Shahbaz Senior Hockey academy FSD

Shahbaz Senior Hockey academy FSD

Share

Welcome to Shahbaz Senior Hockey Academy FSD! 🏑

Dedicated to honing hockey skills and fostering talent of all levels. Let's achieve greatness together!

Join us for expert coaching, training, and a passion for the game. "Shahbaz Senior Hockey Academy FSD" stands as a beacon of excellence, honoring the legendary Shahbaz Ahmed Senior. We are committed to shaping future champions who embody the spirit of passion, unity, and sportsmanship. Our academy not only represents the pride of Pakistan but welcomes the love of hockey shared across borders, aiming to uplift the game and inspire hearts worldwide.

09/11/2025

𝐀 - Dhanraj Pillay
𝐁 - Shahbaz Ahmed
𝐂 - Sardar Singh
𝐃 - Waseem Ahmad
𝐄 - Dilip Tirkey
𝐅 - Sohail Abbas

🌟 A star-studded list of the greats of modern-day hockey.🏑

Pick 𝐨𝐧𝐞 𝐧𝐚𝐦𝐞 wisely☝️😎

18/08/2025

The Pakistan men’s hockey team has officially withdrawn from the upcoming Hockey Asia Cup 2025, scheduled to be played in Rajgir, Bihar from August 27 to September 7.

Photos from Shahbaz Senior Hockey academy FSD's post 12/07/2025

یہ 1986 کی بات ہے جب لاہور کے مشہور منٹو پارک میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہاکی سیریز کی تیاری کے لیے پاکستانی ٹیم کا کیمپ لگا ہوا تھا۔ اس کیمپ میں شریک ایک 17 سالہ نوجوان کے کھیل پر بریگیڈیئر عاطف کی نظریں جمی ہوئی تھیں جو اسے قومی ہاکی چیمپئن شپ کی متاثر کن کارکردگی کی بنیاد پر قومی کیمپ میں لے کر آئے تھے۔

بریگیڈیئر عاطف اس نوجوان میں موجود بلا کی پھرتی اور گیند پر کمال کنٹرول دیکھ کر اپنے ساتھ بیٹھے سابق اولمپئن سعید انور سے کہہ رہے تھے ʹیہ کیسا نوجوان ہے جو تجربہ کار فل بیک قاسم ضیا اور ناصر علی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا۔ʹ

ہاکی کے قومی افق پر شہباز احمد سینیئر کا یہ پہلا تعارف تھا جو بعد میں ہاکی کی تاریخ کے چند بہترین فارورڈز میں شمار کیے گئے۔ مہارت سے بھرپور سٹک ورک، تیز رفتاری، حیران کن باڈی ڈاج، کلاسیکل ڈربلنگ، ناقابل یقین حد تک گیند پر کنٹرول اور ساتھی کھلاڑیوں کو صحیح پاسز دینا۔ ان ہی خوبیوں کی وجہ سے وہ ’میراڈونا آف ہاکیʹ اورʹمین ود الیکٹرک ہیلʹ جیسے القابات سے پکارے گئے۔

شہباز احمد ایک ایسے کھلاڑی تھے جن کے کھیل کی کشش ہاکی سے دور ہوتے ہوئے شائقین کو ایک بار پھر سٹیڈیم کا رخ کرنے پر مجبور کر چکی تھی۔ ان کے جانے کے بعد نہ پاکستانی ہاکی کو دوبارہ عروج مل سکا اور نہ ان جیسا کھلاڑی دوبارہ میدان میں نظر آیا۔

پاکستانی ہاکی کا آخری عروج

چار دسمبر 1994 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پاکستان نے چوتھی اور آخری بار ہاکی کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ فاتح ٹیم کے کپتان شہباز احمد تھے۔ فائنل میں پاکستان کا مقابلہ ہالینڈ سے تھا اور مقررہ وقت پر مقابلہ ایک ایک گول سے برابر رہنے کے بعد فیصلہ پنالٹی سٹروکس پر ہوا اور وہ تاریخی لمحہ بھلا کون بھول سکتا ہے جب ہالینڈ کے ڈیلمی کا پنالٹی سٹروک روک کر گول کیپر منصور احمد مرحوم نے پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنوا دیا۔

