Hyderabad Bolta Hai

Directions

Hyderabad Bolta Hai ✔Verified By Facebook As ▌│█│║▌║││█║▌║▌║║▌ © OfficialPage must join guyzz
(634)

ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس میں 8 سال بعد شرجیل میمن سمیت بریشرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والے بوتلوں میں شراب نہیں...
13/10/2026

ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس میں 8 سال بعد شرجیل میمن سمیت بری

شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والے بوتلوں میں شراب نہیں، شہد اور زیتون کا تیل تھا.

کراچی کے ضلع جنوبی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے شراب برآمدگی کی دفعات کے تحت درج 8 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے سندھ کے سینئر صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت مقدمے میں نامزد دیگرتمام ملزمان کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا۔

ایڈووکیٹ عروشہ میمن کے مطابق کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد تھا، جبکہ لیبارٹری ٹیسٹ میں بھی الکوحل کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نیب حراست کے دوران شرجیل انعام میمن کی ہسپتال میں زیر علاج ہونے کے دوران ضیاء الدین ہسپتال پر چھاپہ مارا تھا اور کمرے سے شراب برآمدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا.

کیا حیدرآباد کا میئر صرف قاسم آباد کا میئر ہے؟حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے 109 ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز سامنے ہیں، مگر س...
10/10/2026

کیا حیدرآباد کا میئر صرف قاسم آباد کا میئر ہے؟

حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے 109 ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز سامنے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ لطیف آباد اور سٹی کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ اگر ترقیاتی منصوبوں کا رخ صرف قاسم آباد کی طرف ہے تو لطیف آباد اور سٹی کے شہریوں کو ان کے جائز حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟

میئر صاحب! آپ صرف قاسم آباد کے نہیں، پورے حیدرآباد کے میئر ہیں۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ شہر کے ہر علاقے کے ساتھ یکساں سلوک کریں، نہ کہ کسی ایک علاقے کو ترجیح دے کر باقی علاقوں کو نظر انداز کریں۔

قاسم آباد کی ترقی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اعتراض اس بات پر ہے کہ لطیف آباد اور سٹی کو ترقی کے عمل سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟

اگر 109 ترقیاتی کاموں میں واقعی لطیف آباد اور سٹی کے لیے کوئی منصوبہ شامل نہیں، تو یہ محض ترقیاتی تقسیم کا معاملہ نہیں، بلکہ شہریوں کے ذہنوں میں امتیازی سلوک کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔

پیپلز پارٹی کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا حیدرآباد کے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہو رہا ہے؟ شہر سب کا، ٹیکس سب کے، حقوق بھی سب کے!

میئر صاحب، اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔ حیدرآباد کو قاسم آباد، لطیف آباد اور سٹی کی بنیاد پر تقسیم نہ کریں۔ عوام کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ شہر کا میئر پورے حیدرآباد کے بجائے صرف ایک علاقے کی نمائندگی کر رہا ہے۔

ہمیں کسی علاقے سے دشمنی نہیں، ہمیں اپنے علاقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر اعتراض ہے۔ لطیف آباد اور سٹی کو بھی ان کا جائز حق دیا جائے!



#حیدرآباد

دہشتگردی کے معاملے پر مزاکرات ناکامذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے مارچ منسوخ کرنے کے حوالے سے کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا۔ بل...
04/10/2026

دہشتگردی کے معاملے پر مزاکرات ناکام

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے مارچ منسوخ کرنے کے حوالے سے کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا۔ بلکہ وہ پی ٹی آئی سے دہشتگردی کے خلاف تعاؤن مانگتے رہے اور اس معاملے پر درج ذیل بات ہوئی۔

◀️ حکومتی وفد : آپ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو نام لے کر دہشتگرد کہیں اور نام لے کر انکی مذمت کریں۔

پی ٹی آئی وفد : یہ ہماری
پالیسی نہیں۔

◀️ حکومتی وفد : آپ افغانیوں کے انخلاء میں تعاؤن کریں اور افغانستان کے پختونخوا پر حملوں اور دہشتگردوں کی سرپرستی کی مذمت کریں۔

پی ٹی آئی وفد : یہ ہماری پالیسی نہیں اور عمران خان افغانیوں کو واپس بھیجنے کے خلاف ہیں۔

◀️ حکومتی وفد : آپ سے پولیس نے 42 ارب روپے مانگے ہیں تاکہ مزید فورس اور دہشتگردوں سے لڑنے جدید ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں اور بلٹ پروف جیکٹیں وغیرہ لے سکیں۔ آپ کو 600 ارب روپے اس کے لیے اضافی دیے گئے ہیں تو آپ پولیس کی یہ ڈیمانڈ پوری کریں۔

