Apna Faisalabad Sardar atique Aujla

Apna Faisalabad Sardar atique Aujla

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Apna Faisalabad Sardar atique Aujla, Sports Team, Faisalabad.

05/12/2024

Only Faisalabadi Can Understand 🤡😹

09/07/2023

‏یہ خوبصورت ہوٹل آسٹریلیا نیوزی لینڈ دبئی میں نہیں بلکہ یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد
میں واقع ہے
Titanic Resort Faisalabad 🇵🇰

Photos from Apna Faisalabad Sardar atique Aujla's post 19/05/2023

یہ آئی فون موبائل ایک بھائی کے رکشا میں ایگریکلچر کی سٹوڈنٹ چھوڑ گئی ہے جس کا بھی ہو کال کر لے موبائل بھائی کے پاس محفوظ ہے
شہزاد خالد
03007975661

Post by dilshad Voice of Faisalabad

26/04/2023

"فیصل آباد کے ساتھ المیہ"

فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے لیکن اس کے پاس کوئی پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے، جہاں جنوبی پنجاب تک میں میٹرو چل گئی فیصل آباد کو صرف چنگ چی کے سہارے چھوڑ دیا گیا ہے۔ لاہور میں بلٹ ٹرین چلی فیصل آباد میں 20 سالوں میں کوئی بھی سواری یہاں کے ایک کروڑ سے ذائد شہریوں کے لیئے موجود نہیں۔

اس کا کرکٹ کا میدان پچھلے 14 سال سے ذیادہ کے عرصے سے بند پڑا ہے جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی اور پی ایس ایل کے آٹھویں سال بھی ادھر ایک بھی میچ نہیں ہوا جبکہ جنگ ذدہ کوئٹہ میں بھی میچ کھیلائے گئے، اور فیصل آباد سے کہیں چھوٹے شہر ملتان میں بھی میچ ہوئے لیکن پتا نہیں فیصل آباد کے شہریوں سے کونسا بدلہ لیا جارہا ہے کیا ان کے لیئے تفریح ضروری نہیں؟

فیصل آباد کا بین الاقوامی ہاکی سٹیڈیم اب گاڑیوں کا ایک شوروم بن چکا ہے اس کی آسٹروٹرف بیکار ہو گئی ہے۔ ہماری بین الاقوامی ہاکی ٹیم تباہ ہوئی تو اس کے ساتھ فیصل آباد کا میدان بھی کار مافیا کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔

یہاں پر ایک کینال پارک ہوتا تھا جو اب اجڑ گیا اس کی بحالی بھی نہیں ہو سکی، جناح پارک ہے وہ صرف اس لئے بچا ہے کہ اس کے ساتھ سرینا ہوٹل اور چناب کلب ہے کیونکہ وہاں با اثر لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے۔

یہاں کوئی نیا سکول یا قابل قدر تعلیمی ادارہ نہ بن سکا، ارفع کریم کا تعلق فیصل آباد سے تھا لیکن اس کے نام کا ٹیکنالوجی ٹاور لاہور میں بنایا گیا۔ فیصل آباد کے لوگوں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پیچھے رکھا جا رہا ہے۔

فیصل آباد اور اس کی مضافات کے کروڑوں لوگوں کے پاس ہائیکورٹ بینچ تک موجود نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ بار کی دادا گیری کی وجہ سے روزانہ ہزاروں لوگوں کو پیشیوں پر لاہور جانا پڑتا ہے۔

بیرون ملک جانا ہے تو میڈیکل ٹسٹ کے لیئے لیبارٹری لاہور گوجرانولہ اور بھی بہت شہروں دوسرے شہروں میں تو ہے لیکن فیصل آباد میں نہیں۔ ایچ ای سی، فارن آفس اور ویزہ پروٹیکٹر کے لیئے بھی لاہور جانا پڑتا ہے فیصل آباد میں کیوں نہیں؟ کیا ایک کروڑ سے ذائد آبادی کے شہر کے لیئے یہ سہولیات ضروری نہیں؟