1994 اس لحاظ سے پاکستانی ہاکی کے لیے بھی یادگار ہے کہ اس نے اس برس شہباز احمد کی قیادت میں لاہور میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی تھی۔ یہ آخری موقع تھا جب پاکستانی ہاکی ٹیم نے یہ دو بڑے ٹائٹل اپنے نام کیے تھے کیونکہ اس کے بعد وہ مایوسیوں اور ناکامیوں میں ایسی کھو گئی کہ آج تک نہیں نکل سکی ہے۔

’کوئی بھی پنالٹی سٹروک لگانے کو تیار نہ تھا‘

شہباز احمد 1994 کے عالمی کپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سیمی فائنل میں ہم نے جرمنی کو پنالٹی سٹروکس پر شکست دی تھی اور یہی کچھ فائنل میں بھی ہوا لیکن ہالینڈ کے خلاف جب پنالٹی سٹروکس کا مرحلہ آیا تو اس میچ کے غیر معمولی دباؤ کے سبب پاکستانی ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی پنالٹی سٹروک لگانے کے لیے تیار نہ تھا۔ ہمیں پنالٹی سٹروکس لگانے کے لیے پانچ کھلاڑی نہیں مل رہے تھے۔ اگرچہ میں نے کبھی پنالٹی سٹروک نہیں لگایا تھا اور میری فلک بھی اچھی نہیں تھی لیکن میں نے آگے بڑھ کر خود کو پیش کیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اگر کپتان نے انکار کیا تو پھر دوسرے کھلاڑیوں کے حوصلے بھی پست ہو جائیں گے۔‘

شہباز احمد کہتے ہیں کہ ’اس ورلڈ کپ کے دوران طاہر زمان کے والد کے انتقال کی خبر آئی۔ وہ ہماری ٹیم کے اہم کھلاڑی تھے۔ وہ صدمے سے دوچار تھے لیکن انھوں نے کہا کہ وہ وطن واپس نہیں جائیں گے کیونکہ ٹیم کو ان کی عالمی کپ میں زیادہ ضرورت ہے۔‘

شہباز احمد کا کہنا تھا کہ ’طاہر زمان کو پہلے میچ میں نہیں کھلایا گیا لیکن اس کے بعد پورے ٹورنامنٹ میں انھوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، درحقیقت اس عالمی کپ میں گول کیپر منصور احمد، طاہر زمان، عثمان اور کامران اشرف نے نہ بھولنے والی کارکردگی دکھائی تھی۔‘

شہباز احمد،تصویر کا ذریعہShahbaz Ahmad
’شرٹ نمبر کے لیے پرچیاں ڈالی گئیں‘

1994 کے عالمی کپ میں شہباز احمد نے نو نمبر والی شرٹ پہنی تھی جبکہ اس سے قبل وہ 10 نمبر والی شرٹ پہنتے آئے تھے۔ اس بارے میں شہباز کہتے ہیں کہ ’10 نمبر شرٹ دنیا کے مشہور کھلاڑی پہنتے رہے ہیں، میں نے بھی اپنے کریئر میں دس سال نمبر 10 شرٹ پہنی ہے لیکن 1994 کے عالمی کپ میں کھلاڑیوں کی شرٹ نمبر کے لیے پرچیاں ڈالی گئیں تھیں اور اس لکی ڈرا میں میرے حصے میں نو نمبر آیا جو میرے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔‘

’میں اچھا نہیں کھیلا اس لیےاولمپک نہ جیت سکے‘

شہباز احمد نے تین اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے لیکن انھیں اپنی قیادت میں 1992 کے اولمپکس نہ جیتنے کا بہت افسوس ہے۔

شہباز احمد کہتے ہیں کہ ’بارسلونا اولمپکس کی پاکستانی ٹیم میرے پورے کریئر کی سب سے مضبوط ٹیم تھی اور ہر ایک کا یہی کہنا تھا کہ یہ ٹیم اولمپک گولڈ میڈل جیت سکتی ہے لیکن میں اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں کلک نہیں کر سکا۔ اگر میں 1994 کے عالمی کپ اور چیمپئنز ٹرافی جیسا کھیل پیش کرتا تو ہم فائنل میں پہنچ جاتے لیکن میں اچھا نہیں کھیل سکا جس کا پوری ٹیم پر اثر پڑا۔‘