پی ٹی آئی وفد : ہم 1 ارب دے چکے ہیں اور 1 ارب مزید دے دینگے۔

◀️ حکومتی وفد : آپ سی ٹی ڈی کی خالی اسامیاں پر کریں اور انکی تعداد 500 سے بڑا کر کم از کم 5000 کر دیں تاکہ وہ دہشتگردوں سے لڑ سکیں۔

پی ٹی آئی وفد : معذرت، فلحال ہم یہ نہیں کرسکتے۔

◀️ حکومتی وفد : آپ دہشتگردوں کو بھتے کے نام پر فنڈز دینا بند کریں۔ پختونخوا کے خزانے میں عوام کا پیسہ ہے جو آپ دہشتگردوں کو دے رہے ہیں اور وہ اسی پیسے سے عوام کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی وفد : وہ زبردستی لیتے ہیں۔ جہاں جہاں سرکاری ٹھیکوں پر کام ہورہا ہے وہ پیسے نہ دیں تو ٹی ٹی پی والے حملہ کر دیتے ہیں۔

◀️ حکومتی وفد : آپ دہشتگردوں سے لڑنے والی فوج اور پولیس کے شہدا کے جنازون میں شرکت کریں۔

پی ٹی آئی وفد : ہمیں عمران خان سے اجازت لینی پڑے گی۔

◀️ حکومتی وفد : آپ پختونخوا کے تمام شہروں میں سیف سٹی کیمرے لگائیں۔

پی ٹی آئی وفد : ابھی ہمارا فوکس عمران خان ہے۔

◀️ حکومتی وفد : آپ فوج اور پولیس کے ان جوانوں کی حوصلہ افزائی کریں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشتگردوں سے لڑرہے ہیں اور ان کے خلاف تقاریر کرنی بند کردیں۔

پی ٹی آئی وفد : ہمیں عمران خان کی اجازت درکار ہے۔

◀️ حکومتی وفد : جن علاقوں میں آپریشن ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں ان کے لیے مختص کیے گئے فنڈز جاری کریں تاکہ وہاں کے لوگوں کو ریلیف ملے۔

پی ٹی آئی وفد : یہ فیصلہ ہماری معاشی کمیٹی کرے گی کہ فنڈز کس کو اور کیسے جاری کرنے ہیں۔

◀️ حکومتی وفد : آپ اپنی سوشل میڈیا، سکولوں، کالجوں اور مدارس میں دہشتگردوں کے خلاف عوام کی ذہن سازی کریں۔

پی ٹی آئی وفد : یہ فیصلہ عوام خود کرے گی کہ وہ کس کو دہشتگرد سمجھتی ہے۔

یعنی دہشتگردوں کے خلاف پی ٹی آئی کسی بھی قسم کا تعاؤن کرنے پر تیار نہیں۔ جو جماعت دہشتگردوں کو صوبے میں واپس لائی تھی اور جو دہشتگردوں کی مدد سے اپنی حکومت چلا رہی ہو اور جن کا وزیراعلی نور ولی محسود کی سفارش پر بھرتی ہوا ہو وہ کیسے دہشتگردوں کے خلاف کوئی تعاؤن کر سکتی ہے؟؟

ٹی پی کے دہشتگرد گھروں میں گھس کر بچیوں اور عورتوں سے زیادتی کرتے ہیں، ہم کے پی حکومت سے مدد مانگیں تو وہ ہماری مدد کی بجائے ٹی ٹی پی والوں کو ہمارے علاقے میں پناہ کی سہولت دہتے ہیں پولیس ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے
ہماری حکومت اور آرمی چیف سے درخواست ہے ہماری بچیوں کو بچایا جائے
پارا چنار سے مظلوم بیوہ خاتون کی وزیراعظم اور آرمی چیف سے تحفظ کی اپیل!