ہیلتھ کے شعبوں میں بھی اسی طرح کے مسائل ہیں، ایک تو آبادی کے لحاظ سے ہسپتالوں کی تعداد کم یے دوسرے ان میں تمام ضروری سہولیات میسر نہیں، بہت سارے مریضوں کے ورثاء کو انہیں فوری لاہور لیجانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے پورے پنجاب کا بجٹ لاہور میں لگا کر اس کا انفراسٹرکچر بہترین بنایا گیا لیکن فیصل آباد کو بےیار و مددگار چھوڑ دیا گیا، کسی سرکاری افسر، سیاست دان یا پولیٹیکل پارٹی کے سر پر جوں تک نہ رینگتی ۔ ۔ ۔

فیصل آباد کے لوگوں کے لیئے کوئی بھی حکومت، کچھ بھی نہیں کر رہی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی فیصل آباد کا سیاست دان اس کے لیئے کچھ سوچتا ہے اور نہ عوام کو ہوش ہے۔ بس فیصل آباد کے لوگوں کے بارے میں یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ یہ بہت بڑے جگت باز ہیں، بڑے ہنس مکھ ہیں اور نتیجتا اب یہ ہر سنجیدہ مسئلے کو مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔

اگر فیصل آباد کے مکین اس کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں آواز اٹھانا ہوگی اور اپنے اپنے حلقے کے سیاستدانوں پر زور ڈالنا ہوگا۔ یہ دباؤ بڑھا کر حکومت تک لے جانا ہوگا اور ان سے یہ سوال کرنا پڑے گا کہ فیصل آباد ایک انڈسٹریل سٹی، ایک بہت بڑا ریونیو جنریٹ کرنے والا شہرآخر بنیادی سہولتوں سے محروم کیوں؟

