07/09/2026
سعید انور — ٹیسٹ کرکٹ کا وہ باب جو شاید مکمل نہ ہو سکا! 🏏🇵🇰
سعید انور کا ون ڈے کیریئر جتنا شاندار تھا، ٹیسٹ کیریئر اتنی ہی کم مواقع کی کہانی بن گیا۔
ٹیسٹ ڈیبیو ویسٹ انڈیز کے خلاف ایسی مشکل پچ پر ہوا جہاں چاروں اننگز میں کوئی ٹیم 200 رنز تک نہ پہنچ سکی۔ سامنے دنیا کے خطرناک ترین باؤلنگ اٹیک میں سے ایک تھا۔ میچ تیسرے دن ختم ہوا، اور سعید انور کو دوبارہ موقع ملنے میں چار سال لگ گئے۔
واپسی کے بعد دوسرے ہی ٹیسٹ میں 169 رنز کی شاندار اننگز نے ثابت کر دیا کہ یہ ٹیلنٹ صرف ایک موقع کا محتاج نہیں تھا، بلکہ مسلسل اعتماد کا حق دار تھا۔
سعید انور نے صرف 55 ٹیسٹ کھیلے، مگر بطور اوپنر ایسے اعداد و شمار چھوڑے جو آج بھی پاکستانی کرکٹ میں خاص مقام رکھتے ہیں:
🔹 بطور پاکستانی اوپنر 3957 رنز
🔹 84 اننگز میں 48.25 کی اوسط
🔹 بطور اوپنر 11 ٹیسٹ سنچریاں
🔹 آسٹریلیا کے خلاف سب سے زیادہ 3 سنچریاں
🔹 نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف 2،2 سنچریاں
🔹 بھارت، انگلینڈ، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ایک سنچری
اور ایک دلچسپ پہلو!
اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 37 فیصد رنز سعید انور نے ان 14 ٹیسٹ میچز میں بنائے جو پاکستان نے بیرونِ ملک جیتے۔
سوال صرف یہ ہے:
اگر سعید انور کو ابتدا ہی میں مسلسل مواقع اور اعتماد دیا جاتا، تو کیا ان کا ٹیسٹ کیریئر پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین کیریئرز میں شامل نہ ہوتا؟
کبھی کبھی عظیم کھلاڑی ناکام نہیں ہوتے،
بس انہیں خود کو ثابت کرنے کے لیے کافی مواقع نہیں ملتے۔ 💔🏏