ہیں۔ نہ ہی آپ مخدوم ہیں۔ آپ حاکم گر ہیں آپ مخدوم گر ہیں۔
یاد رکھیں ، آپ نے اپنے علم اور اپنی فہم کی نمائش کی بجائے اس کو بڑھانے کی فکر کرنی ہے۔ اور جب آپ ایمانداری سے پڑھاتے ہیں رہنمائی کرتے ہیں تو آپ کے علم و فہم کا دائرہ بڑھتا ہے۔ آپ درست سمت کی طرف چلنے لگتے ہیں اور آپ کے طلبہ آپ کے پیچھے پیچھے ہی وہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔
یاد رکھیں آپ کے پاس نسلیں بطور امانت آتی ہیں۔ حفاظت کریں اور امر ہو جائیں۔

حافظ افضل خان بونیری

26/09/2024

تحریر بھائی Mohammad Fahad Haris
کیا یہ واقعی اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب خود کو صرف مسلمان کہلواتے ہیں سلفی نہیں؟

کیا خود کو سلفی نہ کہلوانا اور صرف مسلمان کہلواتے ہوئے موحدانہ عقائد پر کاربند رہنا کافی نہیں؟

کس نص سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ موحدانہ عقائد اور اتباع سنت کے ساتھ خود کو صرف مسلمان کہلوانے والا گمراہ یا غلط کار ہے؟

ایک داعی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ جب وہ بین الاقوامی سطح پر اسلام کی دعوت پہنچارہا ہو تو وہ خود کو کسی ذیلی نسبت سے بھی منسوب کرے جبکہ اس نبست سے انتساب کا چلن دور صحابہ کے بعد ہوا۔

کبھی کبھی ان ذہنوں پر شدید حیرت ہوتی ہے جو بطور فیسلیٹیشن قریبا ایک صدی بعد وضع کی گئی اصطلاحات کے اختیار کرنے کو واجب و فرض قرار دیتے ہوئے ان کے تارک کو گمراہی کے فتوی بانٹتے ہیں۔

قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کے تحت بارگاہ الہی میں کامیابی و مقبولیت کے لیے موحدانہ عقائد، اتباع سنت اور خود کو مسلم کہلوادینا کافی ہے۔

اس کے بعد جو کچھ ہے وہ مابعد کے ادوار میں خود کو اہل بدعت سے ممیز کرنے کے لیے کی گئی فیسیلیٹیشن ہیں، ان کو کسی بھی درجے میں وجوب کا درجہ دینا اور ان کو اختیار نہ کرنے پر گمراہی یا کجی کے فتوے بانٹنا سراسر زیادتی اور خود اپنے آپ میں گمراہی ہے۔

تحریر: محمد فھد حارث

25/09/2024

انگريزی زبان اور غلامانہ ذہنیت
(ايک پرانی تحرير)

انگريز زبان سے مرعوبيت اور مغلوبيت کا يہ عالم ہے کہ ہم ميں سے جو بهی انگريزی سيکھ لے تو بس ہر جگہ اس کی يہی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں پر اپنی انگريزی کا رعب جماتا رہے ۔ اور بجائے اپنی زبان میں بات کرنے کے ، انگريزی ميں بات کرکے اپنی فوقيت ثابت کرتا رہے۔
آج اس کا پهر سے تجربہ ہوا۔ ايک بندہ اچانک اپنے اور ہمارے مشترکہ ميزبان سے بالکل انگريزوں کے لہجے ميں انگريزی بولنے لگا ۔ایسے جيسے کوئی گرم چيز منہ ميں ڈال کر بات کر رہا ہوں۔ ميزبان نے سمجھايا بهی کہ مناسب نہيں ہے دوسرے مہمان بھی بیٹھے ہیں اپنی زبان میں بات کرتے ہیں لیکن اس نے جواز پیش کیا کہ ميں صرف آپ سے مخاطب ہوں اس ليے انگريزی بول رہا ہوں ۔
مولويوں پر رعب جماتا رہا ۔ ايک عجيب سا احساس ِ تفاخر تها اس کے انداز ميں۔ جیسے ہم سے کہہ رہا ہو ، تم کیڑے مکوڑے کیا سمجھو ہم بڑے لوگوں کی باتیں۔ ہم ہیں انگریزی بولنے والے اور وہ بھی منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے والے۔ ہم نے بھی رنگ میں بھنگ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور اسے سمجھنے دیا کو وہ سمجھتا رہا۔ لیکن اس کے رویے نے اس قوم کے لیے اس دل کو اور بھی دکھی کر دیا ۔ ايسے لوگوں کو ديکھ کے تکليف بهی بہت ہوتی ہے اور ان پر ترس بهی بہت آتا ہے ۔