20/04/2023

Welldone Hero ❤️ Faislabad 🔥

08/01/2023

فیصل آباد میں باھر سے خریداری کرنے کے لئے آنے والوں کیلئے مفید معلومات 🚶🚶🚶
1👈۔کپڑے
خواتین کے سلے اور ان سلے برینڈز کے لینے ہوں تو کوہ نور پلازہ اور ڈی گراؤنڈ میں ساری دکانیں ہیں
۔لوکل لینے ہوں تو بھوانہ بازار اور انارکلی بازار بہترین ہیں۔
اور ہول سیل پر لینے ہوں تو ریل بازار میں واقع مکی اور مدنی مارکیٹ میں بہت سستے مل جاتے ہیں۔
مردانہ کپڑے کی دکانیں ریل بازار کے شروع میں بھی ہیں۔ بھوانہ بازار سے بھی ملتا ہے لیکن سب سے سستا مکی اور مدنی مارکیٹ کارخانہ بازار سے ہی ملتا ہے۔
اگر کٹ پیس لینے ہوں تو وہ لال مل ایریا ٹاٹا بازار راجباہ روڈ بیرون کارخانہ بازار
مردانہ شرٹ کا کپڑا اور مردانہ گارمنٹس پینٹ کوٹ و شیروانی لینےکے لیے ریل بازار کی گھنٹہ گھر والی سائیڈ اور ڈگلس پورہ
2👈۔ہوزری کا سامان اور بڑی چھوٹی سلائی مشینیں جناح کالونی اور مین بازار ڈگلس پُورہ.
3👈۔بچوں کے کھلونے اور جھولے وغیرہ
چھوٹے کھلونے لینے ہوں تو جھنگ بازار میں مسجد کے پاس سے اندر گول بازار میں ۔ اگر تھوڑے بڑے پلاسٹک کے لینے ہوں تو بھوانہ بازار کے پاس واقع ریگل روڈ پر کافی دکانیں ہیں اور جھنگ بازار میں بھی۔ اگر لوہے کے بڑے جھولے بنوانے ہوں تو اسلام نگر کے پاس جیل روڈ پر۔
4👈۔ائیر کولرز کیلئے جھمرہ روڈ اور سولر پلیٹس اور ھر قسم کی موٹروں کے لیے جھنگ روڈ اور موٹر مارکیٹ
5👈۔الیکڑونکس کا بڑا سامان لینے کے لیے سرکلر روڈ اور کوتوالی روڈ
6👈۔الیکٹرونکس کا چھوٹا سامان اور اس کی مکمل رئپئرنگ کا سامان بھوانہ بازار اور سکول والی گلی سے۔
7👈۔ زیورات کرنسی نوٹ پرائز بانڈ کے لئے ریل بازار
8👈۔کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ سامان ریکسٹی پلازہ
9👈۔چارپائیاں اور لوہے کی الماریاں ، پیٹیاں وغیرہ ڈجکوٹ روڈ جھمرہ روڈ اور شیخوپورہ روڈ سے اچھی ملتی ہیں۔
10👈۔پلاسٹک کا سامان جھنگ بازار سے بھی اچھا ملتا ہے اور ستیانہ روڈ پر میکڈونلڈ کے بعد بھی ۔بہت بڑی دکانیں ہیں۔
11👈۔موبائل فون سے متعلقہ ھول سیل سامان گھڑیاں اور عینکیں...... کچہری بازار
12👈۔ھر قسم کی گاڑیوں ٹرکوں ٹریکٹروں اور بسوں کے نئے پرانے سپئر پارٹس اور چھوٹے بڑے نئے پُرانے جنریٹر گرائنڈرز ڈرل مشینیں لاری اڈہ و بلال گنج مارکیٹ سرگودھا روڈ
13👈۔گاڑیوں کے نئے پُرانے ٹائر سرکلر روڈ و لاری اڈہ کے سامنے
14👈۔ ھر طرح کے جُوتے ھول سیل پر امین پُور بازار سے بھوانہ کی طرف جانے والی گلی
15👈۔کتابوں کی خرید و فروخت ، چھپائی ،مہریں، ڈیکوریشن و لیدر جیکٹس کے لیے امین پور بازار
16👈۔بڑے ٹریولنگ بیگز کے لیے بھوانہ بازار اور چھوٹے بیگ زیادہ مقدار میں بنوانے ہوں تو گول مچھلی والا بازار
17👈. آرا مشین ٹوکہ مشین ٹیوب و زرعی مشینری برگر شوارما بار بی کیو اور ریسٹورنٹ مشینری سمندری روڈ جھال کے قریب و مقبول روڈ جھال اور ھر طرح کا مل مشینری کا سامان ریلوے روڈ.... ھر طرح کے الیکٹرک وزن کنڈے اور دیگر سامان کارخانہ بازار اور ھر طرح کی دیسی دوائیں و پنسار سٹور کا سامان بھی کارخانہ بازار
18👈۔کھوتا ریڑھی و ھاتھ ریڑھی بنی بنائی بہترین دجکوٹ روڈ بیرون جھنگ بازار