مین آف دی ٹورنامنٹ بننے کی عادت

شہباز احمد نے اپنے بین الاقوامی کریئر میں 92 گول کیے ہیں لیکن اس سے زیادہ گول اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے کروائے ہیں اسی لیے انھیں بے غرض فارورڈ کہا جاتا ہے جس نے کبھی بھی صرف اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لیے ہاکی نہیں کھیلی۔

شہباز احمد کے کریئر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ متعدد ٹورنامنٹس میں مین آف دی ٹورنامنٹ رہے ہیں جن میں 1987 میں اندرا گاندھی ٹورنامنٹ، 1989 میں بی ایم ڈبلیو ٹرافی، 1990 کی ایشین گیمز، 1990 میں ہی ورلڈ کپ اور 1994 میں ورلڈ کپ قابل ذکر ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کھلاڑی نے لگاتار دو عالمی کپ مقابلوں میں مین آف دی ٹورنامنٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

شہباز احمد واحد ہاکی کے کھلاڑی ہیں جنھیں حکومتِ پاکستان نے ہلال امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ پاکستان میں یہ ایوارڈ صرف چار کھلاڑیوں کو ملا ہے جن میں شہباز احمد کے علاوہ عمران خان، جہانگیر خان اور جان شیر خان شامل ہیں۔

دھنراج پلے بھی شہباز کے مداح

بھارت کے مشہور فارورڈ پلیئر دھنراج پلے جن کے کھیل کی دنیا مداح رہی ہے وہ خود شہباز احمد کے زبردست پرستار ہیں
اپنے ہوں یا غیر، پاکستان ہو یا کوئی دوسرا ملک، شہباز احمد کی فین فالوئنگ غضب کی تھی۔ اپنے کریئر کے ابتدائی دنوں میں جب وہ لکھنو میں اندرا گاندھی ٹورنامنٹ میں کھیل رہے تھے تو سٹیڈیم میں موجود بھارتی شائقین کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر درج ’ایف 16‘ اور ’سپرمین‘ کے الفاظ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ہر کوئی ان کے کھیل کا کتنا معترف ہے۔

بھارت کے مشہور فارورڈ پلیئر دھنراج پلے جن کے کھیل کی دنیا مداح رہی ہے وہ خود شہباز احمد کے زبردست پرستار ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دھنراج پلے کہتے ہیں ʹجب میں انٹرنیشنل ہاکی میں بھی نہیں آیا تھا اس وقت میں نے اپنے سینیئر کھلاڑیوں سے شہباز احمد کے چرچے سن رکھے تھے کہ پاکستان میں ایک بہترین کھلاڑی آیا ہے جس کی رفتار اور بال پر کنٹرول غضب کا ہے اور اگر وہ اسی طرح کھیلتا رہے تو طویل عرصے تک اپنے ملک کی نمائندگی کرتا رہے گا۔‘

دھنراج پلے کا کہنا ہے کہ ’شہباز بھائی سانپ کی طرح گیند لیے آگے بڑھتے تھے اور حریف دفاعی کھلاڑی کو اپنی نظروں میں ہی رانگ فٹ پر پکڑتے تھے کہ وہ ان کے قریب ہی نہیں آ پاتا تھا اور وہ اسے دور ہی سے کاٹتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ یہ خوبی میں نے ان میں دیکھی اور سیکھنے کی کوشش کی۔ ان کی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ہم آہنگی کمال کی تھی۔ نظروں ہی نظروں میں ساتھی کھلاڑیوں کو پتہ ہوتا تھا کہ شہباز بھائی کا پاس کہاں آئے گا۔‘

دھنراج پلے کہتے ہیں کہ ʹمیں نے شہباز کے نام پر کراؤڈ کو انٹرنیشنل اور لیگ میچوں میں سٹیڈیم میں آتے دیکھا ہے۔‘

دھنراج پلے اس واقعے کے عینی شاہد ہیں جب 1994 کے عالمی کپ میں آسٹریلیا کے خلاف شہباز نے اپنے ہی ہاف میں گیند حاصل کر کے حریف ٹیم کی ڈی میں جا کر کامران اشرف سے گول کروایا تھا۔