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 11-2010 سے ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا حکومت وار آن ٹیرر کی مد میں بجٹ سے ہٹ کر 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے وصول کر چکی ہے
مگر یہ رقم کہاں اور کس مد میں استعمال ہوئی نہ یہ بتا سکتی ہے اور نہ یہ رقم کہیں لگی دکھا سکتی ہے
نہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھائی گئ اور نہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کا انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا البتہ خوارج کو ان علاقوں میں کھل کر پھلنے پھولنے کا موقع ضرور دیا گیا
شائد یہی وجہ ہے کہ اب خیبرپختونخوا کے شہری خود گورنر راج کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اس تباہ حال صوبے میں گورنر راج لگانا وفاق کا پشتونوں پر احسان عظیم ہوگا۔

پی ٹی آئی 2013 میں خیبرپختونخوا کی حکومت پانے کے بعد سے اب تک 6 بار اسلام آباد پر مسلح جتھوں، سرکاری ملازمین، کےپی پولیس، سرکاری کرینوں اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں سمیت وفاق پر حملہ کر چکی ہے
ہر بار کے پی پولیس کو وفاق کی حفاظت پر معمور رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے مدمقابل کھڑا کیا گیا ۔ جب ایک سرکاری فورس دوسری سرکاری فورس کے مقابل کھڑی کی جائے جو طاقت کا استعمال کرے، تو یہ ریاست کے اندر ریاست اور قانوناً بغاوت کہلاتی ہے۔
وفاق نے ان 6 حملوں میں کئ سو ارب کا نقصان اٹھایا
2014 کے 126 دن کے دھرنے میں وفاق کو 547 ارب روپے کا نقصان ہوا، روپے کی قدر میں 4.3 فیصد کمی ہوئی اور سٹاک مارکیٹ گرنے سے 319 ارب روپے ڈوب گئے۔اسلام آباد کی سیکیورٹی پر 75 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اخراجات آئے
چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا، سرمایہ کار بھاگ گئے
اسی طرح پھر 2016 کا اسلام آباد لاک ڈاؤن اربوں روپے کا نقصان ..

مئی 2022 میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد حملے میں ملک گیر سڑکوں کی بندش اور سپلائی چین متاثر ہونے سے معیشت کو 100 سے 150 ارب روپے روزانہ کا نقصان اٹھانا پڑا

نومبر 2024 میں اسلام آباد پر حملے کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کا نقصان ہوا، 15 کروڑ روپے سے زائد کی عوامی و نجی املاک تباہ ہوا

پی ٹی آئی کے تمام دھرنوں اور وفاق پر چڑھائیوں کے نقصانات کو جمع کیا جائے، تو پاکستان کو براہِ راست اور بالواسطہ (Indirect) 2ہزار ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اس وقت پی ٹی آئی کے موجودہ احتجاج کے باعث ملک کو روزانہ 120 ارب روپے (تقریباً 400 ملین ڈالر) کا معاشی نقصان ہو رہا ہے

یہ تمام معاشی نقصان کرنے کے بعد سب سے الارمنگ اور خطرناک ترین سچویشن یہ ہے کہ پی ٹی آئی اب وفاق کو اکنامک ہوسٹیج ٹیکنگ" (معاشی یرغمال) بنانے کی دھمکیاں بھی دے رہی ہے

پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی اور ایم پی اے فضل الٰہی) نے خیبر پختونخوا میں واقع تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم اور کرک کے گیس فیلڈز سے وفاق کو فراہم کی جانے والی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے
جب کوئی سیاسی جماعت اپنے مطالبات منوانے کے لیے وفاق کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے وسائل بند کرنے کو حملے کو ہتھیار بنا لے، تو وہ آئینی حدود سے نکل کر کھلی بغاوت کے زمرے میں آ جاتی ہے۔
یہ "اکنامک ہوسٹیج ٹیکنگ" (معاشی یرغمالی) کا وہ بدترین ماڈل ہے جہاں سزائے یافتہ قیدی کی رہائی کے لیے پورے ملک کی معیشت کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے

ان قومی لائف لائنز کا سوئچ بند کرنے کی دھمکی دراصل پورے ملک کے ہسپتالوں، صنعتوں، دفاعی تنصیبات اور کروڑوں گھروں کو تاریکی میں دھکیلنے کی سازش ہے جو "ریاست کا گلا گھونٹنا" (Strangling the State) کہلاتی ہے،
عام طور پر بغاوتیں غیر ریاستی عناصر (Non-State Actors) کرتے ہیں، لیکن یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ایک آئینی صوبائی حکومت اپنے سرکاری اختیارات کو وفاق کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں جب کوئی صوبہ وفاق کے خلاف سیاسی و عسکری 'مورچے' کی شکل اختیار کر جائے اور وہاں کی صوبائی حکومت وفاق کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن جائے، تو ملکی سلامتی کے تحفظ اور وفاقی رِٹ کی بحالی کے لیے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 وفاداری اور آئینی تقاضوں کے تحت وفاقی حکومت کو گورنر راج (Governor's Rule) کے نفاذ کا غیر مبہم اور واضح اختیار دیتا ہے
اور پاکستان کی عوام وفاق کو یہ اختیار استعمال کرنے کی اپیل کرتی ہے