19👈۔ دھاگے نلکیاں اور کپڑوں پر لگنے والا دوسرا سامان منٹگھمری بازار سے پاس چھوٹی سی گلی میں سے ملتا ہے جو آگے جھنگ بازار میں جا نکلتی ہے۔ بچوں کے سلے ہوئے سوٹ بھی اسی گلی سے ملتے ہیں۔
20👈۔ ہول سیل پر جوس، پانی، پرفیوم، کاسمیٹکس، ھیئر سیلون بیوٹی پارلر پیمپرز اور اس طرح کی دوسری چیزیں بھی کارخانہ بازار اور منٹگھمری بازار کے درمیانی حصے سے۔
21👈۔ بچوں کی سائیکلیں منٹگمری بازار کی راجباہ روڈ والی سائیڈ سے اور کچہری بازار سے ریل بازار کی طرف سروس روڈ والی مارکیٹ سے.... پُرانی امپورٹد لینی ھوں تو بلال گنج سرگودھا روڈ
22👈۔ برتن اور کراکری کا سارا سامان جھنگ بازار میں موجود دکانوں سے ملتا ہے خاص طور پر جو جھنگ بازار کی گھنٹہ گھر والی سائیڈ کے آس پاس چھوٹی گلیاں نکلتی ہیں۔
23👈۔ پلاسٹک کریش دانہ کی کچھ دکانیں کارخانہ بازار تا پرانا کارپوریشن دفتر اور وھیں موجود ضلع کونسل کی مارکیٹ کے اندر موجود ھیں۔
24👈۔ سیکنڈ ہینڈ اور نئی سلائی کڑھائی کی مشینیں جناح کالونی سے بھی مل جاتی ہیں اور ریگل روڈ کی طرف سے ڈگلس پورہ کے مین بازار سے بھی۔ چھوٹی بڑی ہر قسم کی۔ یعنی گھریلو استعمال کے لیے بھی اور کمرشل مقاصد کے لیے بھی۔
25👈۔ ہر قسم کے پردے، سلے سلائے بھی اور اگر خود بنوانے ہوں تب بھی، تولیے، بیڈ شیٹس، نیپکن وغیرہ سرسید ٹاؤن میں فاطمہ جناح روڈ پر بہت اچھے اور بہت سستے مل جاتے ہیں۔ رضائی طلائی کا کپڑا اور سلی سلائی مکمل بھی یہیں سے ملتی ہیں۔ کمبل اور کھیس کی بھی بہت ورائٹی ہوتی ہے۔
26👈۔ ھر طرح کی لکڑی اور لکڑی سے متعلقہ سامان اور لکڑی کی مصنوعات و کاریگر اور ٹی آر گاڈر سریا اینگل شیخوپورہ روڈ حاجی آباد و دجکوٹ روڈ و جھنگ روڈ لکڑمنفیصل آباد میں باھر سے خریداری کرنے کے لئے آنے والوں کیلئے مفید معلومات 🚶🚶🚶
1👈۔کپڑے
خواتین کے سلے اور ان سلے برینڈز کے لینے ہوں تو کوہ نور پلازہ اور ڈی گراؤنڈ میں ساری دکانیں ہیں
۔لوکل لینے ہوں تو بھوانہ بازار اور انارکلی بازار بہترین ہیں۔
اور ہول سیل پر لینے ہوں تو ریل بازار میں واقع مکی اور مدنی مارکیٹ میں بہت سستے مل جاتے ہیں۔
مردانہ کپڑے کی دکانیں ریل بازار کے شروع میں بھی ہیں۔ بھوانہ بازار سے بھی ملتا ہے لیکن سب سے سستا مکی اور مدنی مارکیٹ کارخانہ بازار سے ہی ملتا ہے۔
اگر کٹ پیس لینے ہوں تو وہ لال مل ایریا ٹاٹا بازار راجباہ روڈ بیرون کارخانہ بازار
مردانہ شرٹ کا کپڑا اور مردانہ گارمنٹس پینٹ کوٹ و شیروانی لینےکے لیے ریل بازار کی گھنٹہ گھر والی سائیڈ اور ڈگلس پورہ
2👈۔ہوزری کا سامان اور بڑی چھوٹی سلائی مشینیں جناح کالونی اور مین بازار ڈگلس پُورہ.
3👈۔بچوں کے کھلونے اور جھولے وغیرہ
چھوٹے کھلونے لینے ہوں تو جھنگ بازار میں مسجد کے پاس سے اندر گول بازار میں ۔ اگر تھوڑے بڑے پلاسٹک کے لینے ہوں تو بھوانہ بازار کے پاس واقع ریگل روڈ پر کافی دکانیں ہیں اور جھنگ بازار میں بھی۔ اگر لوہے کے بڑے جھولے بنوانے ہوں تو اسلام نگر کے پاس جیل روڈ پر۔
4👈۔ائیر کولرز کیلئے جھمرہ روڈ اور سولر پلیٹس اور ھر قسم کی موٹروں کے لیے جھنگ روڈ اور موٹر مارکیٹ
5👈۔الیکڑونکس کا بڑا سامان لینے کے لیے سرکلر روڈ اور کوتوالی روڈ
6👈۔الیکٹرونکس کا چھوٹا سامان اور اس کی مکمل رئپئرنگ کا سامان بھوانہ بازار اور سکول والی گلی سے۔