وہ اس بارے میں کہتے ہیں ’میں وہ میچ دیکھ رہا تھا جب شہباز کو اپنے ہاف میں گیند ملی ان کے ساتھ آسٹریلوی کھلاڑی کین وارک تھے جنھیں شہباز نے ایک ہی ڈاج سے بے بس کیا اور کمال کی پھرتی اور سٹک ورک کے ساتھ گیند کو آسٹریلوی ڈی تک لے گئے اور ریورس سٹک سے کامران اشرف کو گیند دی جنھوں نے گول کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔‘

دھنراج پلے کا کہنا ہے کہ ’شہباز بھائی نے مجھے کئی باتیں سکھائیں کہ اگر کسی چیز میں مہارت حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے پریکٹس بہت ضرورت ہے۔ مجھے ان کی یہ بات اس لیے بھی اچھی لگتی تھی کہ پاکستان انڈیا تعلقات اور میدان میں ایک دوسرے کے سخت حریف ہوتے ہوئے بھی شہباز احمد یہ باتیں بتانے میں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے تھے۔‘

آج دونوں کھلاڑیوں کو ریٹائر ہوئے عرصہ ہو چکا ہے لیکن دونوں کے درمیان دوستی بدستور قائم ہے اور دونوں باقاعدگی سے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

سیمنٹ کے گراؤنڈ پر پریکٹس

شہباز احمد سے ہمیشہ یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ اتنی تیز رفتار اور گیند پر کنٹرول کیسے سیکھا جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ʹمجھے اندازہ تھا کہ اگر مجھے آسٹروٹرف پر بہترین کارکردگی دکھانی ہے تو اس کے لیے مجھے اس سے بھی تیز جگہ پر پریکٹس کرنی ہو گی لہذا میں نے سیمنٹ کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر گیند کو تیز تیز ہٹ مارنے کی گھنٹوں پریکٹس کی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے ریفلیکسز تیز ہو گئے اور جب میں آسٹروٹرف پر کھیلتا تو وہ مجھے سلو لگتی تھی کیونکہ میں اپنی پریکٹس آسٹروٹرف سے بھی تیز میدان پر کرتا تھا۔‘

’جتنے بھی نمبر آئیں ہمارے کالج میں داخلہ لینا‘

شہباز احمد کا کہنا ہے کہ ʹجب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو میرے اچھے کھیل کے چرچے ہونے لگے کہ یہ کون کھلاڑی آ گیا ہے۔ لوگوں کو میرا کھیل بہت پسند تھا اور ایسا بھی ہوا کہ انھوں نے خوشی میں میری جیبوں میں پیسے بھی ڈالنے شروع کر دیے تھے۔ جب میں نویں دسویں جماعت میں کھیل رہا تھا تو گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے اساتذہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میٹرک میں آپ کے جتنے بھی نمبر آئیں آپ نے ہمارے کالج میں ہی داخلہ لینا ہے کیونکہ انھیں میرے کھیل کا اندازہ ہو چکا تھا۔‘

شہباز احمد سابق اولمپئنز بریگیڈئر عاطف سعید انور اور اسد ملک کا نام بڑے احترام سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے کریئر کو آگے بڑھانے میں ان تینوں کا اہم کردار ہے۔

12/07/2025

پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
🇵🇰

゚viralシ

25/06/2025

Great Drag flicker in the Hockey World 🌎

Sohail Abbas(pak)
Sandeep Singh (Ind)
Harmanpreet Singh (Ind)
Gonzalo Peillat (Argentina)
Blake Govers(Australia)

11/05/2025

Pak Armed Forces! A symbol of courage, pride, and resilience! Your bravery and dedication inspire us all. May Allah grant you success and honor in every battle. Pakistan Zindabad! 🇵🇰💚











13/03/2025

خالد محمود پاکستان کے نامور ہاکی کھلاڑی اور منتظم ہیں، جنہوں نے 1971ء کے پہلے ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے فائنل میں اسپین کو 1-0 سے شکست دے کر تاریخ رقم کی اور پہلی بار عالمی چیمپیئن بنا۔ یہ فتح پاکستان کے لیے کسی جشن سے کم نہیں تھی۔ جب ٹیم وطن واپس لوٹی، تو عوام نے ان کا ایسا شاندار استقبال کیا کہ لاہور کی سڑکیں کھچا کھچ بھر گئیں۔ لوگ خوشی سے بے قابو ہو گئے، اور ہجوم کا جوش و خروش دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پوری قوم اس کامیابی کا حصہ بن گئی ہو۔ یہاں تک کہ رش کے دوران بعض کھلاڑیوں کے کپڑے تک پھٹ گئے۔