03/10/2026

18سالہ ناقص کارکردگی چیخ چیخ کر بتا رہی ہے اب نئے صوبے انتظامی یونٹس ضرورت بن چکے ہے؟

واقعی اب نظام کو (ری سیٹ) کی ضرورت ہے؟
#حیدرآباد

23/09/2026

حیدرآباد: تھانہ ایئرپورٹ کے باہر احتجاج، مظاہرین کا ایس ایس پی دفتر کی جانب رخ، عمران خانزادہ راجپوت کا ڈی ایس پی محمد خان برہمانی پر یکطرفہ کارروائی کا الزام

حیدرآباد کوہسار فیز ون جنرل پبلک کے علاقے میں جھگڑے اور ہوٹل پر مبینہ حملے کے واقعے کی ایف آئی آر درج نہ ہونے پر آل پاکستان راجپوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین عمران خانزادہ راجپوت کی قیادت میں مظاہرین نے تھانہ ایئرپورٹ کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج کے بعد مظاہرین نے ایس ایس پی حیدرآباد کے دفتر کا رخ کرلیا۔

اس موقع پر عمران خانزادہ راجپوت کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی محمد خان برہمانی مبینہ طور پر یکطرفہ طور پر ایک فریق کا ساتھ دے رہے ہیں، جبکہ ہماری جانب سے واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی تو پولیس نے انکار کردیا۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
#حیدرآباد #حیدرآباد

23/09/2026

حیدرآباد: تھانہ ایئرپورٹ کے باہر احتجاج، مظاہرین کا ایس ایس پی دفتر کی جانب رخ، عمران خانزادہ راجپوت کا ڈی ایس پی محمد خان برہمانی پر یکطرفہ کارروائی کا الزام

حیدرآباد کوہسار فیز ون جنرل پبلک کے علاقے میں جھگڑے اور ہوٹل پر مبینہ حملے کے واقعے کی ایف آئی آر درج نہ ہونے پر آل پاکستان راجپوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین عمران خانزادہ راجپوت کی قیادت میں مظاہرین نے تھانہ ایئرپورٹ کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج کے بعد مظاہرین نے ایس ایس پی حیدرآباد کے دفتر کا رخ کرلیا۔

اس موقع پر عمران خانزادہ راجپوت کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی محمد خان برہمانی مبینہ طور پر یکطرفہ طور پر ایک فریق کا ساتھ دے رہے ہیں، جبکہ ہماری جانب سے واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی تو پولیس نے انکار کردیا۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ڈی سی بریانی فروخت کررہا ہے، اسسٹنٹ کمشنر بلڈر بن گیا ہے، ضلعی پولیس کی توجہ پیٹ کا چورن فروخت کرنے میں لگی  ہے، حیسکو چ...
23/09/2026

ڈی سی بریانی فروخت کررہا ہے، اسسٹنٹ کمشنر بلڈر بن گیا ہے، ضلعی پولیس کی توجہ پیٹ کا چورن فروخت کرنے میں لگی ہے، حیسکو چیف بے کار کی کارگردگی کے نام پر جعلیوں سے کارگردگی سمیٹنے میں لگی ہے اور میئر حیدرآباد ترقیاتی کاموں کے نام پر مال بنانے میں مصروف ہیں۔عوام کی ایک کلاس چاپلوسی میں لگی دوسری خاموش تماشائی اور تیسری گالیاں دینے میں لگی ہے

22/09/2026

کوہسار میں گنڈا عناصر کی بدمعاشی اپنے عروج پر پہنچ گئی
غیر متعلقہ لوگ نجی سوسائٹی میں گھس کر کبھی اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کرتا ہے تو کبھی بھتہ ناں دینے پر انکا مالی نقصان کرتا ہے۔

ائیرپورٹ پولیس کیوں تمام صورتحال پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ؟؟؟
یہ افسوسناک واقعہ ابھی کچھ دیر قبل پیش آیا ہے.

#حیدرآباد

اصل مبارکباد 6 ہفتوں بعد شاہراہ فیصل پر وصول کریں گے، مصطفی کمال      e Faisal    #حیدرآباد        #حیدرآباد
20/09/2026

اصل مبارکباد 6 ہفتوں بعد شاہراہ فیصل پر وصول کریں گے، مصطفی کمال
e Faisal #حیدرآباد #حیدرآباد

Address

Airport Road Hyderabad
Hyderabad
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hyderabad Bolta Hai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share