7👈۔ زیورات کرنسی نوٹ پرائز بانڈ کے لئے ریل بازار
8👈۔کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ سامان ریکسٹی پلازہ
9👈۔چارپائیاں اور لوہے کی الماریاں ، پیٹیاں وغیرہ ڈجکوٹ روڈ جھمرہ روڈ اور شیخوپورہ روڈ سے اچھی ملتی ہیں۔
10👈۔پلاسٹک کا سامان جھنگ بازار سے بھی اچھا ملتا ہے اور ستیانہ روڈ پر میکڈونلڈ کے بعد بھی ۔بہت بڑی دکانیں ہیں۔
11👈۔موبائل فون سے متعلقہ ھول سیل سامان گھڑیاں اور عینکیں...... کچہری بازار
12👈۔ھر قسم کی گاڑیوں ٹرکوں ٹریکٹروں اور بسوں کے نئے پرانے سپئر پارٹس اور چھوٹے بڑے نئے پُرانے جنریٹر گرائنڈرز ڈرل مشینیں لاری اڈہ و بلال گنج مارکیٹ سرگودھا روڈ
13👈۔گاڑیوں کے نئے پُرانے ٹائر سرکلر روڈ و لاری اڈہ کے سامنے
14👈۔ ھر طرح کے جُوتے ھول سیل پر امین پُور بازار سے بھوانہ کی طرف جانے والی گلی
15👈۔کتابوں کی خرید و فروخت ، چھپائی ،مہریں، ڈیکوریشن و لیدر جیکٹس کے لیے امین پور بازار
16👈۔بڑے ٹریولنگ بیگز کے لیے بھوانہ بازار اور چھوٹے بیگ زیادہ مقدار میں بنوانے ہوں تو گول مچھلی والا بازار
17👈. آرا مشین ٹوکہ مشین ٹیوب و زرعی مشینری برگر شوارما بار بی کیو اور ریسٹورنٹ مشینری سمندری روڈ جھال کے قریب و مقبول روڈ جھال اور ھر طرح کا مل مشینری کا سامان ریلوے روڈ.... ھر طرح کے الیکٹرک وزن کنڈے اور دیگر سامان کارخانہ بازار اور ھر طرح کی دیسی دوائیں و پنسار سٹور کا سامان بھی کارخانہ بازار
18👈۔کھوتا ریڑھی و ھاتھ ریڑھی بنی بنائی بہترین دجکوٹ روڈ بیرون جھنگ بازار
19👈۔ دھاگے نلکیاں اور کپڑوں پر لگنے والا دوسرا سامان منٹگھمری بازار سے پاس چھوٹی سی گلی میں سے ملتا ہے جو آگے جھنگ بازار میں جا نکلتی ہے۔ بچوں کے سلے ہوئے سوٹ بھی اسی گلی سے ملتے ہیں۔
20👈۔ ہول سیل پر جوس، پانی، پرفیوم، کاسمیٹکس، ھیئر سیلون بیوٹی پارلر پیمپرز اور اس طرح کی دوسری چیزیں بھی کارخانہ بازار اور منٹگھمری بازار کے درمیانی حصے سے۔
21👈۔ بچوں کی سائیکلیں منٹگمری بازار کی راجباہ روڈ والی سائیڈ سے اور کچہری بازار سے ریل بازار کی طرف سروس روڈ والی مارکیٹ سے.... پُرانی امپورٹد لینی ھوں تو بلال گنج سرگودھا روڈ
22👈۔ برتن اور کراکری کا سارا سامان جھنگ بازار میں موجود دکانوں سے ملتا ہے خاص طور پر جو جھنگ بازار کی گھنٹہ گھر والی سائیڈ کے آس پاس چھوٹی گلیاں نکلتی ہیں۔
23👈۔ پلاسٹک کریش دانہ کی کچھ دکانیں کارخانہ بازار تا پرانا کارپوریشن دفتر اور وھیں موجود ضلع کونسل کی مارکیٹ کے اندر موجود ھیں۔
24👈۔ سیکنڈ ہینڈ اور نئی سلائی کڑھائی کی مشینیں جناح کالونی سے بھی مل جاتی ہیں اور ریگل روڈ کی طرف سے ڈگلس پورہ کے مین بازار سے بھی۔ چھوٹی بڑی ہر قسم کی۔ یعنی گھریلو استعمال کے لیے بھی اور کمرشل مقاصد کے لیے بھی۔
25👈۔ ہر قسم کے پردے، سلے سلائے بھی اور اگر خود بنوانے ہوں تب بھی، تولیے، بیڈ شیٹس، نیپکن وغیرہ سرسید ٹاؤن میں فاطمہ جناح روڈ پر بہت اچھے اور بہت سستے مل جاتے ہیں۔ رضائی طلائی کا کپڑا اور سلی سلائی مکمل بھی یہیں سے ملتی ہیں۔ کمبل اور کھیس کی بھی بہت ورائٹی ہوتی ہے۔
26👈۔ ھر طرح کی لکڑی اور لکڑی سے متعلقہ سامان اور لکڑی کی مصنوعات و کاریگر اور ٹی آر گاڈر سریا اینگل شیخوپورہ روڈ حاجی آباد و دجکوٹ روڈ و جھنگ روڈ لکڑمنڈی

22/01/2022

یہ وہ شہر ہے جہاں علاج تعلیم اور روزگار سب ملتا ہے۔ یہ شہر سب کو اپنی آغوش میں جگہ دیتا ہے۔ جی اس خوبصورت شہر کو پاکستان کا مانچسٹر یعنی فیصل آباد کہتے ہیں۔ 😍

12/12/2021

*🍂حکمت بھری نصیحت🍂*``

سلطان ملک شاہ ایک مرتبہ اصفہان میں جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کسی گاؤں میں قیام ہوا ،۔۔۔۔۔۔۔
وہاں ایک غریب بیوہ کی گائے تھی، جس کے دودھ سے تین بچوں کی پرورش ہوتی تھی، بادشاہی آدمیوں نے اس گائے کو ذبح کر کے خوب کباب بناۓ ،
غریب بڑھیا کو خبر ہوئی وہ بدحواس ہو گئی، بادشاہی آدمیوں کا مقابلہ کوئی داد و فریاد سننے کو تیار نہ تھا اس پر لاوارث اور ایک غریب عورت، ساری رات اس نے پریشانی میں کاٹی،۔۔۔۔۔۔
صبح ہوئی دل میں خیال آیا کہ کوئی نہیں سنتا تو نہ سہی، کیا بادشاہ بھی نہ سنے گا ؟
جس کو خدا نے غریبوں کو ظالموں سے نجات دینے کیلئے اتنی بڑی سلطنت دی ہے،
بادشاہ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، معلوم ہوا بادشاہ فلاں راستے سے شکار کو نکلے گا،۔۔۔۔۔۔۔
چنانچہ اصفہان کی مشہور نہر کے پل پر جا کر کھڑی ہوگئی جب سلطان پل پر آیا ،تو بڑھیا نے ہمت اور جرأت سے کام لے کر کہا :
اے اَلَپ ارسلان کے بیٹے! میرا انصاف اس شہر کے پل پر کرے گا یا پل صراط پر ؟ جو جگہ پسند ہو انتخاب کر لے،۔۔۔۔۔۔
بادشاہ کے ہمراہی یہ بے باکی دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے، بادشاہ گھوڑے سے اتر پڑا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس عجیب و غریب اور حیرت انگیز سوال کا اس پر خاص اثر ہوا، اور بڑھیا سے کہا : "پل صراط کی طاقت نہیں ہے میں اس جگہ فیصلہ کرنا چاہتا ہوں،کہو کیا کہتی ہو؟ ۔۔۔۔۔۔
بڑھیا نے اپنا سارا قصہ بیان کیا، بادشاہ نے لشکریوں کی اس نالائق حرکت پر افسوس ظاہر کیا اور ایک گائے کے عوض میں اس کو ستر گائیں دلائیں اور مالا مال کر دیا،
جب اس بڑھیا نے کہا تمہارے عدل و انصاف سے میں خوش ہوں اور میرا خدا اور رسول خوش ہے تو گھوڑے پر سوار ہوا۔۔۔۔۔۔۔
آہ! کیا زمانہ تھا ، کہنے والے کیسے آزاد خیال تھے اور سننے والے کیسے عالی حوصلہ! اگر موجودہ تہذیب وشائستگی کے زمانہ میں کوئی شخص اس طرح حاکم کی سواری روک لے اور اس سے ایسی آزادانہ گفتگو کرے تو شاید آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہو گا اس کے ساتھ