خالد محمود کی خدمات صرف 1971ء کے ورلڈ کپ تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ کئی دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ 1968ء کے میکسیکو اولمپکس میں وہ پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے جس نے گولڈ میڈل جیتا تھا۔ 1970ء کے بینکاک ایشین گیمز میں بھی انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی، اور پاکستان نے ایک اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ انہوں نے کئی دیگر بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں ان کی مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں نے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنی کھیلوں کی زندگی کے بعد، خالد محمود نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستانی ہاکی کو دوبارہ عروج پر لانے کے لیے مخلص قیادت اور درست حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کی محنت اور لگن آج بھی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہے، اور ان کا نام ہمیشہ پاکستان ہاکی کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

Khalid Mehmood is a renowned Pakistani hockey player and administrator who led the national team in the first Hockey World Cup in 1971. Under his captaincy, Pakistan made history by defeating Spain 1-0 in the final and becoming world champions for the first time. This victory was nothing short of a grand celebration for Pakistan. When the team returned home, the streets of Lahore were filled with jubilant crowds. The excitement was so overwhelming that it felt like the entire nation was part of the triumph. The enthusiasm was so intense that some players’ clothes were even torn in the rush.

Khalid Mehmood’s contributions were not limited to the 1971 World Cup. He represented Pakistan in several other international tournaments. He was part of the team that won the gold medal at the 1968 Mexico Olympics. In the 1970 Asian Games in Bangkok, he played a key role in securing another gold medal for Pakistan. He also participated in numerous other international competitions, where his skills and leadership were instrumental in the team’s success.

After retiring from his playing career, Khalid Mehmood served as the Secretary of the Pakistan Hockey Federation. He consistently emphasized that sincere leadership and strategic planning are crucial for reviving Pakistan hockey’s lost glory. His dedication and hard work remain an inspiration for young players, and his name will always be remembered in the golden history of Pakistan hockey.

Photos from Shahbaz Senior Hockey academy FSD's post 10/03/2025

Mr Tayyab Ikram President of the Federation of International Hockey honors players with gifts during the post-match ceremony of the Pakistan vs. Germany hockey match. A celebration of sportsmanship and excellence! 🏑🇵🇰🇩🇪

Government of Pakistan
Pakistan Olympic Association
Pakistan Hockey Federation

10/03/2025

حسن سردار—پاکستان ہاکی کا وہ عظیم نام جس نے اپنی مہارت، ذہانت اور بےمثال اسٹک ورک سے دنیا کو حیران کر دیا۔ 1982 کے ورلڈ کپ اور 1984 کے اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل دلانے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

فارورڈ لائن کا یہ درخشاں ستارہ جب گیند کے ساتھ دوڑتا تھا تو مخالف ٹیم کے دفاع میں کھلبلی مچ جاتی تھی۔ ان کے ڈرِبلنگ، فائنِشنگ اور گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں ہاکی کی دنیا کا لیجنڈ بنا دیا۔ حسن سردار صرف ایک کھلاڑی نہیں، بلکہ پاکستان ہاکی کی سنہری تاریخ کا ایک لازوال باب ہیں! 🏑🇵🇰

Hassan Sardar—one of the greatest names in Pakistan’s hockey history! With his exceptional skills, intelligence, and unmatched stickwork, he dominated the world of hockey. His contributions in winning the 1982 World Cup and the 1984 Olympic gold medal for Pakistan are unforgettable.

As a forward, he was a nightmare for defenders. His dribbling, finishing, and goal-scoring abilities set him apart as a true legend of the game. Hassan Sardar wasn’t just a player; he was a symbol of Pakistan hockey’s golden era, a name that still ignites passion and pride in every hockey fan! 🏑🇵🇰









Photos from Shahbaz Senior Hockey academy FSD's post 08/03/2025

Great Hockey lover Pak Heroes stars at DHA stadium watching match Pakistan Vs German

07/03/2025

The junior hockey teams of Pakistan and Germany will face off in a 4-match Friendship Hockey Cup from 6th March to 13th March 🏑

Watch all the games live on " "
" " !































|























Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Faisalabad
83000

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00