صاحبو ! انگريزی ضرور سيکهو۔ خصوصاً علماء کو لازماً سيکهنی چاہيے ۔ ليکن اس سے کبهی مرعوب مت ہونا ۔ اس کو باعث ِفخر مت بنانا ۔ اس کو عزت افزائی کا معيار مت بنانا ۔ عمومی طور پر ہم ايسے لوگوں سے مرعوب ہوتے ہيں ۔ اسی ليے يہ چلن عام ہوا ہے ۔ اور لوگوں نے انگریزی کو عزت اور رعب کا معیار بنا دیا ہے۔ یاد رکھنا! ہماری اپنی علاقائی زبانيں ہی ہماری شان ہيں اور عربی زبان ہماری آن ہے ۔ افسوس کہ ہم فقيروں کے فقير بن گئے ۔

وجود کيا ہے ? فقط جوہر ِخودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا

صاحبو ! کتنا بهی خود کو ان کے رنگ ميں رنگ لو ۔
وه تمہارے مسخرے پن پر ہنسيں گے ۔
اور تمہاری بے دام غلامی سے خوب لطف اندوز ہوں گے ۔

ميرا يہ حال ، بوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں ميں
ان کا يہ حکم ، ديکھ ! مرے فرش پر نہ رينگ

حافظ افضل خان بونيری

24/09/2024

پختون کلچر پر بات چل رہی ہے اور حیرت انگیز طور پر ان حلقوں کی جانب سے چلی ہے جو ہمیشہ کلچر کو "دین" پر ترجیح دیتے رہتے ہیں اور کلچر کے نام پر "دین" کو دیس نکالا دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
پختون کلچر میں عورتوں کو وراثت میں حصہ دینا عام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔
پختون کلچر میں بدلے کی شادی کا رواج بھی کسی حد تک موجود ہے۔
پختون کلچر میں عورتوں کو عموماً حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
پختون کلچر میں قتل وغیرہ کی صلح میں عورتوں کو بطور "سورہ" متاثرہ خاندان کو دینے کا عام رواج رہا ہے (اگرچہ اب کافی حد تک یہ مذموم سمجھا جانے لگا ہے)
پختون کلچر میں طبقاتی تقسیم شدت کے ساتھ موجود رہی ہے اور اب بھی کافی حد تک موجود ہے۔
یہ تو چند بڑی خرابیاں ہیں۔ یہ اور ان جیسی بے شمار دیگر خرابیاں ہر کلچر میں در آنا ایک فطری سے بات ہے۔ جب تک کلچر پر کوئی فیصلہ کن فلٹر نہیں لگایا جاتا ، معاشرے کے طاقتور عوامل ان جیسی روایات کو اختراع کرکے انہیں مسلط کرتے رہتے ہیں اور عام عوام کے پاس ان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں ہوتا۔
المیہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی عقل بھی ان خرافات کے لیے بے شمار دلائل اور وجوہات مہیا کرتی رہتی ہے۔ لہذا عقل کو فیصل بنانا بھائے خود محل نظر بلکہ ایک بڑی غلطی ہے۔
کسی بھی"کلچر" کی خرابیاں ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ "وحی الٰہی" کو خرابی اور خوبی کا معیار بنا کر"کلچر" کو اس کا پابند بنایا جائے۔ ورنہ ہر "بے مہار کلچر" انسانیت سوز رسوم و رواج کو جگہ دیتا رہے گا اور اس "کلچر" کے دعویدار اور پابند لوگ ان کا دفاع بھی کرتے رہیں گے اور ان پر فخر بھی کرتے رہیں گے۔

حافظ افضل خان بونیری

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Bunerwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Shingat
Bunerwal
0939

Opening Hours

Monday 15:00 - 20:30
Tuesday 15:00 - 20:30
Wednesday 15:00 - 20:30
Thursday 15:00 - 20:30
Friday 15:00 - 20:30
Saturday 15:00 - 20:30
Sunday 15:00 - 20:30