09/12/2021

ٹائیر پھٹنے سے ایکسیڈینٹ ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ڈرائیور کی غلطی نہیں تھی بس تقدیر کا معاملہ تھا .
میں نے کل اپنے پڑوسی ڈرائیور سے پوچھا، "ٹائر فیکٹری سے تیار ہونے کے بعد کتنے سالوں تک محفوظ رہتا ہے"؟
اس نے مجھے مریخ سے آئے کسی اجنبی کی مانند حیرت سے دیکھا، اور ایک اظہارِ خوف کی کیفیت میں پوچها، "ٹائر کبھی غیر محفوظ بهی ہوتا ہے"؟
ابھی تک وہ پیشہ ورانہ طور پر آٹھ سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ مگر یہ نہیں ‌جانتا تها کہ ہر ٹائر کی ایک ختم ہونے والی تاریخ ہے جس کے بعد اسے تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بعد ٹائر کے پهٹنے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے جو دورانِ سفر‌ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
*یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی چھ سال تک ہوتی ہے۔* اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟
یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ یاد رہے کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔
*مثال کے طور پر‌* اگر یہ چار ہندسے 4314 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2014 کے 43 ویں ہفتہ یعنی ( نومبر کے تیسرے ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد 2020 کے 43 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔
کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
*نوٹ:* اب جب آپ یہ جان چکے ہیں تو تهوڑی سی تکلیف کریں، اپنی‌ گاڑی کے پاس جائیں، اور جهک کر اپنے ٹائر کی تیاری کی تاریخ کو چیک کریں، اور اس کے بعد سے 6 سال تک کی مدت میعاد یاد رکهیں، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے ہر سفر میں محفوظ ہوں۔

07/12/2021

افواج پاکستان کا سب سے کم عمر خطروں کا کھلاڑی جس نے اپنی جان ہر کھیل کر سینکڑوں آپریشنز میں حصہ لیا اور ان خطرناک آپریشنز کو کامیابی مکمل کیا ، جس نوجوان کی بہادری پر جنرل راحیل اور جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پوری قوم کو فخر یے ، ایسے ہیں ہمارے سپاہی ۔۔۔!

کپٹن روح اللہ مہمند جو کوئٹہ حملے میں شہید ہوئے انتہائی نایاب صلاحتیوں کے مالک تھے۔ وہ پاکستان آرمی کے ان افسران میں سے تھے جن کی آپریشنز میں حصہ لینے کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے۔

جب باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو ان کے خلاف کاروائی کرنے والے کمانڈوز میں وہ شامل تھے۔ کرسچیئن کالونی پہ دہشت گرد حملہ آور ہوئے تو ان کو جہنم واصل کرنے میں بھی کیپٹن روح اللہ مہنمد شریک تھے۔ مردان کچہری پر دہشت گردوں کے حملہ کے بعد کیپٹن روح اللہ مہمند ریسکیو ٹیم کا حصہ تھے۔

آپریشن ضربِ عضب کے بعد وہ پاکستان آرمی کے ان نایاب ینگ آفیسرز میں سے ایک تھے جنہوں نے 750 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IOBs) میں حصہ لیا۔ یوں لگتا ہے خطرات سے کھیلنا کیپٹن روح اللہ کو پسند تھا۔ یا شائد موت کی آنکھوں میں بار بار آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج دینا کیپٹن روح اللہ شہید کو محبوب تھا۔

انہوں نے چار سو سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور دس کو اپنے ہاتھوں سے جہنم واصل کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی طرف سے تعریفی سند سے نوازا جانا تھا انہیں۔۔۔۔ مگر اللہ نے جلد اپنے پاس بلا لیا۔

کوئٹہ حملے میں پولیس کیڈٹس کو دہشت گردوں سے بازیاب کروانے کے دوران اندھیرے کمرے میں ان کو ایک دھشت گرد کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وقت اتنا کم تھا کہ اگر نشانہ لے کر فائر کیا جاتا تو دہشت گرد بلاسٹ کر دیتا اور اگر نشانہ خطا جاتا تو بھی وہ بلاسٹ کر دیتا۔

وہاں پچاس کیڈٹس تھے اندھیرے کمرے میں۔ ہنگامی صورتحال میں جب کسی بھی لمحے دشمن کی گولی آپ کی پیشانی میں سوراخ کر سکتی ہو یا کسی بمبار کی جیکٹ پھٹ کے آپ کو چیتھڑوں میں تبدیل کر سکتی ہو آپ کے پاس فیصلہ کرنے کےلیے لمحے سے بھی کم وقت ہوتا ہے۔

جن کیڈٹس کی جان کو روح اللہ بچانے گئے تھے ان کو بچانے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ خودکش بمبار کے پھٹنے سے پہلے اس پر گر کر دھماکے کی شدت کم کر دی جائے۔ تا کہ باقی لوگوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو۔ ایک کیڈٹ جو اس کمرے میں موجود تھا کہتا ہے ہماری آنکھوں کے سامنے کیپٹن روح اللہ مہمند نے اس دہشت گرد پر چھلانگ لگا دی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی دھماکہ ہو گیا۔ وہ جتنی زندگیاں بچا سکتے تھے اپنی جان دے کر بچا گئے۔

عام زندگی میں ہر کوئی خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔ یقینا ہم میں سے کئی ایسے ہوں گے جن کو موت کے خطرے سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر ایمانداری سے بتائیں یقینی موت کی صورت میں
جو جوان یہ کہتے ہیں "ٰI am going to lead from the front Sir"

ان کے متعلق یہ کہہ دینا کہ تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں کتنا بڑا ظلم ہے؟ وہ جو ہماری طرف آنے والی گولیوں کو اپنے سینے پہ ٹھنڈا کر دیتے ہیں ان کی جگہ پر خود کو رکھ کہ سوچیں تو آپ کو ضرور اندازہ ہو گا کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہوتا۔

پاک فوج زندہ باد
آئی ایس آئی زندہ باد

06/12/2021

افغانستان مزار شریف میں معصوم بچی کو اغواء کرنے والا گروہ چند گھنٹوں کے اندر گرفتار ہوا،گروہ کو ہاتھ پیچھے باندھ کر بچی کے سامنے پیش کیا گیا،اگلے چند گھنٹوں میں ان کو سزا بھی دی جائیگی،یہ سزا بچی اپنی آنکھوں سے دیکھے گی،یہ سزا پوری قوم دیکھے گی،نہ کوئی وکیلوں کا چکر نہ عدالتوں کے پیچھے ٹائم ضائع،فوری انصاف،سماج سے جرائم کا خاتمہ یوں کیا جاتا ہے۔

28/09/2021

inzamam ul Haq suffered heart attack . May he recover soon & live a long and healthy life ameen suma ameen 🤲

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Faisalabad